یہودیوں کی کتاب مقدس میں عالمی حکومت کا تصور

  • ۱۲۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودیوں کی مقدس کتاب تلمود میں یہودیوں پر لازم قرار دیا ہے کہ وہ دوسروں کی زمینوں کو خریدیں تاکہ کوئی اور کسی چیز کا مالک نہ ہو اور اقتصادی طور پر یہودی تمام غیریہودیوں پر مسلط ہو سکیں۔ اور اگر کوئی غیر یہودی غلبہ حاصل کر لے تو یہودیوں کو چاہیے کہ اپنے آپ پر گریہ کریں اور کہیں ہم پر ملامت ہو یہ کیا عار و ننگ ہے کہ ہم دوسروں کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں۔
اس سے پہلے کہ یہودی اپنی عالمی حکومت اور بین الاقومی غلبے کو حاصل کر لیں ضروری ہے عالمی جنگ برپا ہو جائے اور دو تہائی انسان نابود ہو جائیں۔ سات سال کی مدت میں یہودی جنگی اسلحوں کو جلا ڈالیں گے اور بنی اسرائیل کے دشمنوں کے دانت بائیس بالشت (جو عام طور پر دانتوں کی مقدار سے ایک ہزار تین سو بیس گنا زیادہ ہے) ان کے منہ سے باہر نکل آئیں گے۔ جس وقت حقیقی مسیح دنیا میں قدم رکھے گا یہودیوں کی دولت اپنی ہو جائے گی کہ اس کے صندوقوں کی چابیاں تین سو گدھوں سے کم پر نہیں ڈھوئی جا سکیں گی۔
عیسائیوں کو قتل کرنا یہودیوں کے مذہبی واجبات میں سے ہے اور اگر یہودی ان کے ساتھ کوئی پیمان باندھیں تو اس کو وفا کرنا ضروری نہیں ہے، نصرانی مذہب کے روساء پر جو یہودیوں کے دشمن ہیں ہر روز تین مرتبہ لعنت کرنا ضروری ہے۔
یسوع ناصری(حضرت عیسی علیہ السلام) کو جس نے پیغمبری کا دعوی کیا تھا اور نصرانی (عیسائی) اس کے دھوکے میں آگئے تھے اپنی ماں مریم کے ساتھ جس نے باندار نامی مرد سے زنا کے ذریعہ اس کو پیدا کیا تھا جہنم میں جلایا جائے گا (العیاذ باللہ) نصرانیوں کے کلیسا جس میں آدمیوں کے روپ میں کتے بھونکتے ہیں کوڑے خانے کے جیسے ہیں۔
منبع:
التل عبداله ، خطرالیهودیة العالمیة علی الاسلام و المسیحیة ،قاهره ۱۹۶۹ .
http://palpedia.maarefefelestin.com

 

یہودیوں کا غیر یہودیوں پر افضلیت کا دعویٰ

  • ۷۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودیوں کی مقدس کتاب تلمود میں غیر یہودیوں کے سلسلے میں یوں لکھا ہوا ہے:
یہودیوں کی روحیں غیروں کی روحوں سے افضل ہیں۔ اس لیے کہ یہودیوں کی روحیں خداوند عالم کا جزء ہیں اسی طرح جس طرح بیٹا باپ کا جزء ہوتا ہے۔ یہودیوں کی روحیں خدا کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اس لیے کہ غیروں کی روحیں شیطانی اور حیوانات کی ارواح کے مانند ہیں۔
غیر یہودی کا نطفہ بقیہ حیوانات کے نطفہ کی طرح ہے۔
بہشت یہودیوں سے مخصوص ہے اور ان کے علاوہ کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہو سکتا لیکن عیسائیوں اور مسلمانوں کا ٹھکانہ جہنم ہے گریہ و زاری کے علاوہ ان لوگوں کے نصیب میں کچھ بھی نہیں ہے اس لیے کہ اس کی زمین بہت زیادہ تاریک اور بدبودار مٹی کی ہے۔
کوئی پیغمبر مسیح کے نام سے مبعوث نہیں ہوا ہے اور جب تک اشرار (غیر یہودی) کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک مسیح ظہور نہیں کرے گا، جب وہ آئے گا تو زمین سے روٹی کا خمیر اور ریشمی لباس اگیں گے یہ وہ موقع ہو گا جب یہودیوں کا تسلط اور بادشاہی ان کو واپس ملے گی اور تمام اقوام و ملل مسیح کی خدمت کریں گی اس وقت ہر یہودی کے پاس دو ہزار آٹھ سو غلام ہوں گے۔
واضح رہے کہ توریت اور عہد عتیق میں جناب عیسی(ع) کے مبعوث ہونے کی بشارت دی گئی ہے لیکن تلمود اس بات کی قائل ہیں کہ ابھی تک عیسی مسیح نام کا کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا وہ اس وقت مبعوث ہو گا جب کرہ ارض پر یہودی مسلط ہو جائیں گے۔ لہذا صہیونیوں کی بھر پور تلاش و کوشش یہ ہے کہ وہ پوری دنیا پر قبضہ جما کر دیگر تمام انسانوں کو تہہ تیغ کر دیں۔
تلمود میں اسرائیلی خدا کے نزدیک ملائکہ سے زیادہ محبوب اور معتبر ہیں۔ اگر غیر یہودی، یہودی کو مارے تو ایسے ہے جیسے اس نے عزت الہیہ کے ساتھ جسارت کی ہو اور ایسے شخص کی سزا موت کے علاوہ کچھ اور نہیں ہو سکتی لہذا اس کو قتل کر دینا چاہیے۔
اگر یہودی نہ ہوتے تو زمین سے برکتیں اٹھا لی جاتیں سورج نہ نکلتا اور نہ آسمان سے پانی برستا!۔ جس طرح انسان حیوانوں پر فضیلت رکھتا ہے اسی طرح یہودی دوسری اقوام پر فضیلت رکھتے ہیں۔
غیر یہودی کا نطفہ گھوڑے کے نطفہ کی طرح ہے۔
اجنبی (غیر یہودی) کتوں کی طرح ہیں ان کے لیے کوئی عید نہیں ہے اس لیے کہ عید کتوں اور اجنبیوں کے لیے خلق ہی نہیں ہوئی ہے۔
کتا غیر یہودیوں سے زیادہ با فضیلت ہے اس لیے کہ عید کے موقعوں پر کتے کو روٹی اور گوشت دیا جانا چاہیے لیکن اجنبیوں کو روٹی دینا حرام ہے۔
اجنبیوں کے درمیان کسی طرح کی کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔ کیا گدھوں کے خاندان اور نسل میں کسی طرح کی قرابت اور رشتہ داری کا وجود ہے؟
اجنبی (غیر یہودی) خدا کے دشمن ہیں اور سور کی طرح ان کو قتل کر ڈالنا مباح ہے۔
اجنبی یہودیوں کی خدمت کرنے کے لیے انسان کی صورت میں خلق ہوئے ہیں۔
غیر یہودیوں کو دھوکا دینا اور ان کے ساتھ فریب دہی کرنا منع نہیں ہے۔
کفار (غیر یہودیوں) کو سلام کرنا برا نہیں ہے اس شرط کے ساتھ کہ در پردہ اس کا مضحکہ اڑائے۔
چونکہ یہودی عزت الہیہ کے ساتھ مساوات رکھتے ہیں لہذا دنیا اور مافیہا ان کی ملکیت ہے اور ان کو حق ہے کہ وہ جس چیز پر چاہیں تصرف کریں۔
یہودی کے اموال کی چوری حرام ہے لیکن غیر یہودی کی کوئی بھی چیز چرائی جا سکتی ہے اس لیے کہ دوسروں کا مال سمندر کی ریت کی طرح ہے جو پہلے اس پر ہاتھ رکھ دے وہی اس کا مالک ہے۔
یہودی شوہر دار عورتوں کی طرح ہیں جس طرح عورت گھر میں آرام کرتی ہے اور گھر کے باہر کے امور میں شوہر کے ساتھ شریک ہوئے بغیر اس کے اخراجات برداشت کرتا ہے اسی طرح یہودی بھی آرام کرتا ہے دوسروں کو چاہیے کہ اس کے لئے روزی فراہم کریں۔
منبع:
۱۔ التل عبداله ، خطرالیهودیة العالمیة علی الاسلام و المسیحیة ، قاهره ۱۹۶۹ .
۲۔ رزوق اسعد ، التلمود و الصهیونیة ، بیروت ، ۱۹۷۰ .
۳۔ روهلنج ، اوگسٹ ، الکتر الموصود فی قواعد التلمود ، (مترجم) قاهره ۱۸۹۹ .
۴۔ نصرا… ، محمد غزه ، الیهودی علی حسب التلمود ، بیروت ۱۹۷۰ .
۵۔ http://palpedia.maarefefelestin.com

 

تلمود (TALMUD) کا تعارف اور اس میں تصرف خدا

  • ۱۵۷

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودیوں کی مقدس کتاب اس عنوان سے کہ وہ توریت کی تفسیر ہے اور یہودیوں کی من پسند بہت ساری بحثیں اس میں موجود ہیں یہودیوں کے نزدیک ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام کے بعد یہودیوں کے بزرگوں”خاماموں” کے درمیان توریت کے سلسلے میں کچھ بحث و مباحثے شروع ہوئے جس کے بعد انہوں نے توریت پر تفسیریں لکھنا شروع کر دیں۔ سب سے پہلے سن ۲۳۲ عیسوی میں ایک خاخام نے توریت کی تفسیر بیان کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور اس کے بعد سن۵۰۱ میں دوسرے خاخام نے توریت پر دوسری تفسیر لکھی یہاں تک کہ ۱۴۵۷ عیسوی تک اس آسمانی کتاب پر مختلف تفاسیر لکھی گئیں۔ ان تفاسیر کے مختلف نام تھے اور مختلف لوگوں کے پاس پھیلی ہوئی شکل میں موجود تھیں۔ اسی سال “یوخاس” نامی ایک خاخام نے ان تمام تفسیروں کے مطالب جمع آوری کر کے “تلمود” نامی کتاب کا مجموعہ تیار کر دیا۔
لفظ “تلمود” دو لفظوں سے مرکب ہے۔ “تل” یعنی تعلیم و تربیت۔ اور “مود” یعنی دیانت۔ مجموعی طور پر تلمود کے معنی “دین و دیانت کی تعلیم و تربیت” کے ہیں۔
یہودیوں کی مقدس کتاب اس عنوان سے کہ وہ توریت کی تفسیر ہے اور یہودیوں کی من پسند بہت ساری بحثیں اس میں موجود ہیں جو توریت میں نہیں ہیں یہودیوں کے نزدیک ایک خاص اہمیت کی حامل ہے حتیٰ کہ یہودی تلمود کے مطالعہ کو توریت کی تلاوت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ تلمود انسانوں کو یہودی اور غیر یہودی میں تقسیم کرتی ہے اور یہودی کی اذیت و آزار کو حرام قرار دیتی ہے تلمود میں غیر یہودیوں کے اموال کو غصب کرنا اور اس کا استعمال کرنا جائز ہے غیر یہودیوں کے ناموس کے ساتھ تجاوز ان کا حق ہے اور غیر یہودیوں کو اپنا غلام بنانا قرب الہی کا سبب ہے۔
تلمود حضرت عیسی(ع) کو نبی نہیں مانتی بلکہ انہیں معاذ اللہ ایک مرتد اور کافر یہودی مانتی ہے آپ کی مادر گرامی جناب مریم کے لئے نازیبا اور ناجائز الفاظ استعمال کرتی ہے۔
تلمود میں تصور خدا
یہ کتاب یہودیوں کے نزدیک بہت تقدس کی حامل ہے اور توریت و عہد عتیق کے مساوی حیثیت رکھتی ہے۔ ( بلکہ توریت سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے جیسا کہ گرافٹ نے کہا: جان لو کہ خاخام کے اقوال پیغمبروں سے زیادہ بیش قیمت ہیں)۔
یہودیوں کے نزدیک خدا کا تصور کیسا ہے اور وہ خدا کو کس زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہیں اس کتاب کے چند جملے بیان کر نے سے معلوم ہو جاتا ہے:
دن بارہ گھنٹوں پر مشتمل ہے۔ پہلے ۳ گھنٹوں میں خدا شریعت کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس کے بعد ۳ گھنٹے احکام صادر کرنے میں صرف کر دیتا ہے۔ پھر تین گھنٹے دنیا کو روزی دیتا ہے۔ اور آخری ۳ گھنٹے سمندری حوت جو مچھلیوں کی بادشاہ ہے کے ساتھ کھیل کود میں مصروف رہتا ہے۔
تلمود میں دوسری جگہ پر آیا ہے خدا کو ایک مرتبہ شوق ہوا کہ وہ ہیکل سلیمانی کو نابود کرے کچھ ہی دیر بعد وہ اپنے کئے پر پشیمان ہو گیا اور نہ صرف اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا بلکہ رونا اور پیٹنا شروع کر دیا کہ میں نے کیوں اپنے بیٹوں کا خانہ خراب کر دیا ہے کہ میری اولاد (خدا کی اولاد سے مراد یہودی ہیں چونکہ وہ خود کو ابناء اللہ مانتے ہیں) میرا گھر نابود ہونے سے بے گھر و آوارہ ہو گئے ہیں اور ان کا مال ضائع ہو گیا ہے اس کے بعد خدا معاذ اللہ اپنے کئے پر خود کو لعنت بھیجتا ہے۔
خدا یہود کو اس حالت میں مبتلا کرنے کی وجہ سے بہت زیادہ پشیمان ہے اور ہر روز اپنے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور گریہ و زاری کرتا ہے کبھی کبھی اس کی آنکھوں سے آنسو کے دو قطرے سمندر میں گر جاتے ہیں اور اتنی زور دار آواز ہوتی ہے کہ ساری دنیا اس کے گریہ کی آواز سنتی ہے۔ سمندر کا پانی متلاطم ہو جاتا ہے اور زمین لرز اٹھتی ہے۔
خداوند عالم بھی احمقانہ افعال، غیظ و غضب اور جھوٹ سے امان میں نہیں ہے۔ (العیاذ باللہ)
مآخذ:
۱٫التل عبداله ، خطرالیهودیة العالمیة علی الاسلام و المسیحیة ،قاهره ۱۹۶۹ .
۲٫ http://palpedia.maarefefelestin.com/index.php?title=%D8%AA%D9%84%D9%85%D9%88%D8%AF
۳٫ http://palpedia.maarefefelestin.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

جنت البقیع کا انہدام اور سعودی مفتیوں کے فتاویٰ

  • ۱۷۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ۱۳۴۴ ہجری میں جب آل سعود نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ان کے نواحی علاقوں پر قبضہ کر لیا تو انہوں نے بقیع میں خاندان رسالت اور اصحاب رسول خدا (ص) کے روضوں اور مقابر کو مسمار کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرنے کی کوشش شروع کر دی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ کوئی ایسا بہانہ تراش سکیں جس کے سہارے وہ مدینہ منورہ کے علمائے کرام سے فتویٰ حاصل کرنے کے بعد ان عتبات مقدسہ کو مسمار کرنے کی راہ ہموار کر سکیں یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ آل سعود کو اپنے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بہانہ تلاش کرنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی تھی کیونکہ حجاز کے عوام قبور کو مسمار کرنے کے عمل کی کسی صورت میں حمایت کرنے کو تیار نہ ہوتے۔ چنانچہ بہانہ تلاش کرنے والوں نے آخر کار بہانہ تلاش ہی کر لیا جس کے پیش نظر ’’نجد‘‘ کے قاضی القضاۃ ’’سلیمان بن بلھید‘‘  کو مدینہ منورہ کی طرف روانہ کیا گیا، تاکہ وہ وہاں کے علما سے وہابیوں کے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانےکے لیے ہم عقیدہ افراد کی طرف سے چند سوالات کو اس انداز سے ترتیب دیں کہ ان سوالات کے جوابات وہابیوں کے عقیدے کے مطابق سوالات میں ہی پوشیدہ ہوں،  پھر ان سوالات کو وہاں (مدینہ منورہ) کے مفتیوں کے سامنے یہ کہہ کر پیش کیا کہ وہ (مفتی حضرات) ان سوالات کے بارے میں وہی فتویٰ صادر کریں جنہیں سوالات میں ہی بیان کیا گیا ہے اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان پر شرک کا حکم جاری کر کے ان کی مذمت کی جائے گی اور اس حکم کے بعد بھی اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو انہیں واجب القتل قرار دے دیا جائے گا۔
مذکورہ بالا سوالات و جوابات مکہ مکرمہ سے شائع ہونے والے ام القریٰ نامی رسالے کے ماہ شوال ۱۳۴۴ھ کے شمارے میں شائع ہوئے تھے اور ان کی اشاعت کے فورا بعد ہی تمام اسلامی فرقوں خصوصا اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان ایک کہرام مچ گیا۔
کیوںکہ سب جانتے تھے کہ مذکورہ سوالات کے بارے میں اگر چہ رعب اور دھمکیوں کے ذریعے فتاویٰ حاصل کئے گئے ہیں، تاہم ان فتاویٰ کے حصول کے بعد اسلام کے پیشواؤں کی قبور مسمار کرنے کے کام کو یقینا انجام دے دیا جائے گا۔
(یاد رہے کہ آقائے بزرگ تہرانی مرحوم نے اپنی کتاب الذریعہ کی جلد ۸ صفحہ ۲۶۱ پر تحریر فرمایا کہ وہابیوں نے پندرہ ربیع الاول ۱۳۴۳ ھج کو حجاز پر قبضہ کیا تھا اور ۸ شوال ۱۳۴۳ھج کو جنت البقیع میں مدفون ائمہ طاہرین اور صحابہ کرام کی قبور کو مسمار کیا تھا)
 جبکہ ام القریٰ نامی رسالے میں سوالات و جوابات ۱۷ شوال ۱۳۴۴ ھج کے شمارے میں شائع ہوئے تھے اور بتایا گیا تھا کہ علماء نے مذکورہ سوالات کے جوابات ۲۵ رمضان المبارک کو دئے تھے یعنی ام القریٰ کے مطابق حجاز پر قبضے اور قبور بقیع کو مسمار کرنے کا واقعہ دونوں باتیں ۱۳۴۴ ھج سے متعلق ہیں۔ اس کے علاوہ سید محسن امین مرحوم نے بھی حجاز پر قبضے اور قبور بقیع کو مسمار کرنے کی تاریخ ۱۳۴۴ ھج ہی بیان کی ہے( دیکھیے کشف الارتیاب ص ۵۶ تا ۶۰)
تاریخ کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ مدینہ منورہ کے ۱۵ علماء سے فتاویٰ حاصل کرنے اور حجاز میں ان فتاویٰ کے شائع ہونے کے بعد اسی سال (۱۳۴۴) کے ماہ شوال کی ۸ تاریخ سے ہی خاندان رسالت کے آثار کو مسمار کرنے کا شرمناک کام شروع کر دیا گیا۔ ائمہ طاہرین علیھم السلام اور جنت البقیع میں مدفون اصحاب رسول (ص) کی قبور کو مسار کرنے کے علاوہ ائمہ طاہرین علیھم السلام کے روضہ ہائے مبارکہ کے قیمتی سازو سامان کو بھی لوٹ لیا گیا۔ جنت البقیع کو ایسے ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا جسے دیکھ کر انسان کا دل کاپنے لگتا ہے۔۔۔۔
(اقتباس از کتاب آئین وہابیت، تالیف آیت اللہ جعفر سبحانی)

یہودیوں کی خونخواری کے کچھ اور نمونے

  • ۶۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ:

جرمنی
سنہ ۱۹۳۹ع‍ میں ایک جرمن رسالے میں عجیب تصویر شائع ہوئی۔ رسالے “سٹرمر” (der Stürmer) کے اس شمارے کو دین یہود میں انسانی قربانیوں کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ مجلے کی جلد پر ایک انسانیت سوز جرم کی تصویر تھی۔ اس انسانیت سوز جرم کا ارتکاب یہودیوں کے سوا کسی نے بھی کیا تھا۔ انھوں نے ایک طفل کو قتل کیا تھا اور اس کے خون کے آخری قطرے تک کو نکال دیا۔  
سنہ ۱۲۳۵ع‍ میں جرمنی کے فولڈٹ نامی علاقے سے پانچ بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں اور یہودی مشتبہ ٹہرے اور انہیں پکڑا گیا تو انھوں نے اقرار کیا کہ “انھوں نے ان بچوں کو طبی ضروریات کی بنا پر ہلاک کیا ہے”۔ اس واقعے پر یہودیوں سے انتقام لیا گیا اور ان میں بہت ساروں کو ہلاک کیا گیا۔
سنہ ۱۲۶۱ع‍ میں بادیو (Badeu) نامی علاقے میں ایک عورت نے اپنا سات سالہ بچہ یہودیوں کو فروخت کیا اور انھوں نے اس کو قتل کیا اور اس کے خون کے آخری قطرے تک کو محفوظ کیا اور بچے کی لاش کو دریا میں پھینک دیا۔ اس واقعے میں ملوث کئی یہودیوں کو پھانسی کی سزا ہوئی اور دو یہودیوں نے خودکشی کرلی۔
سنہ ۱۲۸۶ع‍ میں شہر اوبروزل (Oberwesel) میں یہودیوں نے “ویز” نامی ایک عیسائی بچے کو تین دن تک تشدد کا نشانہ بنایا۔ اور پھر اس کو الٹا لٹکایا اور اس کے خون کے آخری قطرے کو نکالا۔ کچھ عرصہ بعد بچے کی لاش دریا سے برآمد ہوئی۔ اس کے بعد ہر سال ۱۹ اپریل کو اس بچے کے صلیب پر لٹکائے جانے کی یاد منائی جاتی تھی۔ درندگی کی یہ واردات سنہ ۱۵۱۰ع‍ کو دوبارہ براڈنبرگ (Brandenburg) میں دہرائی گئی۔ یہودیوں نے ایک بچے کو خرید لیا، صلیب پر لٹکایا اور اس کے خون کے آخری قطرے کو نکالا۔ یہودی گرفتار ہوئے تو انھوں نے اعتراف جرم کیا اور ۴۱ یہودیوں کو پھانسی کی سزا دی گئی۔
 
شہر مایتز (Mytez) میں ایک یہودی نے ایک ۳ سالہ بچے کو اغوا کیا اور اس کا خون نکال کر اسے قتل کیا؛ ایک یہودی ملوث پایا گیا اور آگ کے سپرد کیا گیا۔ اس طرح کے واقعات جرمنی میں کئی کئی بار دہرائے گئے اور تمام ملوث افراد یہودی تھے۔ یہ واقعات سنہ ۱۸۸۲ع‍ میں عوام کے ہاتھوں بڑی تعداد میں یہودیوں کے قتل عام پر منتج ہوئے۔
۲۲ اور ۲۳ مارچ، ۱۹۲۸ع‍ کی درمیانی رات کو شہر گلاڈبیک (Gladbeck) میں ہلموٹ ڈاب (Helmut Daube) نامی ۲۰ سالہ نوجوان کو ذبح کیا گیا اور اس کا خون محفوظ کیا گیا اور دوسرے روز اس کی سر کٹی لاش اس کے والدین کے گھر کے سامنے سے برآمد ہوئی جبکہ اس کے اعضائے تناسلی بھی غائب تھے۔
اس جرم کا اصل مجرم ہزمین (Huszmann) نامی یہودی تھا۔
مورخہ ۱۷ دسامبر سنہ ۱۹۲۷ع‍ کو ایک پانچ سالہ بچہ اغوا ہوا اور کچھ دن بعد اس کی لاش ملی۔ ذمہ دار اہلکاروں نے بتایا کہ قتل کی یہ کاروائی دینی مقاصد کے لئے انجام پائی ہے لیکن اس واردات میں حتی ایک یہودی پر مورد الزام نہیں ٹہرایا گیا!!
 
یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ بچے اپنی پاکیزہ روح کی بنا پر، دیوتا “یہوہ” کے لئے بہترین قربانی کا درجہ رکھتے ہیں
سنہ ۱۹۳۲ع‍ میں شہر پیڈربرن (Paderborn) ایک لڑکی کا مردہ جسم برآمد ہوا، ایک یہودی قصائی اور اس کے بیٹے کو مورد الزام ٹہرایا گیا۔ اعلانہ ہوا کہ یہ واقعہ بھی دینی مقاصد کی بنا پر رونما ہوا ہے۔
ہسپانیہ
سنہ ۱۲۵۰ع‍ شہر زاراگوزا (Zaragoza) میں ایک بچے کی لاش برآمد ہوئی جس کو صلیب چڑھایا گیا تھا اور اور اس کے بدن میں خون کا ایک قطرہ بھی باقی نہیں رہا تھا۔ سنہ ۱۴۴۸ع‍ میں ایسا ہی واقعہ اسی شہر میں دہرایا گیا۔ اس واقعے میں یہودیوں نے ایک بچے کو صلیب چڑھایا اور اس کا پورا خون عید فصح کے لئے نکالا۔ کچھ یہودیوں کو مجرم پایا گیا اور پھانسی دی گئی۔ اس ۱۴۹۰ع‍ میں تولیدو (Tolido) نامی شہر میں ایک یہودی نے ایک بچے کے قتل میں اپنے دیگر شرکاء کے نام فاش کردیئے۔ اس جرم کے نتیجے میں آٹھ یہودیوں کو پھانسی دی گئی۔ سنہ ۱۴۹۰ع‍ کا واقعہ ہسپانیہ سے یہودیوں کی جلاوطنی کا اصل سبب تھا۔
 
سوئیٹزرلینڈ
سنہ ۱۲۸۷ع‍ کو شہر برن (Berne) میں ایک عیسائی بچے روڈولف (Rudolf) کو مالٹر (Matler) نامی صاحب ثروت یہودی کے گھر میں ذبح کیا گیا۔ یہودیوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ کچھ عرصہ بعد ایک یہودی شخص کا مجسمہ بنایا گیا جو ایک شیرخوار بچے کو کھا رہا تھا۔ مجسمہ یہودیوں کے محلے میں نصب کیا گیا تا کہ یہودیوں کو ان کی درندگی پر مبنی جرائم کی یاددہانی کرائی جاتی رہے۔ یہ سنگی مجسمہ آج بھی برن میں موجود ہے۔
آسٹریا
سنہ ۱۴۶۲ع‍ کو شہر انسبرک (Innsbruck) میں آنڈریاس آکسنر (Andreas Oxner) نامی عیسائی لڑکا یہودیوں کو فروخت کیا گیا۔ یہودی اسے جنگ لے گئے اور ایک چٹان کے اوپر ذبح کیا اور اس کے خون کو عید کے دن استعمال کیا۔ اس درندگی کے بعد یہودیوں کے خلاف بڑے فیصلے ہوئے اور اس کے بعد یہودی مجبور تھے کہ اپنے بائیں بازو پر پیلے رنگ کی پٹی باندھ کر گھر سے نکلا کریں تاکہ لوگ انہیں پہچانیں اور اپنے بچوں کی بہتر انداز سے حفاظت کرسکیں۔
اٹلی
سنہ ۱۴۷۵ع‍ کو اٹلی کے شہر ٹیرنٹ میں ایک یہودی ڈاکٹر نے سائمن (Simon) نامی دو سالہ عیسائی بچہ یہودی مقدس رسومات کے ایام میں اس کے والدین کی غیرموجودگی میں گھر سے چوری کرلیا۔ بچہ غائب ہوا تو نگاہیں یہودیوں کی طرف گئیں اور یہودیوں نے بھی تلاش میں حصہ لیا اور راز فاش ہونے کے خوف سے بچے کی لاش کو لاکر کہا کہ یہ ہم نے تلاش کرلی ہے اور بچہ پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوا ہے۔ لیکن تفتیش کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ بچہ ڈوبا نہیں بلکہ اس کی گردن، ہاتھوں اور پاؤں پر بےشمار گھاؤ لگے ہوئے ہیں جن سے بچے کے خون کا آخری قطرہ بھی نکالا گیا ہے۔ یہودیوں نے مجبور ہوکر اعتراف جرم کیا لیکن اپنے اس غیر انسانی عمل کا جواز پیش کرتے ہوئے کہ انہیں مذہبی رسومات میں قربانی کے لئے اس بچے کی ضرورت تھی اور اس کے خون سے عید فصح کی روٹی تیار کی گئی۔ سات یہودی اس جرم کے بموجب تختہ دار پر لٹکائے گئے۔
سنہ ۱۸۴۰ع‍ کو وینس (Venice) میں بھی تین یہودیوں کو ایک عیسائی بچے کی قربانی کے جرم میں پھانسی دی گئی۔
سنہ ۱۴۸۵ع‍ کو شہر پاڈوا (Padua) کے نواح میں لورنزین (Lorenzin) نامی عیسائی بچی یہودیوں کے ہاتھوں ذبح ہوئی۔
سنہ ۱۶۰۳ع‍ کو شہر ویرونا (Verona) میں ایک بچے کی لاش برآمد ہوئی جس کے بدن سے ماہرانہ انداز میں خون کی ایک ایک بوند تک نکالی گئی تھی۔ اس قضیئے میں کئی یہودیوں کو سزائیں ہوئیں۔
مجارستان (ہنگری)
سنہ ۱۴۹۴ع‍ کو شہر تیرانان (Teranan) میں یہودیوں نے ایک بچے کو صلیب پر لٹکایا اور اس کے جسم کا پورا خون نکال لیا۔ ایک معمر خاتون نے درندگی کی اس واردات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا چنانچہ اس نے واقعے میں ملوث افراد کو متعارف کرایا۔ یہودیوں نے تفتیش اور مقدمے کے دوران اعتراف کیا کہ انھوں نے چار دوسرے بچوں کو بھی ذبح کیا ہے اور ان کے خون کو “طبی مقاصد” کے لئے استعمال کیا ہے۔
اپریل ۱۸۸۲ع‍ کو یہودیوں کی خونی عید سے کچھ دن پہلے ۱۴ سالہ عیسائی لڑکی ٹریسا ایزلر (Tisza-Eszlar) کے نواح میں یہودیوں نے ۱۴ سالہ عیسائی لڑکی ایستر سالیموسی (Esther Solymosi) کو اغوا کیا۔ اسے آخری بار یہودی عبادتخانے کے باہر دیکھا گیا تھا۔ لوگوں کی توجہ یہودیوں کی طرف گئی۔ عبادت خانے کے ملازم جوزف شارف (Josef Scharf) کے دو بچوں ساموئل اور مورتیز (Samuel and Mortiz) نے اپنے باپ پر الزام لگایا اور کہا کہ ان کے والدین نے اس کو درندگی کا نشانہ بنا قتل کیا۔ لڑکی کی لاش ہرگز نہیں ملی۔ کئی یہودیوں نے کہا کہ انھوں نے عید فصح کے لئے لڑکی کے قتل میں حصہ لیا تھا۔ عبادتگاہ کے ملازم کے ایک بیٹے نے کہا کہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کہ لڑکی کے خون کو ایک بڑے برتن میں جمع کیا گیا۔ ۱۵ یہودی ملوث پائے گئے، مقدمہ ۱۹ جنوری سے ۳ اگست تک جاری رہا اور ماضی میں اتنا طویل مقدمہ کبھی نہیں لڑا گیا تھا۔ یہودی مال و دولت نے عیسائی لڑکی کا خون پامال کرہی لیا اور مجرمین اقرار جرم کے باوجود بےگناہ قرار دیئے گئے۔ یہودی درندگی کی یہ واردات پورے یورپ میں یہودیوں کے خلاف زبردست نفرت اور دشمنی پھیل جانے کا باعث ہوئی۔ (تو یہودی دشمنی یورپ میں بےسبب نہیں ہے)۔
 
روس
سنہ ۱۸۲۳ کو شہر ویلیژ (Velizh) میں یہودیوں کی عید فصح کے موقع پر ایک اڑھائی سالہ عیسائی بچہ لاپتہ ہوا اور ایک ہفتہ بعد اس کی لاش کو شہر کے قریبی تالاب سے برآمد کیا گیا۔ جس کے ننھے جسم پر نوکدار کیلوں کے لگنے سے بے شمار زخم آئے تھے، بچے کو کیلوں کے ذریعے زخمی کرنے کے بغیر اس کا ختنہ بھی کیا گیا تھا اور بدن میں خون کی ای بوند بھی نہیں پائی گئی، چنانچہ چند سال بعد تین روسی عورتوں سمیت پانچ یہودی حراست میں لئے گئے، جنہوں نے اقرار جرم کیا اور تین روسی عورتوں کو ـ جنہوں نے یہودی مذہب اختیار کیا تھا ـ سائبریا جلاوطن کیا گیا جبکہ یہودیوں کو بری کیا گیا جبکہ انھوں نے بھی اعتراف جرم کیا تھا لیکن یہودی پیسہ یہاں بھی کام آیا۔
یہودیوں کے ہاتھوں اغوا کی وارداتیں جاری رہیں۔ دسمبر ۱۸۵۲ع‍ میں ایک دس سالہ عیسائی بچہ اغوا ہوا۔ یہودیوں کو اس جرم میں ملوث پایا گیا اور انھوں نے بچے کے قتل اور اس کا خون جاری کرنے کا اقرار کرلیا۔
جنوری ۱۸۵۳ع‍ میں ایک ۱۱ سالہ بچہ اغوا کیا گیا اور اس کے ساتھ بھی وہی سلوک روا رکھا گیا جو دوسروں کے ساتھ روا رکھا گیا تھا۔ یہودیوں کو ملوث پایا گیا۔
مورخہ ۲۰ مارچ سنہ ۱۹۱۱ع‍‍ کو شہر کیف (Kiev) کے نواحی علاقے سے ایک ۱۳ سالہ عیسائی بچے آندیری یوشچنکی (Andrei Yushchinsky’s) کی لاش برآمد ہوئی جس کو چاقو کے ۴۸ وار کرکے قتل کیا گیا تھا اور اس کا پورا خون نکالا گیا تھا۔ قتل میں مناحیم مینڈل بیلیس نامی حسیدی (Hasidic) فرقے کا یہودی ملوث پایا گیا اور اس پر سنہ ۱۹۱۳ع‍ میں مقدمہ چلایا گیا لیکن آخرکار اسے بھی بری کیا گیا اور اس مقدمے کی وجہ سے سلطنت روس پر یہودی دشمنی کے الزام میں زبردست عالمی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہودی قاتل بہر حال بری ہوا اور قاتل پر مقدمہ چلانے والے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ (چمک کی برکت سے)۔
ترکی
سنہ ۱۸۳۹ع‍ میں دمشق کے کسٹمز اہلکاروں نے ایک یہودی سے خون کی ایک بوتل برآمد کرلی۔ یہودی نے ۱۰۰۰۰ پیاسٹر رشوت کی پیشکش کرتے ہوئے مسئلہ دبانے کی درخواست کی۔
سنہ ۱۸۴۰ع‍ کو یہودیوں کی عید “پوریم” کے موقع پر جزیرہ روڈز (Rhodes island) میں ایک یونانی عیسائی تاجر کا ۸ سالہ بچہ لاپتہ ہوا۔ اس کو آخری بار یہودی محلے میں دیکھا گیا تھا۔ وہ کچھ یہودیوں کو انڈے پہنچانے کے لئے اس محلے میں پہنچا تھا۔
ترک بادشاہ یوسف پاشا نے یونانی عوام کے شدید مطالبے پر یہودی محلے کو گھیر لیا اور یہودی سرغنوں کو گرفتار کرکے قید کرلیا۔ دائرۃ المعارف یہود طبع چہاردہم، کے صفحہ ۴۱۰ پر اقرار کیا گیا ہے کہ یہودی سرمایہ دار اور برطانوی یہودیوں کا سربراہ موسی مونتفیوری (Moses Montefiore) بیچ میں آیا اور ترک دربار کو بھاری رشوت دی۔ عثمانی سلطنت کے بینکوں کا یہودی سربراہ “کونٹ کمانڈو (Count Camondo) نے حقیقت کو دبانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہودی سرمائے کی قوت نے نہ صرف اس جرم کے دوران حق کو چھپایا اور دبایا بلکہ بہت سے دوسرے واقعات میں حق کشی میں مصروف رہی تھی اور آج تک مصرف ہے۔
 
یہودی آج بھی خاموشی سے خونخواری میں مصروف ہیں لیکن روش بدل گئی ہے
گوکہ یہودیوں کی آج کی جرائم پیشگی ذرا عجیب سے معلوم ہو لیکن یہودی خونخواری کی روایت میں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ چونکہ آج کے زمانے میں جرم کا تیزی سے سراغ لگایا جاتا ہے اور قانون کا تعاقب کچھ زیادہ رائج اور ناگزیر اور رشوت وسیع سطح پر بدنامی کا سبب بنتی ہے چنانچہ یہودیوں نے روش بدل دی ہے، بڑوں کو چھوڑنا پڑا ہے لیکن شیرخواروں کا خون چوسنا جاری و ساری ہے۔
 
یہ بہت ہی نفرت انگیز روش ہے جس میں بچے کا ختنہ کئے جانے کے فورا بعد ان کا خون چوسا جاتا ہے۔ یہ عمل بہت سی بیماریاں پھیلنے اور متعدد بچوں کی ہلاکت کا سبب بن رہا ہے۔
 
ایک یہودی حاخام (رابی) کی ختنہ گاہ کو حفظان صحت کے اصولوں کے برعکس اور نہایت دردناک انداز سے، ختنہ کرنے کے بعد بچے کی ختنہ گاہ سے خون چوستے ہوئے۔
 
ایک شیرخوار بچے کے جسم پر انفیکشن کے اثرات، اس بچے کا خون یہودی خاخام نے چوس لیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
کچھ حوالے:
۱۔ Bernard Lazare, “Antisémitisme: son histoire et ses causes”, Published in France in 1894.
۱۔ Arnold Leese, Jewish Ritual; Murder, published in 1938, Chapter 10.
۲۔ اس عید کو پسح، یا عید فطیر یا مصاها یا Easter بھی کہا جاتا ہے۔
۳۔ الکنز المرصود فی قواعد التلمود، صص ۲۲۳-۲۲۴۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مآخذ
۱٫ الیهود و القرابین البشریة – محمد فوزی حمزة، دار الأنصار. مصر
۲٫ نهایة الیهود – أبو الفدا محمد عارف، دار الاعتصام. مصر
۳٫ المسألة الیهودیة بین الأمم العربیة و الأجنبیة – عبد الله حسین، دار أبی الهول. مصر
۴٫ روزنامه الشعب مصر، شماره ۱۳۱۶ تاریخ ۱ دسامبر
۵٫ الیهود و القرابین البشریة، مصطفی رفعت، به آدرس زیر:
http://www.oboody.com/mychoice/03.htm
http://www.fatimamovement.com/i-jewish-talmud-exposed-7.php#Babylonian-Talmud-148
http://www.bibliotecapleyades.net/sociopolitica/esp_sociopol_bohemiangrove03.htm
منبع: mshrgh.ir/357083
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس (دوسرا حصہ)

  • ۸۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ

بقلم سید نجیب الحسن زیدی

{ہم نے گزشتہ تحریر میں کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس کی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آج کے دور میں اسرائیل کیوں کرونا سے خطرناک تر ہے ، دلیل کے طور پر ہم نے لوین ناتھن  کی جانب سے اسلامی مزاحمت کاروں کے خلاف عجیب و غریب قانون  تجویز کئے جانے کی طرف اشارہ کیا جس کے بموجب شہادت طلبانہ کاروائی کرنے والے افراد کے گھر والوں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کی سزا تجویز کی گئی تھی  اس تحریر میں ہم اس بات کو بیان کرنے کی کوشش کریں گے کہ عقل و منطق سے ماوراء یہ تجویز کیا کسی طرح قابل قبول ہو سکتی ہے  اگر نہیں تو کیا یہ اس طرح کی باتیں کرنے والے دہشت گردی کی وائرس کو وجود بخشنے کا ذریعہ نہیں ہیں  کیا ایسے میں ضروری نہیں ہے کہ ہم سب مل کر قدس کے پلیٹ فارم سے اس وائرس کے خلاف آواز اٹھائیں} ۔
آپ اندازہ لگائیں کہ اپنی ہی سر زمین کو حاصل کرنے کے لئے مزاحمت کرنے والوں کے لئے یہ سزا کونسی قانون کی کتاب میں ہے کہ شہادت طلبانہ کاروائی کرنے والوں کے گھر والوں کو پھانسی دے دی جائے ، ہر انسان جہاں اس بات پر حیران ہے وہیں آپ اس سزا کے پیچھے کتاب مقدس کی تعلیمات کو بھی دم بخود رہ جائیں گے چنانچہ ناتھن کی جانب سے ایک یہودی اخبار  «فاروارڈ»  کو اپنے دئیے گئے ایک انٹرویو کے دوران  یہ بات بھی کہی جاتی ہے :
 "غیر فوجی عام فلسطینیوں کے قتل کی پالیسی ، خودکش ( شہادت طلب ) حملوں کے مقابل ضروری انتباہ کو فراہم کرتی ہے !! لوین کی جانب سے  اس سلسلہ میں اپنی کہی بات کو تلمودی نظر شمعا  سے بھی جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے  یعنی یہ وہ بات ہے جو اس سے قبل شمعا میں بیان ہو چکی ہے ۔یہ وہ نظریہ ہے  جس کے بموجب  یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ قوم جسکے شہری مارے جاتے ہیں یا معذور ہو جاتے ہیں انکے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک با مقصد ٹرر کے ذریعہ یا دیگر وسائل کی بنیاد پر اس بات پر مختار و آزاد ہوں کہ خودکش بمبار ( شہادت طلب ) کے پہلے درجہ کے رشتہ داروں جو کہ والدین ، بھائیوں اور بہنوں کو شامل ہے  کو موت کے گھاٹ اتار دیں کاش کوئی اس عجیب و غریب نظریہ کو بیان کرنے والے کے سامنے  ۲۵ فروری  ۲۰۰۲ ء  کا وہ واقعہ رکھے جب ایک میریام گلداشتاین نامی  یہودی ہپرون کی ایک مسجد میں داخل ہوتا ہے اور ۴۰ فلسطینیوں کو نماز کی حالت میں شہید کر دیتا ہے اور عجیب بات ہے کہ اس کی ماں اپنے بیٹے کے اس عمل کی تحسین   و تمجیدکرتی ہے اور اس پر افتخار کرتی ہے  ۔ان سب چیزوں کے باوجود ، کیاکوئی  منطق یہ کہتی ہے کہ اس اقدام کرنے والے  میریام  کے گھر والوں کو فورا موت کے گھاٹ اتار دینا چاہیے ؟
یہ تو محض افراطی یہودیوں کی ان  فلسطینی مسلمانوں  کے خلاف قتل و غارت گری کا ایک نمونہ ہے کہ جنکا خانہ و کاشانہ یہودیوں کی نفرت کا شکار  ہو گیا  ۔
 بڑی اچھی بات کہی''  فسلطینیوں کی نسل کشی نامی کتاب '' کے مصنف نے کہ "ناتھن لوین صاحب اس مذکورہ بالا واقعہ کے پیش نظر  ضروری ہے کہ آپ اس قوم کے بارے  میں جو اپنے حق اور اپنی سر زمین کا دفاع کر رہی ہے  ایک نظر ثانی کریں اور ایسے نفسیاتی اقدامات سے پرہیز کریں جو یہودی  جوانوں کے  ذہنوں  کو اکسانے کا سبب ہیں اب آپ اندازہ لگائیں یہ وائرس کتنا خطرناک ہے جو کہ دہشت گردی کو ایک تقدس فراہم کر رہا ہے ۔
یہ تو ایک مثال تھی  اگر آپ  صہیونی رہبروں کی باتوں کو سنیں تو سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے ،جہاں یہودیوں کو ایک جگہ لانے کے لئے خود انکی مرضی کی ضرورت بھی نہیں ہے بلکہ کچھ ہی لوگ فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے  چنانچہ یہودیوں کی ایجنسی کے سربراہ  ڈیوڈ بن گوریان کا امریکی و یہودیوں کے  ایک مشترکہ اجتماع کا یہ بیان قابل غور ہے  " صہیونیت  کے اصولوں میں  ایک اصول تمام یہودیوں کو اسرائیل لانا تھا، ہم مختلف گھرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمار ی مدد کریں تاکہ ہم انکے بچوں کو اسرائیل لے جا ئیں البتہ یاد رہے  کہ اگر وہ  ایسا نہیں بھی کریں گے تو ہم زبردستی انہیں اسرائیل لے جائیں گے ،، ان جملوں کا مطلب یہ ہے کہ  صہیونی اہداف کے امتداد میں یہودیوں کی اپنی رائے اور انکی اپنی نظر کی کوئی اہمیت نہیں ہے  یہی وہ چیز ہے جس نے  صہیونیوں کے ساتھ یہودیوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے چنانچہ بیت المقدس میں عبری یونیورسٹی کے بانیوں میں ایک ڈاکٹر ماگنسس سلسلہ سے لکھتے ہیں : ہمارا ہمیشہ سے یہ خیال رہا کہ صہیونزم کی تحریک دنیا میں یہود مخالفت کے ختم  ہونے کا سبب ہوگی لیکن آج ہم اس کا بالکل الٹا اثر دیکھ رہے ہیں ۔ صہیونیوں نے یہود مخالفت سے سب سے زیادہ ناجائز فائدہ ہٹلر کے سامنے آنے کے بعد اٹھایا،  یہاں یہ تسلط پسندانہ عزائم یہودیوں کو نقصان پہنچانے کا سبب رہے ہیں وہیں یہ بات بھی ہے کہ اگر صہیونی نظریات سے ہٹ کر کوئی یہودیوں کے لئے آگے بھی آیا ہے تو اسے بھی مخالفت ہی کا سامنا کرنا پڑا ہے چنانچہ  ماریس ارنسٹ رفیو جی اور ملک  بدری  امور سے متعلق بین الاقوامی ادارہ  روزولٹ کے نمائندہ اس بارے میں کہتے ہیں : جب یہودیوں کے لئیے میں جرمنی میں ایک امن و سکون کی جگہ تلاش کر رہا تھا اس وقت یہودی میرے اس کام کے خلاف تھے اور میرا مذاق اڑا رہے تھے حتی شدت کے ساتھ میرے اوپر حملہ آور تھے ۔ اب آپ اندازہ لگائیں جو لوگ یہودیوں کے لئے ہی کام کر رہے تھے لیکن صہیونی نظریہ سے مکمل طور پر متفق نہیں تھے  یہ  تسلط پسندانہ عزائم رکھنے والے  یہودی انکے بھی مخالف تھے یہ وائرس کتنا خطرناک ہےاسے سمجھنا ہو تو اس وائرس سے بری طرح متاثر ملک امریکہ کو ہی لے لیں جس کے بارے میں "صہیونی لابی اور امریکہ کے خارجی سیاست" نامی کتاب لکھنے والے دو عظیم قلمکاروں نے اپنی کتاب میں اشارہ کیا ہے کہ امریکہ صہیونی لابی کے آگے کتنا بے بس ہے۔
   یاد رہے کہ یہ کتاب اوہ جوزف میئر شیمر(John Mearsheimer (/ mɪrʃhaɪmər /؛ اور اسٹیفن والٹ   کی مشترکہ کاوش ہے  دونوں ہی آر وینیل ہیریسن ڈسٹرکٹ میں ممتاز استاد کی حیثیت سے جانے جاتے  ہیں  کتاب کے مصنفین کا مقصد اسرائیلی حکومت کی حمایت کے سلسلہ سے صہیونیوں کی غلط توجیہات اور نئے قدامت پسندوں کی اس ناجائز حکومت کی حمایت کے سلسلہ سے کی جانے والی تاویلوں کو آشکار کرتے ہوئے ان پر خط بطلان کھینچنا ہے ۔ اس کتاب میں واضح طو ر پر اس بات کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکی سیاست  مداروں نے عراق اور افغانستان میں ہزاروں لوگوں کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا جبکہ صہیونی چھوٹی سی  منظم لابی کے سامنے انکی گھگھی بندھی رہتی ہے اور انکی حقارت کی انتہا نہیں ۔
مصنفین کی نظر کے مطابق مشرق وسطی میں امریکہ کی خارجی سیاست ہر ایک عامل سے زیادہ  صہیونی لابی سے متاثر ہے یہاں تک کہ آخری چند دہایہوں میں خاص کر اسرائیل و  عربوں کی جنگ کے دور سے اسرائیل سے تعلقات   کا مسئلہ مشرق وسطی میں امریکہ کی بنیادی سیاست  میں تبدیل  ہو گیا ہے ۔
یہ کتاب ۲۰۰۶  میں چھپی ، اور اسکے مارکیٹ میں آنے کے بعد  دنیا بھر میں  مخالفین و موافقین کے درمیان بحث و گفتگو کا بازار گرم ہو  گیا قابل ذکر ہے کہ ۲۰۰۶ ء میں ہی یہ کتاب کئی بار پرنٹ ہوئی اور اس کے ایڈیشن کے ایڈیشن ختم ہو گئے یہاں تک کے ۲۰۰۶ء میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب قرار پائی ۔
کتاب کے ایک حصہ میں ہمیں ملتا ہے" صہیونی لابی امریکہ میں اس قدر طاقت ور ہے کہ اس نے ناقابل خدشہ یہ عقیدہ لوگوں کے ذہنوں میں ترسیم کر دیا ہے کہ دونوں ملکوں کے قومی مفادات ایک ہی ہیں '' واضح سی بات ہے کہ ہر ملک کی خارجہ پالیسی  اس ملک  کے قومی مفادات کے پیش نظر تدوین پاتی ہے ، جبکہ یہ بات مشرق وسطی میں امریکی پالیسی پر صادق نہیں آتی اس لئیے  کہ صہیونی رژیم کے مفادات کا تحفظ اس علاقہ میں امریکہ کی اصلی خارجہ پالیسی کا محور و مرکز ہے  کتنی عجیب بات ہے دنیا کا سب سے طاقت ورمانا جانے والا ملک  اتنا بے بس ہے کہ کہ امریکہ کی صدارت کے امیدواروں میں کوئی ایک ایسا نہیں ہے چاہے وہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکراٹ کوئی بھی ایسانہیں جو صہیونیوں  کو خشنود کئیے بغیر انکی رضایت کے بغیر انکی مالی حمایت کے بغیر  الیکشن  میں  کامیاب ہونے کے بارے میں سوچ بھی سکے ۔ اسی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا جو ایک طرف تو کرونا کے وائرس سے لڑنے میں ناکام رہا ہے دوسری طرف کرونا سے زیادہ خطرناک وائرس کو اپنے لئے نسخہ شفا بخش سمجھ بیٹھا ہے اور دونوں ہی وائرس ایسے ہیں جو مسلسل اسے تباہ کئے جا رہے ہیں ۔
 

 

 

 

تاریخ کی خونخوار ترین قوم کے خونخوار واقعات

  • ۱۰۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ:

مصر
سنہ ۱۸۸۱ع‍ میں مصر کے شہر “پورٹ سعید” میں یہودیوں نے نہایت ہولناک ترین جرم کا ارتکاب کیا۔ ایک یہودی شخص قاہرہ سے پورٹ سعید آتا ہے، شہر کے مغرب میں ایک مکان کرائے پر حاصل کرتا ہے اور اسی علاقے میں رہائش پذیر ایک یونانی دکاندار کے ساتھ آنا جانا شروع کر دیتا ہے۔
ایک دن یہودی ایک آٹھ سالہ بچی کو لے کر یونانی دکاندار کے پاس پہنچتا ہے، اور شراب لے کر پینا شروع کر دیتا ہے اور بچی کو شراب نوشی پر آمادہ کرتا ہے۔ یونانی مرد حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ دوسرے روز ایک سر بریدہ لاش لوگوں کو ملتی ہے؛ آٹھ سالہ بچی نہایت درندگی سے قتل کی جاچکی تھی۔
شام
سنہ ۱۸۸۰ع‍ ایک شام کے شہر حلب میں ایک عیسائی لڑکی لاپتہ ہوئی۔ تلاش بسیار کے بعد لڑکی کی سربریدہ لاش برآمد ہوئی جس کے ارد گرد خون کا ایک قطرہ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس فتل کے الزام میں “رفول انکوتا” نامی یہودی گرفتار ہوا جس نے اعتراف کیا کہ اس نے عید فصح کے لئے اس لڑکی کا خون حاصل کیا تھا۔
مورخہ ۵ فروری ۱۸۴۰ کو یہودیوں نے کیتھولک پادری المعروف بہ “فادر فرانسوا انطوان توما” کو اغوا کیا۔ وہ چیچک کی بیماری میں مبتلا ایک یہودی بچے کے علاج کے لئے دمشق کے یہودی محلے میں چلا گیا تھا لیکن بیمار یہودی بچے سے ملنے کے بعد واپسی کے راستے میں کچھ یہودیوں نے اسے اغوا کیا اور پھر اس کو نہایت دردناک طریقے سے قتل کر کے اس کا خون عید فصح اور عید پوریم کے لئے حاصل کیا۔
علاوہ ازیں دمشق میں بہت سی چھوٹی بچیاں اغوا ہوئیں اور یہودیوں نے انہیں قتل کرکے ان کا خون جمع کیا۔ شاید ان وارداتوں میں سب سے مشہور واقعہ “ہینری عبدالنور” کی بیٹی کے قتل کا واقعہ تھا۔ یہودیوں نے ۷ اپریل ۱۸۹۰ع‍ کو ان کی بیٹی کو اغوا کیا اور اس کے والد نے اس کے غم میں مشہور قصیدہ لکھا۔
 
لبنان
یہودیوں نے سنہ ۱۸۲۴ع‍ میں “فتح اللہ صائغ” نامی شخص کو دعوت ضیافت دے کر اس کو قتل کیا اور اس کا خون عید فصح کے لئے جمع کیا۔ یہ عمل سنہ ۱۸۲۶ع‍ میں انطاکیہ اور ۱۸۲۹ع‍ میں حماہ میں دہرایا گیا۔
۱۸۳۴ع‍ میں ایک اس وقت کے شام کے شہر طرابلس میں ـ جو اس وقت لبنان کا حصہ ہے ـ ایک یہودی عورت نے جب یہودیوں کی خونخواری اور بےگناہ بچوں کا دردناک قتل اپنی آنکھوں سے دیکھا تو وہ دینی یہود سے برگشتہ ہو کر عیسائی ہوگئی اور “راہبہ کیترینا” کے نام سے مشہور ہوئی اور اسی نام سے دین نصاری پر دنیا سے رخصت ہوئی۔ اس خاتون نے یہودیوں کے انسانیت سوز جرائم اور انسانی خون بہانے کی یہودی پیاس کے سلسلے میں اہم یادداشتیں لکھیں اور ان یادداشتوں میں ان جرائم اور انسانیت پر ان کے مظالم کی تشریح کی ہے۔ اس کے بیان کردہ واقعات میں انطاکیہ، حماہ اور طرابلس کے واقعات بھی شامل ہیں جن میں یہودیوں نے دو عیسائی بچوں اور ایک مسلمان لڑکی کو قتل کرکے ان کا خون حاصل کیا۔
برطانیہ
سنہ ۱۱۴۴ع‍ میں نارویچ (Norwich) کے علاقے میں ایک ۱۲ سالہ بچے کی لاش ملی جس کے بدن کے مختلف حصوں میں شگاف ڈال دیئے گئے تھے اور ان سے خون نکالا گیا تھا۔ یہ یہودیوں کی عید فصح کا دن تھا جس کی وجہ سے نارویچ کے علاقوں کی نگاہ یہودیوں کی طرف گئی اور تمام مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، اور معلوم ہوا کہ اس بچے کے تمام قاتلین یہودی تھے۔ اس واقعے کی دستاویزات آج بھی برطانوی گرجوں میں موجود ہیں۔
علاوه بر این در سال ۱۱۶۰ع‍ میں ایک طفل کی لاش برطانیہ کے علاقے گلوسٹر (Glowcester) سے برآمد ہوئی جسے صلیب پر چڑھایا گیا تھا اور اس کے بدن پر لگے متعدد زخموں سے اس کا پورا خون کھینچ لیا گیا تھا۔ ۱۲۳۵ع‍ میں چند یہودیوں نے ایک بچے کو نورویچ کے محلے سے اغوا کرکے چھپایا تاکہ مناسب موقع پا کر اس کو قتل کردیں اور اس کا خون کھینچ لیں۔ لیکن جس وقت اس کا ختنہ کررہے تھے اور قتل کے لئے تیار کررہے تھے، عوام نے قاتل یہودیوں کو قابو کرلیا اور بچے کو موت کے منہ سے باہر نکالا۔
یہودیوں نے ۱۲۵۵ع‍ میں برطانیہ کے رہائشی علاقے “لنکن” (Lincoln) سے ایک بچہ اغوا کیا۔ یہ عید فصح کے ایام تھے۔ یہودیوں نے بچے پر تشدد کیا، اسے صلیب پر چڑھایا اور اس کا پورا خون کھینچ لیا۔ بچے کے والدین نے اپنے بچے کی لاش جوپین (Joppin) نامی یہودی کے گھر کے قریب واقع ایک کنویں سے برآمد کی۔ جوپین نے تفتیش کے دوران اعتراف جرم کرتے ہوئے اپنے دوسرے ساتھیوں کا نام و نشان بھی بتا دیا۔ ۹۱ یہودی درندگی کی اس واردات میں ملوث پائے گئے اور ۱۸ یہودیوں کو پھانسی دی گئی۔
برطانیہ میں یہودیوں کی خونخواریاں ۱۲۹۰ع‍ تک جاری رہیں، یہاں تک کہ اس سال آکسفورڈ کے علاقے میں یہودیوں نے ایک عیسائی بچے کو قتل کیا اور اس کا خون کھینچ لیا۔ یہ جرم ایڈورڈ اول شاہ انگلستان (Edward I of England) کے تاریخی حکم پر منتج ہوا اور اس نے برطانیہ سے تمام یہودیوں کی جلا وطنی کا حکم دیا۔
سنہ ۱۹۲۸ع‍ میں برطانیہ کے شہر منچسٹر میں اوڈنیل (Odenil) نامی بچے کی لاش برآمد ہوئی جس کے بدن میں خون کا ایک قطرہ بھی باقی نہ تھا۔ یہ واقعہ یہودیوں کی عید سے صرف ایک دن پہلے رونما ہوا تھا۔
مارچ ۱۹۳۲ع‍ میں عید فصح سے ایک دن پہلے، ایک بچے کی لاش ملی جس کو اسی انداز سے مارا گیا تھا اور اس واقعے میں کئی یہودیوں کو مجرم ٹہرایا گیا اور انہیں سزائیں ہوئیں۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ
یہودی لڑکی “ویکی پیلن” المعروف “ریچل” نے ۱۹۸۹ع‍ میں ایک ٹی وی اوپرا شو کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے خود ایک شیرخوار بچے کو قربان کیا اور یہ کہ اس کام کے لئے خاندان کے اندر کچھ عورتوں کو بچے پیدا کرنا پڑتے ہیں لیکن ایک بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ کبھی بھی کسی یہودی بچے کو قربان نہ کیا جائے۔ (ویڈیو کلپ اور اردو متن کے لئے یہاں کلک کریں)
سال ۱۹۰۹ – ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو کے قریب “بوہیمی پارک” (Bohemian Grove) ان پر اسرار مقامات میں سے ہے جہاں کئی عشروں سے با اثر یہودی شخصیات، ماسونی لاجز کے اراکین اکٹھے ہوتے رہے ہیں اور اس میں دیوتاؤں کے لئے قربانی دینے کی رسومات عمل میں لائی جاتی رہی ہیں۔
بوہیمی پارک میں ہر سال جولائی کے مہینے میں بوہیمی کلب کے ممبران کی بیٹھک ہوتی ہے جو دو ہفتوں تک جاری رہتی ہے۔ جولائی سنہ ۲۰۰۰ع‍ میں ریڈیو کا ایک میزبان، آلکس جونز (Alex Jones) اپنے کیمرہ مین کے ہمراہ اس پر اسرار پارک میں پہنچا اور خفیہ طور پر یہاں منعقدہ رسومات کو فلمایا۔ اس بیٹھک میں سیاستدانوں اور اقتصادی شعبے کے نامی گرامی افراد شریک ہوتے ہیں اور علامتی طور پر ایک انسان کو چالیس فٹ اونچے سنگی “الو” کے لئے قربان کرتے ہیں۔ آلکس نے اپنی خفیہ تصویروں اور ویڈیو کلپس کو “اندھیرے راز؛ بوہیمیوں کا پارک” (Dark Secrets Inside Bohemian Grove) کے عنوان سے دستاویزی فلم کی شکل دی۔
 
فرانس
سنہ ۱۱۷۱ع‍ میں شہر بلوئس (Blois) میں عید فصح کے ایام میں ایک عیسائی بچے کی لاش دریا سے برآمد ہوئی۔ یہودیوں نے اس بچے کا خون اپنی دینی رسومات میں استعمال کرنے کے لئے نکال لیا تھا۔ پستی اور خونخواری کی اس واردات میں ملوث یہودیوں کو گرفتار کیا گیا اور کئی افراد کو پھانسی دی گئی۔ سنہ ۱۱۷۹ع‍ میں شہر پونتیوس (Pontois) میں ایک بچے کی لاش ملی جس کے خون کے آخری قطرے تک کو یہودیوں نے کھینچ لیا تھا۔
ادھر بریزین شہر میں ایک نوجوان عیسائی، چوری کے ایک ملزم آلکونتس دوف دور نامی شخص نے اغوا کرکے یہودیوں کو فروخت کیا۔
سنہ ۱۱۹۲ع‍ میں شہر بریزین (Braisne) میں ایگنس، کاؤنٹس آف دروکس (Agnes, Countess of Dreux)، نے ایک عیسائی نوجوان، جس پر وہ چوری اور قتل کا الزام لگا رہی تھی، کو یہودیوں کے ہاتھوں فروخت کیا جس کو یہودیوں نے سولی پر لٹکایا اور اس کا خون نکالا۔ فرانس کے بادشاہ فلپ نے ذاتی طور پر اس مقدمے میں شرکت کی اور مجرموں کو آگ میں جلا دیا۔
سنہ ۱۲۴۷ع‍ میں فرانس کے علاقے والاریاس (Valréas) میں ایک دو سالہ بچے کی لاش برآمد ہوئی جس کی گردن، ہاتھوں اور پاؤں پر گھاؤ لگائے گئے تھے۔ یہودیوں نے اس روش سے بچے کا خون نکال لیا تھا۔ ملوث یہودیوں کو گرفتار کیا گیا اور انھوں نے اعتراف جرم کیا۔ یہودی دائرۃ المعارف کے مطابق، اس جرم کے نتیجے میں تین یہودیوں کو پھانسی کی سزا دی گئی۔ سنہ ۱۲۸۸ع‍ میں بھی ایک بچے کی لاش یہودی آبادی کی طرف جانے والے راستے میں پڑی ملی۔ یہودیوں پر مقدمہ چلایا گیا اور ۱۳ یہودیوں کو آگ میں جلایا گیا۔ (یہودی دائرۃ المعارف)

 

کتاب’ قوم یہود کی جعلی داستان‘ کا تعارف

  • ۷۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: “قوم یہود کی جعلی داستان”[۱] ۔شلوموسینڈ[۲] نامی یہودی محقق اور تل ابیب یونیورسٹی[۳] میں تاریخ معاصر کے استاد کے قلم سے سامنے آنے والی کتاب ہے شلومو کی پیدائش ۱۹۴۶ء میں آسٹریریا[۴] میں ہوئی ، پروفسر شلوموسینڈ کے اہم اثار کی طرف یوں اشارہ کیا جا سکتا ہے :
The Invention of the Land of Israel: From Holy Land to Homeland
How I Stopped Being a Jew
On the Nation and the “Jewish People”
“قوم یہود کی جعلی داستان” کو پروفسیر شلوموسینڈ (Shlomo Sand) کے اہم آثار میں اہم اثر کے طور پر شمار کیا جاتا ہے ، اور یہ کتاب تاریخ یہود و صہیونییت کے سلسلہ سے لکھی جانے والی کتابوں میں سب سے زیادہ بکنے والی اور اپنے موضوع کے لحاظ سے متنازعہ ترین کتاب ہے۔
پروفسیر شلوموسینڈ نے اپنی”قوم یہود کی جعلی داستان”نامی اس کتاب کا آغاز سر زمین مقدس سے یہودیوں کے انخلاء کا جائزہ لیتے ہوئے کیا ہے ، مصنف نے اس کتاب کا مقصد صہیونیوں کے ایک قوم کی تشکیل کے عقیدے کو چیلنج کرنا بیان کیا ہے یعنی کتاب کا مقصد اس صہیونی فکر کو چیلنج کرنا ہے جسکے بموجب صہیونی عقیدے کے مطابق ایک قوم کی تشکیل کی با ت کہی گئی ہے[۵] پروفسیر شلوموسینڈ کا ماننا ہے کہ یہودی کبھی بھی ایک خاص نسل یا مشترکہ نسل سے نہیں رہے ہیں اور مسلمانوں و عیسائیوں کی طرح مختلف نسلوں کے حامل رہے ہیں جبکہ اس کے برخلاف صہیونیوں کی کوشش ہے کہ یہودیوں کے نسلی اشتراک کے مسئلہ کو ایک دینی اصل وبنیادکے طور پر پیش کیا جا سکے ۔
 
پروفسیر شلوموسینڈ کا کہنا ہے ” میں نے اپنی “قوم یہود کی جعلی داستان” نامی اس کتاب میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح صہیونیوں نے یہودیوں کے لئے ایک تاریخ گھڑنے کا کام کرتے ہوئے جھوٹی تاریخ بنائی ہے اوراس گڑھی ہوئی تاریخ کو فلسطین میں اپنے ذریعہ کئے جانے والے قتل عام[۶] اور اس علاقے پر قبضے کی توجیہ کا سبب بناتے ہوئے اس جھوٹی تاریخ سے اپنے مقاصدکے حصول میں فائدہ اٹھایا ہے ۔
مصنف نے اس کتاب میں یہ استدلال کیا ہے کہ اکثر یہودی ایسی سرزمین سے متعلق ہیں جو مشرق وسطی اور مشرقی یورپ کے علاوہ ہے ، پروفسیر شلوموسینڈ کا ماننا ہے کہ صہیونیزم کی پیدائش سے قبل فلسطین کی طرف بازگشت کے خیال سے یہودی اذہان مکمل طور پر بیگانہ تھے ۔اس لئے کہ کافی مدت تک یہودی مقدس سر زمین کے علاوہ دوسری جگہوں پر رہائش پذیر تھے ۔
پروفسیر شلوموسینڈ کی کوشش غالبا یہی ہے کہ اپنےآثار میں صہیونیت کے عقائد کو چلنج کرتے ہوئے انہیں رد کیا جائے چنانچہ سند نے اس کتاب میں بھی کوشش کی ہے کہ اسرائیل کے وجود میں آنے کی ایک جدید روایت کو پیش کیا جائے ، سند تاریخ نگاروں کے برخلاف یہودی بشپس یا خاخاموں کو صہیونیت کے معماروں میں نہیں جانتے ہیں ۔
پروفسیر شلوموسینڈ نے ایک انٹر ویو میں اپنی کتاب “قوم یہود کی جعلی داستان” کے سلسلہ سے وضاحت کرتے ہوئے کہا : “صہیونیت کی کوشش ہے کہ یہودیوں کے درمیان ایک مشترکہ نسل کا فرضیہ بنایا جائے اور دین یہود کا ایک نیا نسخہ کچھ نئے عقائد و افکار کے ساتھ پیش کیا جائے [۷]”
پروفسیر شلوموسینڈ کے دعوے کے مطابق کتاب میں یہودیوں کے در بدر ہونے کا سبب انکی رومیوں سے شکست یا انکی دیگر شکستیں نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ یہودیوں اور قدیمی یہودیوں کے ما بین نسلی اشتراک خود بہ خود ٹوٹ جاتا ہے اور یہ بات بے معنی ہو جاتی ہے کہ یہ لوگ ایک ہی نسل سے ہیں[۸] ۔
پروفسیر شلوموسینڈ کے عقیدے کے مطابق یہدیوں کی رومیوں کی ذریعہ ملک بدری کی بات مکمل طور پر بے جا غلط اور جعلی ہے اور صہیونیوں نے اسے بنا سنوار کر پیش کیا ہے اگر دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو صہیونیوں نے مقدس سرزمین سے یہودیوں کے اخراج کو جو کہ ایک الہی سزا سے عبارت ہے ، تحریف کر کے تاریخ اور دین یہودیت کو تبدیل کر دیا ہے ۔
حواشی :
[۱] ۔ The Invention of the Jewish People
[۲] ۔ Shlomo Sand
[۳] ۔ Tel Aviv, Israel
[۴] ۔Linz, Austria
[۵] ۔ https://www.nytimes.com/2009/11/24/books/24jews.html
[۶] ۔ https://www.alaraby.co.uk/supplementculture/2016/4/4
[۷] ۔ https://www.theguardian.com/books/2010/jan/17/shlomo-sand-judaism-israel-jewish
[۸] ۔ https://www.theguardian.com/books/2010/jan/09/invention-jewish-people-sand-review

 

رہبر انقلاب کے فرمودات پر عمل سے اسرائیل کی تباہی ممکن

  • ۸۳

فلسطین اسٹیڈی سنٹر کے سابق چیئرمین ڈاکٹر صادق رمضانی نے خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے یوم القدس کے موقع پر عالم اسلام کو کئے گئے رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
رہبر انقلاب اسلامی کے فرمودات سے جو چیز سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ صہیونی ریاست روز بروز اپنی نابودی کے قریب ہوتی جا رہی ہے، شہید قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے پاک خون کی بے شمار برکتوں میں سے ایک برکت یہ ہے کہ عالمی سامراج، بین الاقوامی صہیونیزم اور غاصب اسرائیل کے پیکر پر طاری خوف و دھشت مزید بڑھ چکا ہے۔
آج جو فلسطینی معاشرے میں استقامت، پائیداری اور مزاحمتی محاذ میں نظم و انسجام پایا جاتا ہے اس میں شہید قاسم سلیمانی کا بہت بڑا کردار ہے۔ جیسا کہ اسلامی تحریک حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے خود شہید قاسم سلیمانی کے تشییع جنازہ کے دن اپنی تقریر میں تین مرتبہ دھرا کر انہیں شہید القدس کا لقب دیا۔ اور اس طرح سے دنیا والوں خصوصا صہیونیوں کو یہ سمجھا دیا کہ اگر قاسم سلیمانی نہ ہوتے تو آج غزہ کی پٹی صہیونیوں کے مقابلے میں ڈٹائی کا مظاہر نہ کر پاتی۔ جیسا کہ رہبر انقلاب نے بھی اس نکتے کی طرف اشارہ کیا اور اسے الحاج قاسم کے وجود کی برکت قرار دیا۔
ڈاکٹر رمضانی نے رہبر انقلاب کے بیانات پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا: آپ نے یہ خوشخبری بھی دی کہ مزاحمتی گروہوں کی تشکیل اور فلسطین کے مختلف نقطوں پر رہ کر مقابلہ کرنا ہمیں حقیقی کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔
انہوں نے صہیونی ریاست کی داخلی صورتحال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: "آج، صیہونی دشمن شدید بحران اور مایوسی کا شکار ہے، اور جرائم پیشہ امریکہ اور پاگل ٹرمپ کے علاوہ کوئی اس کا مضبوط حامی نہیں ہے۔ رہبر انقلاب کے بیانات میں فلسطینی اتھارٹی کے بارے میں جو اہم نکتہ تھا وہ یہ کہ فلسطینی اتھارٹی مزاحمتی محاذ کا ساتھ دے اور کسی غلطی کا ارتکاب نہ کرے۔ اس لیے کہ کسی بھی طرح کی اسٹریٹجک غلطی یا ان طاقتوں کی طرف معمولی سا جھکاؤ یا ان سے وابستہ عربی ممالک کی طرف جھکاؤ فلسطین کےلیے پریشان کن ثٓابت ہو سکتا ہے۔
 ڈاکٹر رمضانی نے شام کی موجودہ صورتحال اور مزاحمتی محاذ کے لیے اس کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: رہبر انقلاب کے بیانات سے جو چیز ہماری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ فلسطین کی بقا کا راز مزاحمتی محاذ کی بقا ہے۔ اور مزاحمتی محاذ آج شام میں سرگرم عمل ہے اور دیگر اوقات سے زیادہ آج مضبوط اور مستحکم ہے۔ حالیہ سالوں میں شام میں عالمی یوم القدس کی رسومات کھلی فضا اور سائبری اسپیس میں منعقد ہوئیں شام کے ثقافتی اداروں نے والینٹیئر طور پر حیرت انگیز سرگرمیاں انجام دیں، منجملہ شام میں عرب رائٹر یونین نے دس روز سے زیادہ عرصے میں سو سے زیادہ سیاسی لیڈروں اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو کیمرے کے سامنے لایا اور فلسطین کے حوالے سے گفتگو اور بحث و مباحثہ ہوا جس کا اندرونی اور بیرونی میڈیا پر کافی چرچا رہا۔
انہوں نے آخر میں امام خمینی (رہ) اور رہبر انقلاب کے دشمن شناسی کے حوالے سے مشترکہ موقف کی طرف اشارہ کیا اور کہا: یہ امام خمینی (رہ) کی عمیق نگاہ تھی جس کی وجہ سے آج پوری دنیا میں صہیونیت کے خلاف ایک تحریک وجود میں آ چکی ہے۔ رہبر انقلاب نے اپنے خطاب میں اس نکتے کی طرف اشارہ کیا کہ علاقے سے سرطانی پھوڑے کی نابودی تمام ملتوں کی ہمت و شجاعت کی بدولت ممکن ہو گی کہ خوش قسمتی سے دنیا کی ملتیں جاگ چکی ہیں لیکن دوسری طرف سے اسلام کے دشمنوں کی دشمنی بھی اپنی جگہ مضبوط ہے اور اس دشمنی کے مقابلے میں صبر نہیں کیا جا سکتا۔ ایک متفقہ منصوبہ بندی اور رہبر انقلاب کے فرمودات پر عمل کے ذریعے ہی صہیونی ریاست کو نابودی کے گڑھے میں ڈالا جا سکتا ہے۔

 

کس قوم کو “تاریخ کی خونخوارترین قوم” کا خطاب ملا؟

  • ۹۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ : یہودیوں اور خونریزیوں کے درمیان کا ناطہ کوئی نیا نہیں ہے۔ یہودی قوم کی درندگی، وحشی پن اور خونخواری کا اندازہ مقبوضہ سرزمینوں میں فلسطینیوں کے خلاف ان کے جاری اقدامات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہودی قوم کی تاریخ اور گذشتہ صدیوں میں ان کے کرتوتوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے تحریف شدہ دین اور تعلیمات کے عین مطابق، بنیادی طور پر، خونریزی اور خونخواری پر زور دیتے ہیں۔ یہودی بچہ [یہودی ماں کی کوکھ] سے پیدا ہوتا ہے تو اس کا ختنہ کیا جاتا ہے اور یہیں سے خونخواری کا آغاز ہوتا کیونکہ یہودی رابی [حاخام] عمل ختنہ سے نکلنے والے خون کو چوس چوس کر پی لیتے ہیں اور یہ سلسلہ “یہوہ” کے لئے انسانوں کی قربانی دینے، قربان ہونے والے انسان کے خون کو مٹھائیوں میں ملانے تک جاری رہتا ہے۔
 
ڈاکٹر “ایریک بسکوف” (Erich Bischoff) قوم یہود کے بارے میں لکھتے ہیں: “یہودی فلسفے اور اس کی تعلیمات میں ان اجنبیوں کا قتل جائز ہے جو حیوانات کے برابر ہیں اور یہ کشت و خون شرعی احکام کے دائرے میں ہونا چاہئے اور جو لوگ دین یہود کی تعلیمات پر یقین نہیں رکھتے، انہیں قربانی کے طور پر بڑے دیوتا کی خدمت میں پیش کرنا چاہئے”۔
رچرڈ فرانسس بورٹن (Richard Francis Burton) ـ جنہوں نے عرصہ دراز تک تلمود کی تعلیم حاصل کی ہے ـ اپنی کتاب “یہودی، خانہ بدوش اور اسلام” (The Jew, The Gypsy, and El Islam) مطبوعہ سنہ ۱۸۹۸ع‍] میں لکھتے ہیں: “تلمود کے مندرجات کے مطابق، یہودیوں کے درمیان دو خونی رسمیں پائی جاتی ہیں جن کے ذریعے “یہوہ” کو خوشنود کیا جاسکتا ہے، ان میں سے ایک انسانی خون سے آلودہ روٹیوں کی عید ہے ـ جو در حقیقت وہی عید فصح ہی ہے ـ اور دوسری رسم یہودی بچوں کا ختنہ کرنے کی رسم ہے” جس سے نکلنے والے خون کو یہودی حاخام چوس چوس کر پی لیتے ہیں۔
 
غیر یہودی انسانوں کے قتل کے موضوع کی اہمیت کو دیکھ کر عرب مفکر “ڈاکٹر رفعت مصطفی” نے اس موضوع پر مطالعہ کرکے معلومات جمع کرلیں اور نہایت اہم مقالہ تالیف کیا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے اس موضوع پر کام شروع کرنے کے بعد، اپنا ارادہ ترک کرلیا کیونکہ متعلقہ واقعات اور حادثات میں ابہام پایا جاتا تھا لیکن کچھ عرصہ بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ واقعات درست ہیں۔ مجھے اس سلسلے میں کئی کتابیں ملیں اور کچھ ویب گاہوں میں جستجو کی اور کسی حد تک بھینٹ چڑھنے والے انسانوں سے آگہی حاصل کرلی۔ مصطفی کہتے ہیں: “مقالہ لکھنے کا کام مکمل کرنے کے بعد، بہت سوں نے مجھ پر مبالغہ آرائی کا الزام لگایا۔ لیکن میں نے وہ مآخذ ان افراد کے لئے بھجوا دیئے جن سے میں نے استناد کیا تھا اور وہ مقالے کی درستی کے قائل ہوئے”۔
 
رفعت مصطفی لکھتے ہیں کہ یہود وہ لوگ ہیں جو “انسانیت کے خونخواروں” کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: “میں نہیں سمجھتا ہم نے کبھی افسانوں کے سوا کہیں اور اس نام کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ شاید آپ کو اس ایک خیال یا گمان سمجھ لیں نہ کہ ایک حقیقی موضوع، لیکن آپ ہمارے ساتھ رہیں گے تو ہم ایسے لوگوں کو آپ سے متعارف کرائیں گے جو حقیقتا اس خطاب کے مستحق ہیں۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ خیال اور توہم کے بجائے عقل کو مطمع نظر قرار دیں اور افسانوں سے گذر کر حقیقت تک پہنچیں”۔
جی ہاں! یہ لوگ یہودی ہیں۔ وہی لوگ جن کا دین ان سے کہتا ہے کہ “جو لوگ دین یہود پر ایمان نہیں لاتے انہیں ہمارے دیوتا “یہوہ” کے لئے قربان ہونا چاہئے۔ ہمارے ہاں ہاں عید کی دو رسمیں ایسی ہیں جن خون بہایا جاتا ہے اور ہمارا یہ کام ہمارے دیوتا میں کی خوشنودی کا سبب بنتا ہے؛ ان دو عیدوں میں سے ایک وہ عید ہے جس میں انسانی خون ملا کر کھانا تیار کیا جاتا ہے اور دوسری رسم ہمارے بچوں کا ختنہ کرنے کی ہے”۔
مقدس فطیرہ وہ ہے جس میں آٹے کو خون میں گوندھا جاتا ہے تا کہ “عید فصح” ـ یہودیوں کی ایک عید ـ کے لئے کھانا تیار کیا جائے۔ یہ خونخوارانہ اور وحشیانہ رسم یہودی کتاب مقدس کے حصے “تلمود” کے ذریعے ان تک پہنچی ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تحریف شدہ دین کی تعلیمات کی پیروی، پوری تاریخ کی ان تمام بدبختیوں کا سبب بنی ہے جن سے یہودی دوچار ہوئے ہیں۔ قدیم زمانے میں یہودی ساحر جادوگری کے وقت انسانی خون استعمال کرتے تھے۔ تورات میں ایک صریح متن آیا ہے جس میں یسعیاہ قوم یہود سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے: ” آہ خطا کار گروہ۔ بد کرداری سے لدی ہوئی قوم۔ بدکرداروں کی نسل مکار اولاد جنہوں نے خداوند کو ترک کیا اِسرائیل کے قُدوس کو حقیر جانا اورگمراہ برگشتہ ہو گئے”۔ (سفر یسعیاہ، عہد قدیم، آیت ۴)
یہودی اپنی تعلیمات اور اسلاف سے ورثے میں ملنے والے جرائم کی رو سے بچوں کو قتل کرکے ان کا خون عید کے روز کی روٹی میں ملانے کی عادت رکھتے ہیں۔ یہودی مؤرخ برنارڈ لازار (Bernard Lazare) اپنی کتاب “یہودی دشمنی: تاریخ اور اسباب” (۱) میں اس یہودی رسم کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو ماضی کے یہودی جادوگروں سے نسبت دیتا ہے۔
 

اگر آپ یہودی عبادتگاہوں اور کنیسٹوں کے بارے میں جان لیں اور ان چیزوں کو دیکھ لیں جو ان وحشیانہ جرائم کا سبب بنتی ہیں، تو خوف و ہراس سے دوچار ہوجائیں گے، کیونکہ ان کی عبادتگاہیں ایسے خون سے آلودہ ہیں جو سابقہ زمانوں سے ان کے اندر بہایا گیا ہے۔ قدس شریف میں یہودی عبادتگاہیں ہندوستانی ساحروں کی عبادتگاہوں سے بھی زیادہ خوفناک ہیں کیونکہ یہ وہ عبادتگاہیں ہیں جن میں انسانوں کا قتل عام ہوا ہے۔ یہ جرائم ان تعلیمات کا نتیجہ ہیں جنہیں یہودی حاخاموں (رابیوں) نے وضع کیا ہے۔
یہودیوں کے جرائم کا پھیلاؤ خطرناک اور سنجیدہ ہوا تو “قربان ہونے والے اور یہودی” (victims and “the Jews”) نامی موضوع وسیع سطح پر زیر بحث آیا۔
یہودی اپنی دو مقدس عیدوں میں انسانوں کو قربان کرکے اور انسان کے خون میں تیار کردہ غذا کھانے کھاکر ہی خوش ہوا کرتے ہیں۔ پہلی عید کا نام پوریم (Feast of Purim) ہے جو ہر سال مارچ کے مہینے میں منائی جاتی ہے اور دوسری “عید فصح” (۲) ہے جو ہر سال اپریل کے مہینے میں منائی جاتی ہے۔
عید پوریم میں بھینٹ چڑھائے جانے والے عام طور پر بالغ نوجوانوں میں سے چنے جاتے ہیں۔ بیچارے نوجوان کو قتل کرکے اس کا خون خشک کیا جاتا ہے اور ذرات میں تبدیل کرتے ہیں اور اسے فطیرہ کے خمیر (اس روز کے طعام) میں ملا دیتے ہیں اگر کچھ باقی رہ جائے تو اگلے سال کی عید کے لئے رکھ لیتے ہیں۔
 
یہودی غیر یہودیوں کے خون سے عید فصح کے دن کے کھانا تیار کرتے تھے
لیکن عید فصح کے دن قربان ہونے والے عام طور پر نابالغ اور ۱۰ سال سے کم کے بچے ہوتے ہیں۔ ان کا خون بھی اسی انداز سے خشک کیا جاتا ہے اور اسے فطیرے میں ملا دیا جاتا ہے گوکہ بعض اوقات وہ بچوں کا تازہ خون استعمال کرتے ہیں۔
 
قربان ہونے والے انسان کا خون جاری اور اکٹھا کرنے کے لئے مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ایک اوزار سوئیوں والا ڈرم ہے۔ یہ ڈرم قربانی بننے والے انسان کے جسم کے برابر ہوتا ہے اور اس کے اندر بےشمار نوکیلی سوئیاں ہوتی ہیں۔ جب قربان ہونے والے نوجوان یا بچے کو مار جاتا ہے تو سوئیاں چاروں اطراف سے اس کے بدن میں چبھ جاتی ہیں اور اس طرح اس کے پورے بدن کا خون بیک وقت باہر آنا شروع ہوجاتا ہے اور اسی اثناء میں یہودی مختلف برتنوں میں خود اکٹھا کرتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان کو بکرے کی طرح ذبح کرتے ہیں اور اس کا خون ایک برتن میں جمع کرتے ہیں اور اسے بزعم خویش پاک کردیتے ہیں۔
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ یہودی نوجوان یا بچے کی کئی رگوں کو کاٹ دیتے ہیں تا کہ ان سے خون ابلے۔ اور پھر اس خون کو ایک برتن میں جمع کرتے ہیں اور اس حاخام کے سپرد کرتے ہیں جو خون انسان سے تیار کئے جانے والے کھانے “فطیر مقدس” کی تیاری کا ذمہ دار ہوتا ہے تا کہ “یہوہ” نامی دیوتا ـ جو بنی نوع انسان کے خون کا پیاسا ہے!!! ـ کو اپنے سے راضی و خوشنود کرے۔
شادی میں مرد اور عورت، شام کے بعد کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں اور ایک رات اور ایک دن کا مکمل روزہ رکھتے ہیں جس کے بعد حاخام کتان کا ایک ٹکڑا غیر یہودی شخص کے خون میں ڈبو دیتا ہے اور پھر اسے جلا کر راکھ کردیتا ہے اور راکھ کو انسانی خون کے لئے مختص برتن میں ڈال دیتا ہے، اور ابلا ہوا انڈا اس میں لڑھکا دیتا ہے، اور دلہا دلہن کو کھلا دیتا ہے۔ (۳)
ختنہ کی رسم میں حاخام اپنی انگلیاں خون بھرے شراب کے کے برتن میں ڈال دیتا ہے اور پھر اپنی انگلیاں بچے کے منہ میں دے دیتا ہے اور بچے سے مخاطب ہوکر کہا ہے: “تیری زندگی کا دارومدار تیرے خون پر ہے۔۔۔”۔
 
یہودیوں کے لئے تلمود کا حکم ہے: “غیر اسرائیلی صالح اور نیک انسانوں کو قتل کرو”، نیز اس کا حکم ہے: “جس طرح کہ مچھلی کا پیٹ چیرنا جائز ہے، انسان کا پیٹ کھولنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، خواہ یہ عمل روز شنبہ کے کے بڑے والے روزے کے دن ہی کیوں انجام نہ دیا جائے”۔ بعدازاں اس جرم کے لئے اخروی ثواب کے بھی قائل ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں: “جو بھی کسی غیر یہودی کو قتل کرے اس کی پاداش یہ ہے کہ جنت الخلد میں رہے اور چوتھی منزل پر سکونت پذیر ہو”۔ [اب ذرا یہودی نواز تکفیریوں کے ہاں کے فتاوی پر نظر ڈالی جائے تو مشابہت بالکل عیاں ہے: جو ایک غیر سنی مسلمان کو قتل کرے ۔۔۔ اور ہاں یہی لوگ اس طرح کا فتوی اسلام و ایمان کے بدترین دشمن “یہود” کے بارے میں نہیں دیتے!]۔
ویسے تو یہودی اپنے بہت سی معلومات اور بہت سے اعداد و شمار بالخصوص اپنے اندرونی یہودی عبادات و رسومات کو ـ جو انسانیت سے متصادم ہیں ـ کو چھپا دیتے ہیں؛ یہاں تک برطانیہ کا نظام حکومت یہودی تعلیمات کی بنیاد پر تشکیل پایا ہے جہاں کی رازداریاں دنیا بھر میں مشہور ہیں تو یقینا یہودی بھی اپنے بہت سے اعمال اور درندگی اور خونخواری پر مبنی افعال کو چھپائے رکھتے ہیں لیکن جو کچھ ابھی تک فاش ہوا ہے اس کے کچھ نمونے حسب ذیل ہیں:
بعض رپورٹوں کے مطابق، بچوں کے قتل اور یہودی عیدوں میں ان کے خون کے استعمال کے سلسلے میں اب تک ۴۰۰۰ وارداتیں طشت از بام ہوئے ہیں۔
جن واقعات اور وارداتوں کی طرف اس رپورٹ میں اشارہ کیا جارہا ہے وہ ان واقعات کے عشر عشیر سے بھی کم ہیں جو در حقیقت ان وحشی قوم کے ہاتھوں انجام کو پہنچتے ہیں۔ یہاں مذکورہ تمام واقعات “دائرۃ المعارف یہودیت” سے منقول ہیں جن کے آخر میں ماخذ کا بھی ذکر ہوا ہے۔
قربان ہونے والے شخص کی ضروری خصوصیات:
۱۔ عیسائی ہو۔ (یہودیوں کا کہنا ہے کہ عیسائی ہماری بھیڑیں ہیں!)
۲۔ بچہ ہو اور سن بلوغت سے نہ گذرا ہو۔
۳۔ ایسے نیک اور صالح عیسائی والدین کا فرزند ہو، جو کبھی زنا کے مرتکب نہ ہوئے ہیں اور شراب کے عادی نہ ہوں۔
۴۔ بچہ ہو، جس نے شراب نوشی نہ کی ہو اور اس کا خون خالص اور پاکیزہ ہو۔
۵۔ اگر عید کے روز کے فطیر مقدس میں ملا خون ایک پادری کا ہو تو یہ (یہودیوں کے معبود) یہوہ کے نزدیک زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے اور یہوہ اس سے زیادہ خوشنود ہوتا ہے۔ اور یہ خون تمام عیدوں کے لئے قیمتی اور پسندیدہ ہے۔