یہودی اسکولوں میں بچوں کو دی جانے والی تعلیم

  • ۱۰۶

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ’’عرب اور مسلمان نجس حیوان کے مانند ہیں اگر وہ دیکھیں کہ تم ڈر گئے ہو اور ان کی حرکتوں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کر رہے ہو تو تم پر حملہ کر دیں گے، لیکن اگر تم ان پر حملہ کرنے میں پہل کرو گے تو وہ فرار کر جائیں گے‘‘ ۔
یہ کوئی ایسے جملے نہیں ہیں جو غلطی سے کسی کتاب میں چھپ گئے ہوں بلکہ یہ جملے ان کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں جو اسرائیل میں یہودی بچوں کو پڑھائی جاتی ہیں۔
عربوں، مسلمانوں اور دیگر اقوام کی نسبت صہیونی نسل پرستی کا یہ ایک نمونہ ہے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ صہیونی پوری دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹتے پھرتے ہیں کہ مسلمانوں اور عربوں کی درسی کتابوں میں یہودیوں کے خلاف مضامین موجود ہیں جس سے اسلامی ممالک میں یہودیت مخالف فضا پھیل رہی ہے۔
مقبوضہ فلسطین کے علاقے ’’المثلث‘‘ میں ’مرکز مطالعات تربیتی‘ کے سربراہ ڈاکٹر خالد ابو عصبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابوں کے مسلمانوں اور عرب فلسطینیوں کے خلاف منفی افکار کی ترویج کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر ابوعصبہ کا کہنا ہے کہ وہ عربوں کا ایک شدت پسندانہ چہرہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں گویا کہ وہ انسان ہی نہیں ہیں وہ انسانیت اور تہذیب و تمدن سے کوسوں دور ہیں اور عورتوں پر ظلم و ستم کرتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کا باعث بنتی ہے کہ یہودی بچے بچن سے ہی مسلمانوں کی نسبت نفرت اپنے دلوں میں لے کر بڑے ہوتے ہیں۔