یہودی معاشرے کو بکھیرنے والے اسباب

  • ۱۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: وہ اسباب و عوامل جو یہودی معاشرے کو پاش پاش کرتے اور انہیں ایک دوسرے سے بکھیرتے ہیں؛
قومیت
یہودی قانون کے مطابق صرف یہودی ماں کے بطن سے پیدا ہونے والا یہودی کہلاتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو آج دنیا میں رائج معاشرتی قوانین کے بالکل خلاف ہے اس لیے کہ آج دنیا میں بیٹے کو باپ کے ذریعے متعارف کرایا جاتا ہے نہ ماں کے ذریعے۔ یہودیوں میں اگر باپ عیسائی ہو اور اس کا بیٹا بھی بھلے عیسائی کیوں نہ ہو جائے لیکن یہودی رہے گا چونکہ اس کی ماں یہودی تھی، اور یہودی معاشرہ اسے یہودی ہی مانتا ہے۔ اسی بنا پر آپ دیکھتے ہیں کہ یہودیوں کے مختلف گروہ حتیٰ ظاہری اعتبار سے بھی کھلا اختلاف رکھتے ہیں۔ قومیت کے اعتبار سے کوئی خود کو سفاردی کہلواتا ہے اور کوئی اشکنازی، کوئی مشرقی یہودی اور کوئی عرب یہودی۔ اسی وجہ سے اسرائیل میں یہودیوں کو پہلے درجے کے شہری اور دوسرے درجے کے شہری میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ (۱)
سفاردی یہودی؛ یہ دراصل وہ یہودی ہیں جنہیں ہسپانیہ اور پرتگال سے ۱۵ صدی عیسوی میں نکالا گیا تھا لیکن دھیرے دھیرے سفاردیت کا مفہوم پھیلتا گیا اور شمالی افریقہ، مشرقی ایشیا نیز عرب ممالک کے رہنے والے یہودیوں کو بھی سفاردی یہودی کہا جانے لگا۔ ان یہودیوں کی زبان عبرانی اور لادینویی زبان ہے۔(۲) مغربی ممالک کے یہودی، خود کو برتر قوم اور سرمایہ دار یہودی کہلواتے ہیں۔ یہ جماعت آسانی سے تمام مغربی ممالک میں آ جا سکتی ہے اس کی مذہبی رسومات دیگر یہودیوں سے مختلف ہیں۔ یہ گروہ دیگر گروہوں کے ساتھ کبھی بھی نسل اور قومی روابط نہیں رکھتا اس لیے کہ انہیں پست اور دوسرے درجہ کا یہودی سمجھتا ہے۔ معروف فلاسفر “اسپینوزا” اور “بنجامین ڈزرائیلی” (برطانیہ کا سابق وزیر اعظم) اسی گروہ کا حصہ تھے۔
البتہ اس نکتہ کو نہیں بھولنا چاہیے کہ مشرقی اور عرب ممالک کے یہودیوں کو مذہبی رسومات میں سفاردویوں کے ساتھ بعض شباہتیں رکھنے کی وجہ سے انہیں سفاردی کہا گیا۔ حالانکہ نہ ان کی زبان کوئی ایک زبان تھی اور نہ ہی ان کا ماضی اور تاریخ سفاردی یہودی گروہوں کے ساتھ ملتا جلتا تھا۔
اشکنازی یہودی؛ یہ اصطلاح در حقیقت جرمنی کے یہودیوں پر اطلاق ہوتی تھی لیکن دھیرے دھیرے اس کے مہفوم میں وسعت پیدا ہوتی گئی اور مغربی اور امریکی یہودیوں کو بھی اشکنازی یہودی کہا جانے لگا۔ ان کی زیادہ تر زبان ملکی زبان تھی نہ کہ مذہبی۔ یہ گروہ اپنے دین کی نسبت زیادہ متعصب کہلاتا ہے جبکہ دوسرے یہودی گروہ انہیں انتہا پسند یہودی کہتے ہیں۔ صہیونی جماعت اسی گروہ میں سے وجود میں آئی اور یہی گروہ صہیونیت کی حمایت کرتا ہے۔ (۳)
عقائد
یہودی مذہب تمام یہودی معاشرے (اسرائیلی اور غیر اسرائیلی) کو آپس میں جوڑنے کا اہم عنصر ہے۔ اس لیے کہ اسرائیل کی موجودیت اس قوم کی مذہبی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ اس بنا پر علمائے یہود اپنے دینی متون کی تفسیر میں اس طرح احتیاط سے کام لیتے ہیں کہ حتیٰ بے دین اور سیکولر یہودیوں کو بھی شامل کر لیتے ہیں۔
لیکن صہیونی اپنی تقسیم بندی میں یہودیوں کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں؛ نسلی یہودی، مذہبی یہودی۔ اور مذہبی یہودیوں کو تین گروہوں؛ بنیاد پرست (آرتھوڈاکس )، اصلاح پسند اور قدامت پسند میں تقسیم کرتے ہیں۔ البتہ اس درمیان کئی طرح کی اقلیتیں بھی پائی جاتی ہیں۔
اصلاح پسند یہودی (۴)
یہ جماعت اٹھارہویں صدی عیسوی کے اواخر میں عصر روشن خیالی کے بعد جب یہودیت میں فلسفیانہ سوچ اور عقلیت پسندی کا رواج پیدا ہوا، وجود میں آئی۔ جرمنی کے موسی منڈلسن (۵) اصلاح پسند یہودی جماعت کے قدماء میں سے تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ کتاب مقدس کو جرمنی زبان میں ترجمہ کیا۔ اصلاح پسند یہودی کہ جو درحقیقت لیبرل اور سیکولر گروہوں کا بھرپور تعاون کرتے ہیں بہت سارے عقائد اور قومی و مذہبی رسومات کی مخالفت کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تعلیمات کی نئی تشریح کرنا شروع کر دی۔ من جملہ ان کی وہ اصلاحات جو شدید تنقید کا باعث بنیں یہ تھیں:
حقوق نسواں کی حمایت؛ اس سے قبل یہودی معاشرے میں عورتوں کے پاس کوئی اختیارات نہیں تھے، عورتیں بہت سے سماجی اور مذہبی پروگراموں میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں رکھتی تھیں۔ لیکن اصلاح پسند جماعت نے عورتوں کو اتنی چھوٹ دی کہ آج یہودی عورتیں ربی (خاخام) بھی بن سکتی ہیں اور حتیٰ عبادت کے لیے مخصوص لباس بھی پہن سکتی ہیں۔
ہم جنس پرستی؛ یہ ایک نئی بحث ہے جو کئی سالوں سے اسرائیلی معاشرے کے دامن گیر ہے اور اصلاح پسند گروہ اس کی سختی سے حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے حتیٰ ایسے قوانین بھی بنائے ہیں جو ہم جنس پرستی کو ربیوں (خاخاموں) کے لیے بھی جائز سمجھتے ہیں اور وہ اپنی عبادت گاہوں میں اس شرمناک فعل کے لیے مخصوص جگہ بنا سکتے ہیں۔
طلاق کا قانون؛ یہودی مذہبی قوانین کے مطابق، طلاق ایک پیچیدہ عمل ہے جو صرف شوہر کے ذریعے ہی انجام پانا چاہیے۔ اور اگر یہ عمل مکمل طور پر یہودی روایتی آئین کے مطابق انجام نہیں پاتا تو طلاق محقق نہیں ہو گا اور رشتہ زوجیت باقی رہے گا۔ اصلاح پسند گروہ نے اس عمل میں بھی دخالت کی اور زن و مرد کے حقوق میں مساوات کا نعرہ لگایا اور طلاق کے عمل کو ملکی قوانین کے مطابق انجام دینا شروع کر دیا۔
غیروں کے ساتھ شادیاں؛ یہ ایسا مسئلہ ہے جس کی تمام یہودی فرقے مخالفت کرتے ہیں حتیٰ خود اصلاح پسند گروہ میں بھی اس کے مخالفین پائے جاتے ہیں اس کے باوجود اصلاح پسند جماعت غیر یہودیوں کے ساتھ شادی کو جائز سمجھتی ہے اور خاص شرائط میں اپنے مذہبی رہنما کو بھی غیر یہودی کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اصلاح پسند بطور کلی عصر مسیحا، سرزمین موعود کی طرف واپسی، جلاوطنی وغیرہ جیسے مفاہیم کے مخالف ہیں۔ اس لیے کہ ان موارد کو نسل پرستانہ تعلیمات کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اسرائیل کے موجودہ خاخام کے نظریات پر بھی متفق نہیں ہیں۔ (۶)
بنیاد پرست یہودی (۷)
بنیاد پرستی ایک ایسی اصطلاح ہے جو بطور کلی روایتی شاخوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ جماعت دوسرے تمام مذہبی گروہوں کے مقابلے میں زیادہ سخت اور روایتی ہے اور تلمود اور توریت کو خداوند متعال کا کلام مانتی ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ جماعت مکمل طور پر اصلاح پسند گروہ کی مخالف اور دشمن ہے۔ بنیاد پرست یہودی قائل ہیں کہ وہ منتخب قوم ہیں اور مسیح کے ذریعے صرف انہیں حکومت کا حق حاصل ہے۔ یہ جماعت صہیونی تحریک کے سخت حامی ہے۔ (۸)
قدامت پسند یہودی (۹)
در حقیقت یہ جماعت اصلاح پسندی اور جدیدیت پسندی کے مقابلے میں وجود میں آئی۔ قدامت پسند یہودی، ایک طرف سے روایتی دینی عناصر پر زور دیتے ہیں اور دوسری طرف سے ماڈرن دنیا کے ساتھ ان روایتی رسومات کو ہم آہنگ کرنے کی فکر بھی کرتے ہیں لیکن نہ ہر قیمت پر، اور نہ اصلاح پسند اور انتہا پسند یہودیوں کی روش سے بلکہ دینی اصول و مبانی کو محفوظ رکھتے ہوئے موجودہ زمانے کے ساتھ چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس جماعت کے ایک سربراہ “زاکاریا فرانکل” کے بقول “درمیانی اصلاحات ایک ناگزیر عمل ہے لیکن یہ عمل اس طریقے سے انجام پانا چاہیے کہ دینی اصول اور ماضی کی روایتی رسومات محفوظ رہیں”۔(۱۰)
حواشی
۱ – https://www.farsnews.com/news/8807271904.
۲- گویشی رومیایی متعلق به قرن ۱۵م.
۳- https://rasekhoon.net/article/show/127176.
۴- Reform Judaism
۵- Moses Mendelssohn
۶- فصلنامه الاهیات تطبیقی، جنبش اصلاح طلبی یهود و چالش‌های آن در دوره مدرن، حسین سلیمانی، سید ابراهیم موسوی، سال ششم، شماره چهاردهم، زمستان ۱۳۹۴، ص۱۴۸-۱۳۹٫
۷- Orthodox Judaism
۸- http://jscenter.ir/jewish-studies/sociology-of-jews/6720
۹- Conservative Judaism
۱۰- http://tahoor.com/fa/Article/View/115243.

 

یہودی قوم نسل پرست

  • ۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودی قوم کی ایک خاص اور منفرد خصلت جو شائد ہی کسی دوسری قوم میں پائی جاتی ہو وہ نسل پرستی ہے۔ یہودی قوم صرف خود کو برتر اور انسانی شرافت کی مالک سمجھتی ہے اور اس کے علاوہ دیگر تمام انسانوں کو یا تو انسان ہی نہیں سمجھتی یا اپنا غلام سمجھتی ہے۔ پیغمبر اسلام (ص) کے خلاف یہودیوں کے پروپیگنڈے کی ایک اہم وجہ یہی تھی کہ وہ کہتے تھے کہ اسلام نے عرب و عجم اور یہود و نصاریٰ کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں چھوڑا اور تقویٰ کو معیار برتری قرار دے دیا۔ لہذا اسلام قبول کر کے وہ قوم یہود اور یہودیت کو برتر نہیں کہلوا سکتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے نہ صرف اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اسلام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کیں۔ اور مختلف بہانوں کے ساتھ پیغمبر اکرم (ص) کے مدمقابل کھڑے ہو گئے اور اسلام کے نہال اور پودے کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کی۔ قرآن کریم اس بارے میں فرماتا ہے:
وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَیَّامًا مَعْدُودَةً قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا فَلَنْ یُخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ[۱]
“اوریہ کہتے ہیں کہ ہمیں آتش جہنم چند دنوں کے علاوہ چھو بھی نہیں سکتی ان سے پوچھیے کہ کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لیا ہوا ہے جس کی وہ مخالفت نہیں کر سکتا یا اس کے خلاف جہالت کی باتیں کر رہے ہیں”۔
قوم یہود کا یہ عقیدہ کہ وہ برتر قوم ہے اور ان کے گناہگار صرف چند دنوں کے علاوہ جہنم میں نہیں رہیں گے اور خدا بہشت میں انہیں منتقل کر دے گا یہ اس قوم کے انحراف اور خود پرستی کے دلائل ہیں۔ (۲) وہ قائل ہیں خدا ان پر سب سے زیادہ مہربان ہے اس وجہ سے آخرت میں انہیں کوئی سزا نہیں دے گا اگر سزا دے گا بھی تو زیادہ سے زیادہ چالیس دن یا ستر دن(۳) اس کے بعد انہیں جنت میں اعلیٰ ترین مقامات سے نوازے گا۔ یہ وہ غلط اور بے بنیاد تصورات ہیں جو اس قوم کے برائیوں میں مبتلا ہونے اور دنیا میں ظلم و جنایت کا ارتکاب کرنے کا باعث بنے ہیں۔(۴)
لَیْسَ بِأَمَانِیِّکُمْ وَلَا أَمَانِیِّ أَهْلِ الْکِتَابِ ۗ مَنْ یَعْمَلْ سُوءًا یُجْزَ بِهِ وَلَا یَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِیًّا وَلَا نَصِیرًا[۵]
“کوئی کام نہ تمہاری امیدوں سے بنے گا نہ اہل کتاب کی امیدوں سے، جو بھی برا کام کرے گا اس کی سزا بہرحال ملے گی اور خدا کے علاوہ اسے کوئی سرپرست اور مددگار بھی نہیں مل سکتا”۔
اس آیت کی شان نزول میں آیا ہے کہ مسلمان اور اہل کتاب ایک دوسرے پر فخر و مباہات کر رہے تھے؛ اہل کتاب کہتے تھے: ہمارا پیغمبر تمہارے پیغمبر سے پہلے آیا ہے اور ہماری کتاب بھی تمہاری کتاب سے پہلے آئی ہے لہذا ہم تم سے برتر ہیں”۔ مسلمان کہتے تھے: ہمارا پیغمبر خاتم الانبیا ہے اور ہماری کتاب آسمانی کتابوں میں کامل ترین کتاب ہے، لہذا ہم تمہارے اوپر فوقیت رکھتے ہیں”۔ یہودی کہتے تھے ہم برگزیدہ قوم ہیں اور آتش جہنم سوائے چند دنوں کے ہمیں نہیں جلائے گی”۔
وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَیَّامًا مَعْدُودَةً[۶]
اور یہ کہتے ہیں کہ آتش جہنم چند دنوں کے علاوہ ہمیں چھو بھی نہیں سکتی۔
اور مسلمان کہتے ہیں: ہم بہترین امت ہیں اس لیے کہ خداوند عالم نے ہمارے بارے میں کہا ہے: « کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ»[۷]
تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے منظر عام پر لایا گیا ہے۔
یہودیوں کی یہی قومی برتری اس بات کی باعث بنی ہے کہ یہودی اپنے دین کی تبلیغ نہیں کرتے اور یہودیت کو صرف اپنے لیے سمجھتے ہیں اور دوسروں کو یہودیوں کا خادم شمار کرتے ہیں۔ جیسا کہ تلمود میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اور تلمود میں یہودیوں کو یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ یہودیوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ غیریہودیوں پر مہربانی کریں۔
حواشی
[۱] سوره مبارکه بقره آیه ۸۰
[۲] ناصر مکارم، تفسیر نمونه، ج ۱، ص ۳۲۲
[۳] محمد رشید رضا، ج ۱، ص ۳۶۲ و الطبری، ج ۱، ص ۵۴۰
[۴] ناصر مکارم، همان، ص ۳۲۵
[۵] سوره مبارکه نساء آیه ۱۲۳
[۶] سوره مبارکه بقره آیه ۸۰
[۷] سوره مبارکه آل عمران آیه ۱۱۰
[۸] جعفر مرتضى الحسینی العاملی، ما هو الصحیح من سیرة الرسول الاعظم، ج ۴، ص ۱۱۹

 

یہودیت اور صہیونیت میں فرق

  • ۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: آج کے صہیونی معاشرے کی جڑیں در حقیقت یہودی آئین و تاریخ میں پیوستہ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، صہیونیت یہ کوشش کر رہی ہے کہ تمام یہودی فرقوں کو ایک ہی عنوان کے نیچے جمع کرے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ دنیا کے مختلف یہودی فرقوں کا توریت کی نسبت نقطہ نظر مختلف ہے۔ جیسا کہ بعض کا عقیدہ ہے کہ یہ کتاب حضرت موسی(ع) کے بعد لکھی گئی ہے۔
یہودیت اور صہیونیت میں بنیادی فرق
اصطلاح میں یہودی اسے کہا جاتا ہے جو حضرت موسیٰ (ع) کا پیرو ہو اور توریت کو آسمانی کتاب مانتا ہو۔ لیکن اس وقت یہودی مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں؛ ان میں سے کچھ گروہ ایسے ہیں جو صہیونی افکار کے مالک ہیں اور اس جماعت کا ساتھ دیتے ہیں۔
صہیونیت در حقیقت ایک ایسی جماعت ہے جو انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں ایک یہودی ملک کی تشکیل کے مقصد سے وجود میں آئی۔ یہ جماعت ایسے حال میں دین اور شریعت موسیٰ(ع) اور سرزمین موعود کی بات کرتی اور صہیونی ریاست کی بقا کے لیے تلاش کرتی ہے کہ اس کے بانی ملحد اور بے دین ہیں۔
صہیونیت نسل پرستی، قوم پرستی اور استکباری فکر پر مبنی جماعت ہے(۱)۔ اسی وجہ سے یہودیوں کا ایک مذہبی گروہ “نیٹوری کارٹا (Neturei Karta) “صہیونیوں کو بالکل یہودی نہیں مانتا اور صہیونیوں کے خلاف جد وجہد کرتا ہے۔ ان کی نگاہ میں صہیونیوں کا کردار سنت الہی کے مخالف ہے۔ نیٹوری کارٹا کا ماننا ہے کہ صہیونیت اپنے مقاصد کے حصول کے لیے یہودیوں اور غیر یہودیوں کو استعمال کر رہی ہے۔ (۲)۔ اسرائیل کے اندر پائی جانی والی مذہبی جماعتیں بھی شدید اختلافات کا شکار ہیں یہاں تک کہ صہیونی ریاست کی فوج میں ایک مشترکہ شکل کی نماز پڑھوانا دشوار ہے۔ اس لیے کہ ہر گروہ جیسے اشکنازی یہودی ( Ashkenazi Jews) اور سفاردی یہودی(Sephardi Jews) کے یہاں نماز کی ادائیگی کے اپنے اپنے طریقے ہیں، جس کی اصل وجہ طبقاتی اختلاف ہے جو یہودیوں کے اندر کثرت سے دکھائی دیتا ہے اور صہیونی ریاست کی بناوٹ میں بھی یہ اختلاف بے انتہا موثر ہے۔ (۳)
اختلافات کے مذکورہ موارد کے علاوہ عالمی صہیونیت کے ذریعے دنیا بھر سے مختلف کلچر اور ثقافت کے حامل یہودیوں کو اسرائیل میں اکٹھا کرنا ان مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ یہ ایسی تلاش و کوشش ہے جو یہودیت مخالف جماعت سے بھی غیر منسلک نہیں ہے۔ ایک امریکی یہودی مولف ’لینی برنر‘ (Lenni Brenner) اپنے کتاب ’’ڈکٹیٹرشپ کے دور میں صہیونیت‘‘ میں صہیونیت کے یہودیت مخالف جماعتوں کے ساتھ پائے جانے والے روابط سے پردہ ہٹاتے ہیں۔
اسرائیل کی تشکیل
کسی بھی ملک کی تشکیل کا قانونی طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ایک جغرافیہ اور تاریخ کے دامن میں پائے جانے والے لوگ اکٹھا ہوں اور ایک خاص سرزمین پر حکومت تشکیل دیں۔ لیکن صہیونی ریاست کی تشکیل کے حوالے سے کچھ مختلف طریقہ کار اپنایا گیا۔ صہیونی شروع میں بندوق اور اسلحہ کے ساتھ سرزمین فلسطین میں داخل ہوئے اور فلسطین پر قبضہ کیا اس کے بعد انہوں نے کچھ جھوٹے سچے وعدے یا زور و زبردستی کے ساتھ دنیا بھر سے یہودیوں کو اس غصب شدہ زمین پر اکھٹا کیا تو اس طریقے سے اسرائیل نامی ایک جعلی ریاست معرض وجود میں آئی۔
البتہ صہیونیوں نے دنیا بھر سے یہودیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے کسی ایک قاعدہ و قانون کی پیروی نہیں کی۔ مثال کے طور پر اتھیوپیا کے یہودیوں کو اسرائیل منتقل کرنے کے لیے ان کی اقتصادی مشکلات کو حل کرنے کا وعدہ دیا۔ امریکہ کے ثرتمند یہودیوں کے ساتھ سرزمین موعود اور ظہور مسیح کی بات کی وغیرہ وغیرہ(۴) یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں دنیا بھر سے اکٹھا ہونے والے یہودی مختلف اہداف و مقاصد اور مختلف طرز تفکر کے ساتھ وہاں جمع ہوئے ہیں لہذا صہیونی معاشرے میں پایا جانے والا یہ بنیادی اختلاف صہیونی ریاست کے لیے وبال جان بنا ہوا ہے جو عنقریب اسے لے ڈوبے گا۔
حواشی:
۱ – سایت موعود، اخبار، اخبار سیاسی، صهیونیسم و تفاوت آن با یهود، کد خبر: ۸۶۸۲، www.mouood.org.
۲- https://kheybar.net/?p=3627.
۳- https://www.mashreghnews.ir/news/239218.
۴- فصلنامه کتاب نقد، هویت یهود از شعار تا واقعیت، دهقانی نیا، امیررضا، پاییز۱۳۸۳، شماره ۳۲، ص ۲۹۲-۲۶۸
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ہالیووڈ کا عقیدہ مہدویت پر حملہ

  • ۳۲

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: عصر حاضر میں مہدویت کا موضوع اتنا اہم موضوع ہے کہ حتیٰ دنیا کی معروف ترین فلم انڈسٹری ہالیووڈ نے اس موضوع پر کئی فلمیں اور کمپیوٹر گیمز بنائی ہیں ہالیووڈ نے اس موضوع کی اہمیت کا احساس اور انسانی معاشرے پر اس کی تاثیر کا ادراک کرتے ہوئے مکمل پروگرامینگ اور منصوبہ بندی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔
اورسن ویلیس ( Orson Welles) ہالیووڈ فلم انڈسٹری کی ایک معروف یہودی شخصیت ہے جس کی فلم “Citizen Kane” دنیا کی بہترین اور معروف فلموں میں شمار کی جاتی ہے، اس نے “Nostradamus کی پیشن گوئیاں” کے نام سے ایک فلم بنائی ہے جس میں آخری زمانے میں ایک ایسے شخص کو منجی کے طور پر پہچنوانے کی کوشش کی ہے جس کا نام آخری پیغمبر کے نام پر ہوتا ہے اور وہ مسلمان ہوتا ہے۔ لیکن اس قدر قتل و غارت کرتا ہے اور لوگوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتا ہے کہ ہر کوئی اس سے نفرت کا اظہار کرتا ہے۔
اس کا لباس عربی لباس ہوتا ہے اور سر پر عربوں کی طرح دستار باندھے ہوتا ہے۔ یہ یہودی فلم ڈائریکٹر در حقیقت اس فلم کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ مسلمان جس کو منجی اور بشریت کو نجات دلانے والا کہتے ہیں وہ ہزاروں لوگوں کی جانیں لے گا اور ان کے خود کی ندیاں بہائے گا۔ وہ اس فلم کے ذریعے یہ کہنا چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں رہنے والے ۶۰۰ ملین مسلمان جو عظیم قدرتی ذخائر منجملہ تیل و گیس کی دولت کے مالک ہیں اس منجی کے حامی ہیں جو عالمی امن کے لیے خطرہ ہے لہذا مسلمانوں سے اس عظیم ثروت و دولت کو چھینا جائے تاکہ اگر ان کا منجی ظہور کرے تو ان کے پاس اس کی مدد کے کچھ بھی نہ ہو اور درنتیجہ وہ جنگ و جدال جو وہ کرنا چاہتا ہے نہ کر سکے۔
ویلیس نے اس فلم کے ذریعے آسکرز (Oscars) کا انعام بھی حاصل کیا ہے اور اس کے بعد اس نے “یامہدی” کے نام سے ایک کمپیوٹر گیم بھی بنائی ہے جس کا مقصد بھی مذکورہ منصوبہ بندی کے تحت بچوں اور نوجوانوں کو منجی یا مہدی سے دور کرنا اور اس کی نسبت ان میں نفرت پیدا کرنا ہے۔
‘اورسن ویلیس’ نے یہ فلم ایسے حال میں بنائی ہے کہ اسے منجی آخر الزمان کہ جس پر تمام ادیان الہی کے ماننے والے ایمان رکھتے ہیں اور مسلمان اسے آخری نبی کی نسل میں سے سمجھتے ہیں کے بارے میں دقیق معلومات نہیں ہیں یا اگر معلومات ہیں بھی تو اس نے حقیقت کو چھپاتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کی نسبت اپنی دشمنی کو اس انداز سے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ منجی عالم بشریت اللہ کے اس آخری نمائندے کا نام ہے جو دنیا میں قتل و غارت پھیلانے اور خون کی ندیاں بہانے نہیں آئے گا بلکہ بشریت کو قتل و غارت اور فتہ و فساد سے بچانے آئے گا ظلم و ستم سے بھری دنیا کو عدل و انصاف سے پر کرنے آئے گا وہ مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کی ثروت و دولت کا محتاج نہیں ہو گا بلکہ زمین اس کے لیے اپنے سارے خزانے اگل دے گی وہ اخلاق حسنہ اور پیار و محبت کے ذریعے دنیا کی تقدیر کو بدل دے گا۔ اس لیے کہ وہ اس نبی کا فرزند ہو گا جو نبی رحمت ہے اور اس خدا کا نمائندہ ہو گا ‘ارحم الراحمین’ ہے جس کی رحمت ہر چیز پر غالب ہے، “رحمتی وسعت کل شئی”۔ لہذا ہالیووڈ کی ایسی فلموں اور گیموں کا مقابلہ کرنا اور ان سے اپنے بچوں اور نوجوانوں کو دور رکھنا تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے اس لیے کہ عالمی صہیونیت ان آلات و ابزار کے ذریعے مسلمانوں کے عقائد کو دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کرنا چاہتی ہے اور مسلمان بچوں اور نوجوانوں کے اندر ان کے عقائد کی نسبت نفرت پیدا کرنا چاہتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

۶ ملین یہودیوں کا قتل عام، جھوٹ یا سچ؟

  • ۴۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امریکی قابض حکام نے دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی میں جنگ کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کیمپوں میں واقعی کتنے افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے۱۹۵۱میں جو اعداد و شمار شائع کئے ان کے مطابق، اس عرصے کے دوران کیمپوں میں لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد۱/۲ ملین تھی، جس میں خانہ بدوشوں ، یوکرائنی ، یہودی اور دیگر اقوام کے افراد بھی شامل تھے حتیٰ کہ وہ افراد بھی ان اعداد و شمار میں شامل تھے جو اپنی فطری موت مرے۔
اس طرح ، اعلی ترین سطح پر، یہودیوں کی ہلاکت کی تعداد پانچ لاکھ یا چھے لاکھ سے زیادہ نہیں ہوسکتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں ، عیسائی قوموں نے اس سے کہیں زیادہ جانی نقصان اٹھایا۔ ہنگری کی چھوٹی چھوٹی ملک گیر جنگوں میں ہلاکتوں کی تعداد ، آج کے یہودیوں سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے -  وہ لوگ جو فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے یا جو کیمپوں میں بھوک اور یا سردی کی وجہ سے مرے۔ کم سے کم ان کی تعداد دس لاکھ بتائی گئی ہے۔ چھبیس لاکھ جرمن فوجی اس جنگ میں مارے گئے جو یہودیوں کی طرف سے ان پر ٹھونسی گئی تھی۔ ۱۲ لاکھ عام جرمن اس جنگ کے اختتام تک ہلاک ہوئے۔ ۱۴ لاکھ وہ جرمن ہلاک ہوئے جو جیلوں اور روس کے کیمپوں میں موجود تھے۔  (۱)
جہاں تک چھ لاکھ یہودیوں کے قتل کی تعداد کا تعلق ہے ،تو تاریخی نظرثانی کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ اعداد و شمار صیہونیوں نے ایجاد کیے ہیں، اور اگرچہ دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے یہودیوں سمیت تمام دیگر جنگ زدہ ممالک کے لوگوں کے لئے بہت تباہ کن نتائج برآمد ہوئے تھے، لیکن اتنے بڑے پیمانے پر یہودیوں کا قتل عام کسی بھی طرح سے ممکن نہیں تھا۔ صیہونیوں کی جانب سے بیان کی گئی، ہلاک ہونے والے یہودیوں کی تعداد کے بارے میں ، تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ ایک طرف سے دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودی مقتولین کے لئے "چھ ملین" کی تعداد کا بیان پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت تھا، یا دوسرے الفاظ میں ، ایک "علامتی نمبر" تھا ، اور دوسری طرف اعداد و شمار صرف زبانی گواہی کی بنیاد پر مہیا کیے گئے۔ (۲)
فرانسیسی مسلم دانشور روجر گاروڈی  (Roger Garaudy)، جو ۱۹۷۱ تک چھ ملین یہودیوں کے اعداد و شمار کو صحیح سمجھتے تھے اس بارے میں لکھتے ہیں: یہاں پر میں آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ کس طرح میں نے غیر حقیقی چھ ملین یہودیوں کے اعداد و شمار کی حقیقت سے پردہ اٹھایا، کیونکہ میں بھی ۱۹۷۱ تک ان اعداد و شمار کو حقیقی سمجھتا تھا۔ ورلڈ یہودی کانگریس کے چیئرمین مسٹر "ناحوم گولڈمین" (۳) ، میرے ایک قریبی دوست ہیں یہاں تک کہ میں بیت المقدس میں ان کے گھر مہمان رہا ہوں۔ ایک دن پیرس میں انہوں نے مجھے بتایا کہ کیسے وہ جرمن صدر اعظم آڈنور سے یہودی مقتولین کا معاوضہ لینے میں کامیاب ہوئے۔ مسٹر ناحوم گولڈمین نے کہا ، "میں نے چھے ملین کے سرکاری اعداد و شمار متعین کئے۔" ( ۶)
تاریخ دان اور انسٹی ٹیوٹ برائے تاریخی جائزہ کے ڈائریکٹر، مارک ویبر کا کہنا ہے: چھے ملین یہودیوں کے قتل کا کئی ثبوت نہیں ہے۔ لہذا دوسری جنگ عظیم میں اس قتل عام کی کہانی کے بارے میں بہت سارے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ جاپان سے چھپنے والے ایک اہم اخبار باسلرناخریشتن نے ایک دقیق رپورٹ کے بعد ۱۹۴۶ میں یہ لکھا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جرمن حکومت کے ہاتھوں ۱۵ لاکھ سے زیادہ یہودیوں کی جانیں گئی ہوں۔ ( ۷)

حواشی

۱ـ لوئیس مارشالکو، فاتحین جهانی (جنایتکاران حقیقی جنگ) ترجمه دکتر عبدالرحیم گواهی (تهران: مؤسسه فرهنگی انتشاراتی تبیان، ۱۳۷۷) صص۱۸۲-۱۸۳٫

۲ـ نشریه رویداد و گزارش صهیونیسم (تجدیدنظرطلب)، شماره ۶-۵۰، ص ۲۰٫

۳- Nahum Goldman

۴ـ سیاستمدار آلمانی و بانی حزب مسیحی دموکرات آلمان. وی بین سال‌های ۱۹۴۹ تا ۱۹۶۳ صدر اعظم آلمان بود.

۵ـ روژه گارودی، محاکمه آزادی (در مهد آزادی)، (تهران: مؤسسه فرهنگی اندیشه معاصر، ۱۳۷۷) صص۵۷- ۵۶٫

۶  Baseler Nacherichten

۷ـ مارک وبر، اعتبار از دست رفته هولوکاست، مؤسسه بازنگری تاریخی htt://www.ihr.com

 

یہودیت اور وہابیت کے درمیان شباہتیں

  • ۴۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ؛ وہابیت کی عمر ۳۰۰ سال سے بھی کم ہے، یہ جماعت فقہی اہل سنت کے دامن میں فقہی اور کلامی مکاتب کی پیدائش کے ایک ہزار سال بعد معرض وجود میں آئی ہے اور جو لوگ اس جماعت کی تخلیق کے پس پشت کردار ادا کررہے تھے، ان کے اپنے خاص مقاصد تھے۔ اس جماعت کی ۳۰۰ سالہ کارکردگی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو عالم اسلام کی سرحدوں سے باہر ہی تخلیق کیا گیا ہے اور عالم اسلام میں کچھ اشخاص نے تنگ نظریوں یا پھر بیرونی بازیگروں کی سازش کے ساتھ مل کر اس کو پروان چڑھایا ہے۔
کیونکہ یہ وہ زمانہ تھا کہ ـ منگولوں کے حملے کے بعد عظیم اسلامی تہذیب کے زوال کے ۵۰۰ سال بعد ـ ایک بار پھر عالم اسلام علمی اور سائنسی عروج کی راہ پر گامزن ہورہا تھا، اور اپنے سابقہ تجربات اور اپنی تازہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر نئی اسلامی تہذیب کی بنیاد رکھ رہا تھا۔ برطانوی استعمار اس حقیقت کو بخوبی سمجھ چکا تھا چنانچہ وہ مسلمانوں کی اس حرکت کو ابتداء ہی میں ناکارہ بنانا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے یہاں وہابیت، بہائیت اور قادیانیت جیسی جماعتوں یا ایجنسیوں کی بنیاد رکھی اور مسلمانوں کو ان کے ساتھ مصروف کردیا اور کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے اصل دشمن غاصب یہودی تھے جو انگریزوں کی سازش کے نتیجے میں گذشتہ ستر برسوں سے مسلمانوں کے قبلہ اول پر قابض ہوئے ہیں لیکن وہابیت نے ابتداء میں خاموشی اختیار کرلی اور آج کے زمانے میں یہودیوں کے صف میں کھڑی نظر آرہی ہے کیونکہ مسلمان ـ اس کے خیال میں ـ اس قدر کمزور اور منتشر ہوئے ہیں کہ مزید چھپ کر وار کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ اب نہ صرف کھل کر وار کررہی ہے بلکہ پورے عالم اسلام کی نمائندہ بن کر قبلہ اول کا سودا کررہی ہے چنانچہ موجودہ قبلہ کا تحفظ بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔
وہابیت کا اصول مسلمانوں کی تکفیر اور مسلمانوں کو للکارنے پر استوار ہے اور اس کی تمام تر کوشش یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کیا جائے، عالم اسلام کا چہرہ مخدوش اور داغ دار کیا جائے، دہشت گردی کو فروغ دیا جائے، چنانچہ وہ نہ تو اسلام کے بیرونی دشمنوں کی دشمن ہے اور نہ ہی اس کے پاس مسلمانوں کے درمیان انتشار پھیلانے سے کوئی فرصت ہے کہ بیرونی دشمنوں کو توجہ دے سکے جبکہ ان کے عقائد میں بھی بیرونی دشمن کا کوئی تصور نہیں ہے بلکہ وہ ہر وقت امت مسلمہ کے اندر دشمنیوں کو پروان چڑھاتی ہے اور بیرونی دشمن کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے؛ چنانچہ وہ نہ صرف دشمن کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرتی بلکہ آج اعلانیہ طور پر دشمنوں کی صف میں کھڑی ہے اور یہودیوں اور صہیونیوں کے مد مقابل کھڑی حزب اللہ، حماس، جہاد اسلامی اور عالمی اسلامی مزاحمت کی تنظیموں کے مد مقابل آکھڑی ہوئی ہے جبکہ بنی سعود، بنی نہیان اور بنی خلیفہ سمیت عرب ریاستیں اپنی دولت وہابیت کے مذموم مقاصد کے قدموں میں ڈھیر کر رہی ہیں۔
چنانچہ ایک وہابی تکفیری لکھاری پہلی مرتبہ یہودی ریاست کو شکست کی تلخی سے آشنا کرنے والی لبنانی مزاحمتی تنظیم “حزب اللہ” پر تنقید کرتے ہوئے اپنے مضمون کا عنوان “حزب الله الشیعی اللبنانی: حزب الله أم حزب الشیطان؟” (شیعہ لبنانی تنظیم حزب اللہ، حزب اللہ یا حزب الشیطان) قرار دیتا ہے اور اس کے ذیل میں جہاں تک ممکن ہے اس نے حزب اللہ اور سید حسن نصراللہ پر الزامات اور بہتانوں کی بوچھاڑی کردی ہے اور اپنے وہابی معمول کے مطابق بدزبانی سے سے کام لیا ہے۔ (۱) جبکہ حزب اللہ کا اپنا کردار ہے اور عرب اور مسلم دنیا میں کوئی بھی اس وہابی لکھاری کی بدزبانیوں کا اعتبار نہیں کرسکتا۔ لیکن ادھر یہودی ریاست ہر روز فلسطینیوں کا خون بہاتی ہے، شام میں خانہ جنگی کو ہوا دیتی ہے، اور لاکھوں انسانوں کے قتل کے اسباب فراہم کرتی ہے، لبنان پر حملے کرتی ہے اور فلسطین پر قبضہ کرکے قبلہ اول کو غصب کئے ہوئے لیکن آپ کو کہیں بھی کوئی وہابی یہودیوں کے اس ظالمانہ اور غاصبانہ کردار پر تنقید کرتا نہیں دکھائی دے گا بلکہ اس زمانے میں تو وہ باقاعدہ یہودیت اور صہیونیت کی صف میں کھڑے نظر آرہے ہیں جس سے وہابیت کی حقیقت پہلے سے کہیں زیادہ عیاں ہوتی ہے اور یہ صورت حال مسلمانوں کو اس جماعت کے سلسلے میں زیادہ غور کرنے اور اپنا فیصلہ سنانے کی دعوت دے رہی ہے۔
یہودی ریاست کے مظالم کے آگے خاموشی اور حزب اللہ سمیت اسلامی مزاحمت کی تنظیموں کے خلاف سازشوں کے علاوہ بھی کچھ مسائل ہیں جن سے یہودیت اور وہابیت کے باہمی ناطے کے متعدد ثبوت ملتے ہیں:
ایک موضوع ابن تیمیہ کا سلسلہ نسب ہے جس کی طرف مسلمان محققین نے کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے، اور اگر اس شخص کے نسب کو سمجھا جائے تو اس کے ظہور اور اس کی پیروی میں اس طرح کے فرقے کے ظہور کے محرکات کا بہتر ادراک کیا جاسکتا ہے۔ لفظ تیمیہ “تیما” سے ماخوذ ہے اور “تیما” مدینہ کے شمال میں واقع یہودی محلے کا نام تھا۔ (۲)
حقیقت یہ ہے کہ اس کے آباء و اجداد وہ لوگ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی تلاش کے لئے مدینہ کے شمال میں سکونت پذیر ہوچکے تھے، اور ابن تیمیہ حرانی کا سلسلۂ نسب بھی شمالی مدینہ کے یہودیوں سے جا ملتا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ابن تیمیہ اور یہودیوں کے افکار اور عقائد کے درمیان اس قدر شباہتیں پائی جاتی ہیں۔
یہودیت اور وہابیت کے درمیان بعض شباہتیں
۱۔ اللہ کی جسمانیت
سلفیت کا بانی اور وہابیت کا سرچشمہ ابن تیمیہ کہتا ہے: “خدا کی کتاب اور رسول اللہ(ص) کی سنت نیز صحابہ کے کلام میں ایسی کوئی بات دیکھنے کو نہیں ملتی کہ خدا جسم نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ کی جسمانیت کی نفی کرنا یا اس کا اثبات کرنا، بدعت ہے اور کسی نے بھی اس کی جسمانیت کا نہ اثبات کیا ہے اور نہ ہی اسے ردّ کیا ہے”۔ (۳)
کتاب مقدس کی بنیاد پر یہودی عقیدہ: “تب موسی اور ہارون اور ناداب اور ابیہو بنی اسرائیل کے ۷۰ عمائدین کے ہمراہ پہاڑ کے اوپر گئے ٭ اسرائیل کے خدا کو دیکھا اور اس کے پاؤں تلے نیلم کے پتھر کا فرش تھا جو آسمان کی مانند شفاف تھا، اگرچہ اسرائیل کے بزرگوں نے خدا کو دیکھا لیکن خدا نے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور انھوں نے خدا کے حضور کھایا پیا”۔ (۴)
۲۔ خدا کا کرہ ارضی پر اتر آنا
ابن تیمیہ کہتا ہے: “خداوند متعال ہر شب جمعہ اس دنیا کے آسمان پر اتر آتا ہے اور کہتا ہے: کیا کوئی ہے جو مجھے پکارے اور میں اس کی اجابت کروں؟ کیا کوئی ہے جو مغفرت طلب کرے اور میں اس کو بخش دوں؟ اور اللہ طلوع فجر تک دنیا کے آسمان پر بیٹھ کر یہی جملے دہراتا رہتا ہے”۔ وہ کہتا ہے: “جو شخص عرش سے خدا کے نزول کا انکار کرے، یا اس کی تأویل کرے، [اور دوسرا مطلب لے] وہ بدعتی اور گمراہ ہے”۔ (۵)
زمین والے آسمان یا کرہ ارضی اور اس کے مضافات میں خداوند سبحان کے نزول کے بارے میں ابن تیمیہ کے اس وہم کو مد نظر رکھتے ہوئے، کتاب مقدس کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ہمیں یہ جملے ملتے ہیں کہ جس وقت کہ ابراہیم ممرے کے بلوطستان میں سکونت پذیر تھے خداوند ایک بار پھر انہیں نظر آیا۔ واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے:
“پھر خداوند ممرے کے بلوطستان میں انہیں نظر آیا اور وہ دن کی گرمی میں اپنے خیمے کے دروازے پر بیٹھے تھے * انھوں نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا کہ وہ تین مرد ان کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ ان کو دیکھ کر خیمے کے دروازے سے اٹھ کر ان سے ملنے کے لئے دوڑے اور زمین تک جھک گئے۔ [یا اپنا چہرہ زمین پر رگڑا] * اور کہنے لگے کہ اے میرے آقا! اگر تو نے مجھ پر کرم کی نظر کی ہے تو اپنے خادم کے پاس رکنا * تاکہ تھوڑا سا پانی لایا جائے اور تو اپنے پاؤں دھو لینا اور اس درخت کے سائے میں آرام کرنا میں ابھی چلتا ہوں اور تیرے پاؤں دھونے کے لئے پانی لاتا ہوں”۔ (۶)
جزیرہ نمائے عرب کے مشہور مصنف اور محقق “ناصر آل سعید الشمری” (المعروف بہ ناصر السعید) (ولادت ۱۹۲۳ع‍ – وفات ۱۹۷۹ع‍) اپنی کتاب “تاریخ آل سعود” میں وہابی فرقے کے بانی “محمد بن عبدالوہاب” کے بارے میں لکھتے ہیں: “محمد بن عبدالوہاب کا دادا “سلیمان قرقوزی” ایک یہودی تھا جس نے ترکی سے جزیرہ نمائے عرب کی طرف ہجرت کی تھی”، نیز وہ بنی سعود کے بارے میں ـ جن کی حکومت تین صدیوں سے قائم ہوئی ہے ـ لکھتے ہیں: “بنی سعود کے یہودی جد اعلی کا نام ـ جس نے اسلام ظاہر کیا ـ “مُردخائے بن ابراہیم بن موسی” تھا جو بصرہ کے یہودیوں میں سے تھا”۔ (۷)
فرقہ وہابیت اور یہودیت کے درمیان کے رشتوں ناطوں کے بارے میں ثبوت و شواہد بہت زیادہ ہیں جن سے غاصب یہودی ریاست کے ساتھ وہابیت اور سعودی حکمرانوں کے آج کی اعلانیہ ساز باز اور تعاون کے اسباب کو واضح کردیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ الشیعة هم العدو فاحذرهم، شحاتة محمد صقر، مکتبة دار العلوم، البحیرة (مصر)، ص ۱۵۴٫
۲۔ قاموس الکتاب المقدس، هاکس، مجمع الکنائس الشرقیة، سوم، مکتبة المشغل – بیروت بإشراف رابطة الکنائس الإنجیلیة فی الشرق الأوسط، ص ۲۲۸٫
۳۔ الفتاوى الکبرى لابن تیمیة، تقی الدین أبو العباس أحمد بن عبد الحلیم ابن تیمیة الحرانی الحنبلی الدمشقی، دار الکتب العلمیة، اول، ۱۴۰۸هـ – ۱۹۸۷م، ج ،۵، ص ۱۹۲
۴۔ عهد قدیم، خروج، فصل ۲۴، آیات ۹، ۱۰ اور ۱۱۔
۵۔ مجموع الرسائل الکبری، ابن تیمیة، دار إحیاء التراث العربی،  رساله یازدهم، صفحه ۴۵۱۔
۶۔ عہد قدیم، پیدائش، باب ۱۸ آیات ۱ تا ۵٫
۷۔ تاریخ آل سعود، ناصر السعید، ص ۳۵٫بی تا، بی جا، بی نا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مترجم: فرحت حسین مہدوی
http://farsi.al-shia.org/

 

یہودیوں کے کل اور آج کے مظالم کا سبب کیا ہے؟

  • ۲۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، قرآن میں یہودیوں کے کھوکھلے خیالات اور بےبنیاد نعروں کی طرف اشارے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے تھے: ہم اعلی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور اللہ کے چہیتے ہیں اور قیامت کو جہنم کی آگ ہمیں چند گنے چنے دنوں کے سوا، چھو تک نہیں سکے گی۔
استاد محسن قرائتی نےسورہ آل عمران کی آیت ۲۳ کے آخری الفاظ اور پوری آیت ۲۴ کی تفسیر میں نہایت عمدہ نکات بیان کئے ہیں:
آیت کریمہ:
“ذَلِکَ بِأَنَّهُمْ قَالُواْ لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ أَیَّاماً مَّعْدُودَاتٍ وَغَرَّهُمْ فِی دِینِهِم مَّا کَانُواْ یَفْتَرُونَ”۔
ترجمہ: (اللہ کے حکم سے پھیرنے کا) سبب یہ تھا کہ اہل کتاب نے کہا: کبھی بھی دوزخ کی آگ ہمیں نہیں چھوئے گی سوا گنتی کے دنوں کے، اور ان گڑھی باتوں نے (اور بےبنیاد وہمیات) نے انہیں اپنے دین کے بارے میں دھوکے میں رکھا ہے۔
*نکتے:
قرآن میں یہودیوں کے کھوکھلے خیالات اور بےبنیاد نعروں کی طرف اشارے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے تھے: ہم اعلی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور اللہ کے چہیتے ہیں اور قیامت کو چالیس ایام کے سوا ـ جب ہمارے اجداد نے بچھڑے کی پوجا کی تھی ـ ہمیں کسی گناہ، کسی قسم کے عذاب کا سامنا نہیں ہوگا۔ اور ان ہی خیالات اور وہمیات نے انہیں غرور اور دھوکے میں رکھا اور وہ گمراہ ہوگئے۔ آج بھی اسرائیل نامی ریاست بھی یہود کی نسلی برتری کی قائل ہے اور اس وہم کو عملی جامہ پہنا کر اپنی نسلی برتری کے اثبات کے لئے کسی بھی جرم و ظلم اور درندگی و خونخواری سے اجتناب نہیں کرتی۔
* پیغامات
۱- إعراض کا سرجشمہ خرافات، بےبنیاد تصورات اور خرافات ہیں: “وَهُم مُّعْرِضُونَ ذَلِکَ بِأَنَّهُمْ ۔۔۔” (اور وہ منہ پھیر کر پلٹ جاتے ہیں، اور اس کا سبب یہ تھا کہ یقینا وہ ۔۔)
۲- بےجا حساسِ برتری ـ خواہ دین کے لحاظ سے خواہ نسل کے لحاظ سے ـ ممنوع اور مذموم ہے۔ “لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ ۔۔۔”
۳۔ کیفر کردار اور اپنے گناہوں کی سزا سے محفوظ ہونے کا احساس گمراہی کا سبب بنتا ہے۔ “وَغَرَّهُمْ فِی دِینِهِم ۔۔۔”
۴۔ یہودی قیامت اور دوزخ کو مانتے تھے اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتے تھے۔ “لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ أَیَّاماً مَّعْدُودَاتٍ۔۔۔”
۵۔ اللہ کی درگاہ میں سب ایک جیسے اور یکسان ہیں اور کسی کو برتری حاصل نہیں ہے۔ ” فَکَیْفَ إِذَا جَمَعْنَاهُمْ لِیَوْمٍ لاَّ رَیْبَ فِیهِ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَهُمْ لاَ یُظْلَمُونَ” (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://hawzahnews.com/detail/News/465184
۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ آیت ۲۵؛ ترجمہ: اس کے بعد کیا ہو گا اس وقت جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اس دن کے لیے جس میں کوئی شبہ نہیں اور ہر ایک کو جو کچھ اس نے کمایا ہے پورا پورا ادا کر دیا جائے گا اور ان پر کچھ بھی ظلم نہیں ہو گا۔

 

یہودیت سے نمٹنے کی قرآنی حکمت عملی

  • ۶۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گوکہ آج کچھ عالم اسلام کے اندر سے کچھ ایسی قوتوں نے یہود کی گود میں بیٹھنے کو اپنے لئے باعث فخر سمجھ کرکے ان کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات کو عیاں کر دیا ہے، جو کسی وقت کچھ مسلمانوں کے لئے اسلام کی علامت اور خادم الحرمین سمجھے جاتے تھے، لیکن قرآن کریم کسی شخص یا کسی قبیلے یا کسی بادشاہت کے تابع نہیں ہے اور اس کے تمام قواعد و ضوابط پابرجا اور استوار ہیں۔
قرآن کریم نے یہود کو مؤمنوں کا بدترین دشمن قرار دیا ہے:
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِینَ آمَنُواْ الْیَهُودَ وَالَّذِینَ أَشْرَکُواْ (۱)؛ اے پیغمبر! یقینا آپ یہود اور مشرکین کو ایمان لانے والوں کا سخت ترین دشمن پائیں گے۔
یہ مسائل آیات قرآنی میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں اور اس مضمون میں اس کے بعض زاویوں اور پہلؤوں کا بیان مقصود ہے۔
یہودی جرائم اور شرمناک کرتوت صرف قرآنی آیات اور قرآنی تاریخ تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کی خونخوارانہ خصلتیں حال حاضر میں بھی جاری و ساری ہیں۔ فلسطین اور لبنان میں ان کے انسانیت کشت جرائم اور جارحانہ اقدامات ان کی بنیادی خصلتوں کو زیادہ واضح کررہے ہیں یہاں تک کہ آج محض وہ لوگ مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہیں یا پھر یہودی جرائم کی وکالت کررہے ہیں جو کسی مغربی یا کسی عرب یا یہودی ادارے سے وابستہ ہوں، ورنہ تو کو‏ئی بھی انسان اس بظاہر تہذیب یافتہ قوم اور درحقیقت انسانیت سے کوسوں دور جماعت سے انسانی منطق اور سلوک کی توفع نہیں رکھتا اور سب جانتے ہیں کہ یہ قوم انسانی اصولوں اور منطق کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔ یہ وہی جذبہ ہے جس کی طرف قرآن کریم نے “لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِینَ آمَنُواْ الْیَهُودَ وَالَّذِینَ أَشْرَکُواْ” فرما کر اشارہ کیا ہے۔
۱- بنی اسرائیل کے بارے میں قرآن کی صریح آیات کریمہ
¤ وَقَضَیْنَا إِلَى بَنِی إِسْرَائِیلَ فِی الْکِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الأَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوّاً کَبِیراً (۲)
اور ہم نے اس کتاب (توراۃ) میں بنی اسرائیل کو آگاہ کر دیا کہ تم ضرور زمین میں دو مرتبہ فساد برپا کرو گے [خون خرابہ کروگے] اور بڑی سرکشی کرو گے۔
¤ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُولیٰهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَاداً لَّنَا أُوْلِی بَأْسٍ شَدِیدٍ فَجَاسُواْ خِلاَلَ الدِّیَارِ وَکَانَ وَعْداً مَّفْعُولاً؛ تو جب ان میں سے پہلے فساد کا وقت آئے گا تو ہم [تمہاری سرکوبی کےلئے] تم پر بھیجیں گے اپنے ایسے بندے جو بڑی سخت لڑائی لڑنے والے ہوں گے تو وہ [تمہاری] آبادیوں کے اندر داخل ہو جائیں گے اور یہ وعدہ ہے جو ہو کر رہے گا۔ (۳)
¤ ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَأَمْدَدْنَاکُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِینَ وَجَعَلْنَاکُمْ أَکْثَرَ نَفِیراً؛ پھر [کچھ عرصہ بعد] ہم تمہیں ان کے اوپر غلبہ دیں گے اور تمہیں مال و اولاد کے ساتھ تقویت پہنچائیں گے اور تمہاری نفری کو بڑھا دیں گے۔ (۴)
¤ إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِکُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ لِیَسُوؤُواْ وُجُوهَکُمْ وَلِیَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِیُتَبِّرُواْ مَا عَلَوْاْ تَتْبِیراً؛ اگر تم بھلائی کرو گے تو خود اپنے ہی نفس کے لیے بھلائی کرو گے اور اگر برائی کرو گے تو وہ بھی اپنے لئے کرو گے۔ تو جب دوسرے وعدے کا وقت آئے گا تو پھر [بھی] ویسے ہی لوگ آئیں گے کہ تمہارا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیں گے اور اس مسجد [الاقصی] میں اسی طرح داخل ہو جائیں گے جیسے پہلی دفعہ داخل ہوئے تھے۔ اور جس جس چیز پر کہ ان کا قابو ہوگا وہ اسے تباہ و برباد کردیں گے۔ (۵)
۲- مذکورہ بالا آیات کریمہ کے کلیدی الفاظ، جن کا تعلق اس مضمون کے عنوان سے جن پر ترتیب ملحوظ رکھے بغیر غور کیا جاسکتا ہے۔
¤ قَضَیْنَا: حتمی فیصلہ / قطعی حکم
¤ لَتُفْسِدُنَّ فِی الأَرْضِ: عالمی سطح کا فساد / عالمی خون خرابہ
¤ مَرَّتَیْنِ: برائی، فساد اور خون خرابے کی دہرائی
¤ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوّاً کَبِیراً: بہت بڑی سرکشی
¤ بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَاداً لَّنَا: اللہ کے خاص بندوں کو مشن سونپنا اور اس جماعت پر ان کا مسلط ہونا
¤ فَجَاسُواْ خِلاَلَ الدِّیَارِ: گھر گھر تلاشی
¤ ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّةَ عَلَیْهِمْ: بنی اسرائیل کو ایک بار پھر اقتدار پلٹانا
¤ لِیَسُوؤُواْ وُجُوهَکُمْ: دوسری سرکشی کے بعد روسیاہی اور حلیوں کا بگڑ جانا
¤ لِیَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ: مسجد [الاقصی] کی فتح دوسری مرتبہ
۳- قابل فہم نکات
¤ جو کچھ کتاب تورات یا لوح محفوظ میں ثبت ہؤا ہے، ہو کر رہنے والا وعدہ ہے: “وَقَضَیْنَا إِلَى بَنِی إِسْرَائِیلَ ۔۔۔ وَکَانَ وَعْداً مَّفْعُولاً “۔
¤ آیت کے سیاق سے مستقبل میں بنی اسرائیل کے فساد اور سرکشی کی خبر ملتی ہے: “وَقَضَیْنَا إِلَى بَنِی إِسْرَائِیلَ فِی الْکِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ”۔
¤ اس فساد اور اور سرکشی کے دو مرحلے ہونگے: “لَتُفْسِدُنَّ فِی الأَرْضِ مَرَّتَیْنِ”۔
¤ یہ دو واقعات عالمی اور وسیع ہونگے: “لَتُفْسِدُنَّ فِی الأَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوّاً کَبِیراً”۔
¤ پہلے وعدے میں اللہ کے خاص بندے اس جماعت پر غلبہ پائیں کے: “بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَاداً لَّنَا”۔
¤ شدت اور طاقت مشن پر روانہ کئے جانے والے لشکر کی امتیازی خصوصیت ہے: “أُوْلِی بَأْسٍ شَدِیدٍ”۔
¤ یہ اقدام اور کاروائی بنی اسرائیل کی گھر گھر تلاشی پر منتج ہوگی: “فَجَاسُواْ خِلاَلَ الدِّیَارِ”۔
¤ بنی اسرائیل کو اقتدار کا پلٹایا جانے کا تذکرہ، ان کی کامیابی یا فریق مقابل کی شکست کا سبب بیان کئے بغیر: “ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّةَ عَلَیْهِمْ”۔
¤ یہ جماعت پھر بھی اموال و اولاد کی کثرت کے ذریعے طاقتور ہوجائے گی: “وَأَمْدَدْنَاکُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِینَ وَجَعَلْنَاکُمْ أَکْثَرَ نَفِیراً”۔
¤ دوسرے واقعے کا سبب بنی اسرائیل کے اپنے برے اعمال (اور ناشکری) بیان کیا جاتا ہے: “إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِکُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا”۔
¤ دوسری سرکشی کا نتیجہ خصوصی افواج کے ہاتھوں اس جماعت کی روسیاہی اور حلیہ بگڑ جانے کی صورت میں برآمد ہوگا: “فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ لِیَسُوؤُواْ وُجُوهَکُمْ”۔
¤ اللہ کے خصوصی بندے ایک بار پھر مسجد میں داخل ہونگے جیسے کہ وہ پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے: “لِیَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ”۔
¤ اس بار وہ کچھ یوں نیست و نابود ہوجائیں گے کے بنی اسرائیل کا کوئی اثر ہی نہ رہے گا: “وَلِیُتَبِّرُواْ مَا عَلَوْاْ تَتْبِیراً”۔
۴- تفسیری نکتے:
¤ “الْمَسْجِدَ” سے مراد سورہ اسراء کی پہلی آیت کے قرینے کی بنیاد پر “مسجد الاقصی” ہے: “سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى”۔ (۶)
¤ عبارت “عِبَاداً لَّنَا” ان افواج کے اخلاص کی علامت ہے کیونکہ “عِبَاداً لَّنَا” “عبد”، “عِبَاد” اور “عِبَادنَا” سے مختلف ہے اور “عِبَاداً لَّنَا” کی دلکش عبارت میں بندوں کی برگزیدگی مضمر ہے۔
¤ دلچسپ امر یہ ہے کہ عبارت “عِبَاداً لَّنَا” صرف ایک بار قرآن میں آئی ہے اور عبارت “عِبَادنَا” بھی صرف انبیاء علیہم السلام کے لئے بیان ہوئی ہے:
حضرت یوسف علیہ السلام: “إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِینَ؛ یقینا وہ ہمارے خالص چنے ہوئے بندوں میں سے تھے”۔ (۷)
خضر نبی علیہ السلام (بعض تفاسیر کی روشنی میں): “فَوَجَدَا عَبْداً مِّنْ عِبَادِنَا آتَیْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْماً؛ سو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا۔ اور اسے اپنی طرف سے (خاص) علم عطا کیا تھا”۔ (۸)
حضرت نوح علیہ السلام: “إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِینَ؛ بلاشبہ وہ ہمارے با ایمان بندوں میں سے تھے”۔ (۹)
حضرت ابراہیم علیہ السلام: “إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِینَ؛ بلاشبہ وہ ہمارے با ایمان بندوں میں سے تھے”۔ (۱۰)
حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما السلام: “إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِینَ؛ بلاشبہ وہ ہمارے با ایمان بندوں میں سے تھے”۔ (۱۱)
حضرت الیاس علیہ السلام: إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِینَ؛ بلاشبہ وہ ہمارے با ایمان بندوں میں سے تھے (۱۲)
انبیاء علیہم السلام: “وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ؛ اور ہمارا قول پہلے ہو چکا ہے اپنے بندوں کے لئے جو پیغمبر بنائے گئے ہیں”۔ (۱۳)
حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام: “وَاذْکُرْ عِبَادَنَا إبْرَاهِیمَ وَإِسْحَقَ وَیَعْقُوبَ أُوْلِی الْأَیْدِی وَالْأَبْصَارِ؛ اور یاد کرو ہمارے بندگان خاص ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو جو خاص دسترسوں اور نگاہوں والے تھے”۔ (۱۴)
حضرت نوح و حضرت لوط علیہما السلام: “ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً لِّلَّذِینَ کَفَرُوا اِمْرَأَةَ نُوحٍ وَاِمْرَأَةَ لُوطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ؛ کافروں کے لحاظ سے اللہ نے مثال پیش کی ہے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی جو ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں تو انھوں نے ان سے غداری کی تو ان دونوں نے ان دونوں کو خدا کے عذاب سے کچھ بھی نہیں بچایا اور کہا گیا کہ داخل ہو جاؤ دونوں آگ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ”۔ (۱۵)
نیز ان بندوں کا تذکرہ اس صورت میں آیا ہے:
“تِلْکَ الْجَنَّةُ الَّتِی نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَن کَانَ تَقِیّاً؛ یہ ہے وہ بہشت جس کا ورثہ دار بنائیں گے ہم اپنے بندوں میں سے اسے جو پرہیز گار ہو”۔ (۱۶)
“ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِینَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا؛ پھر ہم نے اس کتاب کا وارث ان کو بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کر لیا ہے”۔ (۱۷)
“وَلَکِن جَعَلْنَاهُ نُوراً نَّهْدِی بِهِ مَنْ نَّشَاء مِنْ عِبَادِنَا؛ مگر ہم نے اسے ایک نور بنایا ہے جس سے ہم ہدایت کرتے ہیں، جس کو چاہیں، اپنے بندوں میں سے”۔ (۱۸)
“قَالَ رَبِّ بِمَآ أَغْوَیْتَنِی لأُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الأَرْضِ وَلأُغْوِیَنَّهُمْ أَجْمَعِینَ * إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِینَ * قَالَ هَذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیمٌ؛ اس [ابلیس] نے کہا اے میرے پروردگار! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے تو میں بھی زمین میں ان (بندوں ) کے لئے گناہوں کو خوشنما بناؤں گا اور سب کو گمراہ کروں گا ٭ سوائے تیرے مخلص بندوں کے ٭ فرمایا یہ سیدھا راستہ ہے مجھ تک پہنچنے والا”۔ (۱۸)
– عبارت “… فَجَاسُواْ خِلاَلَ الدِّیَارِ… و… لِیَسُوؤُواْ وُجُوهَکُمْ وَلِیَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ” سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعات مسجد الاقصی اور فلسطین کے آس پاس ہی رونما ہونگے۔
– بنی اسرائیل کی تاریخ میں اس طرح کے عالمی سطح کے فتنے ـ الہی لشکر کے ہاتھوں اتنے وسیع واقعات اور سرکوییوں کے ساتھ ـ دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ جو کچھ “بخت النصر” اور “طرطیانوس” کے ہاتھوں یہودیوں کی سرکوبی کی داستانیں مذکورہ بالا خصوصیات سے مطابقت نہیں رکھتیں؛ کیونکہ یا تو وہ مسائل عالمی سطح کے نہیں تھے، یا ان خاص ادوار میں بنی اسرائیل برحق تھے؛ اور اہم بات یہ کہ بغاوت اور سرکشی یہودی یکتاپرستوں کے خلاف مشرکین کی طرف سے تھی نہ کہ بنی اسرائیل کی طرف سے۔
– لگتا ہے کہ اس قوم کی سرکشی اور فتنہ گری دور معاصر میں صہیونیت اور اسرائیل نامی ریاست کے قیام کے سانچے میں ـ نیل سے فرات تک یہودی ریاست کے قیام کے نعرے کے ساتھ ـ وقوع پذیر ہوئی ہے، یہ واقعہ آیات قرآنی کی پیشینگوئی کے مطابق پہلے واقعے پر منطبق ہوسکتا ہے؛ گو کہ اس سلسلے میں قطعیت اور حتمیت کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہنا چاہئے؛ لیکن نشانے اس سلسلے میں زیادہ ہیں۔
– اس سے بھی زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ دوسرے حادثے کا نتیجہ اس جماعت کا قلع قمع ہوجانے کی صورت میں برآمد ہوگا؛ لگتا ہے کہ یہ ایک آخری اور عالمی واقعے کی طرف اشارہ ہے؛ وہ واقعہ جس کا وعدہ دیا گیا ہے جس کا یہودی، عیسائی اور مسلمین ـ بالخصوص شیعیان آل رسول(ص) ـ انتظار کررہے ہیں۔
۵- چند تکمیلی نکتے
– اس حقیقت کو نظر سے دور نہیں رکھنا چاہئے کہ جو کچھ حالیہ صدی (بیسویں) صدی میں فلسطین کی مقبوضہ سرزمین میں رونما ہؤا، اس کا حضرت موسی علیہ السلام کی حقیقی تعلیمات سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے؛ اور جہاں تک صہیونیت کے جعل کردہ عقائد تمام یہودیوں کے ہاں مقبولیت نہیں رکھتے؛ کیونکہ کئی یہودی گروہ صہیونیت کے خلاف ہیں۔ دین موسی(ع) میں صہیونیت کو شاید دین اسلام میں وہابیت سے تشبیہ دی جاسکے۔
– حزب اللہ لبنان کی اسلامی مزاحمت، جو مکتب خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے متعین کردہ راستے اور عباداللہ کے صراط مستقیم پر گامزن ہے اور اس راستے میں بڑی بڑی کامیابیاں بھی حاصل کرچکی ہے؛ جس سے اللہ کے وعدے والی عظیم فتح کی نوید کی خوشبو محسوس ہورہی ہے۔
– واضح امر ہے کہ اللہ کے خاص بندے ہر گروہ اور قوم کے افراد نہیں ہوسکتے جو کسی ظاہری اسلامی ہدف کو لے کر ایک مخلصانہ تحریک کا آغاز کرچکے ہوں اور وہ نصر الہی سے فتح حاصل کرسکیں۔ چنانچہ مختلف تفکرات اور جماعتوں کی پہچاننے میں بہت زیادہ غور و تامل کی ضرورت ہے، پس پردہ عوامل اور استکباری قوتوں کے ساتھ خفیہ سازباز سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ القاعدہ اپنے حساب سے اہم ترین جہادی گروہ تھا لیکن اس کے پس پردہ عوامل کچھ اور تھے اور اگر اس کے تمام دعوے صحیح ہوتے تو آج ہم اسے اسلام اور اہل اسلام کے بدترین دشمن “یہودی ریاست” کے مد مقابل پاتے۔
– آج جو میدان میں ہیں وہ میدان میں دکھائی دے رہے ہیں اور جو بظاہر میدان میں تھے وہ مؤمنوں کے شدید ترین دشمن کی گود میں بیٹھ کر مسلمانوں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں اور “صدی کے سودے” (Century Deal) کے تحت قدس و کعبہ کو یہود کے ہاتھوں اعلانیہ فروخت سے نہیں ہچکچاتے بلکہ اس شرمناک سودے بازی پر فخر کررہے ہیں، مسلمانوں کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، چنانچہ سوال یہ ہے کہ کیا آج مغربی ایشیا میں اسرائیل کے سامنے سینہ سپر کئے ہوئے مزاحمت کے مجاہدین کے سوا کوئی دعوی کرسکتا ہے کہ وہ “عِبَاداً لَّنَا” کا مصداق ہوسکتا ہے؟ اگر قدس کی آزادی کے لئے لڑائی ہو تو مسلمانان عالم اور دوسروں کو کافر قرار دے کر صرف اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے کس محاذ میں ہونگے؟ اگر یہود شدید ترین دشمن ہے تو اس کے دوست مؤمنین کے دوست اور اسلام و ایمان کے حامی ہوسکتے ہیں؟
– یہودیوں کے جرائم کی وسعت اور ان کے مظالم و جرائم سے کافی عرصہ گذر جانے کے پیش نظر بعید از قیاس نہیں ہے کہ اللہ کی نصرت کا وعدہ کچھ زیادہ دور نہ ہو؛ اور سخت لڑنے والے ثابت قدم جوانوں کا ظہور قریب ہو اور ہم سب شاہد ہوں عنقریب اس ریاست کی نابودی اور قبلہ اول اور قدس شریف کی آزادی کے۔
– آخرالزمان میں یہود کے ساتھ اہل حق کی جنگ قرآنی محکمات میں سے ہے
سورہ اسراء کی آیات کے بارے میں بعض مفسرین کی رائے یہ ہے آخرالزمان میں محاذ حق اور یہود کے درمیان جنگ حتمی اور قرآنی مسَلَّمات میں سے ہے۔ جہاں فرمایا گیا ہے کہ یہود عالمی فتنہ انگیزیوں اور جنگوں کے اسباب فراہم کریں گے؛ ایک فتنہ انگیزی امام عصر (عج) کے ظہور سے پہلے اور دوسرا ظہور کی آمد پر۔ دوسرا فتنہ شروع ہونے پر امام زمانہ عََّلَ اللہ تَعَالی فَرَجَہُ الشَّریف کا ظہور ہوگا اور آپ کا لشکر یہود کو نابود کرے گا۔ (۲۰)
– بہت سی احادیث میں منقول ہے کہ حضرت حجت عَجَّلَ اللہُ تَعَالی فَرَجَہُ الشَّریف بیت المقدس میں نماز جماعت ادا کریں گے اور حضرت عیسی علیہ السلام ان کی اقتداء کریں گے۔ جبکہ ظہور سے متعلق احادیث میں منقول ہے کہ امام زمانہ عَجَّلَ اللہُ تَعَالی فَرَجَہُ الشَّریف کا ظہور مسجد الحرام سے ہوگا اور پہلی بیعت دیوار کعبہ کے پاس ہوگی چنانچہ بیت المقدس میں امام(عج) کی امامت جماعت کا مطلب یہ ہوگا کہ اس وقت تک تمام طاغوتی اور شیطانی قوتوں نے شکست کھائی ہوگی اور اللہ کے وعدے کے مطابق عالمی اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آچکا ہوگا / یا عمل میں آرہا ہوگا۔
“وَنُرِیدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِینَ؛ اور ہمارا مقصود یہ ہے کہ احسان کریں ان پر جنہیں دنیا میں دبایا اور پیسا گیا تھا اور ان ہی کو پیشوا قرار دیں، ان ہی کو آخر میں (زمین کا) وارث بنائیں”۔ (۲۱)
ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالی اپنی مخلصانہ بندگی کی توفیق عطا فرمائے اور جلد از جلد پیشوائے منتظَر عَجَّلَ اللہُ تَعَالی فَرَجَہُ الشَّریف کی امامت میں مسجد الاقصی میں نماز ادا کریں۔ (ان شاء اللہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱- سورہ المائدہ، آیت ۸۲۔
۲۔ سورہ الاسراء، آیت ۴۔
۳۔ سورہ الاسراء، آیت ۵۔
۴۔ سورہ الاسراء، آیت ۶۔
۵- سورہ الاسراء، آیت ۷۔
۶۔ سورہ الاسراء، آیت ۱۔
۷۔ سورہ یوسف، آیت ۲۴۔
۸۔ سورہ الکہف، آیت ۶۵۔
۹۔ سورہ الصافات، آیت ۸۱۔
۱۰۔ سورہ الصافات، آیت ۱۱۱۔
۱۱۔ سورہ الصافات، آیت ۱۲۲۔
۱۲۔ سورہ الصافات، آیت ۱۳۲۔
۱۳۔ سورہ الصافات، آیت ۱۷۱۔
۱۴۔ سورہ ص، آیت ۴۵۔
۱۵۔ سورہ التحریم، آیت ۱۰۔
۱۶۔ سورہ مریم، آیت ۶۳۔
۱۷۔ سورہ فاطر (سورہ مؤمن)، آیت ۳۲۔
۱۸۔ سورہ الشوری، آیت ۵۲۔
۱۹۔ سورہ الحجر، آیت ۳۹، ۴۰ و ۴۱۔
۲۰۔ سورہ اسراء، آیات ۱ تا ۷۔
۲۱۔ سورہ القصص، آیت ۵۔
بقلم: حامد عبداللہی ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

یہودی معاشرے میں طبقاتی شگاف

  • ۴۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کسی بھی معاشرہ میں طبقاتی فاصلہ معاشرتی و سماجی اختلافات کا سبب بنتا ہے ۔ وہ لوگ جو اسرائیل کی تشکیل کے لئے سرزمین فلسطین پر ہجرت کر کے پہنچے ، دیگر ممالک سے یہاں آنے کی وجہ سے اور متنوع رفاہی سطح کے حامل ٹاون سٹیز میں جبراً رہایش پذیر ہونے کی بنا پر خاص کر یہہودیوں اور عربوں کی زندگی کے دو الگ الگ تصوارت کے سبب اس بات کا سبب بنے کہ فلسطین کی تاریخی سرزمین پر شگاف و دراڑ پیدا ہو جسکی وضاحت یہ ہے کہ صناعت کے میدان میں جس پالیسی کا آغاز فلسطین میں تیسویں دہائی میں ہوا اور صنعت سازی کا دور شروع ہوا یہ دور اسرائیل کی جعلی و ناجائز حکومت کے بننے کے بعد ۶۰ کی دہائی میں وسیع تر ہو گیا جس نے سماج کے طبقاتی ڈھانچے میں بہت سی تبدیلیاں پیدا کیں جسکی بنا پر زراعت و کھیتی باڑی کمزور ہوئی اور صنعتی اقتصاد پھولا پھلا اور آگے بڑھا ۔
۹۰ ء کی دہائی میں عبری و عربی معاہدہ کے وجود میں آنے کے بعد مجموعی قومی پیداوار ( جی ۔ڈی پی) ۸۰ کی دہائی کی نسبت ۸ برابر بڑھ گئی لہذا یہودی معاشرہ کا طبقاتی اختلاف ان اداروں اور انسٹی ٹیوٹس کے ساتھ بھی جڑا ہے جنہیں ہجرت کے دور میں یہودیوں کی رہایش کے لئیے بنایا گیا تھا ۔ اس لئیے کہ ان اداروں و مراکز کی بنیاد فلسطین میں ہجرت کر کے آنے والے یہودیوں اور وہاں کے اصل باشندوں کے درمیان عدم مساوات و اونچ نیچ اور نابرابری پر ہے ۔
یفتا حثیل کے بقول صہیونی رژیم میں ایسے مکانی سلسلہ مراتب اور تنظیمی حیثیتیں موجود ہیں جو نسلی طور پر دوسری جگہوں سے آکر یہاں بسنے والوں کے درمیان جغرافیا کی توسیع اور مہاجروں کی سکونت کے پیش نظر غیر عادلانہ تقسیم اموال کے اصولوں سے باہر آ رہی ہیں ،یعنی پھیلتے ہوئے وسیع خطے اور مہاجروں کی نسلی معیاروں پر انکی رہایش کی تعیین و اموال کی غیر عادلانہ تقسیم اس بات کا سبب بنی کہ کچھ سلسلہ مراتب و تنظیمی حیثیتیں وجود میں آئیں جنکی طرف رجوع کے بغیر کام نہیں چل سکتا ۔ جغرافیائی وسعت چار طرح کی آبادیوں کی بنا پر ۱۹۴۸ کی سرحدوں پر اس طرح وجود میں آئی :
الف: ایسے شہر اور ٹاون سٹیز جس میں اکثر مغربی یہودی اور وہ اشکنازی رہتے ہیں جو صہیونی حکومت کے موسس و بانی کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اسی بنا پر انکے پاس ثروت و دولت کی بہتات ہے اور بہترین و مرغوب زمینوں کے مالک ہیں ان کے پاس اقتصادی و فرہنگی انفراسٹرکچر موجود ہے جن پر انکا قبضہ و تسلط ہے ۔
ب: مشرقی یہودی ( سفاردیم ) اور نئے ہجرت کرکے آنے والے جیسے روس کے یہودی اور سابقہ سوویت یونین سے جڑے ان ممالک کے لوگ جو بڑے مراکز و بڑے شہروں تک نہیں پہنچ سکے اور دوسرے درجہ کے شہری شمار ہوتے ہیں۔
ج: اتھوپیائی قومیت رکھنے والے افریقائی یہودی جنہیں فلاشا کہا جاتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں انکے رنگ و نسل کی بنیاد پر حقارت جھیلنا پڑتی ہے یہ وہ لوگ ہیں جو بڑے شہروں کے مضافات میں یا سرحدوں کے نزدیک بنے ٹاون سٹیز میں رہایش پذیر ہیں اور نچلے درجہ کے کاموں میں مشغول ہیں ۔
د: وہ اعراب جو اسرائیلی حکومت کے ان علاقوں میں ہیں جہاں حکومت کا نفوذ ہے اور ان علاقوں کو ریاستی عمارتوں کی تعمیر اور اسٹیٹ بلڈگوں سے بہت دور رکھاگیا اور انہیں یہودی حکومت کے شدت پسند یہودیوں کی جانب سے شدید طور پر بھید بھاو کا سامنا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ صہیونی تفکر کے بھید بھاو پر مشتمل دنیاوی طرز فکر اور نسلی برتری کے نظریہ کی بنیاد پر یہ اجتماعی و معاشرتی شگاف مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے اور سرمایہ دارانہ و سیکولر طرز فکر کے پاس اس شگاف سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

یہودیوں کا غیر یہودیوں پر افضلیت کا دعویٰ

  • ۴۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودیوں کی مقدس کتاب تلمود میں غیر یہودیوں کے سلسلے میں یوں لکھا ہوا ہے:
یہودیوں کی روحیں غیروں کی روحوں سے افضل ہیں۔ اس لیے کہ یہودیوں کی روحیں خداوند عالم کا جزء ہیں اسی طرح جس طرح بیٹا باپ کا جزء ہوتا ہے۔ یہودیوں کی روحیں خدا کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اس لیے کہ غیروں کی روحیں شیطانی اور حیوانات کی ارواح کے مانند ہیں۔
غیر یہودی کا نطفہ بقیہ حیوانات کے نطفہ کی طرح ہے۔
بہشت یہودیوں سے مخصوص ہے اور ان کے علاوہ کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہو سکتا لیکن عیسائیوں اور مسلمانوں کا ٹھکانہ جہنم ہے گریہ و زاری کے علاوہ ان لوگوں کے نصیب میں کچھ بھی نہیں ہے اس لیے کہ اس کی زمین بہت زیادہ تاریک اور بدبودار مٹی کی ہے۔
کوئی پیغمبر مسیح کے نام سے مبعوث نہیں ہوا ہے اور جب تک اشرار (غیر یہودی) کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک مسیح ظہور نہیں کرے گا، جب وہ آئے گا تو زمین سے روٹی کا خمیر اور ریشمی لباس اگیں گے یہ وہ موقع ہو گا جب یہودیوں کا تسلط اور بادشاہی ان کو واپس ملے گی اور تمام اقوام و ملل مسیح کی خدمت کریں گی اس وقت ہر یہودی کے پاس دو ہزار آٹھ سو غلام ہوں گے۔
واضح رہے کہ توریت اور عہد عتیق میں جناب عیسی(ع) کے مبعوث ہونے کی بشارت دی گئی ہے لیکن تلمود اس بات کی قائل ہیں کہ ابھی تک عیسی مسیح نام کا کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا وہ اس وقت مبعوث ہو گا جب کرہ ارض پر یہودی مسلط ہو جائیں گے۔ لہذا صہیونیوں کی بھر پور تلاش و کوشش یہ ہے کہ وہ پوری دنیا پر قبضہ جما کر دیگر تمام انسانوں کو تہہ تیغ کر دیں۔
تلمود میں اسرائیلی خدا کے نزدیک ملائکہ سے زیادہ محبوب اور معتبر ہیں۔ اگر غیر یہودی، یہودی کو مارے تو ایسے ہے جیسے اس نے عزت الہیہ کے ساتھ جسارت کی ہو اور ایسے شخص کی سزا موت کے علاوہ کچھ اور نہیں ہو سکتی لہذا اس کو قتل کر دینا چاہیے۔
اگر یہودی نہ ہوتے تو زمین سے برکتیں اٹھا لی جاتیں سورج نہ نکلتا اور نہ آسمان سے پانی برستا!۔ جس طرح انسان حیوانوں پر فضیلت رکھتا ہے اسی طرح یہودی دوسری اقوام پر فضیلت رکھتے ہیں۔
غیر یہودی کا نطفہ گھوڑے کے نطفہ کی طرح ہے۔
اجنبی (غیر یہودی) کتوں کی طرح ہیں ان کے لیے کوئی عید نہیں ہے اس لیے کہ عید کتوں اور اجنبیوں کے لیے خلق ہی نہیں ہوئی ہے۔
کتا غیر یہودیوں سے زیادہ با فضیلت ہے اس لیے کہ عید کے موقعوں پر کتے کو روٹی اور گوشت دیا جانا چاہیے لیکن اجنبیوں کو روٹی دینا حرام ہے۔
اجنبیوں کے درمیان کسی طرح کی کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔ کیا گدھوں کے خاندان اور نسل میں کسی طرح کی قرابت اور رشتہ داری کا وجود ہے؟
اجنبی (غیر یہودی) خدا کے دشمن ہیں اور سور کی طرح ان کو قتل کر ڈالنا مباح ہے۔
اجنبی یہودیوں کی خدمت کرنے کے لیے انسان کی صورت میں خلق ہوئے ہیں۔
غیر یہودیوں کو دھوکا دینا اور ان کے ساتھ فریب دہی کرنا منع نہیں ہے۔
کفار (غیر یہودیوں) کو سلام کرنا برا نہیں ہے اس شرط کے ساتھ کہ در پردہ اس کا مضحکہ اڑائے۔
چونکہ یہودی عزت الہیہ کے ساتھ مساوات رکھتے ہیں لہذا دنیا اور مافیہا ان کی ملکیت ہے اور ان کو حق ہے کہ وہ جس چیز پر چاہیں تصرف کریں۔
یہودی کے اموال کی چوری حرام ہے لیکن غیر یہودی کی کوئی بھی چیز چرائی جا سکتی ہے اس لیے کہ دوسروں کا مال سمندر کی ریت کی طرح ہے جو پہلے اس پر ہاتھ رکھ دے وہی اس کا مالک ہے۔
یہودی شوہر دار عورتوں کی طرح ہیں جس طرح عورت گھر میں آرام کرتی ہے اور گھر کے باہر کے امور میں شوہر کے ساتھ شریک ہوئے بغیر اس کے اخراجات برداشت کرتا ہے اسی طرح یہودی بھی آرام کرتا ہے دوسروں کو چاہیے کہ اس کے لئے روزی فراہم کریں۔
منبع:
۱۔ التل عبداله ، خطرالیهودیة العالمیة علی الاسلام و المسیحیة ، قاهره ۱۹۶۹ .
۲۔ رزوق اسعد ، التلمود و الصهیونیة ، بیروت ، ۱۹۷۰ .
۳۔ روهلنج ، اوگسٹ ، الکتر الموصود فی قواعد التلمود ، (مترجم) قاهره ۱۸۹۹ .
۴۔ نصرا… ، محمد غزه ، الیهودی علی حسب التلمود ، بیروت ۱۹۷۰ .
۵۔ http://palpedia.maarefefelestin.com