یہودیت کے ناقد جیمز پیٹرس (James Petras) کا تعارف

  • ۶۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: جیمز پیٹراس(James Petras) امریکہ کی بنگ ہمٹن (Binghamton) یونیورسٹی کے شعبہ سماجیات کے پروفیسر تھے۔ ۱۷ جنوری ۱۹۳۷ میں آپ پیدا ہوئے۔ آپ نے کیلیفورنیا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پیٹرس نے سیاسی موضوعات میں لاطینی امریکہ، مشرق وسطی، شاہیزم، گلوبلائزیشن اور بائیں سماجی تحریکوں پر خصوصی اور جامع مطالعہ کیا۔ انہوں نے ۶۳ عناوین پر مختلف کتابیں تالیف کیں اور ۲۹ زبانوں میں ان کی کتابوں کا ترجمہ ہوا۔ علاوہ از ایں ان کے ۶۵۰ علمی مقالے مختلف تخصصی جرائد(۱) میں منظر عام پر آئے ہیں جبکہ ۲ ہزار کے قریب غیر تخصصی جرائد(۲) میں چھپے ہیں۔ امریکہ کے معروف پبلیکیشن سینٹروں جیسے روٹلیج (routledge) رنڈم ہاؤس (Random House) اور میک میلن (macmillan) نے پیٹرس کی کتابوں کو شائع کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔(۳)
پیٹراس کے بعض قلمی آثار درج ذیل ہیں:
The Arab Revolt and the Imperialist Counterattack
War Crimes in Gaza and the Zionist Fifth Column in America
Zionism, Militarism and the Decline of US Power
The Power of Israel in the United States
Rulers and Ruled in the US Empire
جیمز پیٹراس قائل ہیں کہ امریکی یہودی اس ملک کی خارجہ پالیسی پر بے حد اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب ’’امریکہ میں اسرائیل کی قدرت‘‘ میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکہ کے یہودی اگرچہ ۲ فیصد آبادی کو تشکیل دیتے ہیں لیکن ۳۰ فیصد سے زیادہ سرمایہ دار گھرانے یہودیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔(۴) جیمز قائل ہیں کہ یہودی اپنے سرمایہ سے بخوبی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکی یہودی امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹیوں کے ۳۵ سے ۶۰ فیصد اخراجات پورا کرتے ہیں۔
۲۰۰۸ میں دئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اعلان کیا: تمام امریکی صدور ’’یہودی طاقت‘‘ کے قبضے میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ یہودی عالمی اور انسانی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔
حواشی
[۱]American Sociological Review,British Journal of Sociology,Social Research
[۲]New York Times, The Guardian, The Nation, Christian Science Monitor, Foreign Policy, New Left Review, Partisan Review, Canadian Dimension
[۳]http://petras.lahaine.org/?page_id=4
[۴]http://vista.ir/article/114532
[۵]http://dissidentvoice.org/2008/06/a-disenchanted-james-petras

 

فلسطین کے اہم شہروں کا اجمالی تعارف

  • ۴۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہ صوبہ ملک کا پائے تخت بھی ہے اب اس کے قدیم وبجدید نام کے دو حصے ہیں، قدیم بیت المقدس کے گرد ۱۵۲۴ ء میں دسویں عثمانی خلیفہ نے دیوار شہر تعمیر کرائی تھی اس قدیم حصہ میں ہی مسجد اقصیٰ اور دوسرے اہم تاریخی مقامات ہیں۔ یہیں پر ایک جگہ ہے کہ جسکے لئے عیسائی کہتے ہیں کہ وہاں زمانۂ قدیم میں وہ عدالت تھی جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی کا حکم سنایا گیا تھا اور یہیں سے وہ اپنے کاندھے پر صلیب لیکر اس مقام کی طرف بڑھے تھے جہاں انہیں سولی دینا طے کیا گیا تھا ، یہ بھی مشہور ہے کہ صلیب اتنی وزنی تھی کہ عدالت سے مقام قتل تک پہنچنے میں حضرت عیسیٰؑ بارہ جگہ تھک کر دم لینے کے لئے ٹہرے تھے۔ قرآن نے اس واقعہ کی تردید نہیں کی لیکن سولی پانے والے کو شبیہ عیسیٰ علیہ السلام قرار دیا ہے ۔
: غزہ فلسطین کا دوسرا صوبہ ہے یہاں حضرت ہاشم جد سرکار ختمی مرتبت (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی قبر ہے اسی جگہ شہر کا بڑا ایئرپورٹ بھی ہے کوزہ گری میں یہ شہر بڑی شہرت رکھتا ہے، خود غزہ صوبے کا پائے تخت بھی ہے، اس کے زیر انتظام حسب ذیل شہر ہیں:
(۱) خان یونس:
جنوب فلسطین کا آخری شہر ہے، یہاں کے کچے خرمے اپنی لطافت و ذائقے میں بہت شہرت رکھتے ہیں ۔
(۲) مجدل:
ریشم سازی اور روئی کی نمایاں کاشت کی وجہ سے جانا جاتا ہے، ویران عسقلان شہر بھی اسی جگہ ہے ۔
(۳)بئر السبع :
زرعی علاقوں پر مشتمل ہے، اس کی مساحت ۱۲۵۷۶ کیلو میٹر مربع پر محیط ہے اس میں بہت ہی زرخیز حصے پائے جاتے ہیں اور پینے کے پانی کا ڈیم بھی بنایا گیا ہے، اگر کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ نصف مساحت فلسطین صرف اسی بئر السبع پر محیط ہے ۔
اللّد
اس صوبے کا مرکز شہر ’’یافا‘‘ ہے صنعت و تجارت والا شہر ہے، یہاں مختلف پھل، سنگترے، مالٹے کثرت سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس صوبے کے ہی زیر نگیں مشہور شہر تل ابیب ہے یہاں صرف یہودی ساکن ہیں، اور یہ شہر شدید جنگ کا سماں پیش کرتا رہتا ہے ۔
سامرہ
اس صوبے کا مرکز نابلس ہے، صابن سازی میں اسے خاصی شہرت ہے، شہر جنین، طولکرم، قلقیلیہ، اور عنبتا، اسی صوبے کے اندر واقع ہیں۔
اس صوبہ کے دو شہر پر یہودیوں نے قبضہ کر لیا ہے۔
الجلیل
ناصرہ اس صوبہ کا پائے تخت ہے، اسی شہر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رہائش تھی، یہاں کے دیرؔ بہت مشہور ہیں ۔
شہر عکا اسی صوبے کا تاریخی شہر ہے جس کے گرد مضبوط چاردیواری اور بڑے بڑے برج ہیں، مسجد’’ جامع الجزار‘‘بھی اسی جگہ ہے جس کی شہرت دور دور تک ہے ۔
اس وقت یہ شہر بہائیوں کامرکز ہے چونکہ قبر مرزا علی باب اسی جگہ ہے ۔
حیفا
اس صوبے کا پائے تخت خود اسی جگہ ہے ، بہت بڑی بندرگاہ ہے ،عراق کی تیل پائپ لائن یہیں پرہے جہاں پر صفائی ہوتی ہے، اسی جگہ سے تیل ساری دنیا میں بھیجا جاتا ہے ۔

 

تاریخ فلسطین پر اجمالی نظر

  • ۶۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ:  فلسطین اپنی خاص جغرافیائی جائے وقوع، حاصل خیز زمین، اور یہودیوں و مسلمانوں کی مذہبی یادگاروں کی بنیاد پر تاریخ میں ہمیشہ نشیب و فراز کا حامل رہا ہے جناب ابراہیم کی عراق سے سرزمین فلسطین پر ہجرت اور اس کے بعد جناب سلیمان کی یہاں پر عظیم تاریخی حکومت سے لیکر بخت النصر کی حکومت کے زوال کے پس منظر میں جا بجا اس علاقہ میں مختلف قبائل کے درمیان آپسی رسہ کشی کو دیکھا جا سکتا ہے ۔
مسلمانوں کے لئے آج بھی اس لئے فلسطین ایک مقدس جگہ کی صورت کعبہ دل بنا ہوا ہے کہ اس علاقہ سے مسلمانوں کا ایک اٹوٹ مذہبی رشتہ ہے اور صبح قیامت تک یہ رشتہ باقی رہنے والا ہے مسلمانوں کی دو سو سے زائد یادگاریں اسی علاقہ میں ہیں جہاں یہ مقام مسلمانوں کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے وہیں یہودیوں کی مذہبی یادگاروں کی بنا پر ہمیشہ سے یہ علاقہ دونوں مذاہب کی آپسی کشمکش کا سبب رہا ہے۔
فلسطین کی تاریخ پر اجمالی نظر
فلسطین کا قدیم نام کنعان ہے ، جغرافیائی اعتبار سے اسکو عرب ملکوں کے درمیان وہی حیثیت حاصل ہے جو جسم کیلئے قلب کی ہوا کرتی ہے۔
ڈھائی ہزار سال قبل مسیح یعنی آج سے ساڑھے چار ہزار سال پہلے جزیرۂ عرب کے چند قبیلے موجودہ فلسطین میں جاکر آباد ہوئے ، انھیں کو کنعانی کہتے ہیں ، اسی قبیلہ کے کچھ لوگ مدتوں بعد کوہ لبنان کے ساحل میں جاکر آباد ہوگئے جنھیں فینق کہا جانے لگا ۔
کنعانیوں نے کھیتی باڑی اور فینقیوں نے ملاحی کو اپنا ذریعۂ معاش بنایا اپنی حفاظت کیلئے شہر کے باہر چہار دیواری بنائی اور اپنی مذہبی تسکین کیلئے جو دین اختار کیا وہ تقریباً عبرانیوں کی بت پرستی سے ملتا جلتا تھا ۔ان کے بڑے بت کا نام بعل تھا، قرآن حکیم نے اس بت کا تذکرہ فرمایا ہے :
أتدعون بعلاً و تذرون احسن الخالقین
تم لوگ بعل کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین خدا کو چھوڑ چکے ہو ۔
کنعانیوں کے مختلف قبیلے تھے ان میں سے ایک مشہور قبیلہ، یبوس تھا جوشہر قدس کے ارد گرد آباد ہوا اسی مناسبت سے آج بھی بیت المقدس کا ایک نام یبوس ہے ۔قبیلہ یبوس کی قیادت و سروری میں جو شہر اس وقت آباد ہوئے اس کے ناماریحا، بیسان ، شکیم ،نابلس ،مجد اور جازر ہیں۔
شہر اریحا کیلئے زمین شناسوں کا خیال ہے کہ تقریباً سات ہزار سال قبل تعمیر کیا گیا ہے اور دنیا کا سب سے قدیم شہر ہے ۔
ارض کنعان کا نام آخر فلسطین کیسے ہوا ؟
ارض کنعان کا نام بدل کر فلسطین کیسے ہوا اس سلسلہ میں مورخین کا نظریہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی آمد سے بارہ سو سال قبل پلست نامی ایک شخص مصر سے فرار کر کے ساحل جنوب میں آباد ہو گیا پھر اس کے نام کی مناسبت سے اصل نام بدل کر فلسطین ہوگیا ، اس شخص کے بعد فلسطین نام کی قوم کا ثبوت ’’فراعنہ مصر‘‘ اسکندر مقدومی …….کے زمانے کے پائے جانے والے آثار سے ملتا ہے ۔
مآخذ: فلسطین خونبار, تعارف اور جائزہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

حماس کے سابق رکن کے ساتھ خیبر کی گفتگو/اسلامی ممالک کے حکمرانوں پر اسرائیلی جادو کارساز

  • ۵۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عصر حاضر میں صہیونیزم مکڑے کے جال کی طرح پوری دنیا میں پھیل چکی ہے اور حتیٰ ان ملکوں جو عرصہ دراز سے اسرائیل کے ساتھ معرکہ آرائی میں فرنٹ لائن پر تھے میں بھی اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ نے اس حوالے سے حماس کے سابق رکن اور محقق ڈاکٹر مصطفیٰ یوسف الداوی کے ساتھ ایک گفتگو کی ہے۔ الداوی غزہ پٹی کے رہنے والے ہیں اور تاحال ۹ مرتبہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جیل جا چکے ہیں۔
سوال؛ اسلامی ممالک میں اسرائیل کس حد تک اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنے میں کامیاب ہوا ہے کیا آپ اس حوالے سے کچھ وضاحت کریں گے۔
۔ اس میں کوئی شک نہیں فلسطین کے غصب ہونے اور صہیونی ریاست کی تشکیل پانے کے ابتدائی ایام سے لے کر آج تک کا یہ پیریڈ اس حکومت کے لیے ایک سنہری پیریڈ تھا۔ اس لیے کہ دشمن یہ احساس کرتا آ رہا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی راہ میں پائی جانے والی تمام رکاوٹوں کو دھیرے دھیرے ختم کر رہا ہے اور عرب ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات معمول پر آ رہے ہیں اور مزاحمتی محاذ روز بروز کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
دشمن کو یہ بھی سوچ کر خوشی ہو رہی ہے کہ اب اسے بہت سارے عرب ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو برملا کرنے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔
دوسری جانب عرب ممالک بھی اپنی سیاسی، ثقافتی اور کھیل کود کی سرگرمیوں میں اسرائیل کو شرکت کی دعوت دینے میں کسی شرم و حیا کا احساس نہیں کر رہے ہیں اور اسرائیل کا پرچم عرب ممالک میں دیگر ملکوں کے پرچموں کے ساتھ بلند ہو رہا ہے۔
یہاں تک کہ اسرائیل کا قومی ترانہ بھی عرب ملکوں میں گایا جانے لگا ہے! اسرائیلیوں کا عربی دار الحکومتوں میں والہانہ استقبال ہونے لگا ہے!، اس کے علاوہ اسرائیل تاجروں کا عرب تاجروں کے درمیان بغیر کسی خوف و ہراس کے لین دین شروع ہو چکا ہے۔
البتہ یہ بات یاد رہے کہ یہ تمام طرح کے تعلقات اور روابط سرکاری سطح پر ہیں عرب ملکوں کے عوام ان سے فی الحال بیزار ہیں۔
حکومتیں اور حکمران ہمیشہ سے خیانتوں کا ارتکاب کرتے اور اسلامی اصولوں کو پامال کرتے رہے ہیں۔ صہیونی دشمن اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ عرب قوموں اور اسلامی ملتوں کی جانب سے مزاحمت اور مخالفت اپنی جگہ پر پوری قوت کے ساتھ باقی ہے اور تاحال وہ ان ملتوں کے درمیان اثر و رسوخ پیدا نہیں کر پائے ہیں۔ ابھی تک وہ جس میدان میں کامیاب ہوئے ہیں وہ صرف عرب حکام کے ساتھ تعلقات کو کسی حد تک معمول پر لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وہ بھی ان عرب حکمرانوں کے ساتھ جو یہ سوچتے ہیں کہ صہیونی ریاست ان کی دوست ہے اور ان کی حفاظت کے لیے اپنی جان چھکڑنے کو تیار ہے۔

جاری

فلسطینی لہو پر قائم اسرائیلی ڈھانچہ

  • ۴۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: نومبر ۱۹۴۷ کو اقوام متحدہ میں صہیونی لابی نے سرزمین فلسطین کو عربوں اور یہودیوں کے درمیان دوحصوں میں تقسیم پر مبنی ایک قرارداد منظور کر دی۔ اس قراردار کی منظوری کے بعد صہیونی عناصر اپنے منحوس پروپیگنڈوں اور شیطانی سازشوں کے ذریعے اس کے باوجود کہ سرزمین فلسطین پر مسلمانوں کی اکثریت رہائش پذیر تھی انہیں ان کی سرزمین سے باہر نکال کر فلسطین کے ایک حصے کے مالک بن بیٹھے۔ اقوام متحدہ کی اس قرارداد نے دو قوموں میں اختلاف پیدا کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔ وہ صہیونی یہودی جو سرزمین فلسطین کے اس ایک حصے پر قابض ہوئے انہوں نے بجائے اسی پر اکتفا کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھایا اور اسرائیل کی آزادی کے زیر عنوان جنگ کے لیے قد علم کر دیا اور مسلمانوں پر جارحیت اور بربریت کے ذریعے اسرائیل کے نام سے اپنا ایک ملک بنا کر اس پر اپنی حکومت قائم کر دی اور سرکاری طور پر اسرائیل کی موجودیت کا اعلان کر دیا۔ اس جنگ میں کم سے کم ۳۳ افراد کو قتل کیا گیا اور ۷۵۰ ہزار سے زائد فلسطینی مردوں، عورتوں اور بچوں کو انتہائی بے دردی سے ان کے گھروں سے باہر نکال دیا گیا۔
’’الدوامیہ‘‘( Al-Dawayima ) علاقے کے دردناک حادثات کے حوالے سے ایک اسرائیلی چشم دید گواہ کا کہنا ہے: ’’ وہ(صہیونی) لاٹھیوں سے بچوں کے سر پھوڑتے تھے اور انہیں قتل کر دیتے تھے۔ کوئی ایسا گھرانہ نہیں تھا جس نے شہید نہ دیا ہو۔ ایک سپاہی بڑے فخر سے کہہ رہا تھا کہ اس نے ایک عورت کی عصمت دری کی اور پھر اس کا قتل کر دیا‘‘۔
فلسطین کی ایک عورت اس موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ایک مرد نے اس کی بہن جس کے شکم میں نو مہینے کا بچہ تھا کو انتہائی بے دردی سے مار ڈالا اور اس کے بعد چاقو سے اس کا پیٹ چاک کر دیا‘‘۔
اسرائیلی مورخ ٹام سگف لکھتا ہے: ’’اسرائیل جنگ اور دھشتگردی سے وجود میں آیا اور اس کے وجود سے صرف ظلم و اندھا تعصب ہی ٹپکتا ہے‘‘۔
یہ ہیں انسانی حقوق کے تحفظ کے معنیٰ اور یہ ہے دھشتگردی سے مقابلے کے دعویداروں کا حال اور اقوام متحدہ بھی ایسوں ہی کی حمایت کرتی ہے!!۔
تحریر: Alison Weir
کتاب کا نام: Against our better judgment: the hadden history of how the U.S was used to create Israel
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کیا فلسطین کے تاریخی آثار کا تحفظ ہماری ذمہ داری نہیں؟

  • ۳۶

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ۱۹۶۷ کے بعد صہیونی ریاست کے ہاتھوں مقبوضہ فلسطین میں تمام تاریخی اور ثقافتی آثار چاہے وہ مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہوں یا عیسائیوں سے، کی نابودی کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے رد عمل میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دنیا کے حریت پسندوں لوگوں حتی بعض یہودیوں نے بھی اسرائیل کے ان گھنوئنے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اگر چہ بیت المقدس یا یورشلم انسانی ثقافت میں ایک خاص مقام کا حامل ہے اور اس کی معنوی اور تاریخی اہمیت کسی پر بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن اسرائیل کی طرف سے اس ثقافتی شہر پر جارحیت، کسی کے لیے بھی قابل تحمل نہیں ہے۔
فلسطین اتھارٹی واچ ۹ ویں کانفرنس ۱۹۷۱ میں نے عرب سماج کو یہ تجویز پیش کی کہ بیت المقدس کے تاریخی آثار کے امور کے لیے ایک علمی کمیٹی تشکیل دی جائے جو علاقے میں اسرائیل کی بے راہ رویوں کا جائزہ بھی لے اور تاریخی آثار کے تحفظ کے سلسلے میں اسرائیلی عہدیداروں کے جھوٹے دعوؤں کو ثابت بھی کرے۔ عرب سماج نے چھپن(۵۶) اداری مٹینگوں کے بعد اس تجویز کو قبول کیا اور ایک کمیٹی تشکیل دی۔
اس کمیٹی کی منجملہ تحقیقات ’’کشاف البلدان الفلسطینیة‘‘ (فلسطینی شہروں کی رہنمائی) ڈاکٹر اسحاق موسی حسینی کی تالیف ۱۹۷۳ میں اور جامع بیت المقدس۱۹۷۹ میں منظر عام پر آئیں۔
یہاں پر در حقیقت یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ کیوں سرزمین فلسطین کے تاریخی آثار کو صفحہ ہستی سے مٹایا جائے؟ اس کی دلیل کیا ہے؟
کیا لوگوں میں ایک ایسی آزاد فکر اور وسعت نظر رکھنے والی ثقافتی تحریک وجود میں نہیں آنا چاہیے جو ان آثار قدیمہ کو ہمیشہ زندہ اور محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو؟ کیا اصلا فلسطین کے تاریخی آثار کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے کہ نہیں؟ اگر ہماری ذمہ داری ہے تو آپ کی نظر میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ان سوالات کے جوابات قارئین حضرات ذیل میں ارسال کر سکتے ہیں۔

 

دنیا اسرائیل سے خالی جغرافیے کی طرف رواں دواں

  • ۸۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عرب اسرائیل کے درمیان ۱۹۴۸، ۱۹۵۶، ۱۹۶۷ اور ۱۹۷۳ میں چار جنگیں ہوئیں اور ان تمام جنگوں میں عربوں نے شکست کھائی۔ عربوں کے مقابلے میں فتح کے نتیجے میں یہودی ریاست کو ترغیب ملی اور اس نے “نیل تا فرات” کا نعرہ لگایا، اردن، شام، لبنان اور مصر کی مسلم سرزمینوں پر میلی نظریں جمائیں اور عربوں کی وسیع سرزمینوں پر قبضہ کیا جن میں مشرقی بیت المقدس، دریائے اردن کے مغربی کنارہ، شام کے جنوبی علاقے جولان اور مصر کے صحرائے سینا جیسے علاقے شامل تھے؛ لبنان کو کئی بار جارحیت کا نشانہ بنایا اور اس کے کچھ حصوں پر غاصبانہ قبضہ کیا۔ یہ نامشروع قبضے بھی جاری رہے اور ساتھ ساتھ یہودی ریاست “اسرائیل” کی عالمی حمایت بھی جاری رہی جس کی وجہ سے غاصب صہیونی ـ یہودی ریاست ایک باؤلے کتے میں تبدیل ہوا اور اس نے [ایک مکڑی جتنا ہوتے ہوئے مسلمانوں کی کمزوریوں کا صحیح ادراک کرکے] اسلامی ممالک کو ہڑپ کرنے کا ارادہ کیا۔
عرب ممالک کو ناکوں چنے چبوانے کے باوجود اس ریاست کا مکروہ اور خونخوار چہرہ کبھی بھی صہیونیوں کے خلاف فلسطینیوں کے جہاد کا سد باب نہ کرسکا۔ فلسطینی عارف عزالدین قسام نے اسلحہ اٹھایا اور اپنے مریدوں اور اعوان و انصار کے ساتھ یہودیوں اور انگریزوں کے خلاف جہاد کا آغاز کیا۔ فتح تحریک صہیونی یہودیوں کے خلاف جنگ کے لئے میدان میں اتری اور ۵۰۰ کی نفری لے کر “الکرامہ” نامی کاروائی میں یہودی فوج کے ۱۲۰۰۰ افراد پر مشتمل ڈویژن کو دریائے اردن کے کنارے شکست دی۔
لیکن آج امریکہ، برطانیہ اور یہودی ریاست کی مکاری کے نتیجے میں بعض دنیا پرست عرب حکمران قدس شریف پر قابض صہیونیوں کے خلاف جنگ کے بجائے یہودی ریاست کی حمایت کے لئے میدان میں آئے ہیں اور مذاکرات اور سازباز کو متبادل کے طور پر متعارف کرارہے ہیں اور انھوں نے عملی طور پر خطے میں صہیونی اہداف کے قریب پہنچنے میں اس کی مدد کی ہے۔ اس منصوبے کے تحت اردن کے سابق بادشاہ شاہ حسین نے فلسطینیوں کا قتل عام کیا [اس وقت کے پاکستانی بریگیڈیئر محمد ضیاء الحق اس قتل عام میں شاہ اردن کی مدد کو آئے تھے]۔ مصر کے سابق صدر انورالسادات نے کیمپ ڈیویڈ معاہدے پر دستخط کرکے یہودی ریاست کو تسلیم کیا اور اس منحوس ریاست کی حمایت کی۔ یاسر عرفات نے بھی میڈرڈ، اوسلو، وائی ریور، واشنگٹن میں یہودی ریاست کے ساتھ سازباز کا سلسلہ آگے بڑھایا اور ۱۹۸۹ میں کیمپ ڈیویڈ ۲ نامی معاہدے پر دستخط کئے۔
۱۹۴۸ سے لے کر آج تک عالم اسلام کو نشیب و فراز کا سامنا رہا ہے اور کوشش ہوتی رہی ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں جہاد کا شعلہ خاموش ہوجائے اور صہیونیوں کے اہداف و مقاصد کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
شیعہ علماء غصب فلسطین کے آغاز ہی سے ـ اپنے فکری استقلال، خدائے واحد و احد پر توکل اور عوامی قوت پر بھروسے کی بنا پر ـ اس غیر انسانی اقدام کے سامنے ڈٹ گئے اور غاصب یہودیوں کا سکون برباد کردیا۔
شیخ محمد حسین بن محمد ابراہیم گیلانی، ناصرالدین شاہ کے دور کے عالم شیخ محمد رضا ہمدانی، نجف کے اعلم عالم دین علامہ کاشف الغطاء، ہبۃ الدین شہرستانی، سید محمد مہدی صدر اور سید محمد مہدی اصفہانی، سید عبدالحسین شرف الدین اور آیت اللہ العظمی سید ابوالحسن اصفہانی جیسے ایران، عراق اور لبنان سمیت عالم تشیع کے بزرگ علمائے دین امریکہ اور برطانیہ کے غیر انسانی اقدامات کے مد مقابل کھڑے ہوگئے اور قابض یہودیوں کے خلاف جہاد کے فتوے دیئے۔
بیسویں صدی عیسوی میں امام خمینی نے بےمثال اور فیصلہ کن انداز سے فلسطین کی نسبت اپنے احساس ذمہ داری اور عزم راسخ کی اساس پر غاصب اور قابل نفرت یہودی ریاست کے مقابلے میں امت مسلمہ کی استقامت اور مزاحمت کو نیا رنگ دیا۔ ماہ مبارک رمضان کے آخری روز جمعہ کو عالمی یوم القدس کا نام دیا اور فلسطین کے ملک اور ملت کے اسلامی تشخص کو تقویت دی اور اسے دنیا کے سامنے آشکار کردیا جبکہ یہ عرب حکمرانوں کی غفلت اور سستی اور دنیا پرستی کے سائے میں فراموشی کے سپرد کیا جارہا تھا۔
اللہ کے اس عبد صالح نے فرمایا: “ہم سب کو اٹھ کر اسرائیل کو نابود کرنا چاہئے، اور فلسطین کی بہادر قوم کو اس کی جگہ بٹھا دیں”۔
آپ نے مزید فرمایا: “اللہ کی مدد سے اسلام کے پیروکاروں کے مختلف نظریات و آراء اور امت محمد(ص) کی طاقت اور اسلامی ممالک کے وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور پوری دنیا میں حزب اللہ کے مزاحمتی حلقے تشکیل دے کر فلسطین کو صہیونیوں کے چنگل سے آزاد کرانا چاہئے”۔
آپ نے اپنی حکمت عملیوں کا اعلان کرکے مسئلۂ فلسطین کو عالم اسلام اور دنیا بھر کے انصاف پسندوں کے ہاں اول درجے کے مسئلے میں تبدیل کردیا اور اپنی ہوشیاری اور زیرکی سے دنیا بھر کے انصاف پسند عیسائیوں اور صہیونیت مخالف یہودیوں کو بھی غاصب اور جارح یہودی ریاست کے مد مقابل کھڑا کیا۔
امام خامنہ ای نے بھی اپنی قیادت کے دوران، پوری سنجیدگی کے ساتھ، راہ امام خمینی پر گامزن ہوکر، اسرائیل کی نابودی کو فلسطین کے غصب اور قبضے سے چھوٹ جانے اور اس کے امت اسلامی کی آغوش میں پلٹ آنے کا واحد راستہ قرار دیا؛ فلسطین کی آزادی کا پرچم اونچا رکھا اور ایک الہی نگاہ سے مزاحمت کے دائرے کو وسعت دی۔ عالم اسلام جاگ اٹھا اور فلسطین بدستور عالم اسلام کے مسائل میں سرفہرست رہا اور بےتحاشا بین الاقوامی حمایت کے باوجود ـ اسلامی مزاحمت کے طاقتور ہونے کی بنا پر ـ یہودی ریاست کمزور پڑ گئی اور بقاء کے بجائے اس کی فنا کی الٹی گنتی شروع ہوئی۔ اس وقت یہ ریاست فرسودگی اور زوال کے مراحل طے کررہی ہے اور مسلمانوں کی طرف سے اس ناجائز ریاست کی بقاء محال ہوچکی ہے۔
سنہ ۲۰۰۰ میں حزب اللہ لبنان کے آگے پہلی شکست کھا کر یہودی ریاست کی پسپائی کے بعد ۲۰۰۶ میں اسے حزب اللہ کے مجاہدین کے آگے رسواکن شکست کھانا پڑی، ۲۰۰۹ میں ۲۲ روزہ جنگ کے دوران بھی اور بعد کی آٹھ روزہ اور پچاس روزہ جنگوں میں بھی غزہ کے مظلوم اور بہادر عوام نے یہودی ریاست کو تین بار شکست دی اور پلڑا مزاحمت کے حق میں بھاری ہوا؛ جس کے بعد امریکہ اور صہیونی ریاست نے عراق اور شام میں داعش کو منظم کیا اور داعش کی حکومت تک قائم کرائی؛ تا کہ ولایت فقیہ کی حاکمیت اور محاذ مزاحمت کی استقامت کو توڑ سکیں اور توسیع یافتہ اسرائیل کے آگے کی تمام رکاوٹیں دور کرسکیں۔
دوسری طرف سے غزہ میں انتفاضہ کو تقویت ملی، مغربی کنارے کو مسلح کیا گیا، عراق اور شام میں داعش کو شکست کھانا پڑی تو یہودی ریاست مزید سنجیدہ چیلنجوں کا شکار ہوئی؛ یہاں تک کہ اس نے زوال اور فنا کے راستے کو اپنے سامنے پورے وضوح کے ساتھ دیکھ لیا۔
غزہ سے صہیونیوں کے اوپر میزائل حملے شروع ہوئے، شام سے ۶۸ میزائل یہودی ریاست کے نہایت حساس اور خفیہ مراکز اور معلومات حاصل کرکے ان کا تجزیہ کرنے والے اہم ترین اداروں پر داغے گئے جس کی وجہ سے خطے میں جنگ کے قواعد بدل چکے اور اس حملے نے اس سرطانی پھوڑے کو زوال کی اترائی پر قرار دیا اور اس کے زوال اور نابودی کو قریب تر کردیا۔
امام خامنہ ای نے ۱۹ اگست ۱۹۹۱ کو فرمایا: “اسرائیل کا انجام نابودی ہے اور اسے نابود ہونا چاہئے۔ کچھ عرصہ قبل تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مشرقی بڑی طاقت (سوویت روس) اس طرح شکست و ریخت کا شکار ہوجائے گی ۔۔۔ جس دن امام خمینی نے میخائل گورباچوف کو لکھا کہ مارکسزم کو اب عجائب گھروں میں تلاش کرنا پڑے گا، تو کچھ لوگ اس کلام کا مذاق اڑا رہے تھے! لیکن ابھی دو یا تین سال ہی گذرے تھے کہ وہ پیشنگوئی عملی صورت میں ظاہر ہوئی”۔
آپ نے ۹ نومبر ۱۹۹۱ کو فرمایا: “شک نہیں کرنا چاہئے کہ اسرائیل کے شجرۂ خبیثہ ۔۔۔ کی کوئی بنیاد اور کوئی دوام و بقاء کا کوئی ٹھکانہ نہ رہے گا اور بےشک فنا ہوجائے گا”۔
آپ نے ۲۴ اپریل ۲۰۰۱ کو منعقدہ انتفاضۂ فلسطین کی حمایت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: “ہمیں یقین ہے کہ فلسطینی عوام کی جدوجہد کے جاری رہنے اور عالم اسلام کی حمایت کی برکت سے فلسطین اللہ کے فضل سے آزاد ہوجائے گا اور بیت المقدس اور مسجد الاقصی سمیت اس اسلامی سرزمین کے دوسرے علاقے عالم اسلام کی آغوش میں پلٹ آئیں گے”۔
امام خامنہ ای نے ۱۷ مئی ۲۰۱۸ کو فرمایا: “فلسطین اللہ تعالی کے اذن سے دشمنوں کے چنگل سے آزاد ہوجائے گا، بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہے اور امریکہ اور امریکہ سے بھی بڑے بوڑھے فلسطین کے سلسلے میں حقائق اور سنت الہیہ کے آگے کچھ بھی کرنے پر قادر نہیں ہیں”۔
چنانچہ کوئی شک نہیں ہے کہ سنت الہیہ عملی جامہ پہن کر رہے گی۔ اگرچہ ۱۹۴۸ سے لے کر آج تک، تھیوڈور روزویلٹ سے لے کر بارک اوباما تک تمام امریکی صدور نے یہودی ریاست کی حمایت کی اور آج بھی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ کے ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یہودی ریاست کے لیکوڈی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا سنجیدہ اتحاد فلسطینی مزاحمت کو چیلنجوں سے دوچار کرچکا ہے، لیکن امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی نے امت اسلام کے قلوب کو مجروح کردیا، انتفاضہ کو مشتعل کیا، اور اس نئی صورت حال نے واپسی کی تحریک کے آغاز کا سبب فراہم کیا اور اس تحریک کو تازہ خون سے سیراب کیا جارہا ہے اور یوں فلسطین علاقائی اور اسلامی ممالک کی ترجیحات میں شامل ہوچکا ہے۔
یہودی ریاست کو بجا یقین ہے کہ ایران کی میزائل قوت اور شام، لبنان اور غزہ میں تحریک مزاحمت حیفا، تل ابیب اور یہودی نشین شہروں کو سنجیدہ ترین خطرات لاحق ہیں اور آج کی جنگ ۱۹۴۸، ۱۹۵۶، ۱۹۶۷ اور ۱۹۷۳ کی عرب اسرائیل جنگوں سے بالکل مختلف ہے۔ آج اسلامی امت پوری اسرائیلی ریاست کے انہدام کی صلاحیت رکھتی ہے اور اسے فنا اور زوال کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
امام خامنہ ای نے ۱۴ دسمبر ۲۰۱۶ کو فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کے سیکریٹری جنرل رمضان عبداللہ شلح کی ملاقات کے دوران فرمایا: “صہیوی ریاست ـ جیسا کہ ہم قبل ازیں کہہ چکے ہیں ـ صہیونیوں کے ساتھ فلسطینیوں اور مسلمانوں کی متحدہ جدوجہد کی شرط پر ـ اگلے ۲۵ برسوں تک باقی نہیں رہے گا”۔
غاصب ریاست آج ـ کل سے کہیں زیادہ ـ اس یقین تک پہنچی ہوئی ہے کہ وہ تیزرفتاری سے نیست و نابودی اور ہلاکت کے گڑھے میں اتر رہی ہے؛ اس وقت اس کا ہاتھ پاؤں مارنا کھرل میں پانی کوٹنے کے مترادف ہے اور نتیجہ اسرائیل نامی جعلی ریاست کی موت کی صورت ہی میں برآمد ہوگا۔
نیتن یاہو اور ٹرمپ نے سن رکھا ہے کہ ۲۰۰۶ کی ۳۳ روزہ جنگ کے درمیانی ایام میں امام خامنہ ای نے فرمایا کہ حزب اللہ اس جنگ میں کامیاب ہوگی، اور کچھ ہی دن ایسا ہی ہوا۔ آپ نے سنہ ۲۰۱۱ میں فرمایا: “بشار اسد کی حکومت کو رہنا چاہئے اور یہ حکومت باقی رہے گی”، اور ایسا ہی ہوا۔
صہیونی دوسروں سے زیادہ بہتر یقین کرچکے ہیں کہ اگلے ۲۵ سال تک وہ قصہ پارینہ بن چکے ہونگے، وہ حتی اس یقین تک پہنچ چکے ہیں کہ انقلاب اسلامی کی موجودہ نسل حتی کہ عالم خوار امریکہ کی فنا کو بھی دیکھ لیں گے۔ کاش بعض سادہ اندیش اور سادہ لوح ـ نام نہاد دانشور ـ بھی اس قرآنی وعدے کا یقین کر لیتے کہ “إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوقاً؛ یقیناً باطل تو مٹنے والا ہی ہے”؛ اور امریکہ اور یہودی ریاست چونکہ باطل ہیں تو ان کو مٹنا ہی ہے؛ یہ اللہ کا وعدہ ہے: “وَلَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکُونَ؛ چاہے مشرکین کتنا ہی ناپسند کرتے ہوں”، “وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُونَ؛ چاہے کافر لوگ کتنا ہی ناپسند کرتے ہوں”، “وَلَوْ کَرِهَ الْمُجْرِمُونَ؛ چاہے جرائم پیشہ لوگ کتنا ہی ناپسند کرتے ہوں”، “أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ؛ یقینا اللہ کی جماعت والے، غالب آنے والے ہیں”، فَإِنَّ حِزْبَ اللّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ؛ یقینا اللہ کی جماعت والے، غالب آنے والے ہیں”؛ یہ اللہ کا اٹل وعدہ ہے
“لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ وَیَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ٭ بِنَصْرِ اللَّهِ یَنصُرُ مَن یَشَاء وَهُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ ٭ وَعْدَ اللَّهِ لَا یُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ؛ اللہ ہی کے ہاتھ میں معاملہ ہے پہلے بھی اور بعد بھی اور اس دن مؤمنین خوش ہوں گے ٭ اللہ کی مدد سے وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ عزت والا ہے، بڑا مہربان ٭ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا مگر زیادہ تر لوگ جانتے نہیں”۔
مزاحمتی حلقوں کی تشکیل کا حکم امام خمینی نے دیا
ایران، عراق، لبنان، بحرین، شام، پاکستان، مصر، افغانستان، فلسطین، نائجیریا، یمن اور اردن کے عوام اور حتی کہ یورپ اور امریکہ میں امام کے بعض پیروکاروں نے مزاحمت کے دائرے کو وسعت دی تا کہ نیل سے فرات کے یہودی ـ امریکی منصوبے کو خاک میں ملا دیں۔ کہاں ہیں تھیوڈور ہرٹزل، بالفور، روزویلٹ اور ٹرومین؛ آئیں دیکھ لیں اس افسانے کا انجام جس کا آغاز انھوں نے یہودیوں کی فلسطین ہجرت سے کیا، اور پھر اسرائیل کو قائم کیا، آج اسلامی مزاحمت نے جدید صہیونیت کو ناکوں چنے چبوائے ہوئے ہیں اور سیاسی صہیونیت کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا ہے، جو منصوبہ انھوں نے بنایا وہ صہیونی یہودیوں کی نابودی کا باعث بنا ہے اور آج صہیونیت مخالف یہودی اور عیسائی اس نابودی سے وجد کی کیفیت سے گذر رہے ہیں۔
ہرٹزل کے تفکرات سے معرض وجود میں آنے والے طفیلیوں کی موت کی گھڑی قریب آئی ہے اور دنیا اسرائیل کے بغیر کے جغرافیے کی طرف رواں دواں ہے؛ مسلمان طاقتور بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیل اسلامی مزاحمتی حلقوں کے آگے قدم جمانے کی ہمت و سکت نہیں رکھتا۔ واپسی کی تحریک کو یقین ہے کہ بےیار و مددگار نہیں ہے اور ایران کی میزائل قوت اس کی حمایت کے لئے کھڑی ہیں۔ محاذ مزاحمت کے علمبردار پا بہ رکاب اور حکم کے منتظر ہیں وہی جنہوں نے شاہ کو نکال باہر کیا، صدام کو شکست کی تلخی چکھا دی، دہشت گردوں کی ناک خاک پر رگڑ لی، منافقین کو فنا کے سپرد کیا، امریکیوں کو ذلت سے آشنا کیا، تو وہ کیا اسرائیل نامی ناجائز ریاست کو نیست و نابود کرسکیں گے؟ یقینا وہ ایسا ہی کرکے رہیں گے۔
سپاہ قدس میں نمایندہ امام خامنہ ای، حجت الاسلام والمسلمین علی شیرازی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

خمینی ازم عالمی مستضعفین کی صدا

  • ۶۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق انقلاب اسلامی کا مسئلہ اور حریت پسندی کے عالمی تفکر میں اس کا اثر و نفوذ اس انقلاب کے خلاف بہت بھاری تشہیری اور ابلاغی جنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کے خلاف مختلف عناصر سے مرکب شدید اور ہمہ جہت لڑائی کا آغاز کیا جا چکا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اسے شکست سے دوچار کیا جاسکے۔
علاقے پر انقلاب اسلامی کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے ہم سابق سوویت روس کے زوال کی طرف اشارہ کرسکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ سوویت روس کے زوال کا اصل سبب ایران نہ ہو لیکن اس کے زوال کے اسباب میں سے ایک ضرور ہے۔
یہودی ریاست کا ایک اعلی افسر جنرل افرایم سنہ (Efraim Sneh – אפרים סנה‎) اپنی کتاب “۲۰۰۰ کے بعد کا اسرائیل” میں ایک مکتب کی طرف اشارہ کرتا ہے جو یہودی ریاست کے سامنے رکاوٹ بنا ہوا ہے اور وہ اس مکتب کو “خمینی ازم” کا مکتب کہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ انقلاب کے بعد مراجع تقلید حکومت کے ساتھ متحد ہوئے اور “اسرائیل کی نابودی” کا نعرہ زور پکڑ گیا اور خمینی ازم کا تفکر ـ جو دین اور دینی حکومت پر استوار تفکر ہے ـ معرض وجود میں آیا۔
ایران نے اسرائیل مخالف عرب ممالک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا اور ایران ـ عرب اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی لیکن یہ اقدام علاقے میں امریکہ کی مداخلت اور عراق کی حمایت کرکے ایران پر حملے سے علاقے کے توازن بگڑنے کا باعث بنا، اس طریقے سے کہ عربوں کو “واحد دشمن” نظر آیا اور وہ مشترکہ دشمن ایران کے سوا کوئی نہ تھا۔
اسرائیل کی حیات کے لئے بحرانوں کو جنم دینا
ایران عراق کی آٹھ سالہ جنگ میں صرف چند ممالک نے ایران کی حمایت کی، جبکہ علاقے کے زیادہ تر ممالک نے ایران کے خلاف تلواریں سونت لیں اور اپنی پوری قوت عراق کے پلڑے میں ڈال دی اور اس کو مالی اور جانی امداد سمیت بڑی مقدار میں اسلحہ فراہم کیا اور اب صورت حال یہ ہے کہ عراق کو داعش کے ساتھ لڑائی میں جھونک دیا گیا ہے لیکن وہی عرب ممالک اب عراق کی مدد کو نہیں آئے۔
اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ جو بھی چیز انقلاب اسلامی کی نشوونما کے آگے رکاوٹ وہ یہودی ریاست کی نشوونما کا سبب ہوگی۔ عرب ممالک امریکہ کی گود میں بیٹھ کر یہودی ریاست کی چاپلوسانہ خدمت میں مصروف ہیں اور کافی حد تک خمینی ازم کی پیشرفت روکنے میں مؤثر واقع ہوئے اور اس کا نتیجہ یہودی ریاست کی پیشرفت کی صورت میں برآمد ہوا۔
آٹھ سالہ جنگ کے بعد یہودی ریاست اور اس کے حامی ممالک ایران کے ہاں جوہری بم بننے سے خائف تھے۔ چنانچہ امریکہ نے امریکہ، یورپ اور ایشیا میں جمہوری محاذ قائم کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش بارآور ثابت نہیں ہوئی اور ایران میں جوہری بم بننے کا امکان بڑھ گیا، جس کی وجہ سے مغرب اور یہودی ریاست کی فکرمندی میں اضافہ ہوا اور اسی بنا پر ایران کے خلاف سازشوں میں بھی زبردست آصافہ ہوا۔
اپنی پیراسائٹ نوعیت کی حیات کے بچاؤ کے لئے یہودی ریاست کی ایک کوشش یہ تھی کہ ایران کو عالمی مالیاتی اداروں سے کسی قسم کا قرضہ نہ مل سکے تا کہ اسے اقتصادی گھٹن سے دوچار کیا جائے اور یہی مسئلہ ایران کے راستے کا پتھر رہے۔
بہرحال جس چیز نے مغرب کو تشویش میں مبتلا کیا وہ یہ ہے کہ ان کی ان تمام تر کوششوں اور سازشوں کے باوجود خمینی ازم کی آئیڈیالوجی نے علاقے میں نشوونما پائی جس کا نتیجہ اگلے عشروں میں اسرائیل کی نابودی اور زوال کی صورت میں برآمد ہوگا۔
مغرب کی جانب سے اس آئیڈیالوجی کی راہ میں رکاوٹ ڈلنے کے لئے ایران دشمن محاذ اور خمینی ازم کے فلسفے کے مخالف محاذ کا قیام تھا جو اہم ترین مغربی کوشش تھی۔ یہودی ریاست کو سنہ ۲۰۰۰ کے بعد ایسے ایران کا سامنا کرنا پڑا جس کا مقابلہ کرنے کا واحد اسلحہ “ایٹم بم” اور “دہشت گرد ٹولوں” سے عبارت تھا۔ لیکن امریکہ اپنے حلیفوں کا اعتماد حاصل کرکے ایران کے خلاف دھمکیوں پر اتر آیا تا کہ یہ ملک اپنے موقف سے پسپا ہوجائے۔
یہودی ریاست کی طفیلی زندگی (Parasitic Life)
سوویت روس کے خاتمے اور ایران کے شمال میں وسائل، معدنیات اور اچھی خاصی دولت کے مالک متعدد اسلامی ممالک کے معرض وجود میں آنے کے بعد مغرب اور یہودی ریاست کی لالچی آنکھیں ان ممالک کے دوہنے پر مرکوز ہوئیں۔ کیونکہ یہودی ریاست اپنی بقاء ہی طفیلیت میں دیکھتی ہے جبکہ خمینی ازم کا تفکر خود اعتمادی اور اپنے اوپر بھروسے پر استوار ہے اور یہ تفکر علاقے میں بہت زیادہ کامیاب رہا اور کافی حد تک یہودیوں کے ہاتھوں ان ممالک کے استحصال کی راہ میں رکاوٹ بنا۔
انقلاب اسلامی کامیاب ہوا اور بڑی طاقتوں اور مغرب کے خلاف جدوجہد کا تفکر ـ یا خمینی ازم کا تفکر ـ علاقے میں مغرب اور اس کے حلیفوں کے خلاف ایک یلغار کے معرض وجود میں آنے کا باعث بنا جو مغرب اور یہودی ریاست کے لئے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ مغرب نے اس تفکر کو ایران تک ہی نہیں بلکہ جماران تک محدود کرنے کی کوشش کی اور آٹھ سالہ جنگ مسلط کی، ایران پر ہمہ جہت پابندیاں لگا دیں، ایران کے خلاف عربی محاذ قائم کیا، پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کو فروغ دیا، منافقین (یا نام نہاد مجاہدین خلق) کے ذریعے نظام اسلام کے مؤثر راہنماؤں کو قتل کرایا جو اس تفکر کو دنیا بھر میں فروغ دے سکتے تھے۔
مغرب اور مستکبرین کا کام ہی کمزوروں کا استحصال ہے اور ایران بھی کسی زمانے میں کمزور ممالک کے زمرے میں آتا تھا لیکن انقلاب اسلامی کے بعد اس دلدل سے نکل آیا؛ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مغربی استکبار و استعمار کس طرح عرب ممالک کو ڈیری گایوں کی طرح دوہ رہا ہے۔ اکثر مغربی سرمایہ دار یہودی اور صہیونی ہیں اور وہ سب ایک چیز کے درپے ہیں: یہودی ریاست کو طاقتور بنانا اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر کو ممکن بنانا۔
وہ یہودی مفکرین جو اپنے ذرائع ابلاغ میں ایران کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں دینی آئیڈیالوجی کا حامل ایران، جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران سے زیادہ خطرناک ہے۔ چنانچہ وہ ایرانی عوام کے دینی افکار کے آگے تنازعات اور شکوک و شبہات کھڑے کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ کس قسم کی فکر ہے جس نے علاقے ہی کو نہیں پوری دنیا میں نزاع کھڑا کیا ہے اور دنیا بھر کو چیلنج کررہا ہے؟
جی ہاں یہ فکر خمینی کبیر کی فکر ہے جس نے ایک دنیا کو اپنے کلام سے بدل کر ڈالا، استکبار مخالف فکر، بڑی طاقتوں کو چیلنج کرنے والی فکر، اور ان ممالک کے خلاف جنگ کی فکر جو صرف اپنے لئے حق حیات کے قائل ہیں اور دوسرے انسانوں کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔ یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی ہماری بھیڑیں ہیں اور باقی لوگ واجب القتل!!!
خمینی ازم کا تفکر
امام خمینی کا مکتب یا خمینی ازم نہیں چاہتا کہ صہیونیت طاقتور بنے وہ اس کے خلاف لڑتا ہے کیونکہ اس مکتب کے دانشور جانتے ہیں کہ اگر اسرائیل اور یہودی ریاست طفیلیت پر مبنی حیات کے ہوتے ہوئے علاقائی طاقت میں بدل جائے تو اس کا سب سے پہلا ہدف یہ ہوگا کہ اس کا کوئی ہمسر اور کوئی رقیب نہ رہے جبکہ اس کا سب سے پہلا اور بڑا دشمن ایران ہے اور دشمن نمبر ۲ عرب برادریاں ہیں لیکن عرب ممالک کے حکمران پوری حماقت میں علاقے کے اس طفیلی وجود کے جال میں پھنس چکے ہیں۔
بقلم: حیدر احمدی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

 

ہندوستان پر صہیونیت کا سایہ

  • ۶۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیل کے قیام کے بعد جہاں دنیا بھر سے بہت سارے یہودیوں نے مقبوضہ فلسطین کا رخ کیا وہاں ہندوستان سے بھی ہجرت کرنے والے یہودیوں کی تعداد تقریبا ۲۵۰۰۰ بتائی جاتی ہے۔
یہ تعداد اگر چہ ہندوستان کی آبادی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے لیکن یہودی آبادی کے تناسب سے یہ تعداد اچھی خاصی ہے اس تعداد کے اسرائیل ہجرت کرنے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو ایک نیا رخ ملا۔
یہودی قومیں
ہندوستان کے یہودی تین قوموں پر مشتمل تھے:
الف: بنی اسرائیل؛ اس قوم کے کچھ گھرانے یروشلم میں ہیکل سلیمانی کے مسمار کئے جانے کے بعد ہندوستان ہجرت کر گئے تھے اور بمبئی اور اس کے اطراف و اکناف میں سکونت پذیر ہوئے تھے۔
ب؛ کوچینی؛ یہودیوں کی یہ قوم گزشتہ صدیوں میں ’’مالابر سواحل‘‘ سے ہجرت کر کے جنوبی ہندوستان میں گئی تھی۔
ج؛ بغدادی؛ انیسویں صدی کے اواخر میں یہ قوم بغداد، ایران اور افغانستان سے ہندوستان گئی اور اس بے کلکتہ اور بمبئی میں رہائش اختیار کی۔
صہیونی تنظیمیں
ہندوستان میں رہنے والے یہودی معاشرے میں صہیونیزم نے اپنے مراکز اور تنظیمیں قائم کیں جن میں سے بعض کی صہیونی ریاست براہ راست حمایت کرتی ہے۔ یہ تنظمیں ہندوستان اور اسرائیل کے باہمی تعلقات کی بحالی بھی موثر کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ تنظیمیں درج ذیل ہیں:
بمبئی صہیونی ایسوسیشن (Bomboy zioneSt Association)
کلکتہ صہیونی ایسوسیشن ((Calcutta Zionest Association
یونائیٹڈ اسرائیل اپیل (united Israel appeal)
یونائیٹڈ اسرائیل اپیل کمیٹی (united Israel AppealCommittee)
بنی اکیرا (Bnei akira)
ہابونیم انسٹیٹیوٹ ((Habonim Institute
یہودی ایجنسی برائے مشرقی ہند (Jewish Agency in For East)
ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے عصر حاضر میں فوجی ساز و سامان فراہم کرنے کے میدان میں اسرائیل بھارت کا بہترین معاون ہے اور ہندوستان اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی پاٹنر ہے۔ اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان تعلقات جو ۱۹۹۲ میں اندراگاندھی کے دور حکومت سے خفیہ طور پر اور راجیوگاندھی کے دور میں علانیہ طور پر مضبوط ہوئے مودی سرکار میں عروج پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ ہندوستان گزشتہ دور میں اسرائیل کے ساتھ شدید مخاصمت رکھتا تھا اور تقریبا ۲۵ سے ۳۰ سال تک وہ اسرائیل کو پاکستان کے تناظر سے دیکھ رہا تھا اگر چہ بہت سارے بھارتی حکمران اسرائیل کے ساتھ مشترکہ سیاسی پالیسی رکھتے تھے۔ ان دو ملکوں کے درمیان گزشتہ دور میں پائے جانے والے مخاصمانہ رویہ کی اصلی وجہ انگریزوں کا کردار تھا کہ ہندوستان کی آزادی اور ہند و پاک کی تقسیم کے بعد بھارتی انتہا پسند اسرائیل کو دوسرا پاکستان سمجھتے تھے کہ اسرائیل بھی پاکستان کی طرح بظاہر مذہبی بنیاد پر وجود میں لایا گیا ہے۔ اور یہی وجہ تھی کہ ہندوستان پاکستان کو بھی اسرائیل کے ہمفکر قرار دیتا تھا! (۱)
راقم الحروف کی نظر میں بھارت اور اسرائیل کے باہمی تعلقات میں فروغ سے نہ صرف بر صغیر میں مسلمان معاشرے کو کمزور بنایا جائے گا بلکہ قوم پرست ہندو سماج کو مزید تقویت ملے گی اور ممکن ہے مستقبل میں بر صغیر کے مسلمانوں کا وہی حال ہو جو اس وقت غزہ کے مسلمانوں کا ہے۔
یہودیوں کی فوق الذکر تنظیمیں ایک طرف سے بمبئی میں اسرائیلی قونصلٹ کی مکمل حمایت کے تحت ان دو ملکوں کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں تو دوسری طرف میڈیا پر قبضہ جما کر کوشش کر رہی ہیں ابلاغیاتی فضا میں ان تعلقات کو عام سی بات بنا کر پیش کیا جائے(۲)
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بسنے والے بعض ہندوستانی بطور دائم سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاکہ اس ملک میں موجود صہیونی لابیوں کے تعاون سے برصغیر خصوصا بھارت میں اسرائیلی مقاصد کی تکمیل کے لیے امریکہ کا تعاون حاصل کریں۔ ان سیاسی سرگرمیوں کا واضح مصداق ’’آئی پیک‘‘ تنظیم ہے۔ یہ معاشرہ جو بھارتی امریکی معاشرہ معروف ہے آبادی کے لحاظ سے دو ملین سے زیادہ نہیں ہے اور امریکی یہودیوں کی بنسبت اقلیت میں ہے لیکن امریکہ اور ہندوستان میں اپنے گہرے اثر و رسوخ کی وجہ سے بھارت میں اسرائیلی پالیسیوں کو اجرا کروانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس حوالے سے جو دوسرا گروہ سرگرم عمل ہے وہ Confederation of Indian Industries کا گروہ ہے جو امریکہ میں تجارتی سرگرمیوں کے زیر سایہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بھی کوشاں رہتا ہے۔
حواشی
۱؛ ہند و اسرائیل تعلقات پر ایک نظر، اسٹیفن کوہن، ص ۱۰،۲۰
۲؛ بھارتی ادیان، ص ۷،۱۰
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کتاب “امریکہ میں یہودیوں کے اثر و رسوخ کے سلسلہ میں ان کہی باتیں” کا تعارف

  • ۷۲

ترجمہ سید نجیب الحسن زیدی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ’’میری بیداری :امریکہ میں یہودیوں کے اثر و رسوخ کے سلسلہ سے ان کہیں باتیں ‘‘ ڈیوڈ ارنسٹ ڈوکے David Ernest Duke”،، کے قلم سے سامنے آنے والی کتاب ہے ، امریکی معاشرے کو درون سے دیکھنے والے ایک قوم پرست سفید فام کی جانب سے لکھی جانے والی یہ کتاب ایک ایسا ماخذ ہے جس میں ایک گورے و قوم پرست مصنف کی جانب سے امریکی یہودیوں اور ہلوکاسٹ پر تنقیدی نظر کو پیش کیا گیا ہے ۔
اور اسی زاویہ نظر کے اعتبار سے اسکی اہمیت دو چنداں ہے کہ اسے ایک امریکہ ہی کے معاشرہ میں رہنے والے قوم پرست مصنف نے سپرد قرطاس کیا ہے۔
ڈیوڈ نے اس کتاب کی پہلی فصل میں مختصر طور پر اپنی بیو گرافی کو بیان کیا ہے اور اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ’’ میں شدید طور پر ان لوگوں سے نفرت کرتا ہوں جو اپنی ایک مستقل سوچ نہیں رکھتے اور چلتی ہوا کے پیچھے ہو لیتے ہیں یا اور جیسا دیس ویسا بھیس کے مقولے پر عمل کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر میں اپنے انقلابی عقائد کو پیش کر رہا ہوں جو کل کی دنیا میں ایک تبدیلی کا سبب بنیں گے‘‘
اس کتاب میں آگے چل کر ڈیوڈ نے یہودیوں کی حقیقت کو بیان کیا ہے خاص کر مصنف نے یہودیوں اور کمیونزم کے آپسی روابط کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے، مصنف کا ماننا ہے کہ کمیونزم، نے یہودیت کے پیٹ سے جنم لیا ہے، اور وہ یہودیوں پر ہونے والی تنقید کی صورت حال کے پیش نظر لکھتے ہیں: ’’کوئی بھی اگر یہودیوں کی تاریخ ، یا انکے طرز عمل یا صہیونی سیاست پر معمولی اور چھوٹی سی بھی تنقید کرتا ہے تو اس پر ایک یلغار ہو جاتی ہے اور یہودی ستیزی کا لیبل اس پر چپکا دیا جاتا ہے، اسے بدنام کر دیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ کی جانب سے سیاہ فاموں کے سلسلہ سے روا رکھے جانے والے دائمی، نادرست و غیر مناسب طرز عمل پر اگر کوئی تنقید کرتا ہے تو اسے امریکہ مخالف قرار نہیں دیا جاتا ہے، اگر کوئی ہسپانوی عدالت میں عقائد و افکار کی جستجو و تفتیش پر اعتراض کرتا ہے تو اسے عیسائیت یا اسپین کا مخالف قرار نہیں دیا جاتا ہے، ایسے میں سوال یہ ہے کہ یہودیت پر تنقید کو کیوں یہودیوں کے مخالفت کی صف میں لا کھڑا کیا جاتا ہے اور ہر تنقید کو مخالفت کا رنگ کیوں دیا جاتا ہے؟
کتاب کی تیسری فصل میں مصنف دنیا میں موجود یہودیوں کے افکار میں صہیونیت کے نفوذ کو بیان کرتے ہیں اور تورات کے اندر غلط ترجموں اور غلط مصادیق کے بیان کے ذریعہ تورات میں صہیونیوں کی تحریف پر اشارہ کرتے ہیں کہ کس طرح صہیونی فکر عام یہودیوں کے افکار میں تورات کے غلط مصادیق و غلط ترجموں کے ذریعہ اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
 
پانچویں فصل میں امریکی ٹی وی چینلوں اور اخباروں بلکہ مجموعی طور پر میڈیا و ذرائع ابلاغ پر یہودیوں کے تسلط اور انکے قبضے کو بیان کرتے ہوئے مصنف اپنا عقیدہ اس بارے میں یوں بیان کرتے ہیں: ’’ یہودیوں نے سالہا سال تک ہالیوڈ کی فلم صنعت پر اپنا قبضہ جمائے رکھا اور جب ہالی وڈ کی ۱۰ ممتاز شخصیتوں کو اعزاز دیا گیا اور امریکہ کے اس دور کے صدر جمہوریہ کے سامنے جب اعزاز پانے والوں سے سوال ہوا کہ کیا وہ کمیونسٹ طرز فکر کے حامل ہیں تو ان ۱۰ میں سے نو لوگوں نے کہا کہ وہ یہودی ہیں ۔
اسی فصل میں مصنف آگے چل کر کہتے ہیں: ” میں نے جب امریکہ میں شائع ہونے والے مختلف مجلوں اور جرائد و میگزینوں نیز کتابوں کا جائزہ لیا تو مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ یہ سب کے سب یہودی مفادات کے سلسلہ سے سرگرم عمل ہیں اور انہیں کے مفاد کے لئے کام کرتے ہیں، انہیں کی مصلحت و انہیں کے مفاد کے بارے میں سوچتے اور فکر کرتے ہیں جیسے SCHNEIDER شیلڈنر جیسی فلم کے ہدایت کار اسٹیون اسپلبرگ Steven Spielberg جو کہ بالکل صراحت کے ساتھ صہیونی حکومت کی بھرپور تائید و حمایت کرتے ہیں۔
ڈیوڈ کا ماننا ہے کہ غیر اخلاقی و تاریخی فحش فلمیں جنکو کروڑوں لوگ دیکھتے ہیں یہودیوں کی ہدایت کاری میں اور انہیں کے سرمایہ سے سامنے آتی ہیں۔
بعد کی فصلوں میں ڈیوڈ یہودیوں کے امریکی سیاست میں نفوذ ، سامی رجحان کی مخالفت کی جڑوں، یہودیوں کے اتنظامی امور میں تسلط ، ہلوکاسٹ کے بارے میں تحقیق، اور یہودیت کی سربراہی میں پیچیدہ عجیب و غریب جنگ، جیسے موضوعات کو چھیڑتے ہیں۔
انجام کار کتاب کی آخری فصل میں بہت تفصیل سے یہودیوں کے دیگر اقوام پر برتری کے عقیدہ کی تشریح کرتے ہیں، اور انکی برتری کے عقیدے کے سلسلہ سے دلائل و شواہد کو پیش کرتے ہوئے اسکے اطراف و اکناف پر بحث کرتے ہیں نیز یہودیوں کے اس عقیدہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہیں ۔