شہید فخری زادے کے قتل پر صہیونی جنرل کا اعتراف

  • ۷

صہیونی ریاست کے ایک ریٹائرڈ جنرل نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے جوہری اور دفاعی سائنسداں ایک پیچیدہ کاروائی کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے گئے۔

اسرائیلی فوجی انٹلیجنس سروس (آمان) کے سابق سربراہ اور اسرائیل انسٹی ٹیوٹ برائے داخلی سیکیورٹی اسٹڈیز (آئی این ایس ایس) کے موجودہ سربراہ "عاموس یادلن" نے کہا ہے کہ ایران سائنسدان محسن فخری زادے کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے شائد موجودہ امریکی انتظامیہ کے خاتمے تک انتظار کرے۔

اخبار " یروشلم پوسٹ " نے لکھا ہے کہ "یادلین" نے ہفتے کی شام ایک پریس کانفرنس میں اسرائیلی میڈیا سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی: "جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے فورا بعد امریکہ نے ذمہداری قبول کی تو ایران نے دسیوں میزائل عراق میں امریکی اڈے پر داغ دئیے، لیکن ابھی کوئی بھی فخری زادے کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کر رہا ہے لہذا یہ امکان پایا جا رہا ہے کہ ایران ٹرمپ انتظامیہ کے خاتمے تک صبر کرے اس لیے کہ وہ نہیں چاہے گا کہ ٹرمپ جاتے جاتے ایران کے لیے کوئی بڑی مشکل کھڑی کر دے"۔
انہوں نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ ایران کے خیال میں، صہیونی حکومت شہید فخری زادے کے قتل کی ذمہ دار ہے ، کہا: "تل ابیب نے اس کارروائی کی ذمہداری قبول نہ کر کے تہران کو موقع دے دیا ہے کہ وہ ردعمل کا اظہار کرنے کے لیے عجلت سے کام نہ لے"۔

جوہری پروگرام کو مستحکم کرنے کی شکل میں رد عمل

یروشلم پوسٹ کے مطابق "یادلن" نے یہ دعوی کرتے ہوئے کہ شاید ایران کا سخت ردعمل اسرائیل پر میزائل حملہ ہوگا ، مزید کہا: "البتہ، ایران صرف اپنے جوہری پروگرام میں تیزی لا کر رد عمل ظاہر کرسکتا ہے ، جیسا کہ محسوس ہو رہا ہے، اور مئی 2019 کے بعد سے ایران ایسا کر رہا ہے. وہ موجودہ سطح سے کہیں زیادہ [یورینیم] کی افزودگی کرسکتے ہیں اور زیادہ جدید سینٹرفیوج انسٹال کرسکتے ہیں۔ "یہ ایک اسٹریٹجک اقدام یا رد عمل ہوگا۔"

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی سفارت خانوں یا کلیدی شخصیات پر حملہ کرنے کے آپشن کو سنہ 2010-2011 میں کئے گئے متعدد ایرانی جوہری سائنسدانوں کے قتل پر ہونے والے رد عمل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
 انہوں نے مزید کہا کہ لبنان ، شام ، عراق ، یمن یا کسی اور جگہ پر ایران کے حامی گروہوں کے ذریعے حملہ کروا کر بھی ایران اپنا انتقام لے سکتا ہے۔  

صہیونی حکام اپنا منہ بند رکھیں!

اس رپورٹ کے مطابق ، صہیونی حکومت کے اس سابق سیکیورٹی اہلکار نے شہید فخری زادے کے قتل کے چند گھنٹوں بعد "بنیامن نیتن یاہو" کے ذوق دار تبصرے کا ذکر کرتے ہوئے ، حکومت کے موجودہ عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنا منہ بند کردیں اور کچھ ظاہر نہ کریں کیونکہ اب تک انہوں نے حد سے زیادہ بول دیا ہے۔

انھوں نے اس دعوے کا اعادہ کرتے ہوئے کہ ایران میں ایک خفیہ جوہری پروگرام موجود ہے اور کوئی بھی ایران کے خفیہ جوہری پروگرام سے واقف نہیں ہے، کہا کہ "بغیر شک کے فخری زادہ جوہری سائنسداں اور ایران کے ایٹمی پلانٹ کو منظم کرنے والا شخص تھا"۔

اس ریٹائرڈ صہیونی جنرل نے شہید فخری زادہ کا موازنہ شہید حج قاسم سلیمانی سے کرتے ہوئے کہا ، "اس حقیقت کے باوجود کہ ایرانیوں کو اس کا کوئی متبادل مل جائے گا ، لیکن اس کی صلاحیتوں اور مہارتوں کا بدل نہیں ملے گا۔"

"ایرانی جوہری سائنسدان کے قتل کے وقت کے بارے میں ، یادلن نے کہا ،" وہ اس وقت متعدد اور پیچیدہ کاروائی کے نتیجے میں مارا گیا ہے چونکہ اس طرح کی منظم کاروائی کرنے کے لیے طویل مدت اور وسیع منصوبے کی ضرورت تھی" ۔

انہوں نے اس قتل میں اسرائیل کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "اگر دوسرے فریق جیسے امریکہ، سعودی عرب یا دیگر ایران مخالف اس کاروائی میں شامل ہوتے تو زیادہ وقت لگتا اور کچھ خصوصی شرائط کی ضرورت ہوتی، تاکہ سب فریق گرین سیگنل دکھاتے"۔

خیال رہے کہ ایک مغربی انٹیلیجنس عہدیدار نے ہفتے کی شام یہ بات واضح کردی تھی کہ صہیونی حکومت نے ایران کے جوہری پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے لئے فخری زادہ کا قتل ایک طویل مدت منصوبہ کے بعد کیا۔

اسلام کے ساتھ یہودیوں کی دشمنی

  • ۱۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسلام کے ساتھ یہودیوں کی دشمنی ظہور اسلام سے ماقبل کے زمانے کی طرف پلٹتی ہے۔ اس دشمنی کی بنیادی وجہ ان کی مادیت پرستی اور قدرت طلبی ہے جو اس بات کا بھی سبب بنی کہ دین مسیحیت کو اصلی راستے سے منحرف بھی کر دیں اور الہی پیغمبروں کے قتل کا بھی اقدام کریں۔ ذیل میں اسلام کے ساتھ یہودیوں کی دشمنی کی اہم ترین وجوہات کی طرف اشارہ کرتے ہیں؛
۱۔ یہودی اسلام کی نسبت جو شناخت رکھتے تھے اس کی وجہ سے انہوں نے اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیے مدینہ کا انتخاب کیا چونکہ وہ جانتے تھے کہ اسلام کو مدینے سے عروج ملے گا اگر وہ پیغمبر اسلام پر ایمان لانے کا ارادہ رکھتے تو مکہ میں سکونت اختیار کرتے اور آخری پیغمبر کا انتظار کرتے۔
۲۔ یہودیوں نے بہت کوشش کی کہ پیغمبر اسلام (ص) دنیا میں نہ آنے پائیں، اس وجہ سے انہوں نے آپ کے اجداد اور پھر خود آپ کو قتل کرنے کے منصوبے بنائے یہاں تک کہ جناب عبد المطلب آپ کی جان کی حفاظت کے لیے مجبور ہوئے آپ کو مکہ سے باہر ایک دایہ کے حوالے کریں۔
۳۔ پیغمبر اکرم(ص) کے مدینہ ہجرت کے بعد یہودیوں نے آپ پر ایمان لانے کے بجائے آپ کی مخالفت شروع کر دی لہذا پیغمبراکرم مجبور ہوئے ان کے ساتھ سخت پیمان باندھیں اور پیمان شکنی کی صورت میں تلوار سے ان کا جواب دیں۔
۴۔ کفار کے ساتھ ہوئی مسلمانوں کی جنگوں جیسے احد و احزاب میں بھی یہودیوں نے مشرکین مکہ کا ساتھ دیا۔
۵۔ مدینہ میں رہنے والے یہودیوں کے تینوں قبیلوں نے پیغمبر اکرم کے ساتھ عہد شکنی کی اور آپ نے سختی کے ساتھ ان کا جواب دیا اور انہیں مدینے سے نکال باہر کیا۔(۱)
ان تمام دشمنیوں کی وجہ سے قرآن کریم نے مشرکین کے ساتھ ساتھ یہودیوں کو مومنین کا بدترین دشمن قرار دیا؛
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِینَ آمَنُواْ الْیَهُودَ وَ الَّذِینَ أَشْرَکُواْ؛ (۲)
یہودیوں نے نہ صرف باہر سے اسلام کا مقابلہ کیا اور مسلمانوں کے خلاف صف آرائی کی بلکہ بہت سارے یہودی لبادہ اسلام اوڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوئے اور ان کے سیاسی اور ثقافتی نظام میں نفوذ حاصل کیا اور یہودیت کے انحرافی افکار کو اسلامی ثقافت میں داخل کرنا شروع کیا۔ اسلامی تعلیمات و ثقافت میں یہودی افکار کا نفوذ اس قدر زیادہ تھا کہ آج اسلامی روایات میں ایک کثیر تعداد اسرائیلیات کے نام سے جانی جاتی ہے۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اس دور میں جب خلفائے راشدین نے نقل حدیث کو ممنوع کر دیا تھا اور کوئی مسلمان راوی حدیث پیغمبر بیان کرنے کی جرئت نہیں کر سکتا تھا، بعض تازہ مسلمان شدہ یہودی جیسے کعب الاحبار اور ابوہریرہ کو نقل حدیث کی اجازت تھی۔(۳)
ایسے حالات میں اسلامی معاشرہ حقیقی اسلامی تعلیمات سے اس قدر دور ہو جاتا ہے کہ فرزند رسول خدا کا قتل تقرب الہی کی خاطر انجام پاتا ہے!!!۔

بقلم ڈاکٹر محسن محمدی
حواشی
[۱] . مزید مطالعہ کے لیے رجوع کریں کتاب دشمن شدید،‌ مهدی طائب، ص۸۰-۱۴۰٫
[۲] – مائده، آیه ۸۲٫
[۳] . اسرائیلیات وتاثیر آن بر داستان¬های انبیاء در تفاسیر قرآن،‌ حمید محمدقاسمی،‌ سروش، تهران، ۱۳۸۰٫
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بحری قزاقوں نے برطانیہ کو کس طرح بچایا؟

  • ۱۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ؛
برطانیہ نے اسی زمانے میں جو اگلا قدم سمندروں پر تسلط جمانے اور ہسپانیہ اور پرتگال کو پیچھے دھکیلنے کے لئے اٹھایا وہ ہسپانیہ کے بادشاہ فلپ دوم ([۱]) کے عظیم بحری بڑے کو شکست دینے سے عبارت تھا۔ فلپ دوم جو لاطینی امریکہ سے مشرق بعید تک، وسیع سرزمینوں پر حکمرانی کررہا تھا، اور اپنی بحریہ کے خلاف برطانوی قزاق فرانسس ڈریک کے حملوں سے تنگ آگیا تھا، نے جزیرہ برطانیہ پر حملے کا حکم دیا۔
طے یہ پایا تھا کہ عظیم ہسپانوی بحریہ خلیج ٹیمز پر حملہ کرکے برطانوی سرزمین پر چڑھ دوڑنے کے لئے ضروری امکانات فراہم کرے اور بالآخر ۱۵۰۰۰ پورپی سپاہی برطانیہ میں اتر کر لندن کی طرف پیشقدمی کریں۔
حملہ آور پسپانوی بحری بیڑا ۱۳۰ جنگی جہازوں اور ۲۰ ہزار ملاحوں پر مشتمل تھا۔ یہ بیڑا بغیر کسی رکاوٹ کے  آبنائے ڈوور ([۲]) پہنچا لیکن نہایت خطرناک مقام پر فرانسس ڈریک کے حملے سے دوچار ہوا۔ ڈریک نے رات کی تاریکی میں ۳۰ توپوں سے لیس چھوٹی چھوٹی کشتیوں سے ہسپانوی جہازوں پر پیچھے سے حملے کئے اور جہاں تک ممکن تھا انہیں نشانہ بنایا اور لوٹ لیا۔
ہسپانوی بحریہ پسپا ہوکر فرانسیسی بندرگاہ “کالے” ([۳]) میں رک گئی اور اس بار برطانیہ کے گرد کا چکر کاٹ کر ایک بار پھر بخت آزمائی کا فیصلہ کیا لیکن اس مرتبہ بھی اس شدید آندھی اور انگریزی کشتیوں کے چھاپہ مار حملہ کا سامنا کرنا پڑا اور بہت سے جہاز آئرلینڈ کی پتھریلی چٹانوں سے ٹکرا کر تباہ ہوئے اور ملاحوں کا قتل عام ہوا اور جو ملاح زندہ بچے تھے انہیں آئرلینڈ کے مقامی لوگوں نے قتل کیا۔
بالآخر ہسپانوی بیڑا ـ جبکہ اپنی نصف نفری اور جہازوں کو کھو چکا تھا ـ واپس اپنی بندرگاہ پر واپس آیا۔ اس شکست کے بعد ہسپانوی بحریہ کبھی بھی اپنی کمر کو سیدھا نہیں کرسکا اور دنیا کے سمندروں پر تسلط کو عملی طور پر برطانیہ کے سپرد کردیا۔
دوسری طرف سے برطانیہ نے ایران کی صفوی سلطنت کے تعاون سے بندر گمبرون ([۴]) کو پرتگیزوں سے خالی کروا کر انہیں خلیج فارس سے مار بھگایا اور یوں ہندوستان اور مشرق بعید میں پرتگیزی نوآبادیاتی دور کے اختتام کی بنیاد پڑی۔ بس تھوڑے سے وقت کی ضرورت تھی کہ برطانیہ ہندوستان کے علاقے پر مسلط ہوکر دنیا کی اصلی استعماری طاقت میں بدل جاتا۔
عظمت جو بحری ڈاکؤوں کے مرہون منت تھی
یہ مختصر سی تاریخ گواہ ہے کہ برطانیہ کے استعمار اور دولت سمیٹنے کا اہم ترین دور الیزبتھ اول اور سمندری قزاقوں کے براہ راست تعاون کا نتیجہ تھا۔
لوٹ مار اور ڈاکہ زنی سے حاصل ہونے والی اصل آمدنی البتہ کبھی بھی برطانوی عوام کی جیب میں نہیں گئی بلکہ بلاواسطہ طور پر نجی کمپنیوں کی تجوریوں میں جاتی رہی اور ان تمام کمپنیوں میں انگریزی شاہی دربار بنیادی حصہ دار ([۵]) تھا۔
ان ہی غارتگریوں اور ڈکیتیوں ہی سے حاصل ہونی والی کمائی نے اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں برطانیہ میں صنعتی انقلاب کو ممکن اور مغرب کو دنیا کا پہلے درجے کا سرمایہ دار بنایا۔ شاید اس داستان کا مضحک ترین نکتہ یہ ہو کہ برطانیہ نے فرانسس ڈریک کے جہاز کا ایک مکمل نمونہ تعمیر کرکے دریائے ٹیمز میں اتارا۔ وہی جہاز جو ڈریک کی ڈاکہ زنی کے عروج کے زمانے میں گولڈن ہنڈ ([۶]) کہلاتا تھا۔ یہ جہاز شاید برطانوی عوام نیز دنیا بھر کے انسانوں کو یاددہای کروا رہا ہے کہ جو کچھ بھی برطانیہ کے پاس ہے وہ سب بحری ڈاکؤوں کی کمائی ہے۔ چوری اور لوٹ مار سے حاصل ہونے والا مال، جس نے برطانیہ کو پانچ بڑی طاقتوں کے زمرے میں لاکھڑا کیا ہے؛ اور خبردار کررہا ہے کہ آج کا برطانیہ فرانسس ڈریک جیسے ڈاکو کو اپنا ہیرو سمجھتا ہے لہذا یہ ممکن نہیں ہے کہ اس نے چوری اور ڈکیتی سے توبہ کی ہو، لہذا خبردار رہئے، گوکہ یہ قزاق اب کمزور ہوچکا ہے لیکن آج بھی قزاق ہی ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں مقبوضہ جبل الطارق کے ساحل پر ایران کے سوپر ٹینکر پر برطانوی کے حکمران قزاقوں کے حملے کے بعد ایرانی طلبہ نے تہران میں برطانوی سفارتخانے کے سامنے مظاہرہ کیا اور برطانوی سفیر کو بحری قزاقوں کا جھنڈا بطور تحفہ عطا کیا!
حواشی
[۱]۔ Philip II of Spain
[۲]۔ Strait of Dover
[۳]۔ Port of Calais
[۴]۔ موجودہ بندر عباس جس کو پرتگیز سامراجیوں نے کیکڑوں کی بہتات کی وجہ سے کیکڑوں کی بندرگاہ (Porto de Camarão) کا نام دیا تھا جس کی وجہ سے ـ شاید ـ مقامی لوگ اسے “گمبرون” کہتے تھے۔
[۵]۔ Shareholder
[۶]۔ Golden Hind
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: مہدی پورصفا
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

 

وہ زمانہ جب بحری قزاق الیزبتھ کے اخراجات پورے کرتے تھے

  • ۱۳

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: گزشتہ سے پیوستہ
الیزبتھ کے برسراقتدار آنے کے وقت انگلستان کی آبادی بیس لاکھ سے بھی کم تھی اور الیزبتھ کی سلطنت کے آغاز میں لندن کی آبادی ۹۰۰۰۰ نفوس پر مشتمل تھی جو کہ اس کی سلطنت کے آخر میں ڈیڑھ سے دو لاکھ تک بڑھ گئی اور آبادی میں یہ اضافہ ہزاروں بحری قزاقوں اور بحر اوقیانوس کے پار علاقوں پر قبضے کے شوقین مہم جوؤں کی وسیع نقل مکانی کا نتیجہ تھا۔ لندن ان دنوں شدید طبقاتی نظام سے متاثر تھا جس کے مغرب میں صاحب ثروت لوگوں کا بسیرا تھا جبکہ مشرقی علاقہ بےشمار غرباء اور مساکین کا مسکن بنا ہوا تھا اور اس کی واحد بندرگاہ بھی دریائے ٹیمز ([۱]) کے ساحل پر واقع تھا جس کی مالک ایسٹ انڈیا کمپنی تھی۔
الیزبتھ بر سر اقتدار آئی تو انگلستان کی معاشی حالت ناگفتہ بہ تھی اور دربار کے اخراجات اس زمانے میں تین لاکھ پونڈ تک پہنچ چکے تھے جنہیں پورا کرنا مشکل ہورہا تھا چنانچہ ملکہ برطانیہ نے سب سے آسان راستے کا انتخاب کیا اور یہ آسان راستہ بحری قزاقوں کے ساتھ معاہدہ اور سمجھوتہ کرکے دوسری سرزمینوں پر قبضے کا منصوبہ تھا۔
ملکہ کے درندہ کتّے کون تھے؟
بحری جہاز لوٹنے کے سلسلے میں ملکہ الیزبتھ اول کے دو اصلی اتحادی سر جان ہاکنز ([۲])  و سر فرانسس ڈریک ([۳]) تھے اور یہ دونوں کیریبین سمندر کے قزاقوں میں شامل تھے اور چالیس سال تک سمندروں میں ملکہ الیزبتھ اول کے درندہ کتے سمجھے جاتے تھے۔
ہاکنز ـ جس کو جنوبی امریکہ کے ساتھ برطانیہ کی آزاد تجارت کا بانی کہا جاتا ہے۔ غلاموں کی تجارت کی سرپرستی الیزبتھ کی طرف سے اسی شخص کو سونپ دی گئی تھی۔ اس شخص نے پہلی بار سنہ ۱۵۶۳ع‍ میں ملکہ الیزبتھ کے شخصی حکم اور لندن مارکیٹ کے سرمائے پر، تین جہازوں اور ۱۰۰ ملاحوں کے ساتھ افریقی ملک سیرالیون ([۴]) سے ۵۰۰ افراد کو غلام بنا کر یا اغوا کرکے، ہیٹی ([۵]) میں فروخت کردیا اور پھر اپنے جہازوں پر سامان تجارت لاد کر لیورپول ([۶])  پہنچا دیا۔ ہاوکینز کا اگلا سفر گینیا [۷] کے سواحل کی جانب تھا۔ اس “سامان تجارت” پر ۳۰۰۰ پاؤنڈ سرمایہ کاری کی گئی تھی جس کا ایک تہائی حصہ ملکہ الیزبتھ نے ادا کیا تھا اور اس تجارت کی کمائی میں وہ براہ راست شریک تھی۔ یہ غلاموں کی برطانوی تجارت کا آغاز تھا جو انیسویں صدی عیسوی کے وسط تک جاری رہی۔ [اور آج بھی مختلف شکل و صورت میں جاری ہے، کیونکہ کسی وقت قزاقوں کی سلطنت کو تیسری دنیا کے انسانوں کی جسمانی طاقت کی ضرورت ہے اور آج ان کی فکری اور فنی طاقت کی ضرورت ہے جس سے وہ آج بھی فائدہ اٹھا رہی ہے]۔
دوسری طرف سے فرانسس ڈریک بھی الیزبتھ کی سرپرستی اور سرمایہ کاری کے سائے میں بحری رہزنی میں مصروف تھا۔ ڈریک ـ جس نے اپنے کام کا آغاز ایک باربردار بحری جہاز سے کیا تھا ـ ہسپانوی جہازوں کو لوٹنے کے لئے ایک بیڑا تشکیل دیا اور ہسپانوی جہازوں پر حملوں اور قتل و غارت اور لوٹ مار کا آغاز کیا۔ اس بیڑے کی تشکیل کے لئے مجموعی سرمایہ ۵۰۰۰ پاؤنڈ تک پہنچتا تھا جس کا آدھا حصہ ملکہ الیزبتھ نے ادا کیا جس سے قزاقوں کی سلطنت کی ملکہ نے چھ لاکھ پاؤنڈ کا خطیر سرمایہ کمایا۔
ڈریک نے صرف ایک حملے میں ایک پسپانوی جہاز کو لوٹ کر ۲۵۰۰۰ پیسو ([۸]) خالص سونا ہتھیا لیا۔ نیز یہ شخص غلاموں کی تجارت میں بھی کردار ادا کرتا تھا اور اس مقصد کے حصول کے لئے پرتگال کی افریقی نوآبادیوں کے دیہی علاقوں کو لوٹ لیا کرتا تھا۔ ہسپانوی قافلوں پر ڈریک کے مسلسل حملوں کے باعث شاہ ہسپانیہ نے اس کے سر کے لئے انعام مقرر کیا جبکہ دوسری طرف سے ملکہ انگلستان نے سنہ ۱۵۸۰ع‍ میں  اس کو “سر Sir” کا خطاب عطا کیا اور ۱۵۸۸ع‍ میں یہ سمندری ڈاکو برطانوی بحریہ کا نائب کمانڈر مقرر ہوا۔
جیمز مل ([۹]) لکھتا ہے کہ فرانسس ڈریک سنہ ۱۵۸۰ع‍ میں انگلستان واپس آیا تو ملکہ الیزبتھ نے اس کا استقبال کیا جبکہ ڈریک ہسپانوی جہازوں سے لوٹی ہوئی ۵۰۰۰۰۰ پاؤنڈ سونا اور بڑی مقدار میں مال و اسباب ساتھ لایا تھا اور یوں ملکہ صاحبہ کے دربار کے پورے سال کے اخراجات پورے ہو گئے۔
مؤرخ ارنسٹ مینڈل ([۱۰]) لکھتا ہے: سنہ ۱۵۵۰ع‍ کے لگ بھگ، انگلستان کو سرمائے کی شدید قلت کا سامنا تھا؛ تو پسپانیہ کے بحری بیڑوں کے لوٹنے کے لئے برطانیہ کی طرف سے بحری قزاقی ـ جو کارپوریشنوں اور مشترکہ کمپنیوں کی صورت میں انجام پاتی تھی ـ نے اس صورت حال کو اچھی طرح سے بدل دیا۔ انجام پانے والے تخمینوں کے مطابق برطانیہ کے سرکاری بحری ڈاکؤوں نے ملکہ الیزبتھ کے زمانے میں ایک کروڑ بیس لاکھ پاؤنڈ کی براہ راست دولت اس ملک کے خزآنے میں منتقل کردی۔
قدم بڑھاؤ نئی دنیاؤں پر قبضہ کرنے کے لئے
ملکہ الیزبتھ کا دوسرا اقدام ـ جو پھر بھی سمندری قزاقوں اور داکؤوں کی مدد سے شروع ہوسکا ـ جیووانی کابوتو کی مہم جوئیوں کے تسلسل میں نئی سرزمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش تھی ۔ سنہ ۱۵۸۵ع‍  میں سر والٹر ریلے ([۱۱]) نے ملکہ الیزبتھ کی براہ راست حمایت کے بدولت موجودہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سرزمین پر پہلی برطانوی نوآبادی پر قبضہ کیا اور ملکہ الیزبتھ اول ـ جو اس وقت کنواری ملکہ!! ([۱۲]) کہلواتی تھی ـ کے اس لقب کی مناسبت سے اس نوآبادی کا نام “ورجنیا” ([۱۳]) رکھا۔
ریلے نے سرمائے جمع کرنے کے لئے متعدد کمپنیاں قائم کی گئیں جن میں سب سے پہلی کمپنی ورجینیا کمپنی تھی جس نے پہلی بار زرعی کھیتیاں افریقہ سے لائے گئے غلاموں کی افرادی قوت کی بنیاد پر تشکیل دیں۔ ان ہی دریافتوں کے تسلسل میں نیو فاؤنڈ لینڈ، برمودا، بارباڈوس، بہاماس، میساچوسٹس، اینٹیگوا، بیلیز اور جمیکا سمیت بےشمار نوآبادیاں دریافت ہوئیں۔
حواشی
[۱]۔ River Thames
[۲]۔ John Hawkins (naval commander)
[۳]۔ Francis Drake
[۴]۔ Sierra Leone
[۵]. Haiti
[۶]۔ Liverpool
[۷]۔ Guinea
[۸]۔ Peso
[۹]۔ James Mill
[۱۰]۔ Ernest Mandel
[۱۱]۔ Walter Raleigh
[۱۲]۔ Virgin Queen
[۱۳]۔ Virginia
…………..

 

کشمیر اور فلسطین کی مشترکہ سرنوشت

  • ۱۸

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: کشمیر اور فلسطین کی ناگوار اور تلخ تاریخ نے عالم اسلام اور دنیائے عرب کے دلوں کو مجروح کر دیا ہے۔ یہ دونوں مسلمانوں کی ایسی سرزمینیں ہیں جو ۷۰ سال سے غاصب سامراجی طاقتوں کے ظلم و جور کی چکی میں پس رہی ہیں۔ اور ظلم و جور کے ایسے ایسے دردناک واقعات تاریخ نے اپنے دامن میں ثبت کئے ہیں جن کو سن کر بدن لرز اٹھتا ہے اور روح کانپ جاتی ہے۔ ۷۰ سال قبل امت مسلمہ کے یہ دونوں دھڑکتے دل اس وقت چکنا چور ہوئے جب بوڑھے استعمار برطانیہ نے ان پر غیروں کو مسلط کرنے کی سازش رچائی۔
برطانیہ کی ظالمانہ اور شیطانی سنت یہ ہے کہ وہ جس اسلامی علاقے سے اپنا قدم باہر رکھتا ہے وہاں آگ کی چنگاری پھینک دیتا ہے اور پھر دور سے اس پر تیل چھڑکتا رہتا ہے یہاں تک کہ یہ چنگاری ایسی بھڑکتی آگ میں تبدیل ہو جاتی ہے کہ جسے مہار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ کشمیر اور فلسطین دو ایسی اسلامی سرزمینیں ہیں جن سے نکلتے وقت برطانیہ نے آگ کی چنگاریاں پھینک دیں اور آج تک ان پر تیل چھڑکتا آیا ہے۔ غیروں کو ان پر مسلط کر کے، ایجنسیوں کو فعال کرکے، انہیں اسلحے سے لیس کر کے وہاں کے مقامی لوگوں کے خون سے ندیاں بہاتا اور ان کی عصمتوں کی دجھیاں اڑاتا آیا ہے۔ آج نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف بھارت پر برسر اقتدار انتہا پسند تنظیم ’آر ایس ایس‘ کشمیر پر اپنا مکمل تسلط جما رہی ہے اور دوسری طرف یہودی انتہا پسند حکومت فلسطین کو مکمل طور پر ہتھیانے میں کوشاں ہے۔
فلسطین اور کشمیر دو ایسی سرزمینیں ہیں جن پر تقریبا ایک ہی سال افتاد پڑی۔ اس لیے کہ ۱۹۴۷ میں ہی برطانوی سامراج نے فلسطین کو تقسیم کرنے اور کشمیر کو متنازع جگہ قرار دینے کا فیصلہ کیا۔ ایک عظیم جنگ کے بعد ہزاروں مظلوم عوام بے گھر ہوئے، سیکڑوں قتل عام ہوئے اور ہندوستان کشمیر کے وسیع علاقے پر مسلط ہو گیا اور اپنی فوج کے ذریعے اس علاقے میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا انہیں اذیتیں پہچنانا شروع کر دیں اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ جس کی وجہ سے کشمیر میں مسلمانوں نے اپنے تحفظ کی خاطر بندوق اٹھا لی اور بھارتی فوج کا مقابلہ کرنا چاہا لیکن بھارت نے اس دفاعی تدبیر کو دھشتگردی کا نام دیا اور کشمیروں کو دھشتگرد قرار دے کر ہندوستان کے ہندووں کو کشمیروں کے خلاف اکسایا۔
دوسری جانب فلسطین میں برطانیہ نے اپنا شیطانی حربہ اپناتے ہوئے انتہا پسند یہودیوں کو فلسطینیوں پر مسلط کیا اور دنیا بھر کے یہودیوں کا فلسطین ہجرت کے لیے راستہ کھول دیا۔ اور انہیں اسلحے سے لیس کرکے مظلوم فلسطینیوں کے خلاف کھڑا کر دیا۔ اپنے ٹریننگ سنٹروں کے دروازے یہودیوں پر کھول دیے اور مسلمانوں کی زمینیں غصب کر کے یہویوں کے لیے مکانات تعمیر کروا دیے۔ اور آخر کار خون کی ندیاں بہا کر اور مسلمانوں کا قتل عام کر کے انہیں سرزمین فلسطین سے نکال باہر کیا اور صہیونی ریاست ’اسرائیل‘ کو تشکیل دے دیا۔ اس روز سے آج تک اسرائیل فلسطین میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ملت فلسطین کی نابودی کے در پہ ہے۔
کشمیر اور فلسطین کی مشترکہ سرنوشت
آج کشمیر اور فلسطین ایک ہی سرنوشت سے دوچار ہیں ایک ہی طرح کی مصیبت میں گرفتار ہیں دونوں اپنے تشخص کو بچانے اور اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں سے متعین کرنے کے لیے میدان جنگ میں برسرپیکار ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان دونوں کی تقدیر میں یہی لکھا ہوا تھا کہ ایک ہی سال میں ایک ہی دشمن کے ذریعے ان کے خلاف سازش رچائی جائے اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کا منصوبہ بنایا جائے۔ اس لیے کہ ان کے پیچھے جو خفیہ ہاتھ ہیں وہ ان کی نابودی چاہتے ہیں۔ اور یہ اس وقت ہوا جب بھارت اور صہیونی ریاست دونوں کو امریکہ کی جانب سے اطمینان حاصل ہو گیا کہ کوئی بھی ان کے مقابلے میں نہیں آئے گا اور ان کے خلاف زبان اعتراض نہیں کھولے گا اور عرب اور مسلمان تو خود آپس میں اتنا الجھے ہوئے ہیں کہ ان کے اندر تو کسی دشمن کی دھمکی کا جواب دینے کے لیے ذرا سی سکت بھی باقی نہیں رہی۔
ایک ہاتھ اور ایک فکر
ہمیں یہ یقین کر لینا چاہیے کہ وہ ہاتھ جو جگہ جگہ ہمارے حقوق اور ہمارے مقدسات کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے اور وہ فکر جو ہمارے اسلامی ممالک کی بربادی پر تلی ہوئی ہے وہ ایک ہی ہاتھ اور ایک ہی فکر ہے۔ جنگ و جدال اور فتنہ وفساد جس کو میراث میں ملا ہے۔ ایک طرف کشمیر سے دفعہ ۳۷۰ ہٹوا کر اور دوسری طرف فلسطین میں صدی کی ڈیل کا منصوبہ رچا کر شائد وہ اپنی آخری آرزووں کو پہنچنا چاہتے ہیں لیکن انہیں جان لینا چاہیے کہ یہ دونوں سرزمنیں ہمارے عقائد کا حصہ ہیں ہماری عزت و آبرو ہیں ہماری قوم جان تو دے سکتی ہے مگر عزت نہیں لٹا سکتی ۔ جنہوں نے یہ کھیل کھیلا ہے وہ بہت جلد اپنے کئے پر پچھتائیں گے۔ خدا کے فضل و کرم سے وہ صبح بہت نزدیک ہے جب وعدہ الہی محقق ہو گا کامیابی کی نوید آئی گی اور ہم سرزمین کشمیر و فلسطین میں آزادی کا پرچم لہرائیں گے۔

بقلم ڈاکٹر مصطفیٰ یوسف اللداوی

 

بحری قزاقوں نے کس طرح جزیرہ انگلینڈ کو سلطنت برطانیہ میں تبدیل کیا؟

  • ۱۳

انگریزوں نے یہودی مربیوں کی مدد سے دنیا کے بہت سے ممالک پر قبضہ کرکے انہیں نوآبادیات میں تبدیل کیا اور عشروں نہیں بلکہ صدیوں تو ان کے وسائل کو لوٹا، یہ سب کو معلوم ہے مگر برطانوی حکومت ـ جو اب ایک ڈوبتے ہوئے جزیرے تک محدود ہوچکی ہے مگر دنیا بھر کی شرانگیزیوں میں بدستور کردار ادا کررہی ہے، دعوی کرتی ہے کہ اس کے اسلاف نے ان ممالک کو آباد کیا ہے اور ان پر قبضہ چھوٹی سی شیطانی حکومت کے لئے مفید نہیں بلکہ نقصان دہ رہا ہے!!! لیکن حال ہی میں ایک بھارتی نژاد امریکی پروفیسر نے اعداد و شمار کی مدد سے ثابت کیا کہ صرف برصغیر سے برطانیہ نے ۴۵ ٹریلین ڈالر کی دولت غارت کردی ہے اور یوں یہ رسوائے زمانہ سلطنت ـ جس کو بوڑھا استعمار یا بوڑھی لومڑی یا بوڑھا لگڑبگڑ بھی کہا جاتا ہے ـ مزید رسوا ہوگئی؛ لیکن کم ہی کسی کو معلوم ہے کہ یہ اس سلطنت کی بنیاد بحری قزاقوں کی مدد سے رکھی گئی ہے اور صنعتی انقلاب کے دور میں اس کی عظمت سمندری قزاقوں کی لوٹ مار اور ملکہ الیزبتھ کے ساتھ ان کے باہمی سازباز کی مرہون منت ہے۔
خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: “کیریبین سمندر کے قزاق” ([۱]) کی فلم سیریز ہالی ووڈ کا مقبول ترین فلمی سلسلہ اور دنیا بھر میں بحری سفر کی تاریخ کا ایک حصہ ہے جس میں تخیل کا ذائقہ بھی ملا دیا گیا ہے۔ نمی میں ڈوبے ہوئے جنوبی امریکی سواحل، ان قلعوں کے ساتھ جہاں سے سلطنت برطانیہ کے سپاہی ـ اور یقینی طور پر بحری قزاق ـ بحرالہند کے اہم ساحلی علاقوں پر فرمانروائی کرتے تھے اور عشرتکدوں میں جاکر لوٹے ہوئے مال سے حاصل آمدنی کو اڑا دیتے تھے۔
یہ ایک چمکتی دمکتی تصویر ہے جو کہ ظاہری پرفریبیوں کے برعکس تاریخی واقعات سے زمین و آسمان کے فاصلے جتنی مختلف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برطانوی سلطنت نہ صرف بحری قزاقوں کی دشمن نہیں ہے بلکہ اعلانیہ طور پر ـ اپنے دشمنوں کے خلاف لڑنے کے لئے ـ بحری قزاقوں کی حلیف بن جاتی ہے۔ اور ان حلیف قوتوں (یعنی سلطنت برطانیہ اور بحری قزاق) نے نہ صرف دنیا کے پانیوں پے برطانوی تسلط کو یقینی بنایا بلکہ اس اتحاد نے برطانیہ کے مہنگے شاہی دربار کے اخراجات برداشت کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
یورپیوں کے ہاتھ لاطینی امریکہ سے ایک ٹریلین ڈالر کی چوری
بحری قزاقوں کی عجیب داستان کا نقطہ آغاز گرینیڈا یا غرناطہ میں پایا جاسکتا ہے۔ جب کاسٹیلا ([۲]) کی ملکہ ایزابیلا دوم ([۳]) نے ۲ جنوری ۱۴۹۲ع‍ کو اپنے شوہر فرمانڈو ([۴]) کے ہمراہ جزیرہ نمائے ایبری ([۵]) میں ـ نو مہینوں سے جاری محاصرے کے بعد ـ مسلمانوں کی حکمرانی کی آخری نشانیوں کو بھی مٹا کر رکھ دیا۔ سات مہینے بعد اگست ۱۴۹۲ع‍ کو کریسٹوفر کولمبس ([۶]) نامی اطالوی مہم جو ایزاببلا اور فرمانڈو کی طرف سے سمندری مہم پر روانہ ہوا تا کہ افسانوی ہندوستان کو لوٹ کر برطانوی بادشاہوں کے خزانے کو مالامال کرسکے۔ ہندوستان اس سرزمین کا نام تھا جس کی تصویر صلیبی جنگوں کے زمانے سے یورپی شہسواروں کے ذہن میں ابھرتی رہی تھی۔
جزیرہ نمائے ایبری کے دوسرے گوشے میں پرتگال کے بادشاہ مانوئیل ([۷]) نے ـ جو ایزابیلا اور فرمانڈو کے نقشے کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا ـ سنہ ۱۴۹۸ع‍ میں ـ کولمبس کی مہم کے پانچ سال بعد، واسکو ڈے گاما ([۸]) کی مدد سے ہندوستان کا راستہ تلاش کیا۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس تاریخ سے دنیا بھر میں بحری تسلط کی بنیاد پر یورپیوں کی لوٹ مار کی تاریخ کا نیا دور شروع ہوا ہے۔
واسکو ڈے گاما براعظم افریقہ کا چکر کاٹ کر اس خشکی کے آخری نقطے کو نیک امیدوں کا راس ([۹]) کا نام دے کر مشرقی افریقہ کی پر رونق بندرگاہوں تک پہنچا۔ مشرقی افریقہ میں ممباسا ([۱۰]) اور مالنڈی ([۱۱]) تھے جہاں سے وہ ہندوستان کے مالابار ([۱۲]) کے علاقے کی کالی کوٹ ([۱۳]) بندرگاہ تک پہنچا اور آخرکار سنہ ۱۴۹۹ع‍ میں عظیم دولت لے کر لزبن ([۱۴]) واپس آیا۔ اس کے بعد پرتگالی بادشاہ نے تیرہ جہازوں پر مشتمل ایک بڑا بحری بیڑا “پیدرو کابرال” ([۱۵]) نامی مہم جو کی سرکردگی میں مشرق کی طرف روانہ کیا اور اس بار یہ بیڑا سنہ ۱۵۰۰ع‍ میں برازیل پہنچا اور کابرال نے اس سر زمین کو پرتگال کے بادشاہ کے نام سے متبرک کیا!!!
بحر ہند اور لاطینی امریکہ میں بحری سلطنت قائم کرنے کے سلسلے میں پرتگالیوں کی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ہسپانویوں نے بھی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ سنہ ۱۵۱۸ع‍ میں ہسپانوی مہم جو ہرنان کورٹیس ([۱۶]) نے اپنا سفر مغرب کی طرف کولمبس کے راستے پر شروع کیا۔ وہ ابتداء میں انٹیلیز اکبر ([۱۷]) تک پہنچا اور ۱۳ مارچ ۱۵۱۹ع‍ کو ۵۰۰ مسلح افراد کے ساتھ میکسیکو کے ساحل پر اترا۔ یہ حملہ لاطینی امریکہ میں آزتکوں ([۱۸]) کی صاحب ثروت سلطنت کے خلاف ایک طویل جنگ کا آغاز ثابت ہوا۔ آزتک سلطنت سائنسی اور اقتصادی حصولیابیوں کے لحاظ سے پورے یورپ سے بہت آگے تھی لیکن ان کے پاس بندوق نہ تھی اور یہ مسئلہ یورپیوں کے ہاتھوں آزتک سلطنت کے زوال اور مقامی باشندوں کے اجتماعی قتل پر منتج ہوا۔ اسی تسلسل میں ایک ہسپانوی فوجی فرانسسکو پیزارو ([۱۹]) نے پرو ([۲۰]) پر قبضہ جمایا۔ یوں پورا بر اعظم امریکہ دو یورپی سلطنتوں یعنی ہسپانیہ اور پرتگال کے زیر نگیں آیا اور اس علاقے میں قتل اور لوٹ مار کا طویل سلسلہ شروع ہوا۔
ان ممالک سے لوٹی گئی دولت کے سلسلے میں واضح اعداد و شمار دستیاب نہیں ہے لیکن بعض تاریخی تخمینوں کے مطابق لاطینی امریکہ سے چوری ہونے والے سونے اور جواہرات کی مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرتی ہے۔
اس عظیم دولت پر ـ جو چھینی گئی یا لوٹی گئی یا چوری کی گئی ـ جدید یورپی تہذیب کی بنیاد رکھی گئی  جس کو یورپی بڑے فخر سے نشاۃ ثانیہ ([۲۱]) کا نام دیتے ہیں! اور تشخص باختہ مشرقی اقوام بھی اس سے مرعوب ہوجاتی ہیں۔
ایک استعماری طاقت میں تبدیل ہونے کے لئے انگریزوں کا پہلا قدم
اسی زمانے میں ایک ملک اور بھی تھا جو لاطینی امریکہ اور ہندوستان کی عظیم دولت لوٹنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ برطانوی بادشاہ ہینری ہشتم ([۲۲]) نے ـ جو اپنے پرتگالی اور ہسپانوی ہم منصبوں کے حسد میں مبتلا ہوچکا تھا ـ وینس کے رہائشی اطالوی مہم جو جیووانی کابوتو ([۲۳]) کو یورپ کے دوسرے بندرگاہی شہر بریستول ([۲۴]) کے تاجروں کے ہمراہ بحر اوقیانوس ([۲۵]) روانہ کیا۔ یہ اطالوی مہم جسے انگریز اپنی تاریخ میں جیووانی کابوتو کا نام دیتے ہیں،  ہینری ہشتم کے حکم پر سمندروں میں اترا تا کہ ہر اس سرزمین پر قبضہ کرلے جو مشرکین [یعنی غیر عیسائیوں] کے قبضے میں تھی۔
کایوتو نے نوا اسکوشیا ([۲۶]) میں واقع کینیڈا کے جزیرے کیپ برتون کیپ بریٹن ([۲۷]) پہنچ کر اس کو ہینری ہشتم کے نام پر اپنی ملکیت میں لے لیا۔ اس کے باوجود پرتگال اور ہسپانیہ کے ساتھ رقابت و مسابقت کے سلسلے میں برطانیہ کی انتہائی سنجیدہ کوششوں کا دور الیزبتھ اول ([۲۸]) کے زمانے سے شروع ہوا ایک ایسی لڑکی جو انگلستان میں کیتھولک مذہب کے خاتمے کی ہینروی ہشتم کی کوششوں کا ثمرہ تھی اور اسی ہی کے زمانے میں امریکی ساحلی علاقوں میں برطانوی کالونیاں قائم کرنے کی سنجیدہ کوششیں شروع ہوئیں۔
حواشی
[۱]۔ Pirates of the Caribbean
[۲]۔ Castilla
[۳]۔ Isabella II of Spain
[۴]۔ Francisco de Asís María Fernando de Borbón
[۵]۔ Iberian Peninsula
[۶]۔ Christopher Columbus
[۷]۔ Manuel I, the Fortunate
[۸]۔ Vasco da Gama
[۹]۔ The Cape of Good Hope (“Cabo de Boa Esperanca”).
[۱۰]۔ Mombasa
[۱۱]۔ Malindi
[۱۲]۔ Malabar region
[۱۳]۔ Calicut
[۱۴]۔ Lisbon
[۱۵]۔ Pedro Álvares Cabral
[۱۶]۔ Hernán Cortés
[۱۷]۔ Greater Antilles
[۱۸]۔ Aztecs
[۱۹]۔ Francisco Pizarro
[۲۰]۔ Peru
[۲۱]۔ Renaissance
[۲۲]۔ Henry VIII of England
[۲۳]۔ Giovanni Caboto انگریزی میں: John Cabot
[۲۴]۔ Bristol
[۲۵]۔ Atlantic Ocean
[۲۶]۔ Nova Scotia
[۲۷]۔ Cape Breton Island
[۲۸]۔ Elizabeth I of England
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

امریکی ریپبلکنز سفید فام اسرائیل کے شیدائی کیوں ہیں؟

  • ۱۱

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: اگر آپ نے ایلہان عمر، رشیدہ طلیب، الگزانڈریا اوسکاریو کورٹز اور ایانا پریسلی (Ilhan Omar, Rashida Talaib, Alexandria Ocasio-cortez and , Ayana Pressley) کے نام ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ الفاظ سنے ہوں کہ “جہاں سے آئی ہو وہیں چلی جاؤ” تو یقینا اس عجیب نکتے کو بھی سمجھ چکے ہونگے۔ ٹرمپ کے حامیوں کا اشارہ ہمیشہ اسرائیل کی طرف ہوتا ہے۔ جب لنڈسے گراہم (Lindsey Graham) سے ان افراد پر ٹرمپ کے حملہ آور ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ “یہ لوگ اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں!” اور اپنا رد عمل اس طریقے سے ریکارڈ کروایا۔ ریپبلکن سینیٹر لی زیلڈین (Lee Michael Zeldin) نے بھی ایلہان عمر اور طلیب کو “اسرائیل دشمن” قرار دیا۔ یہاں تک کہ ٹرمپ نے بھی اس تنازعے پر اپنا رد عمل دکھاتے ہوئے کہہ دیا کہ “ایلہان عمر اسرائیل سے نفرت کرتی ہیں”
عجیب مسئلہ ہے۔ یہ مطالبہ اتنا ہی قابل ادراک ہے جتنا کہ ایک امریکی سیاستدان سے کہا جائے کہ امریکی وطن پرستی کے ناکافی اظہار کی وجہ سے اسے امریکہ سے چلا جانا چاہئے۔ اگرچہ یہ مطالبہ کم از کم جانا پہچانا ہے۔
“امریکہ وہ جس سے یا تو محبت کرو یا پھر اسے ترک کرو” ۱۹۶۰ع‍ کی دہائی سے ایک قدامت پسندانہ نعرہ رہا ہے۔ عملی طور پر بےمثل مسئلہ یہ ہے کہ ایک امریکی سیاستدان سے مطالبہ کیا جائے کہ چونکہ اس نے ایک بیرونی ریاست کے تئیں کافی شافی عقیدت کا اظہار نہیں کیا ہے لہذا اسے امریکہ کو ترک کردینا چاہئے۔ کیا کوئی تصور کرسکتا ہے کہ ٹرمپ کینیڈا، بھارت یا جاپان سے نفرت کی بنا پر ایلہان عمر اور ان کے ساتھیوں کے امریکہ سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کریں اور ریپبلکن سیاستدان ان کے اس مطالبے کی حمایت کریں؟
بےشک یہ تصور ممکن نہیں ہے؛ دلیل یہ ہے کہ ریپبلکن سیاستدان مزید اس انداز سے بات نہیں کرتے کہ اسرائیل یہ ایک بیرونی ریاست ہے۔ وہ اسرائیل کی محبت کو امریکہ کی محبت سے جوڑ دیتے ہیں کیونکہ کیونکہ وہ اسرائیل کو ایک ایسی مثالی امریکی ریاست کے لئے نمونہ سمجھتے ہیں وہ ریاست جس کی وہ آرزو کرتے ہیں: ایک نسل پرست سفید فام جمہوریت!
اسرائیل ایک یہودی ریاست ہے۔ ٹرمپ اور ان کے بہت سے حلیف امریکہ کو ایک ای سفید فام یہودی-عیسائی ملک چاہتے ہیں۔ گوکہ اسرائیلی ریاست میں انتخابات منعقد ہوتے ہیں اور وہاں پارلیمانی ادارے بھی ہیں لیکن یہ ریاست ڈھانچے کے حوالے سے صرف ایک مذہبی-نسلی گروپ کے لئے امتیاز کی قائل ہے۔ یہ وہی چیز ہے جو بہت سے ریپلکنز امریکہ کے لئے بھی پسند کرتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ میں بعض تجزیہ نگار دائیں بازو کی طرف سے اسرائیل کی حمایت کی بنا پر امریکہ کو ـ صحیح طور پر ـ ایک نسلی جمہوریت سے تشبیہ دینے والے تجزیوں کو نظر انداز کرکے دوسرے تجزیوں کو ترجیح دیتے ہیں لیکن وہ دوسرے تجزیوں کو اگر خوش فہمی سے بھی دیکھا جائے تو کم از کم وہ ناقص ہیں۔ ایک رائج الوقت تجزیہ یہ ہے کہ “چونکہ ریپبلکنز جمہوریت اور انسانی حقوق کے حامی ہیں اسی بنا پر اسرائیل کے شیدائی ہیں!!!
یہاں بھی ایک تضاد پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ ٹرمپ کے زمانے میں جمہوریت اور انسانی حقوق ریپبلکنز کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔ یہ صرف ٹرمپ ہی نہیں ہیں جو آمریت پسند راہنماؤں کے آگے کرنش کرتے ہیں بلکہ ریپبلکنز کی صفوں میں اس طرح کی کرنشیں بہ وفور پائی جاتی ہیں۔ ڈیموکریٹ جماعت کے مقابلے میں ریپلکنز روس اور سعودی عرب کو زیادہ مثبت نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گذشتہ سال دسمبر میں اکانومسٹ (Economist) اور یوگاو (YouGov) نے امریکیوں سے پوچھا کہ “کیا دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات میں انسانی حقوق کی پامالی ہماری “بنیادی تشویش” ہونا چاہئے یا نہیں؟” تو ہاں کہنے والوں میں ڈیموکریٹس کے مقابلے میں ریپلکنز کی تعداد نصف تھی۔
نیز زیادہ تر ریپلکنز مغربی کنارے پر یہودی ریاست کی حکمرانی چاہتے ہیں جہاں فلسطینیوں کو فوجی قوانین کے تحت اور حق رائے دہی کے بغیر، رہنا پڑ رہا ہے۔ اگر آپ مغربی کنارے پر یہودی ریاست کے غیر جمہوری تسلط کی حمایت کریں تو امکانی طور پر اس ریاست کی حمایت کے لئے آپ کی دلیل “جمہوریت” نہیں ہیں۔
ریپلکنز کی اسرائیل دوستی کی ایک رائج ابلاغیاتی دلیل مذہبی مسائل سے تعلق رکھتی ہے۔ صحافی حضرات عام طور پر اشارہ کرتے ہیں کہ بہت سے انجیلی عیسائی ـ جن کی اکثریت ریپلکنز کو ووٹ دیتی ہے ـ مقدس سرزمین پر یہودی تسلط کو عیسی مسیح کے دوبارہ مبعوث ہونے کے لئے ایک ضرورت سمجھتے ہیں۔ لیکن مذہبی کرداروں میں مبالغہ آرائی بہت آسان ہے۔ ۲۰۱۹ع‍ گیلپ اسٹڈی (Gallup study) کے مطابق “حتی کہ لامذہب ترین ریپلکنز، راسخ العقیدہ ترین عیسائی ڈیموکریٹس کے مقابلے میں اسرائیل کے تئیں زیادہ مثبت رائے رکھتے ہیں۔ بالفاظ دیگر اندھادھند اور بےجا طرف داری کی طاقت مذہبیت کی طاقت سے آگے چلی جاتی ہے۔
اس مسئلے کی اہم ترین دلیل درحقیقت “نسل” (Race) ہے۔ زیادہ تر مذہبی ڈیموکریٹس افریقی امریکی یا لاطینی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور افریقی امریکی عیسائی یا لاطینی نسل کے مذہبی عیسائی افراد ـ حتی کہ افریقی امریکی اور لاطینی نسل کے انجیلی عیسائی ـ اپنے سفید فام ہم وطنوں سے کہیں زیادہ اسرائیلی ریاست پر تنقید کرتے ہیں۔ پیو تحقیقاتی مرکز (Pew Research Center) کے اس سال بہار کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تاریخی لحاظ سے سیاہ فام گرجاگھروں کے اراکین نے ۳۴ پوائنٹس کے فرق سے، اسرائیلی ریاست کو نا منظور کردیا ہے اور وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
بالفاظ دیگر، ریپبلکنز کی اسرائیل کی حمایت بحیثیت مجموعی امریکی عیسائیوں کی طرف سے نہیں ہے بلکہ یہ حمایت ان قدامت پسند سفید فام عیسائیوں کی طرف سے ہوتی ہے جن کا سیاسی تشخص مذہب اور نسل کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کے قدامت پسند سفید فام عیسائی تیزی سے امریکہ کے مذہبی اور نسلی کردار کے تحفظ کے جنون میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اور اسرائیل کو ایسی ریاست کی نظر سے دیکھتے ہیں جو بالکل اسی روش پر کاربند ہیں۔
زیادہ تر اس امریکہ سے خوفزدہ ہیں جو کم مذہبی ہو اور سفید نسل پرستی پر کم یقین رکھتا ہو۔ کچھ عرصہ پہلے پیو نے امریکیوں سے دریافت کیا کہ “اگر امریکہ میں سفید فام باشندوں کی اکثریت اقلیت میں بدل جائے تو کیا اس صورت حال سے “امریکی اقدار اور روایات” کو تقویت ملے گی یا یہ اقدار کمزور اور روایات کمزور پڑ جائیں گی؟” تو ریپبلکنز نے ۴۶ پوائنس کے اختلاف سے “ہاں” میں جواب دیا اور کہا کہ امریکہ کمزور ہوجائے گا۔ اور اگر ریپبلکنز سفید نسل پرستی پر کم یقین رکھنے والے امریکہ سے خائف ہوں تو یقینا امرکہ کے “زیادہ مسلم ملک” بننے سے بھی خوفزدہ ہونگے۔ نیوامریکہ (New America) کے نومبر ۲۰۱۸ع‍ کے سروے کے مطابق، ۷۱ فیصد ریپلکنز کا خیال تھا “اسلام امریکی اقدار کے ساتھ سازگار نہیں ہے” اور حالیہ جون کے مہینے میں اکانومسٹ اور یوگاو کے ایک مطالعے کے مطابق ۷۴ فیصد ریپلکنز کی رائے ہے کہ “مسلمانوں کو وقتی طور پر امریکہ داخلے سے باز رکھا جائے”۔
یہ نسلی اور مذہبی خوف ریپبلکنز کی طرف سے ہجرت (Immigration) مخالف پالیسی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ کلیمسن یونیورسٹی (Clemson University) کے اسٹیون وی ملر (Steven V. Miller) نے واضح کیا ہے، جو امریکی کم ہجرت کے خواہاں ہیں، چھ گنا زیادہ ممکن ہے کہ ان کی یہ خواہش معاشی اضطراب کے بجائے نسلی نفرتوں پر استوار ہو۔
چنانچہ دائیں بازو کے دھاروں میں طاقت کی ایک کسوٹی نسلی نفرت ہے جس کی وجہ سے ریپبلکنز ہجرت اور ترک وطن کے مسئلے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ گذشتہ مہینے گذشتہ دسمبر میں جب کوینیپاک کالج (Quinnipiac College) کالج نے امریکیوں سے پوچھا کہ “کانگریس کو کونسی چیز کو اپنی اہم ترین ترجیح قرار دینا چاہئے؟” تو زیادہ تر ریپبلکنز نے دوسرے تمام موضوغات میں سے ہجرت کے موضوع کی طرف اشارہ کیا۔
جون ۲۰۱۹ع‍ میں جب رائٹرز (Reuters) نے ریپبلکنز سے پوچھا کہ “اپنی اہم ترین سیاسی فکرمندی بیان کریں”؛ ہجرت کا مسئلہ پھر بھی دوسرے سہ جوابی سوال میں دوسرے نمبر پر آیا۔
ریپبلکنز ـ جو امریکہ کی آبادیاتی کردار کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں ـ کے لئے یہودی ریاست ـ جو ہجرت کو یہودیوں کے لئے بہت آسان اور غیر یہودیوں کے لئے نہایت دشوار کر دیتی ہے ـ ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انتہائی دائیں بازوں کی مفکرہ این کولٹر (Ann Hart Coulter) نے ۲۰۱۶ع‍ میں اپنی کتاب “آدیوس امریکہ” (Adios, America) شائع کی ہے اور یہ کتاب ٹرمپ کے ہجرت سے متعلق نعروں کو ترتیب دیا ہے۔ لکھتی ہیں: “اسرائیلی ریاست کا یہ موقف صد فیصد صحیح ہے کہ اسرائیلی قومیت کی تبدیلی اسرائیلی نظریئے کو بنیادی طور پر تبدیل کرسکتی ہے”۔
سنہ ۲۰۱۷ع‍ میں یورپی یونین کے افریقی تارکین فلسطین بدر کرنے کے منصوبے کے بارے میں ایک رپورٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کولٹر نے ٹویٹ کیا ، “صدارتی عہدے کے لئے نیتن یاہو!”
نیویاک ٹائمز نے ۲۰۱۸ع‍ میں غزہ پٹی سے ملحقہ علاقے میں خاردار تاروں کی طرف بڑھتے ہوئے فلسطینیوں پر اسرائیلی فائرنگ کے سلسلے میں رپورٹ شائع کردی تو کولٹر حسرت بھرا سوال اٹھایا: “کیا ہم بھی ایسا کرسکیں کے؟!”۔
البتہ کولٹر اپنے اس نظریئے اور عقیدے میں تنہا نہیں ہیں بلکہ ریپبلکن سیاستدان، ارکنساس کے سابق گورنر اور اصطباغی/بپتسماوی پادری مائیک ہکبی (Michael Dale Huckabee) نے مسلمانوں کی امریکہ ہجرت کی ممانعت کے منصوبے کی وکالت کرتے ہوئے لکھا: “ہر کوئی اس طرح سے رد عمل دکھا رہا ہے کہ “اوہ، یہ ٹرمپ نے کیا کہہ دیا! اس طرح کی بات اسرائیل میں حیرت انگیز نہیں ہے۔ وہاں کوئی سرحدوں کو مسلمانوں کے لئے نہیں کھولتا!”۔
ریپلکن اہلکار اور لکھاری رک سینٹورم (Rick Santorum) نے تو کچھ آگے جاکر یہودی ریاست سے کہا کہ “امریکہ آنے والے مسلمانوں کے ممکنہ جرائم کا جائزہ لے [تاکہ یہاں آنے والے مسلمانوں میں سے صرف وہ لوگ امریکہ میں آنے کی اجازت لے سکیں جو اس مجرم ریاست کے خیال میں مجرمانہ پس منظر نہیں رکھتے!]۔
گذشتہ دسمبر میں ٹکر کارلسن (Tucker Carlson) نے جنوبی سرحد پر ٹرمپ کی دیوار کی تعمیر کے سلسلے میں ایک منظر نامے کے ضمن میں اعلان کیا کہ “اسرائیلی خوب جانتے ہیں کہ دیواریں کس قدر مؤثر ہیں”۔
ٹیڈ کروز (Ted Cruz) نے بھی کہا: ایک بہت بڑا سبق ہے جو ہم سرحدی سلامتی کے سلسلے میں اسرائیل سے سیکھ سکتے ہیں؛ اور ٹرمپ نے خود دعوی کیا: اگر جاننا چاہتے ہو کہ دیواریں کس قدر مؤثر ہیں تو اسرائیل سے پوچھو!۔
یہ نظریہ ریپبلکنز کے سیاستدانوں اور ممتاز شخصیات تک بھی محدود نہیں ہے بلکہ رائے عامہ کے سروے رپورٹوں سے بھی ہجرت کی شدید مخالفت، مسلمانوں کے ساتھ دشمنی اور اسرائیل کی حمایت کے درمیان قوی تعلق کا اظہار ہوتا ہے۔ گذشتہ موسم خزان میں میری لینڈ یونیورسٹی کے فلسطینی نژاد امریکی پروفیسر شبلی تلہامی (Shibley Telhami) نے سروے کی معلومات میرے سپرد کردیں تو مجھے معلوم ہوا کہ امریکی عوام ۶۰ پوائنٹس کے اختلاف سے اسرائیلی-فلسطینی تنازعے میں فلسطینیوں کی طرف جھکاؤ اور تارکین وطن کی امریکہ ہجرت کو آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
جبکہ جن امریکیوں نے “کہا تھا کہ امریکہ کو اسرائیل کی طرف مائل ہونا چاہئے” انھوں نے ۲۰ پوائنٹس کے اختلاف سے امریکہ ہجرت کے عمل کو مشکل بنانے کی حمایت کی تھی۔
وہ امریکی جن کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اسرائیل کی طرف جھکاؤ رکھنا چاہئے، اس کے برعکس، انھوں نے ۲۰ پوائنٹس کے فرق سے ریاستہائے متحدہ میں ہجرت کو مشکل بنانے کی حمایت کی۔ اس طرح ، جواب دہندگان میں سے ۷۰ فیصد جو کہتے ہیں کہ امریکہ کو “اسرائیل کی طرف جھکاؤ” رکھنا چاہئے ان کا رجحان اسلام کے منافی تھا جبکہ اس کے مقابلے میں ۳۳ فیصد سے بھی کم جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا “جھکاؤ فلسطینیوں کی طرف” ہونا چاہئے۔
لیکن دائیں بازو کی اسرائیلی سے عقیدت ہجرت کے مسئلے سے بہت آگے چلی جاتی ہے۔ اسرائیل نے غیر یہودیوں کو محض دور رکھ کر ہی اس ریاست پر یہودیوں کے تسلط کو قائم نہیں رکھا ہے بلکہ اس نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں رہنے والے غیر یہودیوں کی سیاسی شراکت داری کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے محدود کردیا ہے جس کی مثالیں ۲۰۱۵ع‍ کے انتخابات سمیت متعدد مواقع پر نظر آتی رہی ہیں۔
مختصر یہ کہ اسرائیل مخالف اور یہود مخالف افراد کے عنوان سے ایلہان عمر اور ان کے رفقاء کے خلاف ریپبلکنز کے حملے آخرکار اسرائیل اور یہودیوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان کی کوشش ہے کہ ٹرمپ کے دور میں دائیں بازو کے بنیادی جماعتی مقاصد کے استحکام کے لئے اسرائیل اور یہودیوں سے فائدہ اٹھائیں؛ یعنی آبادیاتی تبدیلیوں کے ذریعے سفید فام عیسائی تسلط کا تحفظ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: پیٹر یینارٹ (Peter Beinart)؛ کالم نویس، اور نیویارک سٹی یونیورسٹی کے جرنلزم اور سیاسیات کے استاد۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگریزی مضمون کا لنک: yon.ir/BAqU7
فارسی ترجمے کا لنک: http://fna.ir/dbenv0

 

اسرائیل میں بہائیت کے مرکزی ہیڈ کواٹر کے پیچھے کیا راز پوشیدہ ہے؟

  • ۹


خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر؛ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے امریکہ کی جانب سے  اسلامی جمہوری ایران  کے جاسوسوں اور اسلامی جمہوریہ  کے حدود تجاوز کر نے والوں کے دفاع  کے سلسلہ سے   ۱۷  رمضان المبارک  ۱۴۰۳ ھ مطابق ۲۸ جون ؁۱۹۸۳ حکومت کے ذمہ داروں کے درمیان ایک خطاب کیا ، جس میں آپ نے اس وقت کے امریکی صدر جمہوریہ کی جانب سے  ساری دنیا سے بہائیوں کے لئے مدد کی گہار لگانے کے سلسلہ سے اس بات کی وضاحت کی کہ  بہائیوں کی جانب سے امریکی صدر جمہوریہ کی یہی حمایت  انکے جاسوس ہونے اور امریکیوں کے  بہائیوں سے مفاد کے وابستہ ہونے کو بیان کرتی ہے ۔
امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے  رونالڈ ریگن  کی تقریر کہ جسے بعض ریڈیو  اسٹیشنز نے نشر کیا  کے مضمون کو بیان کرتے ہوئے کنایہ آمیز انداز میں  کہا: یہ لوگ چونکہ مظلوم ہیں اور بالکل بھی جاسوس  نہیں ہیں، مذہبی مراسم کے علاوہ کسی چیز میں مشغول نہیں رہے، اس پر ایران نے انکے انہیں  مذہبی رسومات کی وجہ سے ۲۲ لوگوں کو پھانسی کی سزا سنائی ہے، یہ وہ بات ہے جس کی بنا پر ریگن نے ساری دنیا سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ لوگ جاسوس نہیں ہیں ، یہ ایسے سیدھے سادے لوگ ہیں جنکی کسی بھی کام میں کوئی شمولیت یا دخالت نہیں ہے  اپنی تقریر میں امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے  اس بات کو بیان کرنے کے بعد بہت سنجیدگی کے ساتھ انکی پھانسی کی سزا کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ ہم نے  ہرگز انکے بہائی ہونے کی وجہ سے انہیں قید وحبس کا حکم نہیں دیا  بلکہ انکے ساتھ کچھ مسائل رہے ہیں، یوں بھی بہائی کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ بہائی ایک پارٹی ہے، ایسی پارٹی جسکی ماضی میں برطانیہ حمایت کرتا رہا ہے اور اب امریکہ نے اسے اپنی چھتر چھایہ میں لیا ہوا ہے  یہ لوگ  جاسوس بھی ہیں اور دیگر لوگوں کی طرح انکے عقائد میں بھی انحراف پایا جاتا ہے، یہاں پر  مسئلہ تو یہ ہے کہ انکے طرفدار جناب ریگن صاحب آپ جیسے لوگ ہیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ  انکی ایک مبہم و خاص صورت حال ہے،  ہمارے دشمنوں کو فائدہ پہنچانے میں  انکا کردار اس کے علاوہ کیا ہوگا کہ  ہماری مخبری کریں اور ہمارے اسرار کو دشمنوں تک منتقل کریں، اور ایرانی قوم و حکومت کے درمیان انکے ساتھ جاسوسی کریں ۔
سچ تو یہ ہے کہ  اسلامی جمہوریہ  کے معمار و بانی کا جوہر کلام یہ ہے کہ  بہائیوں کے ساتھ مقابلہ آرائی  کی وجہ انکے عقائد  کے انحراف کے علاوہ اور ماورا اسکے کے یہ بنیادی طور پر بہائیت کوئی مذہب نہیں ہے اور یہ ایک گمراہ و منحرف فرقہ ہے،  در اصل یہ ہے کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی جاسوسی کرتے ہیں  اور اسی وجہ سے  امریکہ و اسرائیل  بہائیوں کی حمایت کرتے ہیں ۔ اور اسلامی انقلاب کے ۴۰ سال گزر جانے کے بعد  بھی  اپنی ڈگر پر یہ کھیل جاری ہے اسلامی انقلاب کے چالیس سال  گزر جانے کے بعد بھی  یہی کھیل جاری ہے اور بہائی فرقہ  کہ جسکا مرکزی  دفتر اور ہیڈ کواٹر مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) کے حیفا شہر میں ہے، اسرائیل اور امریکہ کے لئے  جاسوسی کر رہا ہے اور اس گمراہ  فرقہ سے مقابلہ آرائی و تقابل کی بنیادی وجہ   یہی امام خمینی  رضوان اللہ تعالی  کے وہ خدشات ہیں جنہیں آپ نے اس فرقے کے بارے میں بیان کیا ہے ۔
.صحیفه امام خمینی، ج۱۷،ص۴۵۹
بہائیت  جنگی عزائم رکھنے والے کارزار پسند اسرائیل کی خدمت میں
گزشتہ چند دنوں قبل اسرائیل کے خود ساختہ جعلی  ملک کے نام نہاد وزیر اعظم  بنجامن  نیتن یاہو نے اسرائیلی سلامتی و تحفظ کے کالج کے اسٹوڈینس سے ملاقات کے دوران اس بات کا دعوی  کیا کہ ’’  فی الوقت دنیا کی واحد ایسی فوج جو اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے  اسرائیل کی فوج ہے ‘‘۔
لائق توجہ ہے کہ  بہائی فرقہ کا صدر دفتر اسرائیل میں ہے اور  صہیونیوں کی ممکل  حمایت و پشت پناہی میں اپنا کام کر رہا ہے ، بہائی ہر ۱۹ دن میں اپنے دفتری چارٹ کے مطابق  ’’ ضیافت و دعوت‘‘ کے تحت  اپنے تمام تر تعلقات و روابط  اور اپنی کارکردگی و اپنے ترویجی وتشہیری کاموں  حتی دوستانہ تعلقات و لین دین کو اوپر رپورٹ کرتے ہیں اور اس پروگرام میں حاصل ہونے والی تمام ہی معلومات اسرائیل کو ارسال کر دی جاتی ہیں، یہ اطلاعات ایک ایسے ملک کو پہنچتی   ہیں جو واضح طور پر اسلامی جمہوریہ ایران سے مقابلہ کی بات کر تا ہے۔
ہرچند بہائیت کا دعوی ہے کہ اسکے صدر دفتر کے مقبوضہ فلسطین میں ہونے کے باوجود  اسکا کوئی تعلق بھی وہاں کے سیاست مداروں سے نہیں ہے اوریہ دفتر محض جغرافیائی طور پر اس خطے میں واقع ہے، لیکن نیتن یاہو کی جانب سے اس دفتر سے متعلق افراد سے ملنا اور انکا نیتن یاہو سے ملاقات کرنا مرغے کی ایسی دم ہے جو چھپائےنہیں چھپتی اور اس دعوے کو باطل کر دیتی ہے کہ ہم نے مرغا چوری نہیں کیا ہے ہم قسم کھا سکتے ہیں، ایسے میں جو مرغے کی دم کو آستین سے باہر  دیکھ رہا ہے وہ قسم پر کیونکر یقین کر سکتا ہے۔ اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بہائی  بالقوہ طور پر  اسرائیل کی مخبری کرنے والے عناصر کے طور پر کام کر رہے ہیں  جو اسلامی جمہوریہ کے معاشرے کی مختلف سطحوں میں رسوخ کر کے  اسلامی جمہوریہ کی حاصل ہونے والی اطلاعات کو  دشمنوں تک منتقل کرتے ہیں ۔
اس وقت ملک کے حساس حالات کے باوجود ، اور اسرائیلی حکام کی جانب سے جنگ کی طرف اکسانے والی باتوں اور جنگ خواہانہ زبان استعمال  کرنے کے باوجود  ضروری ہے کہ  اسلامی جمہوریہ ایران کے ذمہ داران  چھوٹے چھوٹے جاسوسی کے نیٹ ورکس کی نقل و حرکت کو لیکر حساس رہیں، اس لئے کہ جب اس سے پہلے  بہائیوں کی جانب سے اسرائیل کی طرف خفیہ معلومات کا تبادلہ ہوتا تھا  اور اس پر اعتراض ہوتا تھا  تو یہ دعوی کیا جاتا  کہ ساری معلومات  اسرائیل ارسال نہیں کی جاتی ہیں بلکہ انہیں بہائیوں کے صدر دفتر بھیجا جاتا ہے، لیکن یہ بات ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بہائیوں کا یہ صدر دفتر صہیونی رجیم کے  اہلکاروں اور حکام کی جانب سے  دائمی طور پر  زیر نظر رہتا ہے اور اسکی تفتیش ہوتی رہتی ہے ۔
بہائی  نظام اسلامی جمہوریہ ایران میں  رسوخ و نفوذ اور جاسوسی کے درپے
گمراہ بہائی فرقہ بہت ہی سسٹمیٹک  طریقے سے  اپنے جاسوسی کے کاموں کو انجام دیتا ہے اور یہ لوگ  اپنے مشن کو عملی کرنے کے لئے  اندر در آنے  کی فضاوں کو تلاش کرتے  رہتے ہیں ۔ اور انکا طریقہ کار یہ ہے کہ   ’’بیت العدل  اعظم  ‘‘نامی شورا کی جانب سے  (بہائیوں کا  اسرائیل میں واقع صدر دفتر ) ان خفیہ اطلاعات کے بل پر جو  بہائیوں کی جانب سے وہاں بھیجی جاتی ہیں    ایسی فضاوں کی نشاندہی کی جاتی ہے  جہاں سے گھس کر  اپنا کام کیا جا سکے نیز اس شوری کی جانب سے  اندر گھسنے کے لئے ضروری رخنوں کی نشاندہی کے ساتھ ایسی ہدایات بھی پیش کی جاتی ہے جنہیں  بیت العدل کی جانب سے ارسال کئے گئے  پیغامات کا نام دیا جاتا ہے اور یہ وہ پیغامات ہوتے ہیں  جنہیں  بہائیوں کی  جاسوسی سے  متعلق اور انکی تشہیری و ترویجی  فعالیت سے  متعلق ہدایات کے طور پر  بہائیوں تک  پہنچایا جاتا ہے ۔
مثال کے طور پر ۲۸ سمبر ۲۰۱۰؁ کو جاری ہونے والے ایک پیغام  میں جسے  اس گمراہ فرقے کے ایک دراز مدت  پروگرام کی ایک کڑی کے طور پر پیش کیا گیا ہے ، اس  پیغام  میں  ایسے دیہاتی علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں بہاہیت کو لیکر  اور اسکے ڈھانچے کو لیکر کوئی جانکاری نہیں پائی جاتی ہے اور اس پیغام میں انہیں علاقوں کو  ایسی  اہم فضا کے طور پر پیش کیا گیا ہے  جہاں یہ گمراہ فرقہ اپنی فعالیت انجام دے سکتا ہے من جملہ  تشہیری و ترویجی کاموں کے ساتھ ان علاقوں کو جاسوسی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ بہائیت کی جانب سے  جاری ہونے والے پیغامات کو اس نام سے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ وہ پیغامات ہیں جو بہائیت کے دنیا بھر میں پیروکاروں کے لئے ارسال کئے گئے ہیں لیکن بالکل واضح ہے کہ  ان پیغامات کا ہدف  و نشانہ اسلامی ممالک اور خاص طور اسلامی جمہوریہ  ہے  اس لئے کہ  بہائی اپنے وجود کا سرچشمہ  ایران ہی کو سمجھتے ہیں ۔ بیت العدل کی جانب سے جاری ہونے والے بہت سے  پیغامات  اور ہدایتوں میں  من جملہ ۲۰۱۰؁ کے  ۲۸ سمبر کو جاری ہونے والے پیغام  میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ  مختلف دیہاتوں میں  پھیل جائیں  اور  لوگوں کو اس فرقے کے سسٹم  میں داخل کریں اور اس طرح اپنے فرقے کی تبلیغ و ترویج سے متعلق  فعالیت کے دائرہ کو پھیلا دیں۔
اس پیغام کے ایک حصہ میں ملتا ہے ’’ اگر اس کام کا ایک نمونہ کسی ایک علاقہ میں تاسیس ہو گیا تو تیزی کے ساتھ دوسرے ہم جوار دیہاتوں میں  پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘ در حقیقت   بہائیوں نے  اس لئے اپنے کاموں کے لئے دیہاتوں کا انتخاب کیا ہے کہ  یہاں کی فضا  انکے مقاصد تک پہنچنے کے لئے مناسب ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ اس فضا کو اپنی کارکردگی  کا محور بناتے ہوئے  لوگوں کی نظروں سے دور اپنی جاسوسی مہم  کو وسعت بخشیں ۔ اب یہ اسلامی جمہوریہ کی خفیہ ایجنسیز اور قومی سلامتی سے متعلق مراکز اور ادارہ جات  پر ہے کہ وہ  اس گمراہ و خطرناک  فرقے کے بارے  میں اس طرح وارد  عمل ہوں کہ  لوگوں  کی سہولت اور انکے چین و سکون  پر حرف نہ آئے اور قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے  ایسے اقدام کئے جا سکیں جنکے چلتے  اس فرقے کی تبلیغ و ترویج  کا شکار ہو کر اس کی طرف مائل ہونے والے افراد کو اس میں شامل ہونے سے روکا جا سکے ۔
منبع: http://fna.ir/dauqch

 

صہیونی ریاست اور انسانی حقوق

  • ۱۰۰

 خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: انسانی حقوق، حقوق کے اس مجموعے کو کہا جاتا ہے جو قوم، ملت، دین، مذہب، رنگ اور زبان وغیرہ سے بالاتر صرف انسان ہونے کے ناطے ہر انسان کو شامل ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق کی اصطلاح آج بین الاقوامی قوانین میں کثرت سے رائج ہے اور اس کی بنا پر تمام انسان برابر ہیں اور کوئی انسان دوسرے سے برتر نہیں ہے۔
انسانی حقوق اگر چہ عالمی تنظیموں کے ذریعے تدوین کئے گئے ہیں اور مغربی نظام ہمیشہ ان کے نفاذ کی بات کرتا ہے لیکن صہیونی ریاست جس کو امریکہ اور یورپ کی دائمی حمایت حاصل ہے، انسانی حقوق کی نسبت بالکل ناآشنا نظر آتی ہے۔
اس مختصر یادداشت میں انسانیت کی حمایت میں بنائے گئے عالمی اداروں کی جانب سے چند قوانین کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس کے بعد یہ دیکھتے ہیں صہیونی ریاست ان قوانین پر کتنا عمل کرتی اور انسانی حقوق کا کتنا پاس و لحاظ رکھتی آئی ہے خاص طور پر اس اعتبار سے کہ امریکہ اور یورپ جو انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کیا خود اور ان کے اتحادی بھی ان پر عمل کرتے ہیں؟
انسانی حقوق کی حقیقت
دنیا کے تمام انسان، انسان ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ کس مذہب و ملت سے تعلق رکھتے ہیں یا کس قوم و قبیلے سے ان کا تعلق ہے یا کس رنگ و زبان کے حامل ہیں۔ اس بنا پر ایک معمولی مزدور اور یونیورسٹی کے ایک پروفیسر میں انسان ہونے کے ناطے کوئی فرق نہیں ہے اور یہ دونوں انسانیت کے بنیادی حقوق کے اعتبار سے برابر ہیں۔
انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ
دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد ۱۹۴۸ میں اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کی جانب سے ‘ْ’انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ” منتشر کیا گیا جس میں ۳۰ کلی اصول کو اکثریت آراء کے ذریعے منظور کیا گیا اور یہ اعلان کیا گیا کہ کشتی انسانیت کو ظلم و استبداد کے بھنور سے نجات دلانے کے لیے تمام حکومتوں پر ان کلی حقوق کی رعایت لازمی ہے اور اس کی خلاف ورزی ممنوع اور ناقابل بخشش ہے۔
انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے بعض کلی اصول
اس اعلامیہ میں ۳۰ کلی اصول بیان کیے گیے ہیں جن میں سے ایک دو کی طرف ذیل میں اشارہ کرتے ہیں؛
اصل سوم: ہر انسان کو زندگی، آزادی اور امنیت کا حق حاصل ہے۔
اصل پنجم: کسی بھی انسان کو تشدد، اذیت ازار، غیر انسانی سلوک یا تحقیر آمیز برتاو کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
اصل دوازدہم: کسی کی خصوصی زندگی، گھریلو امور، یا اس کے رہائش سے متعلق امور میں دخالت نہیں ہونا چاہیے کسی کی عزت و آبرو کو حملہ کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ ایسی بے جا دخالت اور حملوں کے مقابلے میں قانونی کاروائی ہر انسان کا حق ہے۔
تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کی کنونشن
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۹۸۴ میں تمام ممالک منجملہ اسرائیل کی اتفاق آراء سے “تشدد کے خلاف کنونشن” منظور کی جس میں یہ طے پایا کہ ہر ملک پر لازمی ہے کہ اپنے دائرہ اختیار کے مطابق تشدد کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرے اور کسی بھی حکومتی عہدیدار یا افیسر کو تشدد آمیز کاروائیوں سے تمسک کا اختیار نہیں ہے۔
اسرائیل کے ذریعے انسانی حقوق کی پامالی
دنیا میں انتہا پسندی، بربریت اور ظلم و تشدد روا رکھنے والی حکومتوں میں صہیونی حکومت سرفہرست ہے جو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ اور دیگر تمام کنونشنوں کی مخالفت کرتے ہوئے صرف اپنے ذاتی مفاد اور وسعت طلبی کی خاطر فلسطینی عوام حتیٰ خود مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے سیاہ پوست یہودی اقوام کو بھی اکثر تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔
اسرائیل کے ذریعے انجام پانے والی کھلے عام ریاستی دھشتگردی کے چند نمونے
۔ حانین کا قتل عام؛ حانین لبنان کا ایک گاوں ہے۔ اسرائیلیوں نے سن ۱۹۶۷ میں تین مہینے تک اس گاوں کا محاصرہ کر کے اس کے مکینوں کا دردناک طریقے سے قتل عام کیا۔ اور تمام گھروں کو نذر آتش کر دیا۔
۔ اوزاعی کا قتل عام؛ یہ علاقہ لبنان کے دار الحکومت بیروت کے قریب واقع ہے ۱۹۷۸ میں اسرائیل نے اس علاقے پر بمباری کر کے اس علاقے کو زیر و زبر کر دیا۔
۔ خان یونس کا قتل عام؛ یہ علاقہ غزہ کی پٹی میں واقع ہے اور اس علاقے پر دو مرتبہ اسرائیل نے حملہ کیا اور ۷۰۰ سے زیادہ عام لوگوں کا قتل عام کیا۔
۔ صبرا و شتیلا کا قتل عام؛ لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کی ’صبرا‘ اور ’شتیلا‘ کے نام سے دو معروف پناہ گاہیں تھیں جن پر ۱۹۸۲ میں صہیونی ریاست نے حملہ کیا اور تاریخ کی سب سے بڑی جنایت رقم کر دی۔ صہیونیوں نے ان پناہگاہوں کا محاصرہ کیا اور ۴۰ گھنٹوں کے درمیان پناہ گاہوں میں موجود سینکڑوں افراد جن میں عورتیں بچے بوڑھے جوان سب شامل تھے کے خون کی ندیاں بہا دیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ صبرا و شتیلا کے قتل عام میں عورتوں اور لڑکیوں کے قتل سے پہلے اسرائیلی فوجیوں نے انتہائی درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی عصمتیں لوٹیں، بچوں کو زندہ زندہ جلایا اور ذبح کیا۔ اور حاملہ عورتوں کے شکم پارہ کر کے ان کے بچوں کو نکال کر زندہ زندہ آگ میں ڈال دیا۔
غزہ کی ۵۱ روزہ جنگ انسانی حقوق کی پامالی کا کھلا نمونہ
اگر صہیونی ریاست کے تمام جرائم کو نظر انداز کر دیا جائے تو غزہ کی ۵۱ روزہ جنگ ہی اسرائیل کو عالمی سطح پر مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ سن ۲۰۱۴ میں تین اسرائیلی مغربی کنارے گم ہو جاتے ہیں اور صہیونی ریاست اسی بہانے کے تحت ۵۱ دن تک غزہ پر وحشیانہ بمباری کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے اس جارحیت میں ۶ ہزار فضائی حملے کئے جس کے نتیجے میں ۲۲۵۱ عام فلسطینی شہید ہوئے جن میں ۳۰۰ عورتیں اور ۵۵۰ بچے شامل تھے۔ اقوام متحدہ نے زخمیوں کی تعداد ۱۱۲۳۱ بیان کی۔
اقوام متحدہ نے اس جنگ کو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا لیکن اسرائیل پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا اس لیے کہ امریکہ اور مغربی ممالک جو زبانی طور پر انسانی حقوق کے علمبردار ہیں نے اسرائیل کو اس جارحیت سے نہیں روکا بالکل اس کا ساتھ دیا۔
یہ تو کھلی جارحیت کے چند نمونے تھے جو اسرائیل نے پوری دنیا کے سامنے دن دھاڑے انجام دئے اور انسانی حقوق کی مدافع عالمی تنظیموں سمیت سب تماشائی بنے رہے۔ اس کے علاوہ وہ کون سا دن ہے جس دن غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں کوئی فلسطینی شہید یا زخمی نہ ہو، سالھا سال سے غزہ کا محاصرہ، پرامن واپسی مارچ پر بہیمانہ انداز سے فائرنگ، اسرائیلی زندانوں میں قیدی فلسطینی زن و مرد کے ساتھ ناروا سلوک وغیرہ وغیرہ سب صہیونی ریاست کی جانب سے انسانی حقوق کو پاوں تلے روندے جانے کی مثالیں ہیں۔

 

یہ ہمارے اپنے نہیں ہیں …

  • ۱۴

بقلم سید نجیب الحسن زیدی
آج کل سوشل میڈیا پر کچھ ہفتوں پہلے حکمراں جماعت کے ایک بڑے لیڈر کی گئی تقریر پر مشتمل ایک ایسی کلپ زورو شور سے گردش کر رہی ہے جس میں انہوں نے ہندوستان کے شیعوں کو لیکر کچھ ہمدردانہ باتیں کی ہیں ، بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ وہ اور انکی جماعت شیعوں کو لیکر فکر مند ہے لیکن اسکے پیچھے کیا ہے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے  خاص کر ایسے وقت میں جب انہیں بڑے لیڈر کی جانب سے ایک بار اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف  پیدا کرنے کی بات ببانگ دہل کی جا چکی ہے ، ایسے میں اب شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ اگر مسلمانوں کے کسی ایک طبقے کی خاص حمایت کی بات ہو رہی ہے تو وہ ہماری ہمدردی کی وجہ سے نہیں، اس طرح کے بیانات جب بھی سامنے آئیں ہمیں خوش ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ سوچنے کی ضرورت ہے اس کے پیچھے کیا منصوبہ بندی ہے  چنانچہ ملک میں کس طرح ہمیں بانٹے کی کوشش کی جا رہی ہے اس بات پر توجہ بہت اہم ہے ، بعض بڑے لیڈروں کے ہمارے سلسلہ سے دئیے جانے والے بیانات  اس بات کا اظہار ہیں کہ ان کو ہم سے ہمدردری قطعا نہیں ہے وہ ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ کر اپنی سیاست کرنا چاہ رہے ہیں  ورنہ وہ تو خوب جانتے ہیں کہ اسلام کی کہیں حقیقی تصویر ہمیں ملے گی تو در اہلبیت اطہار علیھم السلام سے ملنے والے اسلام میں ملے گی ، لہذا یہ ہرگز خوش فہمی کا شکار نہ ہوں کہ فلاں نے ہمارے بارےمیں یہ کہہ دیا اور وہ ہمارے تحفظ کی بات کر رہا ہے یا حکومت  کی ہم پر خاص عنایت ہے ، اسے شدت پسندوں سے خطرہ ہے ہم سے نہیں ہے ہمیں وہ اپنا سمجھتی ہے ، اگر کوئی ایسا سوچ رہا ہے تو یہ اسکی خام خیالی ہے ۔ ہمیں ملک کے آئین کا اسکے بنیادی دستور کا مکمل پاس و لحاظ رکھتے ہوئے اسی راستے پر چلنا ہے جو گاندھی جی نے بتایا تھا جس میں شدت پسندی اور نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے ،اور اسکے لئے ضروری ہے کہ ہم ان عناصر کو پہچانیں جو نفرتوں کو پھیلا کر  اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں ۔