کیا فلسطین کے انتخابات واقعا نجات دہندہ ہیں؟

  • ۱۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: پچھلے کچھ دنوں، اسلامی تحریک الفتح میں فلسطینی قومی مفاہمت کے نئے سربراہ ، ’جبریل رجوب‘ نے تمام عرب رہنماؤں کو اہم پیغامات ارسال کیے ہیں جن میں انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ فلسطینی امن ٹرین صدارتی، پارلیمانی اور قومی انتخابات کی جانب حرکت میں آ چکی ہے اور اب کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
جبریل رجوب جو تحریک حماس کے ساتھ مکمل بات چیت کے لئے استنبول گئے ہوئے ہیں اپنے روایتی حریف ’محمد دحلان‘ کی جگہ لینے کے لیے مشترکہ عربی، اسرائیلی اور امریکی منصوبے کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  
محمد دحلان امارات، سعودی عرب، مصر اور اسرائیل کے حامیوں میں سے ہیں۔ جبریل رجوب موجودہ حالات میں حماس کو اپنی نجات کا راستہ سمجھتے ہیں اور بخوبی واقف ہیں کہ مفاہمت اور انتخابات اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا بہترین اور سالم طریقہ ہے۔ چونکہ الفتح خود اندرونی طور پر انتشار کا شکار ہے۔  جبکہ حماس تاحال ہم آہنگ اور مضبوط ہے، اور اختلاف رائے تحریک کو تقسیم نہیں کرسکا، اور اگر فلسطینی صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہوتے ہیں تو ، دنیا اور عرب لامحالہ ایک ایسی حکومت کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے جو قانونی انتخابات سے وجود میں آئی ہو۔ اگرچہ فلسطینی فریقوں کو یقین ہے کہ اتحاد اور قانونی اداروں کی بحالی سے کوئی فرار نہیں ہوگا ، تاہم یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ فلسطینی جماعتوں اور گروپوں میں سے ہر کوئی اختلافات کا طبل بجائے۔ مثال کے طور پر ، حماس الفتح کی ضروریات سے بخوبی واقف ہے، لہذا وہ اپنے شرائط کو اس تحریک پر مسلط کرسکتی ہے۔ حالانکہ ان شرائط پر حد سے زیادہ اصرار مذاکرات کی ناکامی کا سبب بن سکتا ہے۔ حماس اب یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ امن اور صلح کی مخالفت کے اس کے اصول درست تھے، اور یہ آئندہ انتخابات میں اس کی بڑے پیمانے پر عوامی حمایت کی ضمانت دے سکتا ہے، کیونکہ عوام کبھی بھی ان لوگوں کی تلاش نہیں کریں گے جنھوں نے خود ہی اپنے عہدوں کی شکست کا اعتراف کیا ہے۔

یقینا، ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات الیکشن سے پہلے دینے کی ضرورت ہے ، جیسے: اگلے انتخابات کی زیادہ سے زیادہ حد کیا ہے؟ کیا اوسلو معاہدہ، جو ان کے اصل مالکان نے قابض حکومت کے ذریعہ پامال کرنے کے بعد فراموش کر دیا تھا، کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟ اور آخر کار سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کے شرائط کے مطابق ، مغربی کنارے ، غزہ اور قدس میں بیک وقت انتخابات کا انعقاد ممکن ہے؟ کیا صہیونی حکومت قدس میں انتخابات کرانے کی اجازت دے گی - جس کا امکان بہت کم ہے؟ کیا قدس کو انتخابات سے خارج کر دیا جائے گا یا اس کے لئے علیحدہ طریقہ کار پر غور کیا جائے گا؟ تحریک فتح کے پاس اپنے خدشات ہیں۔ کیا دحلان اور ان کے حامیوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جائے گا؟ اگر وہ پچھلی پارلیمنٹ کی بنسبت زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیا ہوگا؟ کیا فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ ، محمود عباس کی سربراہی میں ، رجوب اور ان کی اہم فکر جماعتیں دحلان کے ہم خیال ممبروں یا حماس تحریک میں اپنے مخالفین سے اتحاد کریں گے؟
ان سوالوں کے جواب دینا ابھی قبل از وقت ہو گا۔ لیکن یہ سوالات اٹھائے جانے کا جو چیز باعث بنے ہیں وہ رجوب کے حالیہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو انتخابات سے کوئی روک نہیں سکتا۔  اس دوران میں ایک سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا صہیونی حکومت قدس یا مغربی کنارے میں انتخاب کی اجازت دے گی؟ اور کیا یہ انتخابات سالم، شفاف اور سب کے یہاں قابل قبول ہوں گے؟
فلسطین کی موجودہ صورتحال خوفناک اور سمجھ سے باہر ہے ، لہذا پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں مفاہمت کے منصوبے کے لئے وسیع تر تحقیق اور مطالعہ کی ضرورت ہے۔

 

مسجد الاقصیٰ کی تاریخی حیثیت

  • ۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کا قبلہ اول کہا جاتا ہے۔ اسے اسلامی نقطۂ نظر سے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد مقدس ترین مقام کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مسجد فلسطین کے دارالحکومت بیت المقدس کے مشرقی حصے میں واقع ہے، جس پر اس وقت اسرائیل کا قبضہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسجد کے اندر پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے، البتہ اس کے وسیع صحن بھی موجود ہیں، جن میں ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کا ذکر قرآن حکیم کی سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ آیت رسول اسلامؐ کے واقعۂ معراج کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ واقعہ اپنے مقام پر جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و فضیلت پر دلالت کرتا ہے، وہاں مسجد اقصیٰ کے فضل و شرف کا بھی غماز ہے۔ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے: سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۔ “پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گئی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک، جس کے اردگرد کو ہم نے برکتوں والا بنایا ہے، تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھا سکیں، بے شک وہ وہی ہے جو سمیع بھی ہے بصیر بھی۔”
مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کا قبلہ اول اس لیے کہا جاتا ہے کہ معراج شریف میں نماز کے فرض ہونے کے بعد سولہ سے سترہ ماہ تک مسلمان اسی مسجد کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے، بعدازاں مدینہ شریف میں ایک نماز کے دوران میں قبلہ کی تبدیلی کا حکم آگیا اور خانہ کعبہ کو قبلہ قرار دے دیا گیا۔ تاہم ایک عرصے تک پیغمبر اسلام ؐاور مسلمانوں کا قبلہ رہنے کی وجہ سے مسجد اقصیٰ کو ایک خاص مقام حاصل ہوگیا۔ احادیث کے مطابق مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور مسجد نبوی کی طرف سفر کرنا باعث برکت ہے۔ شیعہ روایات کے مطابق مسجد کوفہ کو بھی ان بافضیلت مساجد میں شمار کیا گیا ہے، جن کی طرف سفر کرنا باعث برکت ہے۔ بیت المقدس مختلف ادوار میں مختلف اقوام کے زیر اقتدار رہا ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو اس شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا تو انھوں نے انکار کر دیا۔ پھر ایک مدت تک بنی اسرائیل صحرائوں میں بھٹکتے رہے، بعدازاں وہ اس شہر کی طرف آئے اور اسے فتح کر لیا۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں اس شہر میں یہودیوں کی حکومت رہی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی زندگی میں تو یہودیوں نے ان پر ظلم و ستم روا رکھا اور ان کے الہیٰ مقام و مرتبہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، لیکن بعدازاں ایک عرصہ تک مسیحیوں کی بھی اس شہر پر حکومت رہی۔ ۱۵ ہجری میں خلیفہ ثانی کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا۔ صخرہ، مسجد اقصیٰ کے قریب وہ مقام ہے، جہاں سے نبی کریمؐ معراج پر تشریف لے گئے تھے۔ آج کل دنیا میں الاقصیٰ کے ذکر کے ساتھ جو تصویر آنکھوں کے سامنے ابھرتی ہے، وہ اسی مقام کی ہے، جس کے اوپر عبدالمالک بن مروان کے دور میں ایک گنبد تعمیر کر دیا گیا تھا۔ مسجد اقصیٰ سے یہ مقام چونکہ بہت قریب ہے، اس لیے یہی مسجد بعد میں مسجد اقصیٰ کہلائی۔
فلسطین کی آبادی نے رفتہ رفتہ اسلام قبول کر لیا۔ اس طرح سے فلسطین کی سرزمین آغوش اسلام میں آگئی۔ یہودیوں کی مختصر آبادی کے علاوہ عیسائیوں کی بھی کچھ آبادی اس سرزمین پر ہمیشہ موجود رہی۔ رسول اسلامؐ سے پہلے چونکہ یہ سرزمین ہمیشہ انبیاء کا مرکز رہی ہے، اس لیے دنیا کے تین بڑے ادیان کے نزدیک یہ آج بھی محترم ہے۔ شاید دنیا میں کسی اور سرزمین کو یہ خصوصیت اور حیثیت حاصل نہیں ہے۔ یہ سوال بہت اہم ہے کہ مسجد اقصیٰ کا بانی کون ہے، بعض لوگ حضرت آدمؑ کو، بعض حضرت ابراہیمؑ کو اور بعض حضرت یعقوب علیہ السلام کو اس کا بانی قرار دیتے ہیں، اسرائیل بھی حضرت یعقوبؑ ہی کا نام ہے اور آپؑ ہی کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ آپؑ کی اولاد میں سے حضرت سلیمانؑ نے بھی یہاں معبد تعمیر کیا۔ اسی کو ہیکلِ سلیمانی کہا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت سلیمان نے اس معبد کی تجدید کی، جسے حضرت یعقوب علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا یا جو پہلے سے یہاں پر موجود تھا۔
یہودی چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتے، اس لیے وہ چیزیں جو ان دو ہستیوں سے مربوط ہیں، ان کے احترام کے بھی قائل نہیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ اس وقت جس جگہ پر مسجد اقصیٰ موجود ہے، اسی کے نیچے ہیکلِ سلیمانی کی عمارت موجود ہے۔ اسی لیے ان کی خواہش یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کو گرا کر ہیکلِ سلیمانی کو بحال کیا جائے۔ یزید بن معاویہ کے بعد مروان بن حکم نے حکومت سنبھال لی، چونکہ یزید کے بیٹے نے تخت حکومت پر بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا۔ مروان کی حکومت زیادہ دیر نہ رہی۔ اس کی وفات یا ایک قول کے مطابق قتل کے بعد حکومت عبدالملک بن مروان کے ہاتھ آگئی۔ اس کے دور حکومت کے آغاز میں مکہ مکرمہ پر حضرت عبداللہ ابن زبیر کی حکومت تھی۔
حج کے موقع پر وہ اپنی طرف حاجیوں کو دعوت دیتے تھے۔ عبدالملک کو یہ گوارا نہ تھا کہ شام سے جانے والے لوگوں کو وہ اپنی طرف مائل کر لیں۔ اُس نے مناسب سمجھا کہ لوگوں سے کہا جائے کہ مسجد اقصیٰ بھی مسجد حرام ہی کی طرح عظمت رکھتی ہے۔ حج کے لیے اس کی طرف بھی جایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اس نے مسجد اقصیٰ کی تعمیر نو شروع کروائی، گنبد صخرہ بھی بہت خوبصورت بنوایا، تعمیر کا کام البتہ اس کے دور میں مکمل نہ ہوسکا، اس کے بیٹے ولید بن عبدالملک نے مسجد اقصیٰ کی تعمیر مکمل کروائی۔ عباسی حکمران ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کروائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد عیسائیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے اس کے اندر بہت سی تبدیلیاں کیں، کئی نئی عمارتیں بھی بنائیں، بعدازاں صلاح الدین ایوبی نے ۱۱۸۷ء میں عیسائیوں کو شکست دے کر بیت المقدس پر قبضہ کر لیا اور اسلامی آثار کو بحال کر دیا۔ اُسی نے مسیحی نشانات سے مسجد کو پاک کروایا۔
تحریر ثاقب اکبر

 

یہودیوں کا فلسطین کے اموال عامہ پر ڈاکہ

  • ۱۶

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، فلسطین کے اٹلس(ATLAS) میں “عمومی زمین” اور “حکومتی زمین” کی اصطلاحیں ان زمینوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو مقاصد عامہ کے لیے مخصوص ہوتی تھیں یا حکومت کی نگرانی میں لوگوں کے استعمال کے لیے آمادہ کی جاتی تھیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ زمینیں بطور کلی عوام الناس کی جائیداد شمار ہوتی تھیں۔
برطانوی پارلیمنٹ رکن اور پہلے یہودی کیبنٹ وزیر”ہربرٹ ساموئل” کہ چرچیل نے انہیں شاہ ساموئل کا خطاب دیا کو ۱۹۲۰ء میں برطانوی حکومت کی جانب سے فلسطین کے نظام حکومت میں نفوذ پیدا کرنے اور یہودی ریاست تشکیل دینے میں ان کی مدد کرنے پر مامور کیا گیا۔
یہودیوں کو بڑے پیمانے پر زمین کی منتقلی
ہربرٹ ساموئل نے فلسطین میں داخل ہوتے ہی، ۱۹۲۰ میں “زمین کمیٹی” تشکیل دی تاکہ وہ زمینیں جو حکومت کے اختیار میں تھیں یا عمومی زمینیں تھیں اور عوام الناس کے استعمال میں تھیں ان کے رقبے اور دیگر خصوصیات حاصل کرے۔ اس کمیٹی سے کہا گیا کہ وہ ان زمینوں کے بارے میں رپورٹ تیار کرے جو با آسانی یہودیوں کے حوالے کی جا سکتی ہیں اس طریقے سے دھیرے دھیرے برطانیہ نے فلسطین پر یہودیوں کا تسلط جمانے کے لیے مقدمات فراہم کرنا شروع کئے۔ (۱)
زمین کی خریداری کے اسباب
اس کمیٹی کا اصلی محرکین اور اس کے پشت پردہ عوامل میں سے ایک ” حیم مارگوس کلواریسکی” (۲) ہیں جو روس کے ایک یہودی تاجر تھے اور فلسطین کی زمیںیں خریدنے کے لیے اپنا سرمایہ استعمال کرتے تھے۔
اس کمیٹی کے سربراہ سرگرڈ آبرامسن نامی ایک برطانوی سرکاری عہدیدار تھے اور کمیٹی کی رپورٹ تیار کرنے والے کلواریسکی تھے۔ ساموئل نے ‘زمین کمیٹی’ کے ذریعے تیار کردہ رپورٹ کی بنیاد پر فلسطین کی تمام عمومی زمینوں کو یہودیوں کے حوالے کر دیا۔
حواشی
۱ – stein, supra note 25,p.61
۲ – Haim Margois Kalvariski
………..

 

یوم القدس، ظلم کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ

  • ۵۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: دنیا میں کتنے ایسے مظلوم ہیں کہ جن کی آه و پکار سننے والا کوئی نہیں ہے بلکہ سننا اور درد کی دوا کرنا تو کیا، اکثر لوگ اپنی فطرت اور ضمیر کے خلاف، الله اور شریعت کے احکام کی پرواه کئے بغیر ظالم کا ساتھ دیتے ہیں اور مظلوم کی مظلومیت کا درک و احساس رکھنے کی بجائے اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ بعض افراد، بعض دیگر افراد کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے اور ان سے خیانت کرتے ہیں۔ بعض خاندان بعض خاندانوں پر اور بعض ملتیں، ممالک اور نام نهاد ادارے بعض ملتوں اور ممالک پر ظلم کرتے ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ ایک مستقبل پر نگاه رکھنے والا رہبر و قائد اپنی شرعی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے، خدا کی بارگاه میں سرخرو ہونے کے لئے انبیاء کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مظلوم کی حمایت میں دنیا کو بیدار کرے اور ظالم کا مقابلہ اپنی دور اندیشی اور حکمت عملی سے کرے۔
یہی کام حضرت امام خمینی نے فلسطین کے مظلومین اور قبلہ اول کی آزادی کے لئے کیا اور دنیا کے تمام مسلمانوں کو دعوت دی کہ وه ظالم سے نفرت کرتے ہوئے مظلوم کی آواز بنیں۔ مسلمان آپس میں متحد ہوں اور اسلام و قرآن کی دشمن طاقتوں کا راستہ روکیں۔ افسوس که امام خمینی کی آواز پر جس طرح اسلامی ممالک کے حکمران طبقہ کو کام کرنا چاہیئے تھا، ایسے نہ کیا بلکہ اکثر عرب ممالک نے تو اسرائیل کے اہداف اور مقاصد کو کامیاب کرنے کے لئے اپنے ممالک کا سرمایہ کو بھی استعمال کیا۔ جهادی گروپ اسلام و مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے تیار کئے، مسلمانوں ہی پر کفر کے فتوے لگانے شروع ہوئے اور مسلمانوں ہی کو آپس میں اتحاد کی بجائے مختلف گروہوں میں تقسیم در تقسیم کر دیا گیا، جس کا نتیجہ آج امت مسلمہ کی زبون حالی کی شکل میں ہر شخص کے سامنے ہے۔
دراصل غور طلب بات یہ ہے کہ آج جو فلسطین کے مسلمانوں پر اسرائیل ظلم کر رہا ہے، وہی ظلم النصره و داعش شام اور عراق کے مسلمانوں پر بھی کر رہی ہیں۔ یہ نام نهاد جہادی گروپ دراصل اسرائیل اور استعمار کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ القاعده، طالبان، لشکر جھنگوی، جندالله اور دیگر ناموں کے تمام لشکر جو پاکستان یا افغانستان میں بی گناه مسلمانوں کو سینکڑوں کی تعداد میں زندگی جیسی نعمت سے محروم کر دیتے ہیں، سب دشمن کے اہداف کو پورا کرنے کے لئے وجود میں آئے ہیں۔ ان حالات میں مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وه اپنے دفاع کے لئے ایک حکمت عملی تیار کریں، آپس میں اتحاد کرتے ہوئے آینده کے بارے میں منصوبہ بندی کریں اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اسلام کے نام پر سرگرم تمام نام نهاد دہشت گرد اور تخریب کار تنظیموں سے بیزاری کا اعلان کریں۔ یہ تنظیمیں دراصل اسرائیلی مقاصد کو پورا کر رہی ہیں، ان کے شر کو بھی روکنے کے لئے ایک منظم منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ یوم القدس کے مظاہروں میں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے شرکت کریں، اپنے بچوں اور گھر والوں کو بھی اس لئے ساتھ لیکر آئیں، تاکہ ان میں ظلم کو سہنے کی بجائے ظلم کا مقابلہ اور اس سے نفرت کا جذبہ و احساس پیدا ہو۔
اسلام حقیقی اور مکتب اہلبیت کی دنیا میں ہر بیدار اور مظلوم شخص تک آواز پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ تمام مدارس، تمام انجمنیں، تمام تنظیمیں کہ جن میں سرفہرست اسلامی تحریک پاکستان، شیعہ علماء کونسل، مجلس وحدت مسلمین، آئی ایس او اور جے ایس او جیسی تنظیمیں ہیں، ان کو اپنے اپنے تشخص کے ساتھ متحد ہو کر ایک ہی آواز بن کر اس زمانہ میں اور ہماری آنے والی نسلوں پر جو ظلم کے منصوبے اور سازشیں بن رہی ہیں، سب کو ناکام کر دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ باقی بھی سب مسلمانوں کو جن میں بریلوی، اہلحدیث یا دیوبندی مسلک کی جو معتدل تنظیمیں ہیں، ان کو بھی ساتھ ملانا چاہیے اور ان کے ساتھ ملکر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ البتہ اس سے پہلے اپنی صفوں میں اتحاد برقرار کرنا ضروری ہے، تاکہ کوئی بھی ہمارے درمیان اپنے مذموم مقاصد و اہداف کی خاطر نفرت و کدورت کی لکیر نہ کھینچ سکے۔ اس بات سے ہوشیار رہنا چاہیئے کہ جس طرح اسلامی تحریک کے ساتھ گلگت بلتستان میں خیانت اور سازش کی گئی ہے، دوباره ایسا کام نہ ہو۔ فلسطین اور قبلہ اول کی آزادی میں بھی دشمن کی سازشوں کے ساتھ ساتھ خود مسلمانوں کی خاموشی اور سہل انگاری کا بہت بڑا کردار ہے۔ خدایا ہم سب مسلمانوں کو متحد ہو کر ظلم کے خلاف اپنی آواز کو بلند کرنے کی ہمت عطا فرما۔ آمین

 

فلسطین کی تقدیر اور اس کا مستقبل رہبر انقلاب کی نگاہ میں

  • ۴۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فلسطین میں صہیونی سیاستوں اور سازشوں کے کارآمد نہ ہونے کے حوالے سے رہبر انقلاب کے بیانات میں سے کچھ اقتباسات قارئین کے لیے پیش کئے جاتے ہیں؛
 بقائے فلسطین و نابودی اسرائیل:
•    اب غاصب حکومت کے عمائدین جو ایک اسلامی ملک فلسطین پر قابض ہیں اور ان کے امریکی حامی جو بڑے ہی احمقانہ و ابلہانہ انداز میں ان کی ہمہ جہت حمایت کر رہے ہیں، اس کوشش میں لگ گئے ہیں کہ فلسطین کا نام تاریخ اور عوام کی یادداشت سے پوری طرح مٹا دیں تاکہ عوام کے ذہنوں میں فلسطین نام کی کوئی چیز ہی باقی نہ رہے۔ انیس سو سینتالیس، اڑتالیس میں جب فلسطین پر پوری طرح قبضہ کر لیا گیا اور صیہونی حکومت کی تشکیل عمل میں آ گئی اس وقت سے اب تک وہ یہ کام نہیں کر سکے اور آئندہ بھی عشروں تک وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ وہ فلسطین کا نام مٹانے کی خواہش پوری نہیں کر سکیں گے بلکہ اسی کوشش میں وہ خود ہی صفحہ ہستی اور تاریخ کے اوراق سے ناپید ہو جائیں گے۔ جبکہ فلسطین اور فلسطینی عوام کو جاویدانی ملے گی۔ یہ اس زعم میں ہیں کہ فلسطین اور فلسطینی قوم کو مٹا لے جائیں گے۔ لیکن فلسطینی قوم ہمیشہ باقی رہے گی اور فلسطین بھی باقی رہے گا اور فلسطینی و لبنانی جیالوں کی بلند ہمتی کے نتیجے میں ایک دن پرچم فلسطین بھی لہرائے گا۔

•    صیہونزم اور فلسطین میں غاصب و جعلی صیہونی حکومت کا مقدر فنا ہے۔ فلسطینی عوام کو چاہئے کہ اللہ تعالی سے نصرت و مدد کی دعا کریں اور اس کی ذات پر توکل کریں۔ فلسطینی جوان، لبنانی جوان، تمام عالم اسلام کے جوان اور سبھی دانشور اسی سمت میں آگے بڑھیں۔

•    غاصب و ظالم صیہونیوں کی سمجھ میں یہ بات آ جانا چاہئے کہ لبنان و فلسطین کی زیور ایمان سے آراستہ یہ نوجوان نسل ناقابل تسخیر ہے۔ فلسطینی قوم کے جذبہ ایمانی و قوت صبر پر استوار جہاد کو سیاسی سازباز، فوجی دباؤ، سکیورٹی کی چالوں اور تشہیراتی ہلڑ ہنگاموں سے روکا نہیں جا سکتا۔ بالکل اسی طرح جیسے عظیم الشان ملت ایران کی قوت مزاحمت اور بے مثال استقامت کو ان فرسودہ اور ناکارہ حربوں سے مغلوب نہیں کیا جا سکا جنہیں گزشتہ برسوں کے دوران صیہونیوں اور ان کے حامیوں نے جی بھر کے استعمال کیا ہے۔

 

یقینی مستقبل:
•    فلسطین کی موجودہ صورت اس یقینی انجام اور مستقبل کی نوید دے رہی ہے جس کا وعدہ اللہ تعالی نے صادق و ثابت قدم مجاہدین سے کیا ہے، وہ وعدہ جس کا پورا ہونا یقینی ہے۔ بے رحم و ظالم صیہونی حکومت اور اس کے پس پشت امریکا اور عالمی صیہونزم کو یہ زعم ہے کہ مجرمانہ اقدامات اور غیر انسانی حرکتوں سے ملت فلسطین کو مغلوب کر لے جائیں گے اور اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔ یہ بہت بڑی بھول ہے، اس بھول میں پڑنے والوں کو آگے چل کر بہت بڑی چپت لگنے والی ہے۔

•    فلسطین، فلسطینی قوم کا ہے، جلد یا کچھ دیر میں غاصب حکومت کو سرانجام اس حقیقت کے سامنے سر جھکانا ہوگا۔ اس وقت فلسطین کے مسلمان مجاہدین کے دوش پر یہ عظیم اور تاریخی ذمہ داری ہے۔ انہیں چاہئے کہ حتمی وعدہ الہی پر بھروسہ کریں اور اللہ تعالی کی نصرت و مدد سے آس لگائیں اور اپنی امید و جذبہ ایمانی اور جہاد کے ذریعے اپنی قوم اور اپنے ملک کو اپنا عظیم تحفہ پیش کریں۔ فلسطین کے مسلمانوں کی مزاحمت و استقامت کے جاری رہنے اور عالم اسلام کی جانب سے ان کی بلا وقفہ حمایت کے نتیجے میں فلسطین بفضل الہی ایک دن آزآد ہو جائے گا اور بیت المقدس، مسجد الاقصی اور اس اسلامی سرزمین کا گوشہ گوشہ دوبارہ عالم اسلام کی آغوش میں آ جائے گا۔

منبع: خامنہ ای ڈاٹ آئی آر

 

فلسطینی لہو پر قائم اسرائیلی ڈھانچہ

  • ۴۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: نومبر ۱۹۴۷ کو اقوام متحدہ میں صہیونی لابی نے سرزمین فلسطین کو عربوں اور یہودیوں کے درمیان دوحصوں میں تقسیم پر مبنی ایک قرارداد منظور کر دی۔ اس قراردار کی منظوری کے بعد صہیونی عناصر اپنے منحوس پروپیگنڈوں اور شیطانی سازشوں کے ذریعے اس کے باوجود کہ سرزمین فلسطین پر مسلمانوں کی اکثریت رہائش پذیر تھی انہیں ان کی سرزمین سے باہر نکال کر فلسطین کے ایک حصے کے مالک بن بیٹھے۔ اقوام متحدہ کی اس قرارداد نے دو قوموں میں اختلاف پیدا کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔ وہ صہیونی یہودی جو سرزمین فلسطین کے اس ایک حصے پر قابض ہوئے انہوں نے بجائے اسی پر اکتفا کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھایا اور اسرائیل کی آزادی کے زیر عنوان جنگ کے لیے قد علم کر دیا اور مسلمانوں پر جارحیت اور بربریت کے ذریعے اسرائیل کے نام سے اپنا ایک ملک بنا کر اس پر اپنی حکومت قائم کر دی اور سرکاری طور پر اسرائیل کی موجودیت کا اعلان کر دیا۔ اس جنگ میں کم سے کم ۳۳ افراد کو قتل کیا گیا اور ۷۵۰ ہزار سے زائد فلسطینی مردوں، عورتوں اور بچوں کو انتہائی بے دردی سے ان کے گھروں سے باہر نکال دیا گیا۔
’’الدوامیہ‘‘( Al-Dawayima ) علاقے کے دردناک حادثات کے حوالے سے ایک اسرائیلی چشم دید گواہ کا کہنا ہے: ’’ وہ(صہیونی) لاٹھیوں سے بچوں کے سر پھوڑتے تھے اور انہیں قتل کر دیتے تھے۔ کوئی ایسا گھرانہ نہیں تھا جس نے شہید نہ دیا ہو۔ ایک سپاہی بڑے فخر سے کہہ رہا تھا کہ اس نے ایک عورت کی عصمت دری کی اور پھر اس کا قتل کر دیا‘‘۔
فلسطین کی ایک عورت اس موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ایک مرد نے اس کی بہن جس کے شکم میں نو مہینے کا بچہ تھا کو انتہائی بے دردی سے مار ڈالا اور اس کے بعد چاقو سے اس کا پیٹ چاک کر دیا‘‘۔
اسرائیلی مورخ ٹام سگف لکھتا ہے: ’’اسرائیل جنگ اور دھشتگردی سے وجود میں آیا اور اس کے وجود سے صرف ظلم و اندھا تعصب ہی ٹپکتا ہے‘‘۔
یہ ہیں انسانی حقوق کے تحفظ کے معنیٰ اور یہ ہے دھشتگردی سے مقابلے کے دعویداروں کا حال اور اقوام متحدہ بھی ایسوں ہی کی حمایت کرتی ہے!!۔
تحریر: Alison Weir
کتاب کا نام: Against our better judgment: the hadden history of how the U.S was used to create Israel
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تحریک فلسطین کی کامیابی میں ایران کا کردار

  • ۱۱۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: مصری صدر جمہوریہ، انور السادات پہلے عرب حکمران تھے جنہوں نے “جنگ رمضان” کے عنوان شہرت پانے والی ۱۹۷۳ کی جنگ کے بعد، اسرائیل کے ساتھ سازباز کا راستہ اپنایا اور یہودی ریاست کو تسلیم کیا اور کیمپ ڈیویڈ نامی سازباز کی قرارداد منعقد کرکے جعلی ریاست کا مقابلہ کرنے اور فلسطین کی آزادی کے سلسلے میں عربی امت کی ناامیدی کے اسباب فراہم کئے۔
حضرت امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّه) نے فلسطینی کاز اور امت اسلامی کے ساتھ اس خیانت و غداری کی بارہا مذمت فرمائی اور انورالسادات کی صلح کے سلسلے میں فرمایا:
“میں سنجیدگی کے ساتھ انور السادات کے اقدامات کی مذمت کرتا ہوں، سادات نے اسرائیل کے ساتھ صلح کی سازش قبول کرکے حقیقتاً امریکہ کی استعماری حکومت سے اپنی وابستگی کو مزید آشکار کردیا اور مصری قوم کو چاہئے کہ اس غدار کو اپنے ملک سے دور کردے اور امریکہ اور صہیونیت سے اپنے ملک کی وابستگی کے دھبے کو اپنے ملک کے ماتھے سے مٹا دے”۔
بے شک؛ ایران کے اسلامی انقلاب نے نہ صرف فلسطینی عوام کے اسلامی انقلاب میں اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ عالم اسلام کی بیداری اور ہوشیاری میں بھی اس کا کردار ناقابل انکار ہے۔ ایران کا اسلامی انقلاب اسلام پسندی، استکبار کے خلاف جدوجہد اور اسلامی اقوام کے درمیان اسلامی حکومتوں کے قیام کے حوالے سے ایک مثالی نمونے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ یہاں تک کہ مغربی کیمپ اور غیر جمہوری عرب ممالک کے سربراہان کے لئے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔ وہ بخوبی اس حقیقت کا ادراک کرچکے ہیں کہ اتنے وسائل اور امکانات کے ہوتے ہوئے، عالم اسلام کی بیداری، مغربی دنیا اور غیر جمہوری عرب حکومتوں کے سربراہوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ انقلاب اسلامی دینی تعلیمات کی طرف بازگشت، اپنی قوتوں پر بھروسہ کرنے، فلسطینی مجاہدین کی طرف سے اسلامی نظام کو نمونۂ عمل قرار دیئے جانے، دشمنوں کے خلاف جہاد کے لئے مسجد کو کمان کا اصل مرکز قرار دینے، اسلام کی بنیاد پر وحدت و یکجہتی اور جہادی تنظیموں کے قیام کے حوالے سے ملت فلسطین پر گہرے اثرات مرتب کرچکا ہے یہاں تک کہ انتفاضہ تحریک اسلامی انقلاب سے ملت فلسطین کی اثر پذیری کا ثمرہ ہے۔
فلسطینی بحران کا انتظام طویل عرصے تک عرب حکومتوں اور فلسطینی چھاپہ مار تنظیموں کے زعماء کے ہاتھ میں رہا لیکن وہ جاری قواعد میں کوئی تبدیلی نہ لا سکے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد، امام خمینی کی ہدایات اور راہنمائیوں کی روشنی میں ـ جو مسئلہ فلسطین کو اسلامی مزاحمت اور اسرائیل کے ساتھ سازباز سے اجتناب کے دریچے سے دیکھتے تھے ـ اس مسئلے میں عظیم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
لبنان میں حزب اللہ کی کامیابی امام خمینی کے تفکرات کے مرہون منت ہے۔ سید مقاومت، سید حسن نصراللہ کے مطابق “لبنان میں شروع اور متحرک ہونے والی مزاحمت کی بنیاد اور اساس، اپنی گہرائیوں، اپنی قوت، فعالیت اور سنجیدگی کے لحاظ سے امام خمینی کی طرف ہی پلٹتی ہے اور سنہ ۲۰۰۰ میں صہیونی ریاست کی لبنان سے غیر مشروط پسپائی، صہیونی ریاست پر ان کی اہم ترین کامیابی تھی جو کہ اسلام پسندوں کے ہاتھوں حاصل ہوئی۔
سنہ ۲۰۰۵ میں غزہ کی پٹی سے یہودی ریاست کی پسپائی بھی فلسطین کی اسلامی مزاحمت کے مرہون منت ہے جس نے اپنے اگلے مرحلے میں انتخابات میں کامیاب ہوکر فلسطینی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔ اور انقلابی مشروعیت کے ساتھ انتخابی مشروعیت کو بھی حاصل کرچکے۔
یہ تمام تر عظیم تبدیلیاں امام خمینی کے افکار کے مرہون منت ہیں جنہوں نے انقلاب اسلامی اور جدوجہد کو فلسطین کی آزادی کی بنیاد قرار دیا اور علاقے میں اسلامی مزاحمت کو فروغ دیا۔
تحریک جہاد اسلامی کے شہید قائد ڈاکٹر فتحی شقاقی نے ایران کے اسلامی انقلاب اور فلسطینی جدوجہد پر اس کے اثرات کے بارے میں کہا ہے: “کوئی بھی چیز امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہ) کے انقلاب کی طرح ملت فلسطین کو متحرک نہ کرسکی، اور ان کے جذبات کو نہ ابھار سکی اور فلسطینی ملت کے دلوں میں امید کو زندہ نہ کرسکی۔ انقلاب اسلامی کے بعد ہم جاگ اٹھے اور سمجھ گئے کہ امریکہ اور اسرائیل کو بھی شکست دی جاسکتی ہے، ہم سمجھ گئے کہ دین اسلام کی تعلیمات کی رو سے معجزہ رقم کرسکتے ہیں اور اسی بنا پر فلسطین میں ہماری مجاہد قوم اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور امام خمینی کو تاریخ اسلام کے زندہ جاوید قائد سمجھتے ہیں”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اسرائیلی اسپتالوں میں یہودیوں کا مفت علاج فلسطینیوں سے لوٹ مار

  • ۵۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: مرکز اطلاعات فلسطین کی جانب سے تیار کردہ ایک رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اسپتالوں میں جہاں یہودی مرد و خواتین اور بچوں کا نہ صرف علاج مفت ہوتا ہے بلکہ انہیں گھروں کی دہلیز پر مفت طبی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں لیکن دوسری طرف فلسطینی مریضوں اور ان کے اقارب کوعلاج کے نام پر منظم انداز میں لوٹا جاتا ہے۔
اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے چلڈرن اسپتالوں اور زچہ وبچہ مراکز میں لانے والی عرب خواتین کے ساتھ کھلم کھلا امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔
اخباری رپورٹ میں اسرائیل کے چار زچہ وبچہ اسپتالوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جہاں پر فلسطینی عرب خواتین کے ساتھ نسل پرستی کا سلوک کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے ھداسا، ھار ہٹزوفیم، سوروکا اور الجلیل شہر میں قائم ’ھعمیک‘ اسپتال یہودیوں کے لیے طبی مراکز اور فلسطینیوں کے لیے لوٹ مار کے مراکز بن چکے ہیں۔
اخباری رپورٹ کے مطابق حال ہی میں چار فلسطینی خواتین نے اسرائیلی اسپتالوں کے خلاف نسل پرستی کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے وہ چاروں کو فی کس ۶۰۰۰ ڈالر کے مساوی رقم اسپتالوں سے ہرجانہ دلوائے جو ان کے زچکی کیسز میں مجرمانہ لاپرواہی کے ساتھ نسل پرستی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
اسرائیلی رکن کنیسٹ بزلیل مسوٹیرچ کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں یہودی خواتین اور عرب خواتین مریضوں کے درمیان امتیاز برتنا ضروری ہے۔ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرئے اسرائیلی رکن کنیسٹ کا کہنا ہے کہ عرب خواتین کو زیادہ بچے جنم دینے کا حق نہیں۔
دوسری جانب عرب رکن کنیسٹ یوسف جبارین نے اسپتالوں میں عرب اور یہودی خواتین کے ساتھ برتے جانے والے امتیازی سلوک کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی ہسپتالوں میں فلسطینی عوام کے ساتھ ایسے حال میں امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والے عالمی انسانی حقوق ادارے جو دنیا میں انسانی حقوق کو ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اسرائیل میں کھلے عام انسانی حقوق کی پامالی سے آگاہ ہیں مگر زبانوں پر تالے ہیں۔

 

اسرائیل کے ہاتھوں تاریخی ثقافتی آثار کی نابودی

  • ۸۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ۱۹۶۷ کے بعد صہیونی ریاست کے ہاتھوں مقبوضہ فلسطین میں تمام ثقافتی آثار چاہے وہ مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہوں یا عیسائیوں سے، کی نابودی کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے رد عمل میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دنیا کے حریت پسندوں لوگوں حتی بعض یہودیوں نے بھی اسرائیل کے ان گھناونے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اگر چہ بیت المقدس یا یورشلم انسانی ثقافت میں ایک خاص مقام کا حامل ہے اور اس کی معنوی اور تاریخی اہمیت کسی پر بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن اسرائیل کی طرف سے اس ثقافتی شہر پر جارحیت، کسی کے لیے بھی قابل برداشت نہیں ہے۔
فلسطین اتھارٹی واچ نے ۹ ویں کانفرنس ۱۹۷۱ میں عرب سماج کو یہ تجویز پیش کی کہ بیت المقدس کے تاریخی آثار کے امور کے لیے ایک علمی کمیٹی تشکیل دی جائے جو علاقے میں اسرائیل کی بے راہ رویوں کا جائزہ بھی لے اور تاریخی آثار کے تحفظ کے سلسلے میں اسرائیلی عہدیداروں کے جھوٹے دعوؤں کو ثابت بھی کرے۔ عرب سماج نے چھپن(۵۶) اداری مٹینگوں کے بعد اس تجویز کو قبول کیا اور ایک کمیٹی تشکیل دی۔
اس کمیٹی کی منجملہ تحقیقات ’’کشاف البلدان الفلسطینیة‘‘ (فلسطینی شہروں کی رہنمائی) ۱۹۷۳ میں، ڈاکٹر اسحاق موسی حسینی کے ذریعے اور جامع بیت المقدس۱۹۷۹ میں منظر عام پر آئیں۔
یہاں پر در حقیقت یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ کیوں سرزمین فلسطین کے تاریخی آثار کو صفحہ ہستی سے مٹایا جائے؟ اس کی دلیل کیا ہے؟
کیا لوگوں میں ایک ایسی آزاد فکر اور وسعت نظر رکھنے والی ثقافتی تحریک وجود میں نہیں آنا چاہیے جو ان آثار قدیمہ کو ہمیشہ زندہ اور محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو؟