بہائیت اسرائیل کے ایران میں پنپنے کا ذریعہ

  • ۳۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ایران کی شہنشاہی حکومت کے ساتھ فرقہ ضالہ ’بہائیت‘ کے تعلقات کی تاریخ سو سال پرانی ہے لیکن محمد رضا خان کے دور حکومت میں یہ روابط اپنے عروج پر پہنچ گئے یہاں تک کہ ان کے دور حکومت کی آخری دہائی میں تقریبا تمام اہم حکومتی عہدے بہائیوں کے پاس تھے۔ اسی وجہ سے اس زمانے میں اسرائیل اور یہودیوں کا ایران میں اثر و رسوخ بہت گہرا تھا۔
امیر عباس ہویدا
امیر عباس ہویدا اس فرقہ ضالہ کا ایک اہم آدمی تھا جس کا پہلوی حکومت میں بڑا اثر و رسوخ تھا انشاء اللہ بعد میں اس شخص کے بارے میں تفصیلی گفتگو کریں گے، لیکن یہاں پر اجمالا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران میں پہلوی حکومت کے دوران یہ شخص بہائیوں کا باپ سمجھا جاتا تھا، اور اس کے بہائی ہونے کے اعتبار سے شہرت اتنی زیادہ تھی کہ شاہ کے دور کی انٹیلی جنس ایجنسی ساواک کی دستاویزات میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔
ہویدا صہیونی ریاست کی تشکیل میں مکمل طور پر رضامند تھا۔ ایران میں موساد کے آخری نمائندے ’’الیعزر تسفریر‘‘ کے بقول : ہویدا اور اس کے گھرانے کے لوگ اسرائیل کے مسائل سے خوب واقف تھے اور اسی وجہ سے وہ اس پورے عرصے میں ایران میں اسرائیل کے سفیروں کی حفاظت اور اسرائیل میں بہائیوں کے مال و دولت کے تحفظ کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔‘‘
ڈاکٹر عباس میلانی نے کتاب ’’معمای ہویدا‘‘ کہ جو ہویدا کی حمایت میں لکھی ہے میں اس کے صہیونیت کے ساتھ تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’۵۰ کی دہائی (ایرانی سال) میں اسرائیلی سفارت کی سربراہی ’’لوبرانی‘‘ کے دوش پر تھی اور اس کے ہویدا کے ساتھ گہرے روابط تھے۔ وہ نہ صرف اکثر رات کے کھانوں پر ہویدا کی دعوت کرتا تھا، بلکہ اکثر اوقات لوبرانی ہویدا کے دفتر میں نظر آتا تھا۔ جب بھی کوئی کسی ملک کا سفیر ہویدا سے ملاقات کے لیے جاتا تھا تو وہ کوشش کرتا تھا اسرائیلی سفارت کے سربراہ لوبرانی کو بھی ان میٹنگوں میں شامل رکھے‘‘۔
امام خمینی(رہ) کی سربراہی میں ۱۵ خرداد کے قیام کے بعد شاہ اپنے بہائی ورکروں کی مدد سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس قیام کے لیے مالی تعاون جمال عبد الناصر مصری کی جانب سے انجام پایا ہے۔ اس لیے کہ اس دور میں مصر صہیونی ریاست اور بہائیت کے خلاف برسرپیکار تھا۔ اسی وجہ سے مصر کے ایران کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق تھے۔
بہائیوں کے اس عمل میں کئی مقاصد پیش نظر تھے؛ ایک یہ کہ شہنشاہی حکومت کو علماء کا مقابلہ کرنے کے لیے اکسائے، دوسرے یہ کہ ایران کو عرب ممالک سے دور کرے، تیسرے یہ کہ شہنشاہی حکومت پر دباؤ ڈال کر اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے پر مجبور کرے۔
البتہ بہائیوں کی سرگرمیاں اور ان سے منسلک افراد صرف یہی نہیں تھے جن کا تذکرہ ہوا، بلکہ ان کا ایک پورا چینل تھا اور ان کی سرگرمیاں بھی بہت وسیع و عریض پیمانے پر پائی جاتی تھیں جن کا تذکرہ آئندہ قسطوں میں کیا جائے گا۔
ماخذ:
1 – فصلنامه تاریخ معاصر ایران، بهائیت و اسرائیل: پیوند دیرین و فزاینده، شکیبا، پویا، بهار 1388، شماره 49، ص 640-513.
2- فصلنامه انتظار موعود، پیوند و همکاری متقابل بهائیت و صهیونیسم، تصوری، محمدرضا، بهار و تابستان 1385، شماره 18، ص 256-229.
3- فصلنامه 15 خرداد، انقلاب اسلامی و مسئله فلسطین: جستارهایی در پیوند صهیونیسم و بهائیت، رحمانی، شمس الدین، زمستان 1389، دوره سوم، شماره 26، ص 256-199.

 

 

اسرائیل میں بہائیت کے گہرے اثر و رسوخ کی چند مثالیں

  • ۴۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیل میں سکونت پذیر حسین اقبال نامی ایک بہائی شخصیت صہیونی ریاست میں پائے جانے والے بہائیت کے گہرے اثر و رسوخ کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’شوقی افندی اسرائیلی حکومت سے جو تقاضا اور فرمائش کرتے تھے حکومت اسے فورا بجا لاتی تھی، اور اس کے نتیجہ میں ہم فلسطین میں رہنے والے بہائی، آرام و سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔‘‘۔
بہائیوں کا اسرائیلیوں کے یہاں احترام اپنے یہودی شہریوں سے بھی زیادہ ہے۔ ایک ایرانی بہائی عبد اللہ رفیعی نے اپنے اسرائیل دورے کے بارے میں لکھا ہے: ’’تل ابیب کسٹم ڈیوٹی پر جب ہم خود کو بہائی کے عنوان سے پہچنواتے تھے، تو بہت احترام کے ساتھ وہ ہمیں بغیر تلاشی کے آگے بھیج دیتے تھے، جبکہ دوسرے لوگوں کی کافی سختی کے ساتھ تلاشی کرتے تھے۔۔۔‘‘۔
ایئرپورٹ کی صورتحال کچھ یوں تھی کہ فریدون رامش کے بقول بعض یہودی ان پر اعتراض کرتے تھے۔ بطور مثال، ایک یہودی نے اعتراض کیا کہ کیوں ایرانیوں کی تلاشی نہیں کی جاتی اور ہم جو یہاں کے رہنے والے ہیں ہماری اتنی سختی سے تلاشی کی جاتی ہے۔
ایک اور نکتہ جس کی طرف یہاں اشارہ کیا جا سکتا ہے یہ ہے کہ صہیونی ریاست کے سیاسی وفود جس ملک میں بھی جاتے تھے قلت وقت کے باوجود اس ملک میں رہنے والے بہائیوں سے ضرور ملاقات کرتے تھے۔ ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونیوں اور بہائیوں کے درمیان تعلقات صرف سیاسی تعلقات نہیں تھے بلکہ اس عنوان سے کہ صہیونیوں نے ہی بہائیت کو جنم دیا تھا اس وجہ سے اس نومولود فرقے کی بھرپور حمایت کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے تھے۔
شوقی افندی کے تدفین کی رسومات بھی صہیونی حکومت کی کافی توجہات کا محور رہیں، ان کی موت کے بعد صہیونی ریاست نے برطانیہ میں اپنے سفیر کو حکم دیا کہ وہ بذات خود ان کے تدفین کی رسومات میں شرکت کرے۔
البتہ یاد رہے کہ صہیونی ریاست نے بلاوجہ شوقی افندی کو اتنی اہمیت نہیں دی یا فرقہ بہائیت کو بغیر کسی دلیل کے اپنی توجہ کا مرکز نہیں بنایا بلکہ اس کی ایک خاص وجہ اسرائیل کی تشکیل میں فرقہ بہائیت اور خاص طور پر شوقی افندی اور اس کے باپ دادا کی خدمات ہیں جنہیں اسرائیلی حکومت نے ہمیشہ یاد رکھا اور وقتا فوقتا ان کا صلہ دینے کی کوشش کی۔
ماخذ؛
1 – فصلنامه تاریخ معاصر ایران، بهائیت و اسرائیل: پیوند دیرین و فزاینده، شکیبا، پویا، بهار 1388، شماره 49، ص 640-513.
2- فصلنامه انتظار موعود، پیوند و همکاری متقابل بهائیت و صهیونیسم، تصوری، محمدرضا، بهار و تابستان 1385، شماره 18، ص 256-229.

 

فرقہ بہائیت کے تئیں اسرائیل کی ہمہ جہت حمایت

  • ۴۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فرقہ ضالہ ’بہائیت‘ کے حوالے سے صہیونی ریاست کی حمایت صرف سیاسی میدان میں منحصر نہیں تھی بلکہ بہت سارے دیگر امور کو بھی شامل ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر اسرائیل کے سابق اٹارنی جنرل پروفیسر ’’نرمان نیویچ‘‘ نے اپنے دور میں بہائیت کو ادیان ابراہیمی میں شمار کرتے ہوئے یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے ساتھ قرار دے دیا۔
لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ جب بہائیت کے اندر اختلاف بھڑک اٹھا کہ جو کوئی نئی بات نہیں تھی، اور یہ فرقہ دو گروہوں میں بٹ گیا اور کچھ لوگ بہاء اللہ کی موت کے بعد عبد البہاء کی جانشینی کے مخالف ہو گئے اور انہوں نے شوقی کے راستے میں روڑے اٹکانے شروع کر دئیے یہاں تک کہ بعض بہائی مراکز پر قبضہ کر لیا اس وجہ سے انہیں ’’ناقضین‘‘ یعنی عہد شکن کہا جانے لگا۔
لیکن اس بار صہیونی ریاست شوقی کی حمایت میں آگے نکلی اور ان کے مخالفین کو درکنار کر دیا۔
شوقی نے امریکی میں بہائیوں کے رہنما کی بن گورین سے ملاقات کے دو ماہ بعد ۱۱ جون ۱۹۵۲ کو بہائی معاشرے کو ایک خط لکھا، اور اس خط میں یہ خوشخبری دی: ’’بغاوت کرنے والے اور عہد شکن افراد کی دائما شکست جنہوں نے بہائی فرقے کی اکثریت کے خلاف قد علم کیا تھا خوشحالی کا سبب ہے‘‘۔
مثال کے طور پر اسرائیل میں ایک بہائی مرکز کے پڑوس میں مخالفین میں سے ایک شخص کا پرانا گھر تھا جسے توڑنے سے اس نے انکار کر دیا تھا جبکہ شوقی اور اس کے حامیوں کا اصرار تھا کہ یہ گھر مرکز کی خوبصورتی کو مدھم کرتا ہے لہذا سے مسمار کر دینا چاہیے۔ مخالفین نے شوقی اور اس کے حامیوں کی اسرائیل کی عدالت میں شکایت کی اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوشش کی لیکن عدالت نے ان کی شکایت قبول نہیں کی۔
مخالفین نے جب شوقی کو دھمکانے کی کوشش کی تو شوقی صہیونی ریاست کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے متمسک ہوئے اور ایک ملاقات کے بعد حکومتی کارندوں نے مخالفین کے تمام عمارتوں کو مسمار کر کے انہیں کچل دیا۔
۲۷ نومبر ۱۹۴۵کو دنیا بھر کے بہائیوں کو لکھے گئے ایک خط میں شومی نے اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا:
’’حیفا کے گورنر کی پیشکش کے طور پر اسرائیلی حکومت کے ساتھ ایک قرارداد پر دستخط کئے گئے جس کے بموجب ۱۳۰۰ مربع میٹر زمین کا ٹکڑا جو فرید خصم لدود کی بہن (عباس آفندی کی بہن) سے متعلق اور مرکز عہد میثاق کے نام تھا کو آزاد کروا لیا گیا۔ یہ تاریخی اقدام اس بات کا مقدمہ ہے کہ بہت جلد حکومت اسرائیل اس زمین کی سند مالکیت بہائی مرکز کے نام کر دے گی جہاں عالمی بہائی ادارہ زیر تعمیر ہے‘‘۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اسرائیل بہائیوں کی تمام شاخوں اور فرقوں میں سے صرف شوقی اور اس کے پیروکاروں کو رسمی طور پر فرقہ بہائیت کے عنوان سے پہچانتا ہے اور شوقی اور اس کے مخالفین کے تمام جھگڑوں میں ہمیشہ شوقی کی حمایت کرتا رہا ہے۔
ماخذ؛
1 – فصلنامه تاریخ معاصر ایران، بهائیت و اسرائیل: پیوند دیرین و فزاینده، شکیبا، پویا، بهار 1388، شماره 49، ص 640-513.
2- فصلنامه انتظار موعود، پیوند و همکاری متقابل بهائیت و صهیونیسم، تصوری، محمدرضا، بهار و تابستان 1385، شماره 18، ص 256-229.

 

بہائیت کو پروان چڑھانے میں یہودیوں کا ہاتھ

  • ۷۴

یہودیوں کے ذریعے بہائیوں کی ترقی
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: استعماری اور سامراجی طاقتیں اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی تبدیلیوں کے بعد براہ راست دنیا پر اثرانداز ہونے میں ناکام ہو رہی تھیں۔ اس وجہ سے بوڑھے سامراج یعنی برطانیہ کو مسلمانوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور ان کے قومی اور مذہبی سرمائے کو لوٹنے کے لیے سوائے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ اور اختلاف ڈالنے کے کوئی اور چارہ نہ سوجا۔ لہذا، شیعوں کے درمیان بہائیت اور اہل سنت کے درمیان وہابیت کو جنم دیا گیا۔
اس درمیان یہودی جو ہمیشہ سامراجیت کے شانہ بشانہ حرکت کرتے رہے ہیں ایک مرتبہ پھر بوڑھے سامراج کی مدد کو پہنچے اور انہوں نے مسلمانوں میں ان فرقوں کو ترقی دینے کے لیے اپنی تمام تر قوت کا استعمال کیا۔ فرقہ بابیت جو بہائیت کا پیش خیمہ تھا جدید المسلمان یہودیوں کے ذریعے ایران کے شہر رشت سے شروع ہوا اور اس کے بانی ’مرزا ابراہیم جدید‘ تھے۔
خراسان میں سب سے پہلے جو لوگ فرقہ بابیت کے ساتھ ملحق ہوئے وہ یہودی تھے جو تازہ مسلمان ہوئے تھے ان میں ملا عبد الخالق یزدی معروف ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شخص یہودی علماء میں سے ایک تھا شیخ احمد احسائی کے دور میں مسلمان ہو کر شیخ کے مریدوں میں شامل ہوا تھا۔ شیعوں میں اس نے اپنا اتنا اثر و رسوخ پیدا کر لیا کہ مشہد میں حرم امام رضا علیہ السلام کے ایک صحن میں نماز جماعت کا پیش امام بن گیا اور وہاں اپنی تقریروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ بعض مورخین کے مطابق وہ مشہد کے ممتاز علماء میں شمار ہونے لگا۔
اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ۱۸۳۱ء میں مشہد کے یہودیوں کی تعداد تقریبا ۲ ہزار تھی جبکہ کچھ ہی عرصہ بعد یعنی ۱۸۳۹ میں یہ تعداد بڑھ کر پانچ ہزار ہو گئی اسی دوران یہودی کمپنی ’ساسونی‘ کے قیام کے بعد ’علی محمد باب‘ کی دعوت پر مشہد کے تمام یہودی ایک ساتھ مسلمان ہو گئے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ اس جماعت کے مسلمان ہونے کی خبر یہودی دائرۃ المعارف میں ’’خفیہ یہودیوں‘‘ کے باب میں بیان کی گئی ہے نہ کہ مرتد یہودیوں کے حصے میں۔ تازہ مسلمان ہوئے یہودیوں کی یہ جماعت بعد میں دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتی ہے ایک گروہ بہائیوں کا اور دوسرا صوفیوں کا۔ اور دونوں نے حتی الامکان کوشش کی کہ اسلام کی جڑوں کو اپنے اپنے حساب سے کاٹیں۔ یہودی محقق ’والٹر فیشل‘ کے بقول یہ جدید المسلمان یہودی در پردہ دین یہود پر باقی تھے۔
اسماعیل رائین نے اپنی کتاب ’بہائیت میں تقسیم‘ میں اس بارے میں لکھا ہے: ’ایران کے اکثر بہائی یا یہودی تھے یا زرتشتی، اس فرقہ میں مسلمانوں کی تعداد اقلیت میں تھی‘۔ البتہ رائین سے پہلے بہائیت کے سابق مبلغ ’’آیتی‘‘ نے اس حقیقت کا پردہ چاک کیا تھا۔ انہوں نے اپنی کتاب کشف الحیل میں یہوں لکھا: ’’یہ مسلمانوں کے لیے ایک خوش خبری ہے کہ بہائی جماعت اہل علم و قلم سے خالی ہو چکی ہے اور اس کی لگام ’حکیم رحیم‘ اور ’اسحاق یہودی‘ جیسوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔‘’
لیکن اس جماعت کے بہائی ہونے کی وجوہات کے بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں اسماعیل رائین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے: ’ہم جانتے ہیں کہ پیسے سے محبت اور سرمایے میں اضافہ کا شوق یہودیوں کی ذات میں رچا بسا ہوا ہے۔ مسلمان ممالک کے یہودی کہ جن میں کی اکثریت مسلمانوں کی دشمن ہے اور جا بجا مسلمانوں کی نسبت اپنی دشمنی کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں، بہت جلد بہائی فرقے میں شامل ہو گئے اور اس طریقے سے انہوں نے مالی مراعات سے فائدہ اٹھایا اور خود کو عکا کے بہائی مرکز سے جوڑ لیا‘۔
بطور خلاصہ مالدار اور معروف یہودی صرف مشہد، گیلان اور مازندران میں ہی موجود نہیں تھے بلکہ ایران کے دیگر شہر جیسے کاشان، ہمدان اور یزد وغیرہ میں بھی کافی تعداد میں تھے جو اس فرقہ ضالہ کے ساتھ ملحق ہو گئے تھے۔
لہذا فرقہ بہائیت مسلمانوں میں پیدا نہیں ہوا اور نہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق ہے بلکہ اس کے بانی اور اس کو پروان چڑھانے والے یہودی اور سامراجی طاقتیں ہیں۔

ماخذ:

عبدالله شهبازی، ۱۳۹۶/۰۲/۱۸، سایت ادیان، ماله «یهودیان و گسترش بابی‌گری و بهایی‌گری»

 

فرقہ بہائیت کی مختصر تاریخ (۳)

  • ۶۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: بہائیوں کے بانیوں کا تعارف
عباس افندی
عبد البہاء (عباس افندی) تہران میں پیدا ہوئے اور ۹ سال کی عمر سے ہی باپ کے ہمراہ جلاوطنی کا شکار رہے اس جلاوطنی کا ایک فائدہ انہیں یہ ہوا کہ وہ مختلف طرح کے تجربات حاصل کرنے کے علاوہ باپ اور چچا کے جھوٹ و فراڈ اور لوگوں کے ساتھ دھوکے بازیاں بھی اچھی طرح سے سیکھ گئے تھے۔ جبکہ انہوں نے اس دوران بڑے بڑے لوگوں سے اچھے تعلقات بھی بنا لیے تھے۔ عباس افندی اپنے باپ کی موقعیت کی وجہ سے اچھے اچھے اساتید سے بھی تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور عصری تعلیم میں بھی اچھی ڈگریاں لے لیں۔
عبد البہاء سلطان عبد الحمید کی حکومت کی سرنگونی کے بعد یورپ اور امریکہ کے سفر پر نکلے اور اس سفر میں وہ مغربی تہذیب کے اس قدر شیدائی ہوئے کہ ہمیشہ اپنی تقریروں میں ان کے گن گاتے تھے۔
عباس افندی ۱۹۲۱ عیسوی میں ایک بیماری کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے انتقال پر برطانیہ کے کئی بڑے بڑے عہدیداروں کی طرف سے تعزیتی پیغامات وصول ہوئے۔
انہوں نے اپنی موت سے پہلے اپنے نواسے شوقی افندی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ البتہ بعض کا کہنا ہے کہ یہ کام اس کی ماں کی چالاکی سے انجام پایا ورنہ خود شوقی بہائیت سے زیادہ متاثر نہیں تھا۔
شوقی افندی ربانی
شوقی ربانی جن کا لقب ’’ولی امر اللہ‘‘ تھا ۱۸۹۷ میں پیدا ہوئے شوقی افندی ربانی در حقیقت عبد البہاء کے نواسے تھے۔ انہوں نے عکا میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد بیروت یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد برطانیہ کی معروف یونیورسٹی آکسفورڈ میں شفٹ ہو گئے۔ لیکن عبد البہاء کی موت کی وجہ سے اپنے پڑھائی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اس وجہ سے انہیں اعلی تعلیم کی کوئی ڈگری حاصل نہ ہو سکی۔
عبد البہاء نے شوقی افندی کی نسل سے ۲۴ جانشین پیدا ہونے کی پیش گوئی کی تھی مگر شوقی بے اولاد ہونے کی وجہ سے اس سلسلے کو آگے نہیں بڑھا پائے اور عبد البہاء کی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی اور ان کی نسل سے بہائیت کی باگ ڈور سنبھالنے والا کوئی جانشین پیدا نہیں ہوا۔
شوقی افندی کے دور صدارت کے چند اہم واقعات
•    شوقی افندی کے دور صدارت میں بہائیوں کے بھرپور تعاون سے صہیونی ریاست تشکیل پائی جس کے بعد شوقی افندی نے اسرائیل کے صدر سے ملاقات کی اور یہودیوں کے ساتھ اپنے تعلقات باقی رکھنے اور ملک کی ترقی میں ان کا تعاون کرنے کا وعدہ دیا۔
•    شوقی افندی کے دور میں بہائیوں نے دنیا بھر کے ملکوں کے دورے کیے اور جگہ جگہ بہائیوں کے مرکز قائم کر کے بہائیت کی تبلیغ کے مواقع فراہم کئے۔
•    اس کے دور میں بہائیت کے بعض بزرگ مبلغین جیسے ’عبد الحسین تفتی آوارہ‘، ’فضل اللہ صبحی مہتدی‘ اور ’مرزا حسن نیکو بروجردی‘ نے توبہ کر کے اسلام کے دامن میں واپس پناہ لی۔
شوقی افندی آخر کار ۱۹۵۷ میں اس سے قبل کہ ’بیت العدل‘ کی تعمیر کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں لندن میں مشکوک طریقے سے انتقال کر گئے اور وہیں پر دفن کر دئے گئے۔ ۱۹۵۷ کے بعد بہائیت کی رہبریت اور تبلیغ کی ذمہ داری اسرائیل میں واقع بیت العدل کے سپرد کر دی گئی۔

منبع: در جستجوی حقیقت، روزبهانی بروجردی، علیرضا، مرکز مدریت حوزه علمیه قم، چاپ 1388، قم.

 

فرقہ بہائیت کی مختصر تاریخ (۲)

  • ۱۱۷

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: بہائیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا حسین علی نوری (بہاء اللہ) اللہ کے پیغمبر تھے۔ بہاء اللہ کا باپ ایران کے بادشاہ قاجار کے دور میں درباری مشیر تھا اور حکومت میں کافی اثر و رسوخ رکھتا تھا۔ دوسری طرف امیرکبیر کے حکم سے ’سید علی محمد باب‘ کو پھانسی دیے جانے کے بعد ان کے مریدوں کو عراق ملک بدر کر دیا گیا تھا جس میں ’مرزا حسین علی نوری‘ (بہاء اللہ) بھی شامل تھے لیکن امیر کبیر کے قتل یا انتقال کے بعد جب مرزا آقاخان نوری نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے مرزا حسین علی نوری کو عراق سے واپس تہران بلوا لیا۔
کچھ عرصہ کے بعد بابیوں کی جانب سے بادشاہ ایران ’ناصر الدین شاہ‘ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا معلوم ہوا کہ مرزا حسین نوری کا اس میں ہاتھ تھا۔ اسی وجہ سے بہاء اللہ کو جیل میں بند کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ وہ پہلے روس کے سفارتخانے میں پناہ حاصل کر چکے تھے کچھ مہینے جیل میں رہنے کے بعد روسی حکومت کی طرف سے ڈالے گئے دباؤ کی بنا پر انہیں رہائی مل گئی۔ اور اس کے بعد روسی سفارتخانے نے انہیں روس میں زندگی بسر کرنے کے لیے دعوت دی۔
بہاء اللہ نے روسی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے بھائی مرزا یحییٰ کے ساتھ عراق کا رخ کیا۔ بغداد میں بہائیوں کے نزدیک انہیں کافی مقبولیت حاصل ہوئی اور انہوں نے وہاں تبلیغی سلسلہ شروع کیا۔
دوسری طرف بابیوں کے درمیان ’سید علی محمد باب‘ کی موت کے بعد جانشینی پر کافی اختلاف وجود میں آیا اور بہاء اللہ کے مخالفین میں روز بروز اضافہ ہونے لگا، بہاء اللہ کافی ہوشیاری دکھاتے ہوئے اپنے مخالفین کو ایک ایک کر صفحہ ھستی سے مٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن ناکامی کی صورت میں حکومت عثمانیہ انہیں استنبول چلے جانے کا مشورہ دیا۔
بہاء اللہ اپنے بھائی مرزا یحیی کے ساتھ ۱۸۶۳ میں استنبول کی طرف روانہ ہوئے اور ’ادرنہ‘ علاقے میں سکونت اختیار کی۔ چار سال یہاں پر رہنے کے بعد دونوں بھائیوں میں شدید اختلاف ہوا، جس کے بعد مرزا یحییٰ کو جزیرہ قبرس میں بھیج دیا گیا اور مرزا حسین علی نوری کو ’حیفا‘ کے نزدیک ’عکا‘ کے علاقے میں منتقل کر دیا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ بہاء اللہ اور ان کے بیٹے عباس افندی (عبد البہاء) ’عکا‘ میں رہنے کے بعد یہودیوں اور برطانوی فوجیوں سے کافی گہرے تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد ان کے بیٹے نے صہیونی ریاست کی تشکیل میں برطانیہ اور یہودی لابی کی کتنی مدد کی اس کا تذکرہ بعد میں کیا جائے گا۔
بہاء اللہ ۷۵ سال کی عمر میں ۱۸۹۲ میں انتقال کر گئے اور ان کے بیٹے عباس افندی یا وہی ’عبد البہاء‘ نے باپ کی جانشینی اختیار کی اور بہائیت کو پھیلانے میں کوئی لمحہ فروگذاشت نہ کیا۔

 

فرقہ بہائیت کی مختصر تاریخ (۱)

  • ۹۶

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فرقہ بہائیت کی داستان در حقیقت ’فرقہ بابیہ‘ سے جڑتی ہے۔ فرقہ بابیہ کا آغاز ’سید علی محمد شیرازی‘  سے ہوتا ہے جو ’’باب‘‘ کے نام سے معروف ہوئے۔ یہ شخص پندرہ سال کی عمر میں اپنے ماموں کے ہمراہ ایران کے شہر بوشہر میں تجارت کی غرض سے گیا اور وہاں تجارت کے ساتھ ساتھ اس نے ریاضت کر کے کچھ شعبدہ بازی بھی سیکھ لی۔ بعد از آں بوشہر میں واقع ایک یہودی کمپنی ’’ساسون‘‘ میں نوکری اختیار کی اور اپنی غیرمعمولی صلاحیت کی وجہ سے بہت جلد وہ کمپنی کے اہم افراد کے اندر اثر و رسوخ پیدا کر گئے۔ علی محمد شیرازی نے یہودی کمپنی میں نوکری کے بعد ۱۹ سال کی عمر میں ایک معروف عالم دین ’سید کاظم رشتی‘ کے درس میں شرکت کرنا شروع کر دی اور جب سید کاظم رشتی انتقال کر گئے تو اس نے ان کی جانشینی کا دعویٰ کر دیا۔
کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اپنی شعبدہ بازی کے ذریعے لوگوں میں شہرت پانا شروع کی اور  خود کو بارہویں امام کا ’باب‘ ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں ’باب‘ کا لقب پا لیا اور اسی بنا پر فرقہ بابیہ وجود میں آیا۔
فرقہ بابیہ کے پیروکاروں اور علی محمد شیرازی کے مریدوں کی تعداد دن بدن بڑھنے لگی اور دھیرے دھیرے ایران کے دیگر شہروں میں اس شخص کے خرافات پھیلنے لگے اور لوگ گمراھی کا شکار ہونے لگے۔ تبریز کے کچھ علماء نے ولیعہد کی موجودگی میں اس کے ساتھ ایک مناظرہ کے دوران اسے شکست سے دوچار کیا جس کے نتیجے میں حکومت نے اسے جیل میں بند کر دیا۔ جیل سے ایک معافی نامہ حکومت کے نام لکھ کر اپنے کاموں سے توبہ کی اور معافی مانگ کا رہائی کا مطالبہ کیا۔
حکومت وقت نے سید علی محمد شیرازی (باب) کو جیل سے رہا کیا مگر رہائی کے کچھ عرصہ بعد دوبارہ اپنے پیروکاروں کے ذریعے پورے ملک میں ایک شورش برپا کر ڈالی۔ جس کے بعد امیر کبیر نے اسے پھانسی دینے کا حکم دے دیا جس کے نتیجے میں ۱۲۶۶ ہجری قمری میں سید علی محمد شیرازی (باب) کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
علی محمد شیرازی نے اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھا لیکن کئی لوگوں نے اس کی جانشینی کا دعویٰ کر دیا اس کے اہم ترین دعویداروں میں ’مرزا یحییٰ صبح ازل‘ ، ’شیخ علی ترشیزی عظیم‘ اور ’مرزا حسین علی نوری‘ المعروف ’’بہاء اللہ‘‘ کا نام لیا جا سکتا ہے۔
بہائیوں کو ’مرزا حسین علی نوری‘ کہ جنہیں ’’بہاء اللہ‘‘ کا لقب دیا گیا کی وجہ سے زیادہ شہرت ملی۔ اور ان کے لقب بہاء اللہ کے نام سے ان کے پیروکاروں کو ’بہائی‘ کہا جانے لگا۔

 

جاری

انٹرویو/ بہائیت کا مقابلہ ان کے مبانی پر تنقید سے ممکن نہیں: حدادپور جہرمی

  • ۶۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: بہائیت اور صہیونیت کے باہمی تعلقات کے موضوع سے متعلق اس سے قبل بھی خیبر نے کچھ مضامین تحریر کئے ہیں اور اس بار ایک علمی شخصیت جناب حجۃ الاسلام و المسلمین محمد رضا حدادپور جہرمی سے گفتگو کا موقع حاصل کیا ہے امید ہے کہ قارئین کو پسند آئے گی:
خیبر: کیا آپ ہمارے قارئین کو فرقہ ضالہ ’بہائیت‘ کے بارے میں آگاہ کریں گے اور خاص طور پر اس حوالے سے کہ بہائیت اور صہیونیت کے درمیان تعلقات کس حد تک ہیں؟
۔ بہائیوں اور صہیونیوں کے درمیان تعلقات کے عنوان سے بس اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ بہائیوں کا اصلی مرکز ’بیت العدل‘ اسرائیل میں واقع ہے اور اسرائیلی حکومت ہر سال اس کے لیے بجٹ منظور کرتی ہے۔ لیکن میں اس حوالے سے اس موضوع پر گفتگو نہیں کرنا چاہوں گا کہ ان کا چونکہ مرکز وہاں ہے لہذا وہ فرقہ گمراہ شدہ ہے بلکہ میں دوسرے زاویہ سے اس موضوع پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔
دنیا میں سب سے بڑا خیانتکار اور شیطان صفت کوئی ملک اگر ہے تو وہ برطانیہ ہے۔ برطانیہ بہت اطمینان سے بغیر شور و واویلا کئے اپنی ثقافتی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔ جہاں بھی دین و مذہب کی لڑائی اور فرقہ واریت کی بات آتی ہے برطانیہ کا ہاتھ اس کے پیچھے ضرور پوشیدہ ہوتا ہے۔ انگریز ایشیا پر گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے تک پہنچے کہ مسلمانوں کو اندر سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، لہذا انہوں نے اہل سنت میں وہابیت کو جنم دیا اور اہل تشیع میں بہائیت کو۔
بہائیت کو پہچاننے کے لیے ہمارے پاس دو راستے ہیں۔ یک، ہم علمی اور سیاسی پہلو سے گفتگو کریں، دوسرا ہم علاقے کا گہرا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ بہائیت کے جال میں کون کون لوگ پھنسے ہیں۔ عام طور پر لوگ اس موضوع پر علمی گفتگو کرتے ہیں اور میدانی گفتگو کی طرف توجہ نہیں کرتے ہم یہاں پر اس حوالے سے گفتگو کرنا چاہیں گے۔
میدانی اعتبار سے بہائیت کے موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے ہم چار موارد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کی طرف توجہ کرنا بہت ضروری ہے:
ایک۔ بہائی سکیورٹی اور سالمیت کے اعتبار سے بہت حساس ہیں اور انٹیلیجنس میں ان کا گہرا اثر و رسوخ ہے۔ میں اس سے زیادہ اس مسئلہ کو زیر بحث نہیں لاؤں گا، صرف اتنا عرض کروں گا کہ بہائیت تنہا ایسا فرقہ ہے جس کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کا فتویٰ ہے کہ وہ نجس ہیں اور ان کے ساتھ خرید و فروخت درست نہیں ہے۔
دو۔ دوسرا مسئلہ اقتصادی اور معاشی مسئلہ ہے۔ کوئی بہائی مالی اعتبار سے کبھی مشکل میں گرفتار نہیں ملے گا۔ ان کے یہاں فقیر لفظ نہیں ہوتا۔ بڑے بڑے شاپنگ مال اور سپر مارکیٹوں کے مالک بہائی ہیں۔ وہ اپنی کمیونٹی میں کسی کو اقتصادی اعتبار سے کمزور نہیں ہونے دیتے بلکہ دوسروں کو بھی پیسے سے خرید لیتے ہیں۔
تین۔ بہائیوں کے لیے سچائی بہت اہمیت کی حامل ہے، کوئی بھی بہائی کبھی اپنے بہائی ہونے کا انکار نہیں کرے گا۔
چار۔ بہائی بیت العدل سے بتائی جانے والی تعلیمات کے بہت پابند ہیں، خیال رہے کہ ان کا مرکز بیت العدل آنلائن اور چوبیس گھنٹے بہائیوں کے لیے تعلیمی پروگرام نشر کرتا ہے اور یہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور جو آنلائن تعلیم حاصل نہیں کر سکتے وہ فیسبوک اور ٹیلیگرام کے ذریعے مرکز سے جڑے رہتے ہیں۔

 

سامراجیت کے لیے بہائیت کی بے لوث خدمات

  • ۱۳۷

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فرقہ بہائیت نے جو سامراجی نظام خصوصا برطانیہ کے لیے خدمات انجام دیں اس کی ایک مثال پہلی جنگ عظیم میں عثمانی بادشاہت کی سرنگونی کی غرض سے برطانیہ کے لیے جاسوسی تھی جس کے بدلے میں انہیں کافی مراعات ملیں۔
’شوقی افندی‘ کے بقول صہیونیت کی حاکمیت کے دوران بہائی اوقاف کے نام سے فلسطین میں ایک شاخ قائم کی گئی کہ جس سے ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا اور اس کے علاوہ بہائیوں کے مقدس مقام کے نام پر دنیا بھر سے جو کچھ فلسطین آتا تھا وہ کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس سے معاف ہوتا تھا۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ صہیونی یہودی، فلسطین کو برطانیہ کے قبضے سے الگ کروانے سے پہلے سلطان عبد الحمید کے پاس گئے، اور انہیں مختلف وعدے دے کر ان کی رضایت کو حاصل کرنے کی کوشش کی اور ان سے اس سرزمین کو یہودیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن چونکہ انہوں نے اس معاملے میں یہودیوں کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کیا اسی وجہ سے ان سے اس سرزمین کی حاکمیت چھین لی گئی۔
سلطان عبد الحمید چونکہ بہائیوں اور انگریزوں کے باہمی پروپیگنڈوں سے آگاہ ہو گئے تھے اس وجہ سے انہوں نے اپنی سلطنت کے خاتمے سے قبل بہائیوں کے سربراہ کے قتل اور اس کی نابودی کا حکم دے دیا۔ شوقی افندی اپنی کتاب ’قرن بدیع‘ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ عثمانی حکمران ’جمال پاشا‘ نے ’عباس افندی‘ کو جاسوسی کے جرم میں قتل کی دھمکی دی۔
اس بار بھی برطانیہ بہائیوں کی فریاد کو پہونچتا ہے اور ان کی خدمتوں کا صلہ دیتے ہوئے ’’لورڈ بالفور‘‘ فلسطین میں برطانیہ کے جنگی کمانڈر ’اللنبی‘ کو ایک خط کے ذریعے حکم دیتا ہے کہ ’عبد البہاء‘ (عباس افندی) اور اس کے خاندان کو فوج کی حمایت میں رکھے اور ہر طرح کے خطرے اور گزند سے محفوظ رکھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صہیونی ریاست کے قیام کے بعد ’عباس افندی‘ کی خدمتوں کا بدلہ دیتے ہوئے اسی برطانوی جنرل نے انہیں (sir) کا لقب دیا۔
کچھ عرصے کے بعد جب عباس افندی فوت کر جاتے ہیں تو فلسطین میں برطانوی کمیشنر اور معروف صہیونی شخصیت ’سر ہربٹ ساموئل‘ برطانیہ کی جانب سے افندی کے خاندان کو تسلیت پیش کرتے ہیں اور بذات خود افندی کے تشییع جنازہ میں شرکت کرتے ہیں۔
عباس افندی کے بعد شوقی افندی بہائیت کی سربراہی کی لگام کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور بہائیت اور صہیونیت کے درمیان تعلقات کو مزید بڑھاوا دیتے ہیں۔
ماخذ
1 – فصلنامه تاریخ معاصر ایران، بهائیت و اسرائیل: پیوند دیرین و فزاینده، شکیبا، پویا، بهار 1388، شماره 49، ص 640-513.
2- فصلنامه انتظار موعود، پیوند و همکاری متقابل بهائیت و صهیونیسم، تصوری، محمدرضا، بهار و تابستان 1385، شماره 18، ص 256-229.

 

اسرائیل کی تشکیل اور بہائیت و صہیونیت کے گہرے تعلقات

  • ۱۴۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: بہائی فرقہ اگرچہ ابتدائے وجود سے ہی یہودیوں سے وابستہ تھا لیکن یہ گہرے تعلقات اس وقت وجود میں آئے جب یہ فرقہ ’روسی زارشاہی‘ سے جدا ہوا اور برطانوی سامراج سے جڑ گیا اور اس کے بانیان نے فلسطین میں سکونت اختیار کر لی۔ خیال رہے کہ فلسطین اس دور میں برطانوی قبضے میں تھا۔ ۱۹۴۸ میں برطانوی استعماری حکومت کی کوششوں اور فرقہ ضالہ ’بہائیت‘ کے تعاون سے صہیونی ریاست تشکیل پائی۔ ہم اس مختصر تحریر میں بہائیت اور صہیونیت کے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
آپ کے لیے یہ جاننا دلچسپ ہو گا کہ ’میرزا حسین علی نوری‘ یا وہی ’بہاء اللہ‘ نے صہیونی ریاست کی تشکیل سے پہلے اپنے پیروکاروں کو یہ خوشخبری اور بشارت دی تھی کہ یہودی حکومت تشکیل پائے گی اور سرزمین موعود یعنی فلسطین میں دوبارہ بنی اسرائیل کو عزت و سربلندی حاصل ہو گی۔ یہ دعویٰ اس قدر واضح تھا کہ حتیٰ اطالوی اخباروں نے بھی اس دور میں اس خبر کو شائع کیا۔
بہاء اللہ کے جانشین ’عباس افندی‘ اپنے باپ کی طرح بعض یہودی سربراہان جیسے ’اسحاق بن زوی‘ کے ساتھ ۱۹۰۹،۱۰ عیسوی کے دوران یعنی اسرائیل کی تشکیل سے ۴۰ سال قبل ملاقاتیں کرتے رہے اور ان کے مشوروں کے ساتھ اپنی سرگرمیاں انجام دیتے رہے۔ وہ صہیونی ریاست کی تشکیل کے بارے میں اپنے ایک پیروکار ’حبیب مؤید‘ کے نام خطاب میں یوں پیش گوئی کرتے ہیں:
’’یہ فلسطین ہے، سرزمین مقدس، عنقریب یہودی قوم اس سرزمین پر واپس پلٹ آئے گی۔ اور داؤودی حکومت اور سلیمانی جاہ و حشمت قائم ہو گی۔ یہ اللہ کے سچے وعدوں میں سے ایک ہے اور اس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں۔ یہودی قوم اللہ کے نزدیک دوبارہ عزیز ہو گی اوردنیا کے تمام یہودی ایک جگہ جمع ہو جائیں گے۔ اور یہ سرزمین ان سے آباد ہو گی‘‘۔
عباس افندی روتھشیلڈ گھرانے سے بھی ملاقات کرتے تھے۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ انہوں نے حبیب مؤید کے نام ایک اور خط میں لکھا: ’’مسٹر روتھشیلڈ جرمنی کے ایک ماہر نقاش ہیں۔ انہوں نے حضور مبارک کے تمثال کی تصویر کشی کی ہے اور مجھے دعوت دی ہے کہ میں اس تصویر کے نیچے چند کلمے لکھوں اور وہ اس کا جرمنی میں ترجمہ کر کے شائع کریں‘‘۔
نیز افندی کی زوجہ ’روحیہ ماکسل‘ اپنی کتاب ’’گوہر یکتا‘‘ جو ان کے شوہر کی سوانح حیات پر مبنی ہے میں عباس افندی اور صہیونی رہنما ’موشہ شارٹ‘ کے درمیان گہرے تعلقات کا راز فاش کرتی ہیں۔
عباس افندی نہ صرف صہیونیوں کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے بلکہ ان کی عدم موجودگی میں ان کے منصوبوں کو عملی جامہ پہناتے تھے۔ مثال کے طور پر بہاء اللہ ایک عیسائی نامہ نگار کے ساتھ اپنی گفتگو میں کہتے ہیں:
"کچھ دن پہلے، ’کرمل‘ اخبار کے مالک میرے پاس آئے، تو میں نے ان سے کہا کہ اب دینی اور مذہبی تعصب کے خاتمہ کا دور ہے، انہوں نے کہا: یہودی دیگر جگہوں سے آ رہے ہیں اور یہاں زمین خرید رہے ہیں، بینک کھول رہے ہیں، کمپنیاں کھول رہے ہیں، فلسطین کو لینا چاہتے ہیں، اور اس پر سلطنت کرنا چاہتے ہیں۔
میں نے کہا: یہ اپنی کتاب میں دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سرزمین میں حکومت کریں گے، یہ اللہ کا ارادہ ہے، کوئی ان کے مقابلے میں نہیں آ پائے گا، دیکھیں سلطان حمید اس جاہ و حشمت کے ساتھ کچھ نہ کر سکے‘‘۔
مذکورہ باتوں کے پیش نظر اس بات پر یقین ہو جاتا ہے کہ بہائیوں اور صہیونی یہودیوں کے درمیان تعلقات مرزا حسین علی کے دور سے ہی موجود تھے، لیکن عباس افندی کے زمانے میں ان تعلقات میں مزید گہرائی اور گیرائی آئی۔ خیال رہے کہ عباس افندی کا زمانہ وہ زمانہ ہے جب صہیونی یہودی فلسطین میں یہودی حکومت کی تشکیل کے لیے بھرپور جد و جہد کر رہے تھے۔
منبع: فصلنامه تاریخ معاصر ایران، بهائیت و اسرائیل: پیوند دیرین و فزاینده، شکیبا، پویا، بهار 1388، شماره 49، ص 640-513.