عالمی صہیونیت کے مقابلے میں اسلام کی تزویراتی پالیسی

  • ۱۱

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کے مطابق، صہیونی یہودی دنیا کے عام افکار پر اپنا تسلط قائم کر کے پوری دنیا پر اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے پیش نظر عیسائیوں کے ساتھ انہوں نے مذہبی تعلقات برقرار کر کے ان سے کافی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ صہیونی یہودی اگر چہ اندرونی طور پر کسی بھی صورت میں عیسائیوں کے ساتھ مذہبی دوستی کے قائل نہیں ہیں لیکن بظاہر خود کو عیسائیوں کا دوست کہلواتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اسلام کا چہرہ بگاڑ کر دنیا میں پیش کریں اور عیسائیوں کو مسلمانوں سے دور کر کے اپنے قریب لانے کی کوشش کریں۔
خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر نے اسی موضوع پر میکسیکو اور اسٹریلیا میں ایران کے سابق سفیر ڈاکٹر “محمد حسن قدیری ابیانہ” کے ساتھ گفتگو کی ہے جس کا ایک حصہ یہاں پر قارئین کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
خیبر: عالمی صہیونیت کا مقابلہ کرنے یا اسے کمزور بنانے کے لیے ہمیں کیا اسٹراٹجیک اور تزویراتی پالیسی اپنانا چاہیے؟ آپ کی نظر میں کیا کون کون سے عقلی و منطقی راستے ہیں؟
۔ صہیونی یہودی مغربی ممالک میں اپنا گہرا نفوذ پیدا کر چکے ہیں۔ تقریبا کسی بھی مغربی ملک میں ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص یہودیوں کی مدد کے بغیر کسی سیاسی مقام تک پہنچ سکے۔ صہیونی عرصہ دراز سے دو تزویراتی راستوں کا پیچھا کر رہے ہیں:
الف۔ دنیا کی معیشت اور اقتصاد پر قبضہ
ب۔ میڈیا اور عام افکار پر قبضہ
افسوس کے ساتھ وہ ان دونوں راستوں میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ آج پوری دنیا مخصوصا مغربی ممالک جیسے کینیڈا، اسٹریلیا اور امریکہ کی ثروت صہیونیوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اور میڈیا بھی پرنٹ میڈیا سے لے کر بڑے بڑے ٹی وی چینلز تک سب صہیونیوں کے قبضہ میں ہیں اور اس طریقے سے انہوں نے دنیا کے عام افکار پر اپنا تسلط پیدا کر لیا ہے۔
دنیا میں صہیونیت کو کمزور بنانے کے راستے
صہیونی اپنے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے مسلمانوں کو عیسائیوں کا دشمن اور یہودیوں کا عیسائیوں کا دوست اور خیرخواہ پہچنوانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ اسلام نے حضرت مریم (ع) اور حضرت عیسی (ع) کے لیے قرآن مین کئی معجزات نقل کئے ہیں جو حتیٰ انجیل میں بھی نہیں پائے جاتے۔
کیا عیسائی معاشرے کو خبر نہیں ہے کہ قرآن کریم کا ایک سورہ جناب مریم کے نام پر ہے۔(۱) کیا عیسائیوں کو اس بات کی خبر نہیں ہے کہ یہودی جناب مریم (س) اور جناب عیسیٰ (ع) پر بالکل ایمان نہیں رکھتے؟ بلکہ یہودیوں کی نگاہ میں العیاذ باللہ حضرت عیسی حلال کی اولاد نہیں ہیں۔
عیسائیت کی نسبت اسلام اور یہودیت کا نظریہ
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے عوام کے درمیان یہ بیان کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے کہ اسلام کا عیسائیت کے بارے میں کیا نظریہ ہے اور یہودیت کا عیسائیت کے بارے میں کیا نظریہ ہے۔ ان دو موضوعات کی تبلیغ و تفسیر اس بات کا باعث بن سکتی ہے کہ مغربی معاشرے میں صہیونیت کی حقیقت کھل کر سامنے آئے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ یہ ایک اہم ترین کام اور کوشش ہے جو ہمارے لیے نتیجہ بخش ثابت ہو سکتی ہے۔
یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ یہودیت صرف ماں سے بیٹے کو میراث میں ملتی ہے (یعنی یہودی صرف وہ ہے جو یہودی ماں کے شکم سے آیا ہو)۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ خداوند عالم نے حضرت عیسی کو حکم دیا تاکہ فرعون کو دین حق کی دعوت دیں۔ اگر فرعون حضرت موسیٰ (ع) کی دعوت قبول کر لیتا تو آپ کے مریدوں میں اس کا شمار ہوتا۔ حالانکہ وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں تھا۔
یا وہ جادو گر جو فرعون کے دربار میں آئے تھے اور حضرت موسیٰ (ع) کے مقابلے میں اپنے سحر و جادو کو استعمال کرنے میں ناکام ہو گئے تھے اور آخر میں حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئے اور فرعون کی دھمکیوں کے باوجود اپنے باطل عقائد کو چھوڑ دینے پر رضامند ہو گئے، یہ جادو گر قوم بنی اسرائیل میں سے نہیں تھے لیکن دین حضرت موسیٰ (ع) پر ایمان لے آئے اور فرعون ملعون کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہودیت اصل میں کوئی قوم نہیں ہے بلکہ ایک الہی دین اور آئین تھا جو انحراف کا شکار ہو گیا۔
اس مسئلے پر جتنی زیادہ تحقیق کی جائے اور یہودیوں کے ان باطل عقائد کو برملا کیا جائے اتنا عام افکار کو یہودیوں کی نسبت آگاہ کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اس راہ میں ہم فلموں، ڈراموں اور دیگر فنکارانہ آثار سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
پیغمبر اسلام(ص) کا دنیا میں تعارف
یہودی حضرت عیسی(ع) کی آمد سے قبل حضرت موسیٰ(ع) کو اولوالعزم، صاحب شریعت اور آخری نبی مانتے تھے۔ حضرت عیسی (ع) کی آمد کے بعد کچھ یہودی آپ پر ایمان لے آئے بغیر اس کے کہ حضرت موسی (ع) پر ان کے ایمان میں کوئی خلل پیدا ہو۔
حضرت عیسی(ع) کے بعد پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔ اس بات کے پیش نظر کہ بعض یہودی حضرت عیسی(ع) پر ایمان لا چکے تھے یہ سوال پیش آتا ہے کہ کیا ان یہودیوں نے غلط کیا جو حضرت عیسی پر ایمان لائے؟ اور وہ جو حضرت عیسی کو نہیں مانتے تھے اور انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے کیا وہ راہ حق پر تھے؟ اور کیا وہ یہودی اور عیسائی جو حضرت محمد (ص) پر ایمان لائے انہوں نے غلط کیا؟ یہ بات بھی بہت اہم ہے اور ہمیں یہ ثابت کرنا چاہیے کہ پیغمبر اسلام بھی حضرت موسیٰ(ع) اور حضرت عیسی(ع) کی طرح اللہ کے پیغمبر اور خاتم الانبیاء تھے۔
عیسائیوں کے انحرافی عقائد کو چیلنج کرنا
عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی کا گوشت کھانا اور ان کا خون پینا باعث نجات ہے اور اسی بنا پر ان کے یہاں عشائے ربانی نام کی رسومات پائی جاتی ہیں(۲)۔ اسلام اور اسلام کی خالص تعلیمات ان خرافات کا دقیق اور متقن جواب دے سکتی ہیں جو عیسائیوں کی بیداری کا باعث بن سکتا ہے۔
اس کے علاوہ توریت میں کچھ ایسے موارد پائے جاتے ہیں جو عیسائیوں اور یہودیوں کے بہت سارے عقائد اور افکار کو منحرف اور باطل ثابت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر توریت میں نقل ہوا ہے: ایسا نہ ہو کہ تم منحرف ہو جاو اور خدا کو مرد، عورت یا جانور کی صورت میں تصویر کشی کرو، (۳) حالانکہ ہم کلیساوں میں خدا کو (باپ، بیٹے اور روح القدس) کی تصویر میں دیکھتے ہیں باپ کو بوڑھے مرد، بیٹے کو سلیب پر چڑھائے گئے جوان اور روح القدس کو کبوتر کی شکل میں دیکھتے ہیں!
توریت میں آیا ہے کہ بیٹے کا گناہ باپ کی گردن پر نہیں ہے، اور باپ کا گناہ بھی بیٹے کی گردن پر نہیں ہے، یہ بات کلیسا کے عقائد کے برخلاف ہے کلیسا اپنا تجارتی بازار گرم کرنے کے لیے کہتی ہے:
تمام انسان گناہگار پیدا ہوتے ہیں، کلیسا کی دلیل یہ ہے کہ انسان آدم اور حوا کی نسل سے ہیں اور چونکہ آدم و حوا گناہگار تھے لہذا تمام انسان گناہگار ہیں اور وہ اس وقت تک بہشت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ اس گناہ سے پاک نہ ہو جائیں اس وجہ سے عیسائی معاشرے میں معصوم بچے کی تعبیر غلط ہے بلکہ ان کے نزدیک دنیا کے تمام بچے گناھگار ہیں!
عیسائیوں میں “غسل تعمید” (Baptism) اسی پیدائشی گناہ سے پاک ہونے کے لیے انجام دیا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ پادری جو خود بچوں کے ساتھ بدکاری کرنے کے گناہ میں مبتلا ہو کیسے ایک انسان کو غسل تعمید کے ذریعے پاک کر کے جنت کی سند دے سکتا ہے؟
مسیحیت میں دینی علماء قدرت الہی میں شریک اور انسان اور خدا کے درمیان واسطہ ہیں۔ لیکن اسلام میں علمائے دین صرف رہنما اور رہبر کا کردار ادا کرتے ہیں۔ حالانکہ کلیسا اپنے پادریوں کے لیے اتنی زیادہ قدرت کے قائل ہیں۔ اور انہیں پیسے دے کر ان سے بخشش کی سند لے لیتے ہیں جبکہ اسلام میں بخشش صرف اللہ سے مخصوص ہے اور فقط خدا ہے جو اپنے بندے کو معاف کر سکتا ہے۔
یہودیوں کے اس عقیدے کہ یہودیت صرف ماں کے ذریعے میراث میں بیٹے تک منتقل ہو سکتی ہے پر اعتراض کرنے سے یہ مناسب فرصت فراہم ہو گی کہ ہم یہودی اور صہیونی افکار کو چیلنج کر سکیں۔
اسلام کے معجزات کا تعارف
توریت اور قرآن کریم میں لشکر فرعون کے دریائے نیل میں غرق ہونے کا واقعہ موجود ہے۔ جبکہ انجیل میں فرعون کے غرق ہونے کے حوالے سے کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآن کریم ایک ایسے نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی دوسری آسمانی کتاب میں موجود نہیں ہے۔
قرآن کریم میں آیا ہے کہ جب فرعون توبہ کرتا ہے تو خداوند عالم فرعون کی توبہ قبول نہیں کرتا بلکہ فرماتا ہے کہ میں تیرے بدن کو بچا لوں گا اور اسے محفوظ رکھوں گا تاکہ دوسروں کے لیے ہمیشہ عبرت کا نمونہ رہے، لہذا صرف قرآن کریم ہے جو فرعون کی لاش کو دریائے نیل کے ساحل پر پھینک دئے جانے کی خبر دیتا ہے۔(۴)
کچھ سال قبل ماہرین آثار قدیمہ نے مصر کے اہرام کا دورہ کیا اور وہاں فرعون کے جسد کو پایا، انہوں نے اس جسد پر تحقیقات کرنے کے لیے اسے فرانس منتقل کیا۔ تحقیقات اور مطالعات کے بعد ڈاکٹر موریس بوکائلے (Maurice Bucaille) نے اعلان کیا کہ فرعون کی موت کی وجہ دریا میں غرق ہونا تھی۔ یہ یعنی قرآن کا معجزہ۔
اسلام سے قبل توریت، انجیل اور تاریخی کتابوں میں جسد فرعون کے ساحل نیل پر پلٹا دئے جانے کا تذکرہ موجود نہیں تھا، لیکن خداوند عالم نے قرآن کریم میں پہلی بار اس واقعہ کو بیان کیا جبکہ کئی صدیاں اس واقعہ کو بیت چکی تھی اور آج جب کئی سوسال گزرنے کے بعد اس کے جسد پر تحقیق کی جاتی ہے تو قرآن کریم کی حقانیت سامنے آ جاتی ہے۔
فرانسیسی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر موریس بوکائلے کہ جو فرعون کے جسد پر تحقیقات کرنے پر مامور تھے، تحقیقات کے بعد جب اس نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں کہ فرعون کی موت دریا میں غرق ہونے کی وجہ سے واقع ہوئی تو اس نتیجے کے اعلان کے لیے وہ جدہ کا سفر کرتے ہیں اور ایک کانفرنس میں اپنے نتیجے کا اعلان کرتے ہیں۔ کانفرنس میں ان کی تقریر کے بعد قرآن کریم کی اس آیت کو پیش کیا جاتا ہے جس میں خداوند عالم نے فرعون کے غرق ہونے اور اس کے جسد کو نجات دینے کا تذکرہ کیا ہے۔ جب ڈاکٹر موریس بوکائلے اس آیت کو سنتے ہیں تو اس کانفرنس میں اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ممکن نہیں پیغمبر اسلام بغیر وحی الہی کے جسد فرعون کے ساحل نیل پر موجود ہونے کے بارے میں خبردار ہو سکیں۔
ڈاکٹر موریس بوکائلے اس واقعہ کے بعد ایک کتاب لکھتے ہیں “انجیل، قرآن اور سائنس” اور اس کتاب میں یوں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس کا سائنس انکار کر سکے اور برخلاف بہت سارے ایسے نکات قرآن میں موجود ہیں جنہیں سائنس کے ذریعے ثابت کیا جا سکتا ہے جبکہ انجیل اور توریت کے بہت سارے مطالب کی سائنس منکر ہے۔
میری پیشکش یہ ہے کہ ان مطالب کو جو جسد فرعون پر تحقیق کے حوالے سے پائے جاتے ہیں کو حاصل کریں اور اس طریقے سے قرآن کریم کے معجزات کو دنیا والوں کے لیے بیان کریں۔

 

سعودی وہابی رژیم کا خاتمہ اہل یمن کے ہاتھوں یقینی ہے/ وہابیت اور صہیونیت کے درمیان شباہتیں

  • ۲۰

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: بہت سارے دھشتگرد گروہ جو انسانی معاشروں میں خوف و دھشت پھیلا رہے ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں خونی واقعات کا ارتکاب کر رہے ہیں ان کی آئیڈیالوجی کا ڈھانچہ وہابی تفکر پر استوار ہے۔ یہ وہ گروہ ہیں جن کی نابودی پوری دنیا کا چیلنج بن چکی ہے اور ان کی سربراہی آل سعود کے پاس ہے اسی وجہ سے آج حتیٰ آل سعود کے اتحادی بھی سعودی عرب کا دفاع کرنے سے کتراتے ہیں جبکہ سعودی عرب نے ان پر کروڑوں ریال خرچ کئے ہیں تاکہ وہ اس کی کارستانیوں کے گن گاتے رہیں۔
سعودی عرب جہاں ایک طرف خفیہ طور پر دھشتگرد گروہوں منجملہ داعش، القاعدہ اور طالبان جیسوں کی حمایت کر رہا ہے وہاں دوسری طرف کھلے عام یمن میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا رہا ہے۔ اسی بنا پر ہمارے نمائندے نے یمن کے ممتاز عالم دین، انجمن علمائے یمن کے نائب سربراہ، تحریک انصار اللہ کے رہنما عبد الملک بدر الدین الحوثی کے چچازاد بھائی “علامہ عبد المجید عبد الرحمن الحوثی” کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کی ہے جس کا ترجمہ قارئین کے لیے پیش کیا جاتا ہے؛
خیبر: یہودیوں کا دنیا میں اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک اہم طریقہ کار نئے فرقوں کی ایجاد ہے انہیں فرقوں میں سے ایک وہابیت ہے جس کی سربراہی سعودی عرب کے ہاتھ میں ہے۔ آپ یہودیوں اور وہابیوں کے درمیان تعلقات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟
۔ عالمی سامراجیت کا مشرق وسطیٰ پر جب عسکری قبضہ ختم ہو گیا تو اس نے علاقے میں اپنا نفوذ باقی رکھنے کے لیے دو کٹھ پتلی حکومتیں قائم کیں اور ان کے ذریعے مشرق وسطیٰ مخصوصا دنیائے عرب اور عالم اسلام پر اپنا تسلط باقی رکھا۔ یہ دو کٹھ پتلی حکومتیں؛ ایک صہیونی ریاست ہے جس نے مسجد الاقصیٰ اور فلسطین پر ناجائز قبضہ کیا اور ملت فلسطین کو آوارہ وطن کیا اور دوسری حکومت سعودی وہابی حکومت ہے کہ جسے مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات یعنی حرمین شریفین پر مسلط کیا۔ ان دونوں ریاستوں نے گزشتہ صدی میں امریکہ اور برطانیہ کی سربراہی میں عالمی سامراجی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے اور اسلام و مسلمین کو کمزور بنانے میں کوئی لمحہ فروگذاشت نہیں کیا۔
اس کے علاوہ دشمنان اسلام کے تمام منصوبوں کو مختلف طریقوں سے علاقے میں عملی جامہ پہنایا، ایک جانب صہیونی ریاست عربی اسلامی ممالک پر اپنا ناجائز تسلط قائم کر رہی تھی تو دوسری طرف وہابی حکومت اسلام کا چہرہ بگاڑ کر مسلمانوں میں تفرقہ اندازی کا بیج بو رہی تھی۔ علاوہ از ایں، سعودی ریاست نے تکفیری وہابی افکار کا عالم اسلام کے اندر ایسا زہر گولا کہ القاعدہ، داعش اور جبہۃ النصرہ جیسے تکفیری ٹولے اس کے نتیجے میں وجود میں آئے اور دنیا میں اسلام و مسلمین کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا۔ سعودیوں کے ان اقدامات نے جتنا اسلام کو نقصان پہنچایا ہے اتنا کسی دور میں کسی ظالم حاکم نے نہیں پہنچایا اور شاید اس کے منفی اثرات صہیونی ریاست کے ظلم و ستم کی بنسبت کہیں زیادہ ہوں گے۔
خیبر: اہل سنت کے بعض گروہ شیعوں کو یہودیوں سے نسبت دیتے ہیں اور ان دونوں کو ہمفکر سمجھتے ہیں، آپ کا ان ناروا تہمتوں کے مقابلے میں کیا جواب ہے؟
۔ یہ تہمتیں تازہ اور نئی نہیں ہیں بلکہ شیعہ مخالف ناصبیوں کی جانب سے گزشتہ دور میں بھی یہ تہمتیں شیعوں پر لگائی گئیں اور عبد اللہ بن سبا کا افسانہ بنا کر پیش کیا گیا اور کوشش کی گئی کہ اس افسانے کو شیعوں اور پیغمبر و اہل بیت پیغمبر (ع) کے چاہنے والوں کی طرف منسوب کریں، لیکن یہ سب دعوے جھوٹے ہیں اور ضعیف النفس اور بیمار دل افراد کے علاوہ ان باتوں پر کوئی یقین نہیں کرتا۔ دنیا کا ہر عاقل انسان یہ جانتا ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب، یمن، حزب اللہ اور فلسطین کی تحریک مزاحمت صرف یہودیوں اور صہیونیوں کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے ہی عالمی استکبار کی سازشوں کا شکار ہے۔
وہ جنگ جو ۸ سال اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کی گئی اور اب ۴ سال سے یمن پر مسلط کی گئی ہے یہ علاقے میں یہودی صہیونی منصوبوں کی مخالفت کا نتیجہ ہے اور امریکہ کی عربی اسلامی ممالک پر مسلط کی جانے والی استعماری سیاست کو قبول نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ اگر آج تحریک مزاحمت غاصب صہیونی ریاست کو تسلیم کر کے خلیجی عرب ریاستوں کی طرح اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دے تو یقین مانیے ہمارے خلاف کوئی جنگ نہیں رہے گی سب محاصرے ختم ہو جائیں گے اور ہماری قوم پر نہ عسکری حملہ ہو گا نہ اقتصادی اور ثقافتی حملہ۔
ہم تو یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی کی اپنے اہل سنت بھائیوں کی طرف بھی نسبت نہیں دیتے جبکہ آج اہل سنت کے اکثر حکمران اسرائیل کے ساتھ دوست ہیں لیکن وہ الٹا ہم پر یہودیوں سے دوستی کی تہمت لگاتے ہیں اگر آنکھیں کھول کر دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ کون یہودیوں اور عیسائیوں کی آغوش میں بیٹھا ہے اور عالمی سامراجیت اور استکباریت کے ساتھ ہم نوالہ و ہم پیالہ ہے۔ اور کون میدان کارزار میں یہودیت اور صہیونیت کے مقابلے میں سینہ سپر ہے۔
خیبر: صہیونی ریاست اور عرب کٹھ پتلیوں مخصوصا سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی جو لہر چلی ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا تجزیہ ہے؟
صہیونی ریاست اور سعودی حکومت کے درمیان تعلقات کی جڑیں در حقیقت صہیونیت کے ساتھ وہابیت کے تعلقات کی جڑوں میں پیوستہ ہیں اور ان دو حکومتوں کی تشکیل کے ابتدائی دور سے ہی یہ تعلقات موجود تھے اگر چہ ایک زمانے تک خفیہ اور پشت پردہ تھے لیکن اب دھیرے دھیرے سامنے آ رہے ہیں۔
ان دو ریاستوں کے درمیان روابط کو معمول پر لانے یا دوسرے لفظوں میں آشکارا بنانے میں سب سے زیادہ کردار واشنگٹن کا ہے۔
روابط کو خفیہ رکھنا یا آشکار بنانا یہ ان اپنے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ یہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی ممالک کے اشاروں پر انجام پاتا ہے اور مستقبل قریب میں صہیونیت اور وہابیت کے درمیان مزید گہرے روابط کھل کر سامنے آئیں گے۔
یہ ایسے حال میں ہے کہ خداوند عالم نے قرآن میں یہود و نصارایٰ سے دوستی کو سختی سے منع فرمایا ہے:
«یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ لاَتَتَّخِذُواْ الْیَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِیَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ وَمَن یَتَوَلَّهُم مِّنکُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ»
(ایمان والو یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست اور سرپرست نہ بناو کہ یہ خود آپس میں ایکدوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی انہیں دوست بنائےگا تو انہیں میں شمار ہو جائے گا بیشک اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے)
خیبر: کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ وہابی اور یہودی فکر کے درمیان کون کون سے شباہتیں پائی جاتی ہیں اور یہ فکری شباہتیں علاقے کے حالات پر کتنا اثر انداز ہو سکتی ہیں؟
پہلی شباہت یہ ہے کہ اس فکر کی حامل دونوں ریاستیں استعماری طاقتوں کے ذریعے اسلام کے ساتھ مقابلہ کرنے کی غرض سے وجود میں لائی گئیں۔
دوسری یہ کہ یہ دونوں عالم اسلام اور دنیائے عرب میں عالمی استکبار کی پالیسیوں کے نفاذ کا اصلی مہرہ ہیں۔
تیسری یہ کہ دونوں انتہا پسند دینی نسل پرستی کی آئیڈیالوجی کی بنا پر تشکیل پائی ہیں جس کا مقصد دھشتگردی پھیلانا اور علاقے میں ہمیشہ جنگ و جدال کی کیفیت جاری رکھنا ہے۔
چوتھی شباہت یہ ہےکہ یہ دونوں حکومتیں دنیائے عرب پر اپنا قبضہ جمانے اور پھر پوری دنیا میں اپنا نفوذ پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
علاقے میں ان دونوں کے اثرات کے حوالے سے گزارش کروں کہ گزشتہ دور میں عربی و اسلامی قومیں ان دونوں ریاستوں کے خطرات سے آگاہ نہیں تھیں تو اس بنا پر خصوصا وہابی تفکر علاقے میں کافی اثرانداز ہوا لیکن مجھے یقین ہے کہ دھیرے دھیرے قومیں بیدار ہو رہی ہیں حقائق کھل کر سامنے آ رہے ہیں اور قبلہ اول، مسئلہ فلسطین اور اب صدی کی ڈیل جیسے مسائل میں ان دونوں ریاستوں کے باہمی تعلقات سے علاقے کے عوام باخبر ہو رہے ہیں لہذا اسلامی اور عربی دنیا میں ان کا نفوذ دھیرے دھیرے ختم ہوتا جا رہا ہے اور یہ نکتہ آغاز ہے ان دو خبیث ریاستوں کی نابودی اور خاتمے کا۔
تفکیری وہابی رژیم کی نابودی انشاء اللہ یمن سے شروع ہو چکی ہے اور یمن کے عوام وہ لوگ ہیں جو خداوند متعال کی نصرت سے اسلام اور مسلمین کو سعودی اور اسرائیلی ظلم و ستم سے نجات دلا کر دم لے گی۔
یہ میرے سچے نبی کا فرمان ہے کہ آپ نے فرمایا: (انی لأجد نفس الرحمن من قبل الیمن) میں یمن کی جانب سے نفس رحمان کا احساس کر رہا ہوں۔ (إذا هاجت الفتن فعلیکم بالیمن) اگر فتنے تمہیں گھیر لیں تو یمن کی طرف رخ کرنا۔ لہذا اہل یمن علاقے سے شیاطین کے ٹھکانوں کو نابود کر کے سانس لیں گے اور انشاء اللہ بہت جلد وہابی اور یہودی تفکر کی حامل ریاستوں کا علاقے سے خاتمہ ہو جائے گا۔

 

صدی کی ڈیل سیاسی نہیں شیطانی منصوبہ ہے: رحمان دوست

  • ۳۰

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کے نامہ نگار نے “دفاعی کمیٹی برائے ملت فلسطین” کے سیکرٹری جنرل اور محقق استاد “مجتبیٰ رحمان دوست” سے صدی کی ڈیل کے موضوع پر ایک خصوصی گفتگو کی ہے جس کا ترجمہ قارئین کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
خیبر: صدی کی ڈیل کے منصوبے اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے پیش کئے گئے دیگر منصوبوں میں اہم ترین فرق کیا ہے؟
۔ سب سے پہلے اس بات پر توجہ کرنا چاہیے کہ ‘صدی کی ڈیل’ کا نام بہت ہی چالاکی اور ہوشیاری سے انتخاب کیا گیا ہے۔ در حقیقت یہ منصوبہ ایسا منصوبہ ہے جو ممکن ہے موجودہ صدی کا سب سے بڑا منصوبہ ہو۔ چنانچہ اگر یہ منصوبہ من و عن نافذ ہو جاتا ہے تو یقینا تمام مذاکرات، تمام قراردادوں اور دیگر سیاسی واقعات کو متاثر کر دے گا۔
دوسرا اہم نکتہ صدی کی ڈیل کے بارے میں یہ ہے کہ یہ منصوبہ اس شخص کی شخصیت کے ساتھ بھی گہرا رابطہ رکھتا ہے جس نے یہ منصوبہ پیش کیا ہے یعنی ٹرمپ کی شخصیت سیاسی مسائل سے زیادہ ایک تجارتی شخصیت ہے اور صدی کی ڈیل کا زیادہ تر تعلق سیاست کے بجائے اقتصاد اور معیشت سے ہے۔
اہم ترین چیز اس منصوبے میں یہ ہے کہ اگر یہ عملی جامہ پہن لیتا ہے تو فلسطینیوں کا حق واپسی بطور کلی منتفی ہو جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی نسبت نگاہ کچھ یوں ہے کہ وہ افراد جو اصالتا فلسطینی ہیں لیکن فلسطینی سرزمین سے باہر دنیا میں آئے ہیں وہ فلسطینی پناہ گزیں شمار نہیں ہوتے۔ اس نظریے کے تحت اس بات کے پیش نظر کہ فلسطین ۷۰ سال قبل صہیونیوں کے زیر قبضہ واقع ہوا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کی نظر میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد بہت کم اور انگشت شمار ہے۔
کلی طور پر فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ صہیونی ریاست اور امریکہ کے نزدیک بہت اہم مسئلہ ہے۔ اور اسرائیل و امریکہ ہمیشہ اس کوشش میں رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے پناہ گزینوں کے مسئلہ کا حل نکال کر حق واپسی پر خط بطلان کھینج دیں۔ “اسلو” معاہدے کے بعد تمام مذاکرات میں اسرائیل کبھی بھی حاضر نہیں ہوا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حوالے سے کسی ایک شق کو قبول کرے۔
خیبر: صدی کی ڈیل کے مضمون کو چھپائے رکھنے میں امریکہ کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟
۔ اس معاملے اور منصوبے کے شیطانی ہونے کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ ابھی تک امریکہ اور اسرائیل نے اس منصوبے کے مضمون کو مکمل طور پر شائع نہیں کیا۔ اور ابھی تک جو چیزیں اس کے حوالے سے سامنے آئیں ہیں وہ ظن و گمان پر مبنی ہیں۔
امریکہ اور صہیونی ریاست کو چاہیے کہ پہلے اس کے مضمون کا اعلان کریں اور اس کے بعد دنیا کے اہل نظر اس پر نقد و تنقید کریں اس کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کریں۔ لیکن وہ ایسا نہیں کر رہے ہیں اور اس کے مضمون کو خفیہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور تحریک مزاحمت کی پالیسی بالکل اس معاملے کے خلاف ہے اور وہ اس بات کا انتظار نہیں کریں گے کہ امریکہ اس کے جزئیات سے ہمیں آگاہ کرے تو ہم کوئی اقدام کریں اور اپنا موقف اختیار کریں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کا صدی کی ڈیل کے حوالے سے موقع بہت دقیق اور اصول پسند ہے۔ اس لیے کہ کوئی بھی منصوبہ جو مسئلہ فلسطین کے حوالے سے امریکہ اور صہیونیوں کے ذریعے تیار کیا جائے گا وہ فطرتا اسرائیل کے فائدے میں ہو گا اور اس میں فلسطین کے مظلوم عوام کے لئے کسی حق کو پیش نظر نہیں رکھا ہو گا۔ لہذا ایران اور مزاحمتی تحریک نے اس کے اعلان سے قبل ہی رسمی طور پر اس کی مخالفت کا اظہار کیا ہے اور اس کے خلاف موقف اپنایا ہے۔
خیبر: کچھ جزئیات جو سامنے آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس منصوبے کے بانی فلسطینی عوام کو اردن منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اردن کی حکومت اس کام کے لیے رضامند ہو گی؟
۔ بہت سارے اردنی اصل میں فلسطینی ہیں اور اگر غزہ اور فلسطین کے عوام کو اردن میں منتقل کر دیا جائے تو بظاہر عوام کی جانب سے کوئی مخالفت سامنے نہیں آئے گی۔ اردن کی حکومت اس بات کے مخالف ہے۔ اس لیے کہ اگر فلسطینیوں کو اردن منتقل کر دیا جائے گا تو اردن میں اکثریت فلسطینیوں کی ہو جائے گی اور فطرتا آبادی کے اعتبار سے اردن فلسطین بن جائے گا۔
خیبر: صدی کی ڈیل کے انجام کو آپ کس نظر سے دیکھ رہے ہیں؟
۔ صدی کی ڈیل کے حوالے سے تاحال شائع ہونے والی جزئیات قطعی طور پر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہیں اور انسانی فطرت اور حب وطن جیسے مفاہیم سے منافات رکھتی ہیں اس کے علاوہ اس منصوبہ کے ذریعے فلسطینی ہویت کو مٹایا جا رہا ہے۔
لہذا ان تمام باتوں کے پیش نظر صدی کی ڈیل قابل نفاذ منصوبہ نہیں ہے البتہ دشمنان فلسطین اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی پوری توانائی صرف کر رہے ہیں۔ لیکن انشاء اللہ تحریک مزاحمت کی جد و جہد اس شیطانی منصوبے کو ناکام بنا کر رکھ دے گی۔

 

سینچری ڈیل منصوبے کی شکست کے لیے پانچ عملی اقدامات

  • ۱۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے نامہ نگار نے فلسطین علماء کونسل کے ترجمان اور مشاورتی کمیٹی کے سربراہ شیخ ’محمد صالح الموعد‘ کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کی ہے جسے قارئین کے لیے پیش کیا جاتا ہے؛
خیبر: حالیہ دنوں بحرین میں اقتصادی کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا جا رہا ہے جو امریکی منصوبے صدی کی ڈیل کے نفاذ کے لیے مقدمہ کہی جا رہی ہے۔ آپ کی نظر میں اسلامی عربی معاشرے کو اس منصوبے سے مقابلے کے لیے سیاسی، ثقافتی، عسکری اور سفارتی اعتبار سے کیا اقدامات انجام دینا چاہیے؟
۔ صدی کی ڈیل کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر کافی تلاش و کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا سب سے پہلی چیز اسلامی عربی اتحاد ہے جو اس منصوبے کے مد مقابل تشکیل پانا چاہیے۔ دوسرے بین الاقوامی سطح پر کانفرنسیں کرنے کی ضرورت ہے۔ تیسرے سینچری ڈیل کے مخالف گروہوں کو جگہ جگہ احتجاجی جلسے جلوس نکال کر اپنا موقف ظاہر کرنا چاہیے۔ چوتھے یہ کہ علمائے دین کو صہیونی ریاست کے ساتھ روابط برقرار کرنے کی حرمت پر فتاوا دینا چاہیے۔ تمام علمائے دین کو اس کے خلاف موقف اپنانا چاہیے۔ یہ چیز کافی موثر ثابت ہو گی۔ پانچویں یہ کہ اسلامی عربی امت اعتراض آمیز حرکات انجام دے، اور صرف مذمت کرنے پر اکتفا نہ کرے۔ سوشل میڈیا سے لے کر سڑکوں تک ہمیں اس اقدام کے خلاف اعتراض کرنا چاہیے۔ ملت فلسطین بھی اس راستے میں مکل تیاری رکھتی ہے اور واپسی ریلیوں کے ذریعے صہیونیوں کے مقابلے میں کھڑی ہے۔ فلسطینیوں کی اس راہ میں حمایت کرنے کی ضرورت ہے۔
خیبر: امریکہ نے صہیونی ریاست کے تحفظ کے لیے مقبوضہ گولان پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا اور اسرائیلی حکام نے بدلے میں ان پہاڑیوں کا نام ٹرمپ کے نام پر رکھ دیا، آپ کا ان ظالمانہ اقدامات کے خلاف کیا رد عمل ہے؟
۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ جو اقدام بھی صہیونی دشمن کے فائدے میں انجام پائے گا وہ فلسطین پر کاری ضربت ہو گی اور ہم صہیونیوں کے اس وسعت طلبانہ نقشے کو قبول نہیں کر سکتے۔ یہ نہ صرف فلسطین کی زمینوں کو واپس نہیں کر رہے ہیں بلکہ عربی سرزمینوں جیسے گولان شام کا حصہ ہے پر بھی غاصبانہ قبضہ جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صہیونیوں نے گولان پہاڑیوں کا نام ٹرمپ رکھ کر ان کے عمل کی جزا دینا چاہی ہے لیکن شام کے عوام انہیں اس کام کی اجازت نہیں دیں گے وہ قومی اور اسلامی اتحاد کے ذریعے گولان پہاڑیوں کو واپس لے لیں گے۔ اسی طرح فلسطینی بھی غزہ پٹی، مغربی کنارے اور ۱۹۴۸ کی دیگر فلسطینی اراضی کو واپس لیں گے اور دشمن کو اس ملک سے نکال باہر کریں گے۔ یہ جنگ نسلوں کی جنگ ہے اور دشمن کا ہماری زمینوں میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔
خیبر: کیوں امریکہ نے سینچری ڈیل کے نفاذ کے پہلے مرحلے میں مسئلہ اقتصاد کو مرکزیت دی اورامریکہ اس طریقے سے ظاہر کر رہا ہے کہ گویا وہ فلسطینیوں کی اقتصادی مدد کرنا چاہتا ہے؟
۔ اس کانفرنس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے جو سینچری ڈیل کے لیے مقدمہ قرار دی گئی ہے۔ اس لیے کہ اس کا مقصد فلسطینی عوام کے حقوق دلوانے کے بجائے مسئلہ فلسطین کو خاتمہ دینا ہے۔ ہم اس کانفرنس میں شرکت کی مذمت کرتے ہیں اور اس میں شرکت کو فلسطین، قرآن، اسلام اور خون شہدا کی نسبت خیانت جانتے ہیں۔ ٹرمپ اس کانفرنس کے عناوین کو دلچسپ بنا کر اس کے مقاصد پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کانفرنس کا اصلی مقصد مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا ہے۔ ہماری اپیل ہے کہ تمام عالم اسلام اور عرب، فلسطینیوں کا ساتھ دیں اور اس کانفرنس کی مذمت میں اپنی صدائے احتجاج بلند کریں۔
خیبر: سینچری ڈیل کی مخالفت ایسا عامل ہے جس سے تمام فلسطینی گروہوں میں اتحاد پیدا ہو چکا ہے۔ آپ اس وحدت کو امریکی صہیونی سازشوں کے مقابلے کے لیے کیسا محسوس کرتے ہیں؟
۔ ہم اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے صہیونی سازشوں کے مقابلے میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔ ماہ مبارک رمضان کے شروع میں صہیونیوں کے خلاف کچھ کاروائیاں انجام پائیں جو ان کی پسپائی کا سبب بنیں اور ایک بڑی کامیابی ہمیں حاصل ہوئی۔ دشمن فلسطینیوں کے اتحاد اور ان کی متحدانہ کاروائیوں سے خوف کھا گیا اور یہ وحدت دشمن سے مقابلے کے لیے بہت ضروری ہے۔ اور دوسری جانب فلسطینیوں کے حقوق کی بازیابی کے لیے واپسی ریلیاں بہت ہی حائز اہمیت ہیں۔ ہمارا شعار صہیونی دشمن کا مقابلہ ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ عربوں، مسلمانوں نیز اسلامی جمہوریہ ایران سب کو یکسو موقف اپنانا چاہیے تاکہ سینچری ڈیل کو شکست سے دوچار کر سکیں۔ اگر چہ یہ جنگ طولانی جنگ ہے لیکن حق صاحبان حق کو مل کر رہے گا۔
خیبر: بہت بہت شکریہ

 

تکفیری افکار کی ترویج میں عالمی صہیونیت کا کردار

  • ۲۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: وہابی اور تکفیری افکار اور گروہوں کو وجود میں لانے اور انہیں شیعت کے خلاف استعمال کرنے میں عالمی صہیونیت کا کیا کردار رہا ہے اس کے بارے میں حجت الاسلام و المسلمین حدادپور جہرمی کے ساتھ خیبر ویب گاہ کے نمائندے نے ایک گفتگو کی ہے جو قارئین کے لیے پیش کی جاتی ہے۔
خیبر: وہابیت کو وجود میں لانے اور وہابی فکر کو ترویج دینے میں صہیونیت کا کیا کردار رہا ہے اس کے بارے میں کچھ بیان کریں۔
۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، اس موضوع پر ہم نے پہلے بھی گفتگو کی ہے اور اسی ویب سائٹ پر اسے شائع بھی کیا گیا میں اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے اس سوال کے جواب کو پانچ حصوں میں عرض کرنا چاہوں گا۔
شیعہ سنی اتحاد استکباری طاقتوں کی سب سے بڑی پریشانی
۱۔ شیعہ سنی معاشرے پر نگاہ دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل سنت کا چہرہ بہت ہی مطمئن، برادرانہ اور غیر انقلابی ہے، غیر انقلابی ہونے سے مراد ایران کا اسلامی انقلاب نہیں ہے بلکہ انقلاب سے مراد قیام اور تحریک ہے۔ اسی وجہ سے اہل سنت کبھی بھی شیعوں کے مقابلے میں کھڑے نہیں ہوئے۔ البتہ شیعہ و سنی علمائے دین ایک دوسرے کے ساتھ مکاتبات کرتے رہے ہیں اور یہی چیز ان دو گروہوں کے مشترکہ دشمنوں کے لیے ہمیشہ خطرے کی گھنٹی رہی ہے۔
۲۔ اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان اتحاد مشترکہ دشمن کے لئے سب سے بڑا خطرہ رہا ہے لہذا دشمنوں نے اس خطرے کو دور کرنے کے لیے شیعوں اور سنیوں کے درمیان دوگروہوں کو جنم دیا تاکہ ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کریں۔ شیعوں کے درمیان بہائیوں اور اہل سنت کے درمیان وہابیوں کو جنم دیا۔
وہابیت اہل سنت کا نقلی چہرہ
وہابیت در حقیقت انقلاب اور حکومت کے جذبے کے ساتھ اہل سنت کا ایک نقلی اور بناوٹی چہرہ ہے۔ لہذا نقلی چہرے نے اسلحہ اٹھایا اور حکومت کی تشکیل کے لیے جد و جہد شروع کی اور بین الاقوامی سیاسی میدان میں داخل ہوئے۔
۳۔ اہل سنت سے سامراجیت، یہودیت، عیسائیت اور صہیونیت کو کوئی خطرہ نہیں تھا، ابھی بھی یہی صورتحال ہے، اور اہل سنت کی تعداد بڑھنے یا گھٹنے سے ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لہذا یقینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہابیت اور بہائیت کو صرف اس لیے جنم دیا گیا تاکہ شیعوں کو کمزور بنا سکیں۔ اس لیے کہ بہت سارے اہم اور موثر مفاہیم جیسے جہاد، امربالمعروف، نہی عن المنکر، عدل و انصاف کا قیام، سامراجیت کا مقابلہ، انقلاب، مستضعفین کی حکومت وغیرہ سب شیعہ مکتب فکر کا حصہ ہیں۔
لہذا یہ کہنا صحیح ہے کہ وہابیت ہو یا بہائیت ہو دونوں گروہوں کو شیعت کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا اور اس مسئلے کا شیعہ سنی اتحاد سے کوئی تعلق نہیں اس لیے کہ شیعہ سنی اتحاد طول تاریخ میں اپنی جگہ مسلّم رہا ہے اور یہ گروہ اسی اتحاد کی رسی کو پارہ پارہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
وہابی طرز تفکر میں مفہوم شہادت
۴۔ دشمنوں کی کوشش رہی ہے کہ شیعت کے مقدس ترین مفاہیم جیسے شہادت میں تحریف پیدا کریں اور ان کا اصلی چہرہ بگاڑ کر رکھ دیں۔ مفہوم شہادت ایسا مقدس مفہوم ہے جو استقامت، پائیداری اور انتظار کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ شہادت کو دوسرے لفظوں میں شیعت کی تسبیح کے دھاگے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ اس لیے کہ تمام ائمہ طاہرین درجہ شہادت پر فائز ہوئے ہیں لیکن اہل سنت کے ائمہ میں سے کوئی ایک بھی شہید نہیں ہوا۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اہل سنت بھی اس حقیقت سے آشنا ہیں اور لفظ شہید کو شیعوں کے لیے، امام علی علیہ السلام اور خصوصا امام حسین علیہ السلام کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر اہل سنت کا فقہی مبنیٰ یہ ہو کہ شہید وہ ہوتا ہے جو میدان جنگ میں شہید ہو یا تلوار سے شہید ہو تب بھی اہل تشیع کے ائمہ ہی اس مفہوم کے مصادیق قرار پائیں گے لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مفہوم شہادت اہل تشیع سے ہی مخصوص ہے۔
لیکن دشمنوں نے یہ کوشش کی کہ شہادت کے مفہوم کو عقل و منطق اور فقہی مبانی سے دور کر کے اسے دوسرے فرقوں میں بھی عام کردیں۔ نتیجہ کے طور پر ہر دھشتگرد کو، ہر طرح کے قاتلانہ حملے میں مرنے والے کو، خودکش حملہ کرنے والے کو یا اس طرح کی دھشتگردانہ کاروائیوں میں ہلاک ہونے والے کو شہید کا نام دے کر اسے سعادت اور جنت کے بشارت دے دیں۔
خیبر: ان باتوں کے پیش نظر یہ بتائیں کہ عالمی صہیونیت کس حد تک شیعت کے مقدسات کا چہرہ بگاڑنے میں کامیاب ہوئی ہے؟
۔ عالمی صہیونیت نے شیعت کے مقدس مفاہیم کو بگاڑنے کی بہت کوشش کی لیکن جتنی انہوں نے کوشش کی اتنا کامیاب نہیں ہوئے آپ اسی مفہوم شہادت کو لے لیں انہوں نے کتنی کوشش کی کہ عراق و شام میں ہلاک ہونے والے تکفیریوں کو شہید کا لقب دیں اور اس مقدس مفہوم کا چہرہ مسخ کر دیں۔ لیکن میں پوری تحقیق کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ صرف چند ایک وہابی علما اس بات کے معتقد ہیں کہ عراق و شام میں ہلاک ہونے والے تکفیری شہید ہوئے ہیں لیکن اہل سنت کے اکثر بزرگ علما کا ماننا ہے کہ ان لوگوں کا خون رائیگاں گیا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں کوئی شیعہ عالم دین تکفیریوں کے مقابلے میں جانیں قربان کرنے والے شیعہ مجاہدوں کے خون کے رائیگاں جانے کا قائل نہیں ہے بلکہ سب کا ان کی شہادت پر اتفاق ہے۔
حقیقی تشیع کو مٹانے کے لیے تکفیری تشیع کے ایجاد کی کوشش
۵۔ پانچویں اور آخری بات جو گفتگو کا ایک نیا باب ہے اور اس موضوع پر مستقل گفتگو کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے پاس بہت دقیق معلومات ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل میں کچھ ایسے دینی مدارس اور تحقیقی مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ تشیع کے نام سے ایک نیا فرقہ وجود میں لایا جائے۔
اس لیے کہ اہل سنت کے اندر وہابیت اور اہل تشیع کے اندر بہائیت جیسے فرقے پیدا کر کے وہ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچے اور ان منصوبوں میں دشمن بری طرح سے ناکام ہوئے ہیں لیکن اب جو فرقہ ایجاد کیا جا رہا ہے وہ تکفیری تشیع کا ہے افراطی تشیع کا ہے، یعنی شیعت کے اندر ایک ایسا گروہ پیدا کیا جائے جو عقلانیت سے دور ہو اور احساسات و جذبات کی بنا پر انتہا پسندی کی جانب آگے بڑھے۔ میں پورے یقین سے کہتا ہے کہ فرقہ یمانی، فرقہ سرخی اور فرقہ شیرازی انہیں کوششوں کا نتیجہ اور انہیں مراکز کی پیداوار ہیں۔
یمانی، سرخی اور شیرازی فرقے عالمی صہیونیت کے تازہ ترین ہتھکنڈے
حال حاضر میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان تین فرقوں نے پوری ہم آہنگی کے ساتھ تین الگ الگ جگہوں پر اپنی سرگرمیاں شروع کر لی ہیں، فرقہ سرخی نے عراق میں، فرقہ یمانی نے ایران میں اور فرقہ شیرازی نے یورپ اور کچھ مرکزی شہروں جیسے قم، مشہد، کربلا اور نجف میں۔
آج دشمن ان تین فرقوں کو مضبوط بنانے میں انتھک کوشش کر رہا ہے اور شیعوں کے اصلی مراکز کے اندر ان کا نفوذ پیدا کر رہا ہے یعنی ممکن ہے کہ آپ کو حوزہ علمیہ قم اور حوزہ علمیہ نجف کے اندر بھی ان افکار کے حامل لوگ مل جائیں۔
لہذا اگر ہم مذکورہ ان پانچ نکتوں کو ایک دوسرے کے کنارے رکھ کر دیکھیں گے تو آپ اس نتیجہ تک پہنچے گے کہ صہیونیت کے شر سے نجات اللہ کی آخری حجت کے ظہور تک ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ رہبر انقلاب اسلامی کی پیش گوئی کے مطابق صہیونیت کا اصلی گڑھ یعنی اسرائیل نابودی کی طرف گامزن ہے لیکن صہیونی فکر کا دنیا سے خاتمہ نہیں ہو گا یہ جنگ امام زمانہ (عج) کے ظہور تک جاری رہے گی۔
خیبر: بہت بہت شکریہ

 

فلسطینی مزاحمتی گروہ کس طرح صہیونی منصوبوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں

  • ۲۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ

العالم: فلسطینی گروہ کس سطح پر اپنی کارروائیاں کر سکتے ہیں؟
پہلی بات یہ ہے کہ فلسطینی سیاسی، قانونی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے حقوق کا دفاع کر سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ ہم ان فلسطینیوں کی بات کر رہے  ہیں جن کے پاس کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا ہے ایسے میں وہ لوگ جن کے پاس کچھ بچا ہی نہیں وہ اپنا دفاع کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور کوئی انہیں روک بھی نہیں سکتا۔

العالم: کرونا کے دور میں صہیونی ریاست کی اندرونی صورتحال اور حکومت کی تشکیل کے حوالے سے اختلافات اور پھر انتخابات کے مسائل، ان سب چیزوں کو آپ کس تناظر سے دیکھتے ہیں؟

صہیونی حکومت کی داخلی صورتحال اس قدر متزلزل ہے کہ آنے والے ہفتوں میں یہ پیش گوئی کی جارہی ہے کہ اس حکومت کی موجودہ پارلیمنٹ تحلیل ہوجائے گی اور انتخابات دوبارہ ہوں گے، جبکہ نیتن یاہو اور اس کے اہل خانہ پر بدعنوانی، غبن اور چوری کے سخت الزامات عائد اور دستاویزات جاری ہو چکے ہیں۔ چونکہ صہیونی اندرونی طور پر متعدد مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں اور ایک حکومت اور کیبنٹ تشکیل دینے پر قادر نہیں ہیں لہذا نیتن یاہو عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کا ڈھونگ رچا کر ملک میں اپنی حیثیت دوبارا واپس لانا چاہتے ہیں۔

العالم: اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات اور مسئلہ فلسطین کے مستقبل کو کس زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہیں فلسطینی قوم کی جد و جہد کا کچھ پرامید مستقبل آپ کو نظر آ رہا ہے؟

میں فلسطین کے مستقبل کے بارے میں بہت پر امید ہوں ، ایک ایسا فلسطین جو سات دہائیوں سے مزاحمت کرسکتا ہے، وہ آئندہ بھی کرے گا اور آج اسرائیل اپنے اندرونی بحرانوں کی زد میں ہے۔ امریکہ کا کوئی منصوبہ جس کے لیے انہوں نے تمام تر توانائی صرف کر دی فلسطین میں عملیانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ آج فلسطین میں مزاحمت بہت مضبوط ہو چکی ہے۔  کچھ ایسی نشانیاں موجود ہیں جن کے پیش نظر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی نمائشی حرکتوں کے باوجود صہیونی ریاست اندر سے بکھر رہی ہے۔ نیتن یاہو کشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کے ذہنوں کو ادھر ادھر موڑیں، آج ہم اس اسرائیل کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں جو کئی میٹر چوڑیں دیواروں کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ مقبوضہ اسرائیل کے نام سے ایک جیل پائی جاتی ہے جس میں اسرائیلی قید ہیں ہم مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے تمام انسانوں چاہے وہ یہودی ہوں عیسائی ہوں یا مسلمان سب کے حقوق کا احترام کرتے ہیں لیکن وہ جو لوگ بن بلائے مہمان ہیں اور فلسطینی عوام کا قتل عام کر کے جعلی حکومت تشکیل دے کر برسر اقتدار آئے ہیں ہم انہیں تسلیم نہیں کر سکتے۔ ان تمام سنگین نتائج کے باوجود جو اس موقف کے بدلے میں ہمیں چالیس سال سے بھگتنا پڑے ہیں ہم آج بھی ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرتے ہیں کہ ہم فلسطینی عوام، فلسطینی کاز اور فلسطینی مزاحمت کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

جیسے جیسے ہم پر پابندیوں کا دباؤ بڑھتا جائے گا ، خطے میں مزاحمت کے لئے ہماری حمایت کا دباؤ بھی بڑھتا جائے گا،  قدس و فلسطین کی آزادی اور اسے امت اسلامیہ کو تحفہ دینے کے لیے ، ہم نے سردار جنرل سلیمانی نامی عظیم شخصیت کا خون عطیہ کیا۔ ہم اس راستے کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک صہیونی خطے سے اپنی جعلی حکومت کی بساط لپیٹ نہیں لیتے اور جہاں وہ ماضی میں تھے وہاں پلٹ نہیں جاتے ، اس راہ میں امت اسلامی اور مزاحمت پوری طاقت کے ساتھ ملت فلسطین کے ہمراہ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی اور انشاء اللہ دیر نہیں لگے گی کہ قدس کی آزادی کا اعلان ہو گا۔

 

عرب امارات اسرائیل سے مل کر علاقے میں کیا کھیل کھیلنا چاہتا ہے؟

  • ۱۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ
 

العالم: ایسا لگتا ہے کہ متحدہ عرب امارات ، 18 ویں صدی کے پرتگالیوں کی طرح ، یمن سے لے کر صومالیہ و لیبیا  وغیرہ تک ایک الجزائری اسمبلی کے قیام کا خواہاں ہے ، کیا آپ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اگر جواب ہاں میں ہے تو ، کیا ان کا یہ خواب پورا ہو سکتا ہے؟

متحدہ عرب امارات نے تجارت اور معیشت کے میدان میں ہمارے خطے میں اچھی پیشرفت کی ہے اور اپنا نام کمایا ہے، لیکن علاقائی معاملات میں عسکری حوالے سے ایک غلط اسٹریٹجک کا مرتکب ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ، وہ خطے کی مختلف جنگوں میں مداخلت کرکے یا علاقے میں تنازعہ کھڑا کر کے اس میدان میں بھی اپنا وجود ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اماراتیوں نے مصر، لیبیا، یا یمن حتیٰ کہ بحرین اور شام میں بھی مداخلت کر کے اپنے پیسے کے زور سے ان ملکوں کے حالات اپنے مفاد میں بدلنے کی کوشش کی۔ لیکن بدقسمتی سے اس میدان میں امارات کا کردار منفی رہا اور اسے کبھی بھی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ ہم تو ہمیشہ اماراتیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ علاقے میں مثبت کردار ادا کریں جو علاقے کی سالمیت کے لیے مفید ہو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ دوستی اور تعاون کا ہاتھ بڑھائیں۔ بجائے اس کے کہ سرطانی پھوڑے یعنی صہیونی ریاست کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھائیں۔ امارات کے اس اقدام سے اس ملک کا مستقبل بہت برا ہو گا۔ اور فلسطینی ان کی اس خیانت کے مقابلے میں کبھی خاموش نہیں ہوں گے۔
آج وہ دور نہیں ہے کہ انور سادات نے کیمپ ڈیوڈ کا معاہدہ کر دیا اور فلسطینی کچھ نہ بول سکے، آج معاملہ بہت پیچیدہ ہے اور حالات بہت خطرناک ہیں۔ میں اپنے اماراتی دوستوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ انورسادات کی سرنوشت پر ایک نظر دوڑا لیں اور مسلمانوں اور فلسطینیوں کے مقاصد کے مقابلے میں اپنے کردار کی اصلاح کر لیں۔
اماراتی عوام گذشتہ دو یا تین دہائیوں سے خطے میں نسبتا اچھی معاشی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں ، لیکن انہوں نے حالیہ دنوں جو غلطی کی ہے وہ یقینا ایک اسٹریٹجک غلطی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ صہیونی حکومت کے خفیہ رابطوں کے ذریعہ دھوکہ کھا چکے ہیں ، اور امریکیوں کے دباؤ میں، انہوں نے اس طرح کی حرکت اور غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جو غلطی محمد بن زید نے کی ہے محمد بن راشد اس کی تکرار نہیں کریں گے، اور متحدہ عرب امارات کی حکومت کی باڈی میں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو اس اسٹریٹجک غلطی کو درست کرسکتے ہیں اور اس غلط راستے سے پیٹھ پھیر سکتے ہیں۔ بہرحال متحدہ عرب امارات نے صہیونی حکومت کے ساتھ اپنی سکیورٹی سے سمجھوتہ کیا ہے، کیونکہ اسرائیلی جہاں بھی قدم رکھتے ہیں بدامنی کو تحفے میں ساتھ لاتے ہیں۔

اماراتیوں نے خلیج فارس کی سلامتی اور خطے سے توانائی کی منتقلی کی سلامتی کو خطرہ میں ڈالا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اسلامی جمہوریہ ایران سمیت اپنے ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہے۔ جب سے متحدہ عرب امارات نے اپنے تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا ، تب سے ایران اور خطے میں موساد جاسوس سروس اور اس سے وابستہ افراد کی طرف سے کوئی خفیہ یا آشکارا واقعہ کا جواب امارات کو دینا ہو گا۔  

 

ایران کے خلاف کسی بھی اسرائیلی اقدام کا جواب امارات کو دینا ہو گا: امیر عبد اللھیان

  • ۲۴


خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: بین الاقوامی امور میں پارلیمانی اسپیکر کے معاون خصوصی نے کہا: " خطے میں اسرائیلی انٹیلیجنس سروس موساد اور اس سے وابستہ افراد کی طرف سے ایران اور علاقے میں کسی بھی خفیہ یا آشکارا اقدام کا جواب صہیونی ریاست کو ہی نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کو دینا ہو گا۔
العالم کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں پارلیمنٹ اسپیکر کے خصوصی معاون حسین امیر عبداللھیان نے خطے میں رونما ہونے والے تازہ ترین واقعات خصوصا اسرائیل امارات معاہدے اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ صہیونی ریاست کے تعلقات پر گفتگو کی ہے۔
بین الاقوامی امور میں اسپیکر کے معاون خصوصی کا خیال ہے کہ صہیونی ریاست کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے معاہدے کی تلخ حقیقت، جسے ہمارا ملک دیکھنا نہیں چاہتا ہے، وہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات امریکیوں کے ماتحت ہے اور جو کچھ ہوا ہے اس کا ایک حصہ ابھی سامنے آیا ہے. اور ان میں سے کچھ تلخ واقعات جو پیش آئے وہ متحدہ عرب امارات کا آزادانہ فیصلہ نہیں تھا اور ان امریکی اور صہیونی دباؤ کی وجہ سے تھا کہ امارات اس طرح کی ذلت کا شکار ہوا اور فلسطینی قوم کے خلاف اس غداری کا ارتکاب کیا۔
العالم: بنیادی طور پر خارجہ پالیسی کے معاملے میں متحدہ عرب امارات کو کتنا آزاد سمجھا جاسکتا ہے؟ کیونکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات خارجہ پالیسی میں امریکی خارجہ پالیسی کا تابع ہے۔

میں اپنی ملازمت کے تقاضوں کی وجہ سے اکثر متحدہ عرب امارات کے عہدیداروں سے گفتگو کرتا رہا ہوں، بدقسمتی سے، متحدہ عرب امارات 8 سال پہلے ایک غلط فہمی کا شکار ہوا اور وہ یہ کہ وہ سمجھتا تھا کہ وہ خلیج فارس کے چھے ملکوں میں سب سے بلندتر اور طاقتور ہے یہاں تک کہ وہ سعودیوں سے بھی خود کو برتر سمجھتا ہے۔

میں نے ایک مرتبہ ایک اعلی اماراتی عہدیدار سے پوچھا کہ آپ کو کس چیز نے یمن کے ساتھ جنگ میں جانے کی ترغیب دلائی، اور کیا یمن جو ایک مضبوط اور گہری تاریخ والا عرب ملک ہے اس کے ساتھ آپ کا یہ طرز عمل صحیح تھا؟ اس اماراتی عہدیدار نے مجھے جواب میں کہا کہ ہم یمن میں سعودی گھوڑوں کا استعمال کریں گے، لیکن ہمیں یقین ہے کہ آخر میں یمن کی جنگ میں متحدہ عرب امارات کی جیت ہو گی نہ سعودی عرب کی۔ تب میں نے کہا کہ یمن کی جنگ کے فاتح اس ملک کے مظلوم عوام ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دبئی اور ابوظہبی کے شیشے کے محلوں نے ان کو غرور میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور اسی غرور نے انہیں یمن کے خلاف جنگ میں داخل کیا اور اب اسی غرور کی وجہ سے وہ صہیونیوں کے ساتھ میں مل بیٹھے ہیں۔
صہیونی حکومت کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے معاہدے کی تلخ حقیقت جو ہم دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے وہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات امریکیوں کے جوتوں کے نیچے آچکا ہے اور جو کچھ بھی تک ہوا ہے وہ امریکیوں کے منصوبے کا ایک حصہ ہے، ان تلخ واقعات میں متحدہ عرب امارات آزادانہ فیصلہ نہیں لے سکا، اور امریکی اور صہیونی دباؤ کی وجہ سے وہ اس طرح کی ذلت کا نشانہ بنے ہیں اور فلسطینی قوم کے خلاف اس خیانت کا ارتکاب کر بیٹھے  ہیں۔

العالم: متحدہ عرب امارات کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی تعریف کیسے کی جاسکتی ہے؟ کیا محمد بن سلمان اور محمد بن زائد کے درمیان سخت کمپیٹیشن محسوس نہیں ہو رہا ہے؟
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پرانی نسل کے حکمران روایتی طور پر بزرگوں اور پڑوسیوں کا احترام کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، متحدہ عرب امارات میں محمد بن زید اور سعودی عرب میں محمد بن سلمان کے عروج کے ساتھ ، انہوں نے ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔ بن زید نے ان برسوں کے دوران امریکیوں اور مغرب کے خلاف محمد بن سلمان کے ایک مثبت کردار کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے، لہذا بن سلمان سعودی عرب میں ولی عہد کی حیثیت سے اپنا منصب مستحکم کرنے میں بن زید کا مقروض ہے۔ اسی دوران، کچھ علاقائی معاملات میں، دونوں محمد ایک ساتھ کھڑے ہو گئے، لیکن سب سے اہم موڑ جہان یہ دونوں اکٹھے ہوئے ہیں وہ یمن کے خلاف جارحیت ہے۔ ۔اماراتی حکمران بھی جنوبی یمن میں اپنے مفاد اور استعماری اہداف کی فراہمی کے خواہاں ہیں۔

 

یہود و نصاریٰ کے ساتھ سیاسی تعلقات قرآن کریم کی رو سے

  • ۳۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: آغاز اسلام کے دور کے اہم ترین مسائل میں سے ایک مسئلہ پیغمبر اکرم (ص) کا یہود و نصاریٰ کے ساتھ برتاو تھا جس کی طرف قرآن کریم کی بعض آیتوں میں اشارہ ہوا ہے۔ آغاز اسلام میں پیغمبر اکرم(ص) پوری طاقت و توانائی کے ساتھ یہود و نصاریٰ کا مقابلہ کرتے تھے اور کبھی بھی ان کے سامنے اپنی کمزوری کا اظہار نہیں کیا۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آپ (ص) ایسا نہ کرتے تو یہود و نصاریٰ کی سازشیں اور فتنہ انگیزیاں اسلام کو سخت نقصان پہنچاتیں۔
اس موضوع کے حوالے سے ہم نے حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر محسن محمدی سے گفتگو کی ہے امید ہے کہ قارئین کرام کے لیے مفید واقع ہو گی۔
س۔ قرآن کریم میں سیاسی موضوعات کی کیا اہمیت ہے؟ کیا بطور کلی قرآن کریم کو سیاسی زاویہ نگاہ سے بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے یا صرف اخلاقی اور عقیدتی اعتبار سے ہی قرآن کریم کو دیکھنا چاہیے؟
قرآن کریم کتاب ہدایت ہے۔ انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوئی ہے اور اس سلسلے میں مختلف مسائل جن میں ثقافتی، اخلاقی، عقیدتی حتیٰ سیاسی بھی شامل ہیں کی طرف قرآن کریم میں اشارہ ہوا ہے۔ قرآن کریم کبھی تاریخ حقائق کو بیان کرتا ہے، کبھی حیوانوں کی سادہ مثالیں پیش کرتا ہے، کبھی بہت گہری اور دقیق مثالیں بھی دیتا ہے۔ جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ لاَیَسْتَحْیی اَن یَضْرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا؛ اللہ اس بات میں شرم محسوس نہیں کرتا کہ وہ مچھر یا اس سے بھی کمتر کی مثال پیش کرے۔
قرآن کریم تاریخ کی کتاب نہیں ہے لیکن تاریخی مثالیں اور داستانیں بیان کرتا ہے۔ انسانی زندگی میں ہدایت کا ایک پہلو، سیاسی پہلو ہے کہ قرآن کریم نے اس کے بارے میں بھی مثالیں پیش کی ہیں۔ اس لیے کہ انسانی معاشرہ ایسا معاشرہ ہے جس میں سیاسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ قرآن میں صرف اخلاقی موضوعات کو بیان کیا گیا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے سیاسی مسائل کی طرف بھی قرآن کریم میں اشارات ملتے ہیں۔
س۔ قرآن معجزہ ہے لہذا سیاسی مسائل کا قرآن کے اعجاز سے کیا تعلق ہے؟
قرآن کریم کا اعجاز دو طرح کا ہے ایک قرآن کریم فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے معجزہ ہے جو اس کے الفاظ و ادبیات سے مربوط ہے۔ دوسرا قرآن کریم مطالب اور مفاہیم کے اعتبار سے بھی معجزہ ہے۔ اگر چہ ظاہر قرآن بھی معجزہ ہے لیکن اس فصیح و بلیغ کتاب میں موجود مطالب بھی اپنی گہرائی اور گیرائی کے اعتبار سے معجزہ ہیں۔
اعجاز ہونے کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس کے مطالب نئے، تازہ اور بدیع ہیں۔ اگر چہ قرآن کریم ۱۴ سو سال قبل نازل ہوا لیکن ابھی بھی اس کے مطالب تازہ محسوس ہوتے ہیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ گویا آج ہی نازل ہوئے ہیں۔
اب یہ دیکھنا ہے کہ کیا کچھ اہم سیاسی مسائل جن سے آج ہمارا معاشرہ روبرو ہے قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں یا نہیں؟ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ قرآن کریم کی آیتوں کی روشنی میں کیا ہم اسلامی معاشرے کے سیاسی مسائل کا تجزیہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ مثال کے طور پر آج کے ہمارے معاشرے کا اہم ترین مسئلہ، جوہری معاہدہ یا ہمارے اوپر لگائی گئی ظالمانہ پابندیاں ہیں جن کا براہ راست تعلق یہود و نصاریٰ سے ہے۔ اس موضوع کو ہم آغاز اسلام میں بھی درپیش آئے مشابہ مسائل سے تجزیہ و تحلیل کر سکتے ہیں جن کے پیچھے بھی یہود و نصاریٰ کا تھا۔ در حقیقت یہ ایک اعتبار سے قرآنی گفتگو بھی ہے اور ایک اعتبار سے تاریخی بھی۔ اور آغاز اسلام کے مسائل اور اس دور میں بھی مسلمانوں پر لگائی گئی اقتصادی پابندیوں کو آج کے مسائل سے ناطہ جوڑ کر بخوبی یہ تجزیہ کر سکتے ہیں کہ جب بھی حقیقی اسلام نے سر اٹھایا تو یہود و نصاریٰ نے اسے کچلنے کی کوشش کی۔
اس حوالے سے قرآن کریم سورہ مائدہ کی ۵۱ اور ۵۲ آیتوں میں مسلمانوں کی بہترین رہنمائی کرتا ہے ارشاد ہوتا ہے:
«یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُودَ وَالنَّصَارَىأَوْلِیَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِیَاءُ بَعْضٍ وَمَن یَتَوَلَّهُم مِّنکُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ؛
“اے ایمان والوں یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست اور سرپرست نہ بناو کہ یہ خود آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی انہیں دوست بنائے گا تو ان ہی میں شمار ہو جائے گا بیشک اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے۔”
آیت نے کھلے الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست اور سرپرست نہ بناو یعنی ان کے ساتھ معاملات میں خود کو کمزور مت سمجھو، البتہ آیت یہ نہیں کہتی کہ یہود و نصاریٰ کے ساتھ گفتگو اور مذاکرات نہ کرو، ان کے ساتھ بالکل تعلقات نہ رکھو، بلکہ آیت میں تاکید اس بات پر ہے کہ ان کے مقابلے میں خود کو ضعیف مت سمجھو یعنی اگر تم انہیں اپنا سرپرست بنا لو گے تو تم ان کے سامنے کمزور اور ضعیف ہو جاو گے اور وہ تمہارے سر پر سوار ہو جائیں گے لہذا ان کے مقابلے میں خود کو قوی اور مضبوط کرو۔
آیت نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ بَعْضُهُمْ أَوْلِیَاءُ بَعْضٍ؛ یہ ایک دوسرے کے سرپرست اور ولی ہیں ایک دوسرے کے دوست ہیں اگر تم یہ سوچو کہ ہم عیسائیوں سے دوستی کر لیں گے اور وہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے یہ غلط ہے یہود و نصاریٰ دونوں ایک ہیں بظاہر ممکن ہے ان کے بھی آپس میں اختلافات ہوں لیکن تمہارے ساتھ دشمنی کے مقام پر دونوں یک مشت ہیں۔
اس آیت نے ہمارے لیے موقف واضح کر دیا ہے کہ ان کے ساتھ اپنی گفتگو اور مذاکرات میں یہ پیش نظر رہے کہ وہ تمہارے دشمن ہیں اور دشمن کو دشمن سمجھ کر اس سے گفتگو کرنا چاہیے، پوری ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ ان سے گفتگو کرنا چاہیے تاکہ تمہیں کبھی وہ دھوکا نہ دے دیں، تمہارے اوپر سوار نہ ہو جائیں۔
اس کے بعد اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے: وَ مَن یَتَوَلَّهُم مِّنکُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْإِنَّ؛ جو بھی تم میں سے ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا ان ہی میں سے ہو جائے گا۔ یہ بہت ہی اہم نکتہ کی طرف اشارہ ہے اگر تم نے دشمن پر بھروسہ کر لیا تو تم بھی دشمن کی صف میں شامل ہو جاو گے۔ دشمن دشمن ہوتا ہے اس پر اعتماد کرنے والا اسلامی معاشرے سے دور ہو جاتا ہے۔ آیت یہ سمجھا رہی ہے کہ یہ بہت خطرناک موقع ہے یہاں پر لغزش اور گمراہی کا بہت امکان ہے۔ اگر دشمن کی باتوں میں آگئے اور اس پر بھروسہ کر لیا تو دشمن کی صف میں شامل ہو جاو گے۔ اور آخر میں ہے کہ «إِنَّ اللَّـهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ؛ خدا ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا۔
س۔ کیا قرآن کریم میں ایسے مسلمانوں کے حوالے سے بھی کچھ بیان ہوا ہے جو دشمن پر بھروسہ کر بیٹھتے ہیں اور حکم خدا کی خلاف ورزی کر دیتے ہیں؟
قرآن کریم بعد والی آیت یعنی سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۵۲ میں اسلامی معاشرے کی فضا کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بعض مسلمان دشمنوں کے مقابلے میں کیسا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: «فَتَرَى الَّذِینَ فِی قُلُوبِهِم مَّرَضٌ یُسَارِعُونَ فِیهِمْ یَقُولُونَ نَخْشَى أَن تُصِیبَنَا دَائِرَةٌ؛ “پیغمبر آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ دوڑ دوڑ کر ان کی طرف جا رہے ہیں اور یہ عذر بیان کرتے ہیں کہ ہمیں گردش زمانہ کا خوف ہے”۔
آیت کا یہ کہنا ہے جن لوگوں کا ایمان کمزور ہے وہ جلدی یہود و نصاریٰ کی باتوں میں آ جاتے ہیں اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیوں تم نے اتنا جلدی دشمن کی باتوں پر بھروسہ کر لیا تو کہتے ہیں: «یَقُولُونَ نَخْشَى أَن تُصِیبَنَا دَائِرَةٌ؛ ہم گردش زمانہ سے ڈرتے ہیں۔ یا آج کی زبان میں کہا جائے کہ ہم پابندیوں سے ڈرتے ہیں۔ ایسے افراد کا ایمان ضعیف ہوتا ہے خدا پر ایمانِ کامل نہیں رکھتے۔ ایسے افراد کا کہنا ہے کہ دشمن ہمیں نقصان پہنچائے گا، ہم اس سے گفتگو کرنے جاتے ہیں مذاکرات کرنے جاتے ہیں تاکہ ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچائے کبھی ہمارے اوپر حملہ نہ کر دے کبھی ہمارے اوپر پابندیاں نہ عائد کر دے۔
آیت اس کے بعد مسلمانوں کو دلاسہ دیتی ہے اور فرماتی ہے: «فَعَسَى اللَّـهُ أَن یَأْتِیَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَیُصْبِحُوا عَلَى مَا أَسَرُّوا فِی أَنفُسِهِمْ نَادِمِینَ؛ پس عنقریب خدا اپنی طرف فتح یا کوئی دوسرا امر لے آئے گا تو یہ اپنے دل کے چھپائے ہوئے راز پر پشیمان ہو جائیں گے۔
آیت کا یہ حصہ مسلمانوں سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ خدا سے ناامید نہ ہوں خدا اپنی طرف سے کچھ ایسا کرے گا کہ ان کی مشکلات حل ہو جائیں گی تم اپنی مشکلات کے حل کے لیے دشمن کی طرف مت جانا دشمن تمہاری مشکلات حل نہیں کر سکتا بلکہ مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
اور جن لوگوں کا ایمان کمزور ہے اور جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ دشمن کے ساتھ خفیہ قرار دادیں باندھتے ہیں لیکن بعد میں جب ظاہر ہوتا ہے تو پشیمان ہوتے ہیں۔ فَیُصْبِحُوا عَلَى مَا أَسَرُّوا فِی أَنفُسِهِمْ نَادِمِینَ؛
یعنی بعض لوگ جب معاشرے پر دشمن کی طرف سے دباو پڑتا ہے تو یہود و نصاریٰ کے ساتھ خفیہ تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بعد میں جب یہ تعلقات کھل کر سامنے آتے ہیں تو شرمندہ اور پشیمان ہوتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ دشمن پر کبھی بھی بھروسہ نہ کرنا، اس کے ساتھ گفتگو کرنے میں اس بات کی طرف توجہ رکھنا کہ وہ تمہارا دشمن ہے اور دشمن کبھی بھی تمہارا نفع نہیں چاہے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی کی بین الاقوامی روابط کے حوالے سے بالکل یہی پالیسی ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہے کہ دشمن کی باتوں پر بھروسہ نہیں کرنا اس گفتگو کر سکتے ہیں لیکن اس کے سامنے دب کر نہیں، خود کو کمزور سمجھ کر نہیں۔ آپ ایک طرف سے معاہدے کے احترام پر تاکید کرتے ہیں اور دوسری طرف سے عہد شکن کے ساتھ سخت رویہ اپناتے ہیں، یہ دونوں نکات قرآن کریم کی روشنی میں ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ عہد شکنوں کے ساتھ سختی سے پیش آو، اور اگر انہوں نے عہد شکنی کر دی تو تم اپنے مفادات کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا۔
رہبر انقلاب کے فرمودات کوئی ان کے ذاتی نظریات نہیں ہیں بلکہ قرآنی مبنیٰ پر قائم ہیں۔ آپ نے متعدد بار کہا کہ ہم قدس کے غاصب اسرائیل کہ جسے ہم تسلیم نہیں کرتے کے علاوہ ہر کسی سے گفتگو کرتے ہیں۔ لیکن گفتگو میں ہمارے ہوش و حواس سالم رہنا چاہیے، ہوشیاری سے کام لینا چاہیے کسی کو دشمن سے دوستی اور محبت کی تمنا نہیں ہونا چاہیے۔ دشمن کا کام دشمنی کرنا ہے یعنی دشمنی کا تقاضا ہی فتنہ افکنی، مکاری اور ضرر رسانی ہے لہذا ہمیں ہوشیاری سے کام لینا چاہیے اور اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر گفتگو کی میز پر بیٹھنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

 

مکالمہ/واقعہ کربلا میں یہود و نصاریٰ کا کردار

  • ۶۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: تاریخ اسلام کے تلخ واقعات مخصوصا واقعہ کربلا کے پیچھے یہود و نصاریٰ کے خفیہ کردار پر اس لیے شک نہیں کیا جا سکتا کہ یزید ایک عیسائی ماں کا بیٹا تھا اور عیسائی پادریوں ’’یوحنا‘‘ اور ’’سرجیوس‘‘ نے اس کی تربیت کی تھی اور انہوں نے یزید کو اس طریقے سے پروان چڑھایا تھا کہ وہ بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر خلافت مسلمین کی مسند پر بیٹھ جائے لیکن خلافت کی اصلی لگام یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں رہے وہ خلافت کی اونٹنی کو جدھر موڑنا چاہیں موڑ سکیں۔ سرجیوس نے جب دیکھا کہ مرگ معاویہ کے بعد اسلامی حکومت کی لگام امام حسین (ع) اور اہل بیت رسول(ع) کے ہاتھ میں جا رہی ہے اور کوفیوں نے امام علیہ السلام کو اسلامی معاشرے کی رہبری کی دعوت دے دی ہے تو اس نے یزید کو امام حسین (ع) کے قتل پر آمادہ کر دیا اور کوفے کے پرآشوف ماحول کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے یزید کو پیشکش دی کہ عبید اللہ بن زیاد کو کوفے کا گورنر مقرر کرے۔(۱)
واقعہ کربلا میں یہود و نصاریٰ کے کردار کے حوالے سے ادیان و مذاہب کے محقق و ماہر حجۃ الاسلام و المسلمین سید محمد رضا طباطبائی کے ساتھ ایک گفتگو قارئین کے لیے پیش کی جاتی ہے:
س: واقعہ عاشورا میں یہود و نصاریٰ کے کردار پر مختصر وضاحت کریں۔
اسلام کے ابتدائی دور میں یہود و نصاریٰ کا کیا کردار تھا اور پھر عصر امام حسین (ع) خصوصا واقعہ کربلا میں یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا رول ادا کیا؟ یہ بہت ہی تفصیلی گفتگو ہے لیکن ہم یہاں پر صرف چند نکات کی طرف اشارہ کریں گے۔
قرآن کریم نے واضح لفظوں میں یہود و نصاریٰ کی اسلام دشمنی سے مسلمانوں کو آگاہ کیا ہے: لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِینَ آمَنُوا الْیَهُودَ وَالَّذِینَ أَشْرَکُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَى، ذلِکَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیسِینَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا یَسْتَکْبِرُونَ (المائدة: ٨٢)
(آپ دیکھیں گے کہ صاحبان ایمان سے سب سے زیادہ عداوت رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور ان کی محبت سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان میں بہت سے قسیس اور راہب پائے جاتے ہیں اور یہ متکبر اور برائی کرنے والے نہیں ہیں۔)
قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کے تئیں سب سے زیادہ عداوت رکھنے والے یہودی ہیں پھر مشرک اور نصرانی یعنی عیسائی۔
س؛ کیا امام حسین (ع) کے زمانے میں یہودی اور عیسائی کے دھڑے اور ٹولے اسلام کے خلاف کافی فعال تھے؟
۔ امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں کچھ ایسے عیسائی ٹولے اسلامی معاشرے میں گہرا نفوذ رکھتے تھے جو اس زمانے کے یہودیوں سے متاثر تھے۔ یعنی وہ عیسائی جو یہودیوں کے ساتھ جڑے ہوئے تھے اور یہودی انہیں پس پردہ حمایت کر رہے تھے بطور کلی اس دور کے عیسائی چند گروہوں میں بٹے ہوئے تھے:
۱: ایک گروہ جو خود کو سخت دیندار ظاہر کرتا اور اپنے دین کے تئیں انتہائی متعصب تھا یہاں تک کہ کبھی کبھی خود پیغمبر اسلام (ص) کو بھی نصیحت کرنے پہنچ جاتا تھا یہ وہ گروہ تھا جو عیسائیوں کی ممتاز شخصیتوں پر مشتمل تھا۔ یہ گروہ پیغمبر اکرم(ص) پر ایمان نہیں لایا لیکن آپ کے لیے احترام کا قائل تھا۔ اور مسلمانوں کو آزار و اذیت نہیں پہنچاتا تھا۔ اس گروہ کے بارے میں کافی واقعات تاریخ میں موجود ہیں کہ یہ لوگ مزین اور فاخر لباس کے ساتھ پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتے تھے لیکن پیغمبر انہیں اجازت نہیں دیتے تھے۔
۲: حق طلب عیسائی گروہ جو عیسائیوں کے بعض عوام تھے ان میں سے اکثریت نے پیغمبر اکرم (ص) کی حقانیت کا مشاہدہ کرنے کے بعد اسلام قبول کر لیا انہیں میں سے ایک وہب ہیں جو کربلا میں امام حسین (ع) کے ہمراہ شہید ہوئے۔
۳: تیسرا گروہ عیسائیوں کا وہ لوگ تھے جو دنیا کے حریص تھے انہیں زیادہ تر اپنی دنیا داری سے مطلب تھا وہ اسلام کی مخالفت بھی کرتے تھے تو اپنے دنیوی مفاد کی خاطر لیکن جب ان کے دنیوی مفادات خطرے میں پڑ جاتے تو اسلام کے مقابلے سے ہاتھ کھینچ لیتے جیسے نجراں کے نصاریٰ، مباہلے میں انہوں نے جب محسوس کیا کہ اگر پیغمبر اسلام(ص) کے مقابلے میں ڈٹے رہیں گے تو ان کی نابودی یقینی ہو جائے گی تو مباہلے کے بغیر فرار کر گئے۔ اس گروہ میں سے کچھ افراد ایسے تھے جو مسلمانوں کے اندر گہرا نفوذ رکھتے تھے ان کا مقصد اسلام کو مٹانا نہیں تھا بلکہ اسلام میں تحریف ایجاد کرنا تھا اسلام کو اس کے اصلی راستے سے منحرف کرنا تھا اسی وجہ سے انہوں نے پیغمبر اکرم(ص) کے بعض اکابر صحابہ کے درمیان اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنا اور انہیں اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد خلفائے راشدین کو برسر اقتدار لانے میں ان کی زحمتیں رائگاں نہیں گئیں۔
۴: اس درمیان ایک چوتھا گروہ بھی تھا جو عیسائیوں اور یہودیوں کا مشترکہ گروہ تھا۔ یہ پیغمبر اسلام(ص) کو اپنا دشمن اور آپ کو یہودیت اور عیسائیت کی نابودی کا باعث سمجھتا تھا۔ مشرکین مکہ کو پیغمبر اکرم(ص) کے خلاف جنگوں کے لئے ابھارنا ان کا کام تھا۔ اور اسی گروہ کے کچھ عناصر امیر شام کے مشیر تھے جو انہیں امیر المومنین علی علیہ السلام کے خلاف بغاوت پر اکساتے اور جنگوں میں امیر شام کی پشت پناہی کرتے تھے یزید بن معایہ کی تربیت میں ان کا گہرا کردار تھا اور اسی طرح واقعہ کربلا کے پسِ پردہ اور اصلی مہرے یہی لوگ تھے۔
س: کیا یزید کے نصرانی وزیروں کو بھی اس واقعہ میں ملوث مانا جا سکتا ہے؟
جی! میں گفتگو کو اسی رخ کی طرف لانا چاہ رہا تھا۔ یہود و نصاریٰ کے اس مشترکہ گروہ کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ امیر شام کے بیٹے یزید کی تربیت کرنا تھا۔ یا دوسرے لفظوں میں کہوں کہ امیر شام کے بعد آنے والے مسلمانوں کے خلفاء کی تربیت کرنا تھا جو انہوں نے کیا۔ میں آپ کو اس کی ملموس مثال پیش کرتا ہوں۔ سالہا قبل ایک ’’جوزف ولف‘‘ نامی ایک عیسائی پادری جس کا باپ یہودی تھا اور وہ خود نسل پرست عیسائیوں میں سے تھا، ایران کے صوبے فارس اور شیراز میں آیا۔ ۱۸۲۴ء میں یہ پادری ایران بوشہر میں وارد ہوا اور تہران، شیراز، کاشان اور کئی دیگر شہروں کا اس نے دورہ کیا۔ اور ان تمام شہروں میں موجود یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ اس نے ملاقاتیں کیں۔ اس نے پورے ایران پر اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لئے ایک انتہائی باریک اور خطرناک منصوبہ بنایا۔ آپ جانتے ہیں اس نے کیا کیا؟ اس نے وہی طریقہ اپنایا جو اس کے اجداد نے عصر امام حسین (ع) میں اپنایا۔ جس طریقے سے انہوں نے یزید کو تربیت کر کے مسند خلافت مسلمین پر بٹھا دیا تاکہ اسلام کی شبیہ بگاڑ کر رکھ دے اسی طرح اس شخص نے میرزا ابراہیم شیرازی نامی ایک شخص کو خود سے قریب کیا اسے تربیت کی اور میرزا ابراہیم شیرازی کو دربار شاہی سے جوڑا اور وہ بعد میں بادشاہ کے بیٹے کا خصوصی معلم قرار پایا وہ بیٹا جو بعد میں ایران کا شاہ بن گیا!
خود میرزا ابراہیم شیرازی کی ایک عیسائی عورت سے شادی کروائی جو ہالینڈ کی تھی اور اس سے ’جان‘ نامی بیٹا پیدا ہوا جو بعد میں تہران میں برطانیہ کی سفارت میں منشی اول کے عنوان سے کام کرتا رہا۔ کہنے کا مطلب یہ کہ کسی مملکت کی اہم ترین شخصیت کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے اس طرح سے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔
س۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کہ یزید عیسائی ماں کا بیٹا تھا کیا یہ بات صحیح ہے؟
جی ہاں، یزید کی ماں عیسائی تھی ’میسون‘ اس کا نام تھا معاویہ نے یزید کی ماں کو اپنے دربار سے نکال کر اس کے قبیلے میں واپس بھیج دیا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے غلام سے ناجائز تعلقات رکھتی تھی اور یزید بھی انہیں ناجائز تعلقات کا نتیجہ تھا جو میسون اپنے غلام سے رکھتی تھی۔
یزید کی دائیاں بھی عیسائی تھیں۔ میسون کا تعلق بنی کلاب قبیلے سے تھا، بنی کلاب عیسائی تھے۔ میسون ’بجدل کلبی‘ کی بیٹی تھی۔ بجدل کلبی خود بھی عیسائی تھی اور اس کا غلام بھی عیسائی تھا جو میسون کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرتا تھا یزید کا معلم بھی ادبیات عرب کا ایک ماہر شخص تھا جس کا نام ’اخطل‘ تھا۔ آپ غور کریں کہ یزید کو پورے ایک عیسائی ماحول میں تربیت ملی اور ایک خاص اہداف کے تحت اسے پالا پوسہ گیا، اسے رزم و بزم کے تمام اصول سکھائے گئے شراب خواری، میمون بازی، زناکاری، موسیقی اور ناچ و گانا اسکی عادت بنایا گیا، لیکن اسلام نام کی کوئی چیز اس نے اپنے دور تربیت میں نہیں سنی۔ یہی وجہ تھی کہ مرگ معاویہ کے بعد جب وہ مسند خلافت مسلمین پر بیٹھتا ہے تو یہی کہتا ’ماجاء نبی و لا وحی نزل‘ معاذ اللہ نہ کوئی نبی آیا اور نہ کوئی وحی نازل ہوئی۔
س: کیا آپ ان مقاصد کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں جن کے تحت یہود و نصاریٰ نے یزید کی اس طرح تربیت کی؟
۔ کچھ مقاصد کی طرف گزشتہ گفتگو میں اشارہ کر چکا ہوں۔ یہود و نصاری کے نزدیک قوم پرستی اور نسل پرستی کا مسئلہ اہم مسئلہ ہے۔ وہ قوم جو نسلی حکومت کی قائل ہے اور کسی دوسری کی حکمرانی کو قبول نہیں کر سکتی۔ یقینا اگر آخری پیغمبر جناب اسحاق کی نسل سے ہوتے تو اس دور کے نسل پرست یہود و نصاریٰ دوسرے انداز میں ان تاریخی واقعات کے ساتھ پیش آتے۔ اس صورت میں وہ جنگیں اور وہ کینہ و حسد نہ ہوتا۔ لیکن خداوند عالم نے تاریخ اس طریقے سے رقم کی کہ مختلف قوموں کو منزل امتحان میں قرار دیا جا سکے۔ آپ قرآن کریم کو دیکھیں۔ مگر یہودی کتنے تھے کہ اتنی آیتیں قرآن کریم میں یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ چھے ہزار آیتوں میں سے تقریبا ۲ ہزار آیتیں یہود و نصاریٰ کے بارے میں ہیں۔ کیوں انہیں اتنی اہمیت دی گئی۔
انہیں مسائل کی وجہ سے اور پیغمبر اکرم(ص) کی تاریخ میں ان کی خطرناک سازشوں کی وجہ سے تاکہ مسلمان اس قوم اور اس کی اسلام مخالف سازشوں اور پروپیگنڈوں سے آگاہ رہیں۔ فرصت نہیں بچی کہ مطالب کو اور زیادہ واضح بیان کرتا۔ لیکن خواہش کرتا ہوں کہ ’سرجیوس‘ کے بارے میں قارئین مزید تحقیق کریں کہ اس نے دربار معاویہ و یزید میں کیا کچھ کیا؟
یہ کہ کیوں پیغمبر اکرم(ص) کے گرانقدر صحابی جناب ابوذر غفاری کو دربار عثمان میں صرف ایک اعتراض کی بنا پر جلاوطن کر کے ربذہ بھیج دیا جاتا ہے؟ یہ کہ کسی بھی حکومت میں اہم ترین عہدہ خزانہ داری کا ہوتا ہے، معاویہ کے دور حکومت میں خزانہ دار کون شخص تھا؟ کیوں عبید اللہ بن زیاد کو سرجیوس یا سرجون کے مشورے کے مطابق کوفہ کا گورنر بنایا جاتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ وہ سوالات ہے جن پر غور کرنے سے واقعہ کربلا میں یہود و نصاریٰ کی پیوست جڑیں مزید واضح نظر آتی ہیں۔
بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت ہمارے اختیار میں دیا۔
(1) http://jscenter.ir/judaism-and-islam/jewish-intrigue/3406