عراق اور شام میں داعش “بھڑوں کا گھونسلا” نامی آپریشن کی پیداوار

  • ۲۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: افسوسناک ہوگی یہ بات ان کے لئے جنہوں نے گذشتہ سات سالہ عرصے میں داعش کے لئے سب کچھ کیا، اور اس کے لئے نعرے لگائے، اس کی حمایت کی اور اس کو  اسلام کی نمائندہ تنظیم گردانا، کیونکہ داعش اسلام کی نمائندہ تنظیم نہیں بلکہ امریکی، برطانوی اور یہودی خفیہ ایجنسیوں کی پیداوار تھی۔
جب بھی کہیں ان کی شکست کی خبر آئی بالخصوص جنوبی ایشیا میں صف ماتم بچھ گئی اور داعش مار قوتوں پر اسلام دشمنی کے الزامات لگائے گئے، جبکہ داعش اسلام کی نمائندہ تنظیم نہیں تھی لیکن اگر پھر بھی یہ لوگ اس کو اسلام سے جوڑتے ہیں تو پھر انہیں اپنے “اسلام” کا جائزہ لینا ہوگا۔۔۔۔ کیونکہ شک نہیں ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور یہودی ریاست نے بھی اس کو اسلامی ریاست کا نام دیا تھا یا یوں کہئے کہ انھوں نے “اسلام کی نئی تعریف” نکالی تھی اور بےشک داعش کی حقیقت جان کر بھی اس کو اسلامی تنظیم قرار دینے والے اسی اسلام کے تابع ہونگے جو “بھڑوں کا گھونسلا” نامی کاروائی سے برآمد ہوا تھا۔ شیطان یقینا خدا اور رسول کا نام لے کر اور ان کے احکامات کے نفاذ یا ان کی خوشنودی کے حصول پر زور دے کر مسلمانوں کے دلوں میں وسوسہ انگیزی کرتا ہے۔
ایڈورڈ اسنوڈن (Edward Snowden) (1) کو کون نہیں جانتا جس نے امریکہ کی بہت ساری خفیہ دستاویزات شائع کردیں اور اس کی خفیہ نگرانیوں اور ریشہ دوانیوں سے پردہ اٹھایا۔ اسی جناب اسنوڈن نے ۲۰۱۴ع‍ میں این ایس اے ((National Security Agency) کی وہ دستاویز بھی شائع کردی جس سے ثابت ہوا کہ داعش کو یہود و نصاری (امریکہ اور اسرائیل) نے بنایا تھا۔
ڈیریک سانگ (Derek Tsang) ایک رپورٹ کے ضمن میں اسنوڈن کے انکشافات کی طرف اشارہ کیا ہے اور لکھا ہے: ایڈورڈ اسنوڈن نے این ایس اے کی دستاویز فاش کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے بقول “عراق اور شام کی اسلامی حکومت” (داعش) کو امریکہ اور اسرائیل (یہودی ریاست) نے تشکیل دیا ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “حیرت کی بات نہیں ہے کہ دیکھا جائے کہ اسنوڈن کا نام اس مشہور تصور سے جوڑا جائے کہ امریکہ اور یہودی ریاست نے داعش کی تخلیق کی ہے۔ ۱۶ جولائی ۲۰۱۴ع‍ کو بحرین کے گلف ڈیلی نیوز نے رپورٹ دی کہ ایڈورڈ اسنوڈن نے فاش کیا ہے کہ برطانوی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں اور اسرائیلی موساد نے مل کر کام کیا اور مل کر داعش کی بنیاد رکھی۔ اس کاروائی کا نام ان کے کہنے کے مطابق “بھڑوں کا گھونسلا” “Hornet’s Nest” تھا۔ اور حال ہی میں ۱۸ا اگست ۲۰۱۸ع‍ کو فلسطینی اتھارٹی نے اصرار کیا ہے کہ داعش نے امریکہ اور اسرائیل کی صہیونی سازش سے جنم لیا ہے۔ اسی اثناء میں امریکہ نے [بظاہر] عراق میں داعش پر ایک ہفتے سے مسلسل بمباری کرتا رہا ہے اور یہ رویہ اس دعوے کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ نہیں ہے۔
لکھاری نے ان معلومات کو محض الزام قرار دیا ہے اور اوباما کی ہدایت پر ابوبکر البغدادی کی رہائی کو بھی جھٹلایا ہے لیکن حقیقت آج ۲۰۱۴ کی طرح غبارآلود نہیں ہے، ہلیری کلنٹن کی کتاب “ہارڈ چوائسز” (Hard Choices) 2014ع‍ میں شائع ہوئی تھی جس میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ داعش کو منوانے کے لئے انہیں ۱۲۰ ممالک کے دورے کرنا پڑے ہیں؛ سنہ ۲۰۱۶ع‍ میں انتخابات انجام پائے ہیں، جس میں ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کو طعنے دیتے ہوئے کہا تھا کہ “آپ کے صدر بارک اوباما نے داعش کو تخلیق کیا ہے” اور ۲۰۱۷ع‍ اور ۲۰۱۸ع‍ میں داعش کے ہزاروں درندوں کو عراق اور شام سے اکٹھا کرکے نجات دلا کر، لیبیا، افغانستان اور یمن پہنچایا اور جنگ کے دوران بھی امریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے داعش کو امداد پہنچائی؛ داعشیوں کو یہودی ریاست کے ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتیں بہم پہنچائی گئیں اور دنیا نے یہ سب دیکھ لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ ایڈورڈ جوزف اسنوڈن (Edward Joseph Snowden) (21 جون، ۱۹۸۳ ء) سابق مرکزی انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ملازم اور ریاستہائے متحدہ کی حکومت کے سابق ٹھیکیدار ہیں جنہوں نے ۲۰۱۳ میں قومی سلامتی ایجنسی (National Security Agency [NSA]) کی انتہائی خفیہ معلومات کو فاش کردیا۔
ان کے انکشافات نے متعدد عالمی نگرانیوں کے پروگراموں کو طشت از بام کیا جن میں بہت سے پروگراموں پر کام کی ذمہ داری این ایس اے نیز خفیہ اداروں کے “پنج چشمی اتحاد” (Five Eyes Intelligence Alliance) کے پاس تھی جن کو مختلف ٹیلی مواصلات کمپنیوں اور یورپی حکومتوں کا تعاون حاصل تھا۔ سنہ ۲۰۱۳ع‍ میں اسنوڈن کو این ایس نے اپنے ٹھیکہ دار بوز ایلن ہیملٹن (Booz Allen Hamilton) نے بھرتی کیا جبکہ اس سے قبل وہ ڈیل (Dell) اور سی آئی میں کام کرتے رہے تھے۔ وہ ۲۰ مئی کو ہاوائی میں این ایس اے کے دفتر سے نکل کر ہانگ کانگ پہنچے۔ جون میں گلین گرینوالڈ (Glenn Greenwald)، لارا پوئٹراس (Laura Poitras) اور ایوان مک اسکیل (Ewen MacAskill) نامی صحافیوں سے مل کر ہزاروں خفیہ دستاویزات ان کے حوالے کردیں۔ گارڈین اور واشنگٹن پوسٹ میں اسنوڈن کا فاش کردہ کچھ مواد شائع ہونے کے بعد انہیں بین الاقوامی شہرت ملی اور زیادہ تر خفیہ دستاویزات نیویارک ٹائمز اور جرمن اخبار “‘دیر اسپیگل” (Der Spiegel) نے شائع کردیں۔
بقلم فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

امریکہ میں انسانی حقوق کی وسیع پامالی

  • ۲۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امریکہ دنیا بھر میں اپنا تسلط جمانے کے لئے انسانی حقوق بالخصوص حقوق نسواں وغیرہ کی پامالی کے دعوے کرتا ہے اور دوسرے ملکوں پر الزام دھرتا ہے لیکن ساتھ ساتھ کچھ خودمختار ممالک اور بعض انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے امریکہ میں انسانی حقوق اور حقوق نسواں کی پامالی کے بارے میں بھی کبھی کبھی کچھ تنقید آمیز باتیں سنائی دیتی ہیں گوکہ منفعل دنیا اپنی صفائیاں پیش کرتے کرتے امریکی دنیا کی خوشنودی میں اس قدر مصروف ہے کہ اسے امریکیوں کے ہاتھوں انسان کی تذلیل کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کا کردار ہم سب کے سامنے ہے، کبھی تو لگتا ہے کہ یہ عالمی ادارہ امریکہ کی غلامی کو اپنا فریضہ سمجھتا ہے جیسا کہ بہت سے سیاسی اور عسکری امور میں دیکھا جاسکتا ہے؛ لیکن امریکہ کے اندر انسانی حقوق کی حالت اتنی نازک ہوچکی ہے کہ امریکہ اور یورپ کی جارحیتوں کے لئے راہ ہموار کرنے والے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کو بھی اپنی رہی سہی ساکھ کے بچاؤ کے لئے، بولنا پڑ رہا ہے۔
لندن میں تعینات انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشل (Amnesty International) کی ۲۰۱۶ع‍ کی سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر میں خاتون قیدیوں کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے بیان کرتی ہے کہ خاتون قیدیوں کے لحاظ سے دنیا کا سب سے پہلا ملک امریکہ ہے۔
سب سے زیادہ قیدی خواتین کس ملک میں ہیں؟
سنہ ۲۰۱۶ع‍ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی آخری سالانہ رپورٹ کے ضمن میں دنیا بھر میں خاتون قیدیوں کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ دنیا بھر میں خاتون قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے امریکہ اپنی آبادی کے پیش نظر پہلے درجے پر “فائز” ہے۔
بعض بین الاقوامی ادارے اور خودمختار ممالک عرصہ دراز سے ناقابل انکار دستاویزات پیش کرکے امریکہ میں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں لیکن منفعل دنیا اپنے اوپر لگے الزامات کی صفائیاں پیش کرتے کرتے امریکی دنیا کی خوشنودی میں اس قدر مصروف رہی ہے کہ اسے امریکیوں کے ہاتھوں انسان کی تذلیل کے بارے میں سوچنے تک کی فرصت ہی نہیں ہے۔
انسانی حقوق کی پامالی کا جائزہ دو پہلؤوں سے لیا جاسکتا ہے:
اندرونی لحاظ سے پناہ گزینوں، سرخ فاموں، سیاہ فاموں، زرد فاموں، غرباء اور قیدیوں کے حقوق کی پامالی، جیلخانوں کی حالات و کیفیات، فوجداری قوانین، ملزموں پر پولیس کا تشدد وغیرہ؛ اور بیرونی لحاظ سے جیسے: دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت، دوسرے ممالک پر جارحیت، جیسے: پاکستانی، شامی، افغانی، یمنی اور عراقی عوام پر ڈرون حملے، سائبر حملے، خودمختار ممالک بالخصوص ایران کے عوام پر ظالمانہ معاشی پابندیاں، القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد ٹولوں کی دیکھ بھال اور حمایت وغیرہ۔
دوسرے ممالک پر انسانی حقوق اور انسان دوستانہ اقدامات کی دشمن ریاستوں کی جارحیتوں کی حمایت جیسے: فلسطینیوں اور مقبوضہ فلسطین کے پڑوسی ممالک پر حمایت قابض اور غاصب یہودی ریاست کی جارحیتوں کی حمایت، سعودی ریاست کی یمن پر جارحیت کی حمایت، انسانی حقوق کے کنونشنوں میں عدم شمولیت یا بعض بین الاقوامی مفاہمت ناموں سے علیحدگی۔
اس تحریر میں امریکہ میں سنہ ۲۰۱۵ع‍ اور سنہ ۲۰۱۸ع‍ کے درمیان انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کو انسانی حقوق کے رپورٹروں اور ماہرین سمیت بین الاقوامی ماہرین، نیز اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کی آراء اور رپورٹوں کی روشنی میں اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
حصۂ اول: امریکہ کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزی
الف) پناہ گزینوں کے حقوق کی پامالی
انسانی حقوق کے خصوصی کمشنر زید رائد الحسینی، نے ۷ مارچ سنہ ۲۰۱۸ع‍ کو انسانی حقوق کونسل کے سینتیسویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مجھے امریکہ کی جنوبی سرحدوں پر پناہ گزینوں کی نگہداشت کی صورت حال کے بارے میں ملنے والی رپورٹوں کو دیکھ کر شدید صدمہ ہوا۔ اطفال کو نامناسب حالات، شدید سردی میں والدین سے دور رکھا جارہا ہے۔ مدتوں قبل قانونی دستاویزات کے حامل پناہ گزینوں کو گرفتار کرکے ملک سے نکال باہر کرنے جیسے اقدامات میں اچانک اضافہ ہوا ہے، خاندانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جارہا ہے، اور امریکہ کی حکومت میں مرکزی امریکہ کے پناہ گزینوں کی پناہ کو منسوخ کر رہی ہے۔
امریکی انسانی حقوق کے ادارے “ہیومین رائٹس واچ” نے بھی بعض امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا: ٹرمپ نے بعض مسلمان ممالک کے باشندوں کی امریکہ آنے پر پابندی لگائی ہے، پناہ گزینوں کے خلاف سختگیرانہ پالیسیاں نافذ کررہے ہیں؛ اور بچوں کو جبر و ستم کے ساتھ والدین سے الگ کرتے ہیں، انہیں نہایت افسوسناک صورت حال میں رکھا جاتا ہے۔ بطور مثال مرکزی اور جنوبی ۲۵۰۰ بچے ـ جو اپنے والدین اور اہل خانہ کے ساتھ میکسیکو کی سرحد سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے ـ کو امریکی سرحدی افواج نے والدین سے جدا کرکے “پنجروں (cages) میں منتقل کیا، جن میں سے ۱۰۰ سے زائد بچے چار سال سے کم عمر کے تھے۔
امریکی یہ سب ایسے حال میں کررہے ہیں کہ عالمی قوانین پناہ گزینوں کی حمایت کرتے ہیں اور ممالک کے مناسب سلوک کا پابند بناتے ہیں۔
عالمی عدالت انصاف (International Court of Justice) “پناہ گزین” یا “مہاجر” کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہتی ہے: “پناہ گزین (یا مہاجر) وہ ہے جو کسی حکومت کی طرف سے مطلوب ہے اور دوسرا ملک اس کی حمایت کردیتا ہے”۔
انسانی حقوق کے اعلامیے کے قانون کی دفعہ ۱۴ میں مقرر ہوا ہے کہ “ہر کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ تعاقب، شکنجے، تشدد اور آزار و اذیت سے بچنے کے لئے پناہ تلاش کرے اور دوسرے ملک میں پناہ حاصل کرے”۔
سنہ ۱۹۵۱ع‍ کے کنونشن کے بعض دفعات میں پناہ گزینوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے:
اس قانون کے دفعہ نمبر ۳ میں حکومتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ پناہ گزینوں کے ساتھ مختلف مسائل میں کسی بھی قسم کے امتیازی رویے روا رکھنے سے پرہیز کریں۔
دفعہ نمبر ۴ میں مذہبی اعمال انجام دینے سمیت پناہ گزینوں کے لئے مختلف قسم کی آزادیاں قرار دی گئی ہیں۔
دفعہ نمبر ۷ میں روزگار کو پناہ گزینوں کا حق سمجھا گیا ہے۔
دفعہ نمبر ۱۷ اور ۱۸ میں پناہ گزینوں کے انسانی حقوق کے بارے میں سفارشات کی گئی ہیں۔
دفعہ نمبر ۲۶ میں پناہ گزینوں کے لئے نقل و حرکت اور آمد و رفت کی آزادی کے سلسلے میں سفارشات دی گئی ہیں۔
اور اسی طرح کی دیگر دفعات، اور تمام ممالک کا فرض بنتا ہے کہ پناہ گزینوں کے ساتھ انسانی اور مناسب برتاؤ روا رکھیں۔
ب) جیلخانوں کی صورت حال اور قیدیوں کے حقوق
الحسینی نے اپنی رپورٹ میں کہا: میں امریکی حکومت کی طرف سے خلیج گوانتانامو میں کم عمر لڑکوں کے قید خانوں کی بندش کے منصوبے پر عملدرآمد روکے جانے اور ان قیدخانوں میں قیدیوں کے لئے مقدمہ چلائے بغیر سزاؤں کے تعین کی وجہ سے فکرمند ہوں جہاں قیدیوں کو غیر انسانی حالات میں رکھا جاتا ہے اور یہ اقدام انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
امریکہ میں ہر سال ۱۲ لاکھ افراد کو قید کیا جاتا ہے اور رپورٹوں کے مطابق پوری دنیا میں [آبادی کے تناسب سے] قیدیوں کی سب سے بڑی تعداد امریکہ میں ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ۵ ستمبر ۲۰۱۶ع‍ کو اپنی آخری رپورٹ میں امریکی جیلوں میں خواتین کی صورت حال کے بارے میں واضح کیا ہے کہ امریکی آبادی کے تناسب سے، خاتون قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی امریکہ پہلے نمبر پر ہے۔ امریکہ کی خواتین کی آبادی دنیا کی خواتین کی آبادی کے ۵ فیصد کے برابر ہے لیکن دنیا بھر کی تمام خاتون قیدیوں کا ۲۳ فیصد حصہ امریکی جیلوں میں بند ہے۔
سی این این نے ۵ ستمبر ۲۰۱۷ع‍ نے امریکی قیدخانوں میں خاتون قیدیوں کی صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ میں قید خواتین کی اکثریت کا تعلق غیر سفید فام نسلوں سے ہے۔
سی این این کی رپورٹ میں بیان کیا گیا: امریکی حکومت نے عورتوں کے حقوق کو نظرانداز کیا ہے اور ان کے مسائل کو وہ بہت کم توجہ دیتی ہے۔ عورتیں مالی لحاظ سے تنگ دست ہیں اور قیدخانوں میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں۔ خواتین اپنے بچوں سے بہت دور ہیں اور یہ رویہ خاندانی ادارے پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔
پ) غرباء اور مساکین
اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر فلپ جی آلسٹن (Philip G. Alston) نے آلاباما، جارجیا، مغربی ورجینیا اور واشنگٹن ڈی سی میں اپنی تحقیقات کے بعد بیان کیا: اگرچہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا امیر ملک ہے لیکن اس ملک کی ۴۰ فیصد آبادی غربت میں مبتلا ہے۔ ریاست آلاباما میں آنتوں کے طفیلی کیڑے بہت عام ہیں کیونکہ گھروں کے ساتھ بہت زیادہ کوڑا کرکٹ جمع رہتا ہے۔ میں نے لاس اینجلس میں بہت سارے انسانوں کو دیکھا جو صرف زندہ رہنے کے لئے تگ و دو کررہے ہیں۔
آلسٹن نے کہا: میں نے سنا ہزاروں انسان، جو مقروض ہونے کے خطرے کا سامنا کررہے ہیں، صرف اس لئے ـ ارادی طور پر ـ پہلے سے خبردار نہیں کیا جاتا کہ جن مقروض افراد کے پاس ادائیگی کے لئے رقم نہ ہو انہیں جیلخانوں میں بند کیا جائے، ان کے اموال اور املاک کو ضبط کیا جائے اور ریاستی خزانہ بھر جائے۔
انھوں نے مزید کہا: میں نے سنا کہ منشیات کی وجہ سے موت کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور آٹھ امریکیوں میں سے ایک شخص غربت و افلاس میں زندگی بسر کررہا ہے اور یوں امریکی غریبوں اور مفلسوں کی تعداد چار کروڑ افراد تک پہنچ چکی ہے۔
سنہ ۲۰۱۶ع‍ کے صدارتی انتخابات کے نامزد امیدوار اور ڈونلڈ ٹرمپ کے رقیب، سینیٹر برنی سینڈرز (Bernie Sanders) نے مئی ۲۰۱۶ع‍ کو اعتراف کیا کہ صحت اور حفظان صحت نیز شدید غربت کی وجہ سے امریکہ کے بعض علاقوں میں متوقعہ عمر کی شرح میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔
ت)  غیر سفید فاموں کے حقوق کی صورت حال
امریکی ویب گاہ “لاپروگریسیو” (laprogressive[.]com) نے اپنی ایک رپورٹ میں سیاہ فام قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں لکھا: امریکی جیل خانوں میں سیاہ فاموں کی تعداد ان سیاہ فاموں کی تعداد سے تجاوز کرگئی ہے جنہیں سنہ ۱۸۵۰ع‍ کی خانہ جنگی میں اور اس سے قبل کے برسوں میں، غلام بنایا گیا تھا اور امریکہ کے سیاہ فام اکثریتی علاقوں میں ممکن ہے کہ ہر ۵ سیاہ فاموں میں سے چار افراد اپنی زندگی میں ایک یا کئی بار مختلف الزامات میں گرفتار کئے گئے ہوں یا حتی کہ عدالتوں کے نظام میں الجھ گئے ہوں۔ اس المناک صورت حال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پولیس اور عدالتی نظام کی تمام سطوح میں سیاہ فاموں کے ساتھ شدید قسم کا نسلی امتیاز رائج ہے۔
ج) پولیس کا رویہ اور سماجی سلامتی
سابق امریکی وزیر خارجہ اور سنہ ۲۰۱۶ع‍ کے انتخابات میں ٹرمپ سے ہارنے والی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے اپنی انتخابی مہم میں کہا کہ ہر روز امریکہ کے مختلف علاقوں میں کم از کم ۹۰ افراد گولی لگنے سے مارے جاتے ہیں اور یوں امریکہ میں ہر سال گولی لگنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۳۰۰۰۰ تک پہنچتی ہے اور یہ تعداد ان ہلاک شدگان کے سوا ہے جنہیں پولیس گولی مار کر ہلاک کرتی ہے؛ بطور مثال سنہ ۲۰۱۶ کے ابتدائی تین مہینوں میں پولیس نے گولی مار کر ۲۵۶ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ [اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے]۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

امریکی فوج کی طاقت کا سپنا چکنا چور

  • ۲۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: سابقہ رپورٹوں میں ایسے بہت سے معیاروں کا تذکرہ کیا گیا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی طاقت مختلف شعبوں میں انحطاط اور زوال سے دوچار ہے؛ تاہم شاید اہم ترین معیاروں میں سے ایک فوجی طاقت ہے جو دنیا بھر میں امریکی بالادستی کا جدائی ناپذیر جزء ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس ملک کی فوجی طاقت دوسرے اشاروں سے کہیں پہلے، اپنی اثرگذاری میں ناقابل یقین تنزلی دکھا چکی تھی۔
لاطینی امریکہ میں قتل عام
امریکی حکومت جو برطانوی سامراج سے آزاد شدہ ۱۳ ریاستوں پر مشتمل تھی  نے اپنے قیام کے آغاز ہی سے کوشش شروع کر دی کہ جبر کی طاقت سے فائدہ اٹھا کر فرانسیسیوں کے زیر تسلط علاقوں پر قبضہ کرے اور امریکہ کے اصل مالکین ـ یعنی سرخ فام باشندوں ـ کے باقیماندہ علاقوں کو غصب کرکے اپنی عملداری کو وسعت دے۔ برطانیہ اور فرانس کے زیر تسلط علاقوں میں امریکی طاقت کے استحکام کے بعد اس ملک نے پڑوسی ممالک کے خلاف جارحیتوں کا آغاز کیا۔
سرحد پار امریکی جارحیتوں کا سب سے پہلا نشانہ امریکہ کا پڑوسی ملک میکسیکو ہے۔ یہ ملک انیسویں صدی کے آغاز میں امریکہ کے ساتھ اپنی جنگ کے دوران سان فرانسسکو، ٹیکساس اور کیلیفورنیا سمیت اپنے بہت وسیع رقبے کو امریکہ کے حوالے کرنے پر مجبور ہوا اور میکسیکو کے یہی مقبوضہ ممالک بعد میں امریکہ کی طاقت اور دولت کا اصل ذریعہ بنے۔ میکسیکو کے بعد لاطینی امریکہ کے دوسرے ممالک کی باری آئی۔
باوجود اس کے کہ مونرو ڈاکٹرائن (Monroe Doctrine) کے مطابق، امریکہ کا ارادہ نہیں تھا کہ لاطینی اور شمالی امریکی علاقے سے باہر کسی ملک میں مداخلت کرے، لیکن لاطینی امریکی ممالک کو امریکہ کی طرف سے بدترین جارحیتوں کا سامنا کرنا پڑا؛ پورٹو ریکو (Puerto Rico) پر حملہ، ہیٹی (Haiti) پر حملہ، کیوبا پر حملہ اور اس کے بعض علاقوں پر قبضہ، نیز پاناما پر حملہ کرکے نہر پاناما کی تعمیر لاطینی امریکہ میں امریکہ کی اہم فوجی مہمات ہیں۔ ان امریکی جارحیتوں کا مقصد علاقے پر یورپی ممالک کے تسلط کا سد باب کرنا اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لئے ایک خصوصی ـ بلاشرکت غیرے ـ تجارتی علمداری فراہم کرنا تھا۔
اس تجارتی علاقے کی ترقی سے امریکیوں کا مقصد، ریاست ہائے متحدہ کے تجارتی راستے کو چین تک پھیلانا تھا۔ کیونکہ چین امریکی تاجروں کے منافع بخش نظام مراتب میں بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔ امریکیوں نے حتی کہ جنوب مشرقی ایشیا کے بعض ممالک پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی، اس نے فلپائن پر حملہ کیا، اس پر قبضہ کیا اور اس ملک کے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور یہ اس امریکی حکمت عملی ہی کا تسلسل تھا۔
اس کے باوجود، امریکہ دوسری عالمی جنگ تک کسی طور پر بھی ـ خاص طور پر فوجی اعتبار سے ـ ہرگز عالمی طاقت نہیں سمجھا جاتا تھا، لیکن پہلی اور دوسری عالمی جنگیں وہ مواقع تھے جن سے فائدہ اٹھا کر امریکیوں نے فوجی اعتبار سے اپنے آپ کو عالمی طاقت کے طور پر متعارف کروایا۔
یہ سلسلہ سنہ ۱۹۱۷ء ‍میں ـ پہلی عالمی جنگ میں امریکہ کی باضابطہ مداخلت سے شروع ہوا اور دوسری عالمی جنگ میں جاپان اور ہٹلر کے جرمنی کے خلاف جنگ میں عروج کو پہنچا۔ امریکہ نے اپنی آبادی اور صنعتی طاقت کی مدد سے سنہ ۱۹۴۵ء ‍میں اپنی فوجی نفری کی تعداد ڈیڑھ کروڑ تک پہنچائی تھی جبکہ جنگ کی ابتداء اور سنہ ۱۹۳۹ء ‍میں امریکی فوج کی نفری کی تعداد دو لاکھ پچاس ہزار تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے آخر میں امریکیوں کی طاقت یہاں تک بڑھ گئی تھی کہ وہ ۲۴ گھنٹوں میں ایک طیارہ بردار جہاز بنا سکتے تھے۔ ایٹم بم ـ جو دوسری عالمی جنگ کے بعد توازن کے نظام میں سب سے اہم اور بنیادی عنصر سمجھا جاتا تھا ـ امریکیوں کی کوششوں کا ثمرہ تھا گوکہ انہیں ہٹلر کے خوف سے بھاگ کر امریکہ ہجرت کرنے والے یورپی سائنسدانوں کا تعاون بھی حاصل تھا۔
*ویٹ نام سے ۱۱ ستمبر تک
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی اپنی فوجی طاقت کے سہارے، سوویت یونین کے ساتھ مل کر دو ستونوں پر مشتمل عالمی نظام کے حصے کے طور پر، اس نظام کا دوسرا ستون بن گئے۔ اگرچہ اس نئے عالمی نظام نے ـ ناقابل پیشگوئی عواقب و نتائج کے خوف سے ـ تیسری عالمی جنگ کا راستہ روک لیا لیکن تیسری دنیا کے ممالک کے باہمی تنازعات کی جولان گاہ بن گئے۔
کوریا کی جنگ اس عسکری مسابقت کا پہلا بلاواسطہ نتیجہ تھی جس کے بموجب یہ قدیم سرزمین دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوئی اور آج کوریا کی جنگ کے ۷۰ سال بعد بھی، قدیم کوریائی سلطنت دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔
ویت نام کی جنگ دو بڑی طاقتوں کے تقابل کا دوسرا حصہ تھا جو بدقسمتی سے امریکہ نے دائیں بازوں کی جماعتوں کے اثر و رسوخ کا سد باب کرنے کے بہانے شروع کردی تھی۔ ویت نامیوں نے ہوچی منہ (Ho Chi Minh) کی قیادت میں جاپانیوں اور فرانسیسیوں کے مار بھگایا تھا اور اب انہیں ان دو سے بڑے دشمن کا سامنا تھا جو ان کی کامیابیوں کے آگے بند باندھنا چاہتا تھا۔ جنگ ویت نام سنہ ۱۹۶۰ء ‍کی دہائی کے آغاز سے کئی برسوں تک جاری رہی (۱) اور اس جنگ میں ـ دوسری عالمی جنگ کے بعد نیز سرد جنگ کے تیس سال بعد ـ امریکیوں کی فوجی طاقت، ایک چھاپہ مار جنگ میں جانچی پرکھی گئی گوکہ یہ جانچ پرکھ امریکیوں کے لئے بہت زیادہ مہنگی پڑی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ۵۸ ہزار امریکی فوجی مارے گئے اور کئی لاکھ زخمی؛ اور یہ وہ قیمت تھی جو امریکیوں کو ادا کرنا پڑی۔
سنہ ۱۹۷۰ء ‍کی دہائی میں امریکہ کو کئی بڑے جارحانہ ٹھکانوں سے پسپا ہونا پڑا، جو کہ ویت نام کی جنگ کا براہ راست نتیجہ تھا۔ بہرصورت ویت نام کی جنگ میں بھی اور اس کے بعد بھی امریکی فوجی طاقت کو شدید ترین شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ رونلڈ ریگن کی صدارت میں اس تاریخی تذلیل کا ازالہ کرنے کے لئے ایک بار پھر کوششیں کی گئیں۔ امریکیوں نے اپنی دفاعی قوت میں اضافہ کرکے “اسٹارز وار” کا منصوبہ پیش کیا تا کہ سوویت یونین کو ـ جو معاشی مسائل سے دوچار ہوچکا تھا ـ اسلحے کی دوڑ میں الجھایا جاسکے اور اس دوڑ نے سوویت یونین کو زوال کامل سے دوچار کیا۔ سنہ ۱۹۸۰ء ‍کی دہائی کے آخر میں امریکی ویت نام کی تاریخی تذلیل کی تلافی کرچکے تھے اور خلیج فارس کی جنگ (۱۹۹۰ع‍) میں صدام پر اپنی عسکری بالادستی کا ثبوت دے چکے تھے۔
یہ صورت حال آخر کار ایسے نقطے پر پہنچی کہ ۱۱ ستمبر سنہ ۲۰۰۱ء ‍کے بعد، امریکیوں نے افغانستان اور عراق پر ہمہ جہت فوجی چڑھائی کرکے ان دو ممالک پر قبضہ کرلیا۔ یہ دو جنگیں امریکیوں کی فوجی طاقت اور طاقت کے اظہار کا عروج سمجھی جاتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ یہ طاقت ابھی تک قائم رکھ سکا ہے؟
۔طویل ترین استعماری جنگوں نے امریکی فوج کا ستیاناس کیا
حقیقت یہ ہے کہ امریکیوں کو اس وقت فوجی شعبے میں بہت بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ اس امریکہ کا آج اتا پتا ہی نہیں ہے جو آج سے کچھ ہی عرصہ قبل سنہ ۱۹۹۰ء ‍کی دہائی میں دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت سمجھا جاتا تھا۔ آج امریکہ کو بجٹ کے سلسلے میں بھی اور جدید ہتھیاروں کے سلسلے میں بھی بےانتہا مسائل کا سامنا ہے۔
علاقے میں دو اہم جنگیں ـ یعنی عراق کی جنگ اور افغانستان کی جنگ ـ ایک ایسے میدان میں تبدیل ہوچکی ہیں جس نے امریکی طاقت کو شدید فرسودگی سے دوچار کردیا ہے۔ امریکیوں نے عراق پر جارحیت کرنے کے بعد ۱۰ لاکھ فوجی عراق بھجوا دیئے جن میں سے ـ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ـ ۶۰۰۰ فوجی ہلاک ہوئے۔ اگرچہ غیر سرکاری اعداد و شمار میں عراق میں امریکی ہالکین کی تعداد کئی گنا بتائی جاتی ہے۔
عراق میں امریکی افواج کے اخراجات کمر توڑ اور امریکی معیشت کے لئے ناقابل برداشت تھے۔ عراق کی جنگ میں امریکیوں کے اخراجات کے سلسلے میں مختلف تخمینے پیش کئے گئے ہیں چھ کھرب (۶۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰ ارب) ڈآلر سے لے کر تیس کھرب (۳,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰) ڈالر تک۔
ان اخراجات میں زخمی فوجیوں کو معاوضہ نیز متفرقہ اخراجات بھی شامل ہیں، جبکہ جنگ عراق کے اخراجات برداشت کرنے کا سلسلہ برسوں تک جاری رہے گا۔
کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ سنہ ۲۰۰۸ء ‍کے مالی بحران  کا سبب وہ ہولناک اخراجات تھے جو امریکہ کو عراق اور افغانستان پر جارحیت کرکے اٹھانا پڑے تھے۔ یہ عین حقیقت ہے کہ ان دو جنگوں نے امریکہ کو طویل المدت گھساوٹ اور فرسودگی سے دوچار کیا۔
یہ دونوں طویل اور تھکا دینے والی جنگیں استعماری جنگوں کے زمرے میں آتی ہیں، اور لگتا ہے کہ ان دو جنگوں کا انتہائی نقطہ قابل تصور ہی نہیں ہے اور گویا انہیں ابد تک جاری رہنا ہے۔ اور اس کے باوجود بہت سے تزویری ماہرین کا خیال ہے کہ (Strategists) کا خیال ہے کہ امریکہ ان دو جنگوں کے متعینہ مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے۔ امریکہ سولہ سال سے افغانستان میں طالبان کا نام لے لے کر لڑتا رہا ہے اور اب پاکستان کی ثالثی میں طالبان کے سربراہوں کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں میں مصروف نظر آرہا ہے۔
۔ بندھے ہوئے ہاتھ بمقابلۂ چین و روس
امریکیوں کو سمندر میں بھی کثیر مسائل کا سامنا ہے۔ کسی زمانے میں امریکی طیارہ بردار جہاز پوری دنیا میں امریکی فوجی طاقت کا اہم ترین حربہ سمجھے جاتے تھے، لیکن آج امریکہ اس سلسلے میں اہلیت کی حضیض تک پہنچ چکا ہے۔
اس مسئلے کا سبب امریکی افواج کے بجٹ کے مختلف حصوں میں پیش آمدہ متعدد مشکلات ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل (Wall Street General) نے کچھ عرصہ قبل اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ امریکہ اور اس کی بحری فوج کو جدیدسازی نیز امریکی جنگی بحری جہازوں کے صحیح استعمال کے سلسلے میں لاتعداد مسائل کا سامنا ہے۔ اس وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست ویرجنیا میں ایک ہی ایسا بحری اڈہ ہے جو امریکہ کے طیارہ بردار ایٹمی بحری جہازوں کی میزبانی اور تعمیر و مرمت کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایسے حال میں امریکیوں کا دعوی ہے کہ اس ملک کی فضائیہ اپنی طاقت کے عروج پر ہے، لیکن شائع ہونے والی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی فضائیہ کا ۵۰ فیصد حصہ بروقت مرمت اور افرادی قوت کی صحیح عدم تربیت کے بموجب شدید مشکلات کا شکار ہے۔ گوکہ امریکہ اسی فضائیہ کے ذریعے بھی علاقے ـ بلکہ پوری دنیا ـ میں اپنے آپ کو طاقتور ترین فوجی طاقت کے طور پر متعارف کروا سکتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں موجود دوسرے مسائل و مشکلات مزید امریکیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گی کہ وہ جہاں چاہے اپنی فوجی قوت کو استعمار کرے۔
درحقیقت مسئلہ وہی ہے جو سابق امریکی صدر بارک اوباما نے سنہ ۲۰۱۲ء ‍میں ویسٹ پائنٹ عسکری درسگاہ (United States Military Academy) میں خطاب کے دوران بیان کیا تھا۔ اور وہ یہ تھا کہ ” صرف یہی کہ ہمارے پاس بہترین ہتھوڑا ہے، دلیل نہیں ہے کہ ہر مسئلہ ایک کیل ہے”۔ (۲) جس کا سادہ سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ “امریکی عسکری ہتھوڑے سے مزید کوئی کیل کسی چٹان میں ٹھونکنا ممکن نہیں ہے”۔ یا یوں کہئے کہ “امریکی فوج مزید، امریکی طاقت کے اظہار کے لئے، مناسب حربے کا کردار ادا کرنے سے عاجز ہے”۔
اب باری ڈونلڈ ٹرمپ کی ہے جو ان سارے نقائص کے رد عمل کے طور پر بزعم خود امریکی فوجی ڈھانچے کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے کوشاں ہیں۔ وہ فوجی بجٹ میں بےتحاشا اضافہ کرکے امریکی فوجی شعبے کے پرانے نقائص کا ازالہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اہم کام جنگی بحری جہازوں اور تباہ کن جہازوں (Destroyers) کی تعمیر ہے۔ یہ مسئلہ سنہ ۲۰۱۹ء ‍کے عسکری بجٹ میں بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔
اس وقت ٹرمپ نے امریکی افواج کے لئے ۷۰۰ ارب ڈالر کا بجٹ قرار دیا ہے۔ یہ بجٹ اگرچہ عددی لحاظ سے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی بجٹ ہے لیکن ابھی تک یہ سنہ ۱۹۴۵ء ‍کے امریکی فوجی بجٹ تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ افراط نظر کو نظر میں