کورونا وائرس; پردے کے پیچھے بڑی سازش کا آغاز (پہلا حصہ)

  • ۷۸

بقلم جاوید حسن دلنوی کشمیری
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ:  چین کے ووہان شہر میں شروع  ہونے والے کورونا وائرس کو امریکی فوج نے پھیلایا جو وہاں پر عالمی فوجی کھیلوں میں شرکت کیلئے گئی ہوئی تھی جس میں امریکہ نے کھلاڑیوں  کے بھیس میں ایک تربیت یافتہ فوجی دستہ بھیجا تھا جنہوں نے خفیہ طور پر وہاں کے ایک بازار میں جا کر اس وائرس کو کھانے والی چیزوں میں وارد کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ امریکا  کے فوجی کھلاڑی نہیں تھے بلکہ اسی خاص مشن کے لیے انہیں تربیت یافتہ بنا کے بھیجا گیا تھا۔ اس دوران امریکا کے ان جعلی فوجی کھلاڑیوں نے ایک تمغہ بھی حاصل نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ کھلاڑی نہیں بلکہ جاسوس تھے جو اپنے اصل مقصد تک رسائی چاہتے تھے اور اس طرح بہت ہی تیزی سے اس وبا نے پھیلنا شروع کیا۔
 اس بات کا سنسنی خیز انکشاف حال ہی میں برطانیہ کے ایک معروف اخبار Independent نے  ایک مضمون کے ذریعے کیا ۔ اخبار کے مطابق  چین کے اقتصادی ڈھانچے کو عالمی سطح پر خراب کرنے کیلئے امریکا نے ایک بہت بڑے Biological war  کا آغاز کیا ہے ۔ جرمنی کے ایک جریدے نے بھی اس بات کا انکشاف کیا ہے  کہ یہ جراثیم برطانیہ کی فیکٹری میں بنایا گیا ہے  جسے سب سے پہلے زندانیوں پر آزمایا گیا تھا ،جس پر امریکا کے ایک دولت مند ترین شخص نے سرمایہ کاری کی تھی ۔ یہ وائرس ایک خاص طریقے کے DNA  کے ذریعے سے تیار کیا گیا ہے،  دوسری جانب ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ امریکا کا بنایا ہوا کارٹون The simpsons  جو آج سے سترہ سال پہلے بنایا گیا ہے جس میں اگر دقت سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ کارٹون  آج  کے اس کرونا  وائرس سے متعلق بنایا گیا ہے, کہ جس میں پروڈکٹس کو دوسرے ملکوں میں صادرات کر کے ایک مہلک بیماری کو پوری دنیا میں منتقل کیا جاتا ہے۔  مذکورہ کارٹون کو آپ نیٹ سے سرچ کر کے دیکھ سکتے ہیں، ادھر ٹرمپ  نے صدر بننے کے ساتھ ہی اعلان کیا تھا کہ انہیں اب اقتصادی جنگ چین سے کھیلنی ہوگی۔
 چین تجارت میں دنیا میں برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے جس کا مشرق وسطی میں کرونا وائرس کی  وجہ سے  اب برآمدات رکی ہوئی ہیں  اور تیس فی صد چین کی تجارت کا گراف نیچے کی طرف جا رہا ہے جو اس ملک  کے لئے بہت بڑا نقصان  تصور کیا جا رہا ہے، اگرچہ حال ہی میں چین نے وائرس کو کنٹرول کر کے عالمی تجارت میں واپسی کی ہیں، چین کی وزرات خارجہ نے یہ اعلان بھی کیا ہے اور امریکا کو دھمکی بھی دی ہے کہ ان کے اس Bilogical war   کا جواب دیا جائے گا۔ اور کہا کہ انہیں باضابطہ طور پر اس کے ثبوت بھی ملے ہیں، امریکا چاہتا ہے کہ چین کے مقابلے میں اس وقت ہندوستان کو کھڑا کیا جائے تاکہ ان سے با آسانی اپنی منفعت لیتا رہے کیونکہ ھندوستان کی موجودہ حکومت نظریاتی طور پر امریکا اور اسرائیل کے بہت نزدیک ہیں لیکن حالیہ قرائن سے پتا چلتا ہے کہ چین کی قدرت کے آگے ہندوستان نہیں ٹک سکتا ہے،  واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکی رجیم، دہشت گرد تنظیم داعش کو بھی اسی لئے وجود میں لائی تھی تاکہ تیل سے مالا مال مشرق وسطی کو رام کرکے ان سے اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکے، لیکن ایران کی طاقتور فوج  کی حکمت عملی نے  خطے میں داعش کی  درندہ صفت حکومت جو پوری انسانیت کی سلامتی کے لئے خطرہ تھی کو پوری طرح سے خاتمہ کیا جس کا عندیہ خود شھید سلیمانی نے دیا تھا ۔
 امریکا نے  Bilogical war کا آغاز دوسری عالمگیر جنگ  سے ہی شروع کیا تھا۔ اس کے بعد اس انسانیت مخالف کام کو انجام دینے کے لئے کئی اپنے حریفوں کو جو  ان کے لئے آنکھ کا کانٹا تھے جسمیں کیوبا کے معروف آزادی پسند انسان ’فیڑل کاسترو‘ ، وینزویلا کے صدر ’یوگا شاویز‘ قابل ذکر ہیں، ان کو اسی war  سے  نشانہ بنایا ۔ دوسری جانب امریکا نے سارس ، ایڈس ، برڈ فلیو  ،لندن فلو وغیرہ وائرس کو  وجود میں لاکر وقتا فوقتا اپنے اقتصادی مقاصد حاصل کئے ۔ اگرچہ ان وائرسوں سے شرح اموات کرونا کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی لیکن امریکا کو ان وائرس  سے
اتنے فائدے حاصل نہیں ہوئے جتنے اب  اس جدید ترین وائرس '' کرونا '' سے حاصل ہو رہے  ہیں۔ کرونا  اصل میں اتنا  بڑا  وائرس نہیں ہے جسے انسان کو ڈرنے کی ضرورت ہے، مگر  ایک سوچے سمجھے پلان کے مطابق امریکا نے اپنے استعماری میڈیا کو بھرپور پیسہ دیکر اسے دنیا میں وحشی اور ڈراونا ترین وائرس  کے طور پر پیش کیا ۔ اگرچہ اس کی اموات کی شرح برڈ فلیو سے تقریبا مساوی ہے ۔ کرونا وائرس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ  80  سال سے اوپر عمر والے افراد کو22در صد  70  اور 80 کے درمیان 8  ، 60 سے 70 والے 3.6 اور50 سے نیچے عمر رکھنے والے افراد کی شرح اموات1 فیصد جبکہ  10  سال کے نیچے والے کمسنوں کی اموات تحقیق کے مطابق صفر درصد بتائی جاتی ہیں ۔
 امریکا  نے کرونا وائرس سے اپنے دیرینہ اہداف حاصل کرنے کے حوالے سے ایک بڑی سازش  کا آغاز کیا ہے ۔ جس میں خاص طور پر چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی ترقی کو روک لگانی ہے ۔ اگرچہ وہ ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ چین نے فوری  طور پر اور بڑی سرعت سے  اس وبا پر مکمل طور پر کنٹرول کر لیا ہے ۔ اور ووہان شھر سے اسے آگے پھیلنے سے روک دیا ہے ۔ دوسری جانب چین کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران جو امریکا کا سب سے بڑا حریف ہے کو اس وبا سے شکار کرنا چاہا ۔ امریکا نے ایران میں انقلابی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے کرونا  پارلمینٹ تک پہنچایا اور یہاں تک کہ چند بڑی انقلابی شخصیات کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوا۔  بتایا جاتا ہے کہ ایران میں اس وباء کو دسمبر میں ہی وارد کیا گیا تھا  اور spray  کے ذریعے اس مہلک وبا کو عمومی مقامات میں پھیلایا گیا تھا۔ جسکا  ایران کو بعد میں پتا چلا اس دوران پچاس سے زیادہ اموات ایران میں ہو چکی تھیں لیکن اس وقت اسے برڈ فلیو کا نام دیا گیا اگرچہ وہ کرونا وائرس سے ہی واقع ہوئی تھیں۔ جس کے بعد 3  جنوری کو انہوں نے  ایران کے طاقتور جنرل قاسم سلیمانی کو بھی شھید کیا تاکہ بیک وقت یہ اس ملک کو ایک بڑے بحران کا شکار بنا سکیں۔
دوسری جانب ایران کے غم و غصے کو روکنے  کے لئے کرونا نے بڑا کام کیا کہ ایران نے امریکی فوج کو خطے میں نکال باہر کرنے کی ٹھان لی تھی، تحقیقات سے پتا چلتا ہے امریکا نے پوری دنیا کے اقتصاد کو خراب کرنا ہے اور خود کو دنیا میں سپر پاور کے طور پر باقی رکھنا ہے ، کیونکہ اس وقت امریکا کی اقتصادی ناو ڈوبنے پر ہے جو وہ کرونا وائرس سے بچانا ہی نہیں بلکہ اسے مضبوط بھی بنانا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بیماری سے 70  سال سے اوپر کے افراد کو بھی صفحہ ہستی سے ہٹانا مقصود ہے کیونکہ امریکا اب سبکدوش (ریٹائرڈ) لوگوں کو سوشل سروسز اور میڈیکل سہولیات وغیرہ دینے سے عاجز آ چکا ہے۔   

جاری

 

اسرائیل کی تشکیل اور بہائیت و صہیونیت کے گہرے تعلقات

  • ۱۴۱

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: بہائی فرقہ اگرچہ ابتدائے وجود سے ہی یہودیوں سے وابستہ تھا لیکن یہ گہرے تعلقات اس وقت وجود میں آئے جب یہ فرقہ ’روسی زارشاہی‘ سے جدا ہوا اور برطانوی سامراج سے جڑ گیا اور اس کے بانیان نے فلسطین میں سکونت اختیار کر لی۔ خیال رہے کہ فلسطین اس دور میں برطانوی قبضے میں تھا۔ ۱۹۴۸ میں برطانوی استعماری حکومت کی کوششوں اور فرقہ ضالہ ’بہائیت‘ کے تعاون سے صہیونی ریاست تشکیل پائی۔ ہم اس مختصر تحریر میں بہائیت اور صہیونیت کے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
آپ کے لیے یہ جاننا دلچسپ ہو گا کہ ’میرزا حسین علی نوری‘ یا وہی ’بہاء اللہ‘ نے صہیونی ریاست کی تشکیل سے پہلے اپنے پیروکاروں کو یہ خوشخبری اور بشارت دی تھی کہ یہودی حکومت تشکیل پائے گی اور سرزمین موعود یعنی فلسطین میں دوبارہ بنی اسرائیل کو عزت و سربلندی حاصل ہو گی۔ یہ دعویٰ اس قدر واضح تھا کہ حتیٰ اطالوی اخباروں نے بھی اس دور میں اس خبر کو شائع کیا۔
بہاء اللہ کے جانشین ’عباس افندی‘ اپنے باپ کی طرح بعض یہودی سربراہان جیسے ’اسحاق بن زوی‘ کے ساتھ ۱۹۰۹،۱۰ عیسوی کے دوران یعنی اسرائیل کی تشکیل سے ۴۰ سال قبل ملاقاتیں کرتے رہے اور ان کے مشوروں کے ساتھ اپنی سرگرمیاں انجام دیتے رہے۔ وہ صہیونی ریاست کی تشکیل کے بارے میں اپنے ایک پیروکار ’حبیب مؤید‘ کے نام خطاب میں یوں پیش گوئی کرتے ہیں:
’’یہ فلسطین ہے، سرزمین مقدس، عنقریب یہودی قوم اس سرزمین پر واپس پلٹ آئے گی۔ اور داؤودی حکومت اور سلیمانی جاہ و حشمت قائم ہو گی۔ یہ اللہ کے سچے وعدوں میں سے ایک ہے اور اس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں۔ یہودی قوم اللہ کے نزدیک دوبارہ عزیز ہو گی اوردنیا کے تمام یہودی ایک جگہ جمع ہو جائیں گے۔ اور یہ سرزمین ان سے آباد ہو گی‘‘۔
عباس افندی روتھشیلڈ گھرانے سے بھی ملاقات کرتے تھے۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ انہوں نے حبیب مؤید کے نام ایک اور خط میں لکھا: ’’مسٹر روتھشیلڈ جرمنی کے ایک ماہر نقاش ہیں۔ انہوں نے حضور مبارک کے تمثال کی تصویر کشی کی ہے اور مجھے دعوت دی ہے کہ میں اس تصویر کے نیچے چند کلمے لکھوں اور وہ اس کا جرمنی میں ترجمہ کر کے شائع کریں‘‘۔
نیز افندی کی زوجہ ’روحیہ ماکسل‘ اپنی کتاب ’’گوہر یکتا‘‘ جو ان کے شوہر کی سوانح حیات پر مبنی ہے میں عباس افندی اور صہیونی رہنما ’موشہ شارٹ‘ کے درمیان گہرے تعلقات کا راز فاش کرتی ہیں۔
عباس افندی نہ صرف صہیونیوں کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے بلکہ ان کی عدم موجودگی میں ان کے منصوبوں کو عملی جامہ پہناتے تھے۔ مثال کے طور پر بہاء اللہ ایک عیسائی نامہ نگار کے ساتھ اپنی گفتگو میں کہتے ہیں:
"کچھ دن پہلے، ’کرمل‘ اخبار کے مالک میرے پاس آئے، تو میں نے ان سے کہا کہ اب دینی اور مذہبی تعصب کے خاتمہ کا دور ہے، انہوں نے کہا: یہودی دیگر جگہوں سے آ رہے ہیں اور یہاں زمین خرید رہے ہیں، بینک کھول رہے ہیں، کمپنیاں کھول رہے ہیں، فلسطین کو لینا چاہتے ہیں، اور اس پر سلطنت کرنا چاہتے ہیں۔
میں نے کہا: یہ اپنی کتاب میں دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سرزمین میں حکومت کریں گے، یہ اللہ کا ارادہ ہے، کوئی ان کے مقابلے میں نہیں آ پائے گا، دیکھیں سلطان حمید اس جاہ و حشمت کے ساتھ کچھ نہ کر سکے‘‘۔
مذکورہ باتوں کے پیش نظر اس بات پر یقین ہو جاتا ہے کہ بہائیوں اور صہیونی یہودیوں کے درمیان تعلقات مرزا حسین علی کے دور سے ہی موجود تھے، لیکن عباس افندی کے زمانے میں ان تعلقات میں مزید گہرائی اور گیرائی آئی۔ خیال رہے کہ عباس افندی کا زمانہ وہ زمانہ ہے جب صہیونی یہودی فلسطین میں یہودی حکومت کی تشکیل کے لیے بھرپور جد و جہد کر رہے تھے۔
منبع: فصلنامه تاریخ معاصر ایران، بهائیت و اسرائیل: پیوند دیرین و فزاینده، شکیبا، پویا، بهار 1388، شماره 49، ص 640-513.

 

’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کا صہیونی منصوبہ امت مسلمہ کے خلاف بھیانک سازش

  • ۸۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عالمی صہیونیت کا “عظیم تر اسرائیل” کا منصوبہ اور اسے پورا کرنے کا عزم پوری امت مسلمہ کے خلاف ایک نہایت بھیانک منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کو اسرائیلی قومی دستاویزات اور پالیسیوں میں سرکاری حیثیت حاصل ہے۔ اسلامی ممالک کے حکمران اور علمائے دین و دانشور اگر یہ سوچتے ہیں کہ یہ منصوبہ محض کتابی ہے یا صرف پروپیگنڈہ ہے وہ اپنے کا دھوکہ دے رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت اور عالمی صہیونیت کے لیڈر اس دعویٰ پر پوری ضد سے قائم ہیں۔ وہ عظیم تر اسرائیل کو اپنا دائمی حق سمجھتے ہیں اور وقتا فوقتا اس کا برسر عام بھی اعلان کرتے ہیں۔ سپین کے مشہور میڈرڈ میں ۱۹۹۱ء میں جب اسرائیلیوں اور عربوں کے مابین “مشرق وسطیٰ کانفرنس” کو شروع ہوئے چھ دن گزرے تھے تو روزنامہ دی نیوز نے ۶ نومبر ۱۹۹۱ء کو یہ خبر شائع کی کہ “میڈرڈ میں اسرائیلی وزیر اعظم اضحاک شمیر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیل اپنی حدود کو ضرور وسیع کرے گا۔ توسیع کا علاقہ جنوب میں مصر سے لے کر شمال میں ترکی تک ہے اور اس میں شام، عراق، سعودی عرب، لبنان اور کویت کا بیشتر حصہ شامل ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں ریاستی توسیع کا حق اسرائیل کو ہے اور امریکہ یا سوویت یونین کا اس معاملے میں کوئی حق نہیں۔
عظیم تر اسرائیل کے پرانے نقشے میں جو اسرائیلی رسالوں اور کتابوں میں اکثر ملتا ہے، مدینہ منورہ اسرائیلی حدود میں بتایا گیا ہے اب جدہ اور کچھ اور علاقے بھی اس میں شامل کر دئے گئے ہیں۔
اسرائیل کو تسلیم کرنا مسلم دنیا کو تباہی میں دھکیلنا ہے۔ مسلم ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے اسرائیلی منصوبے کے ساتھ اضحاک شمیر کے اعلان کو ملا کر غور کریں تو عظیم اسرائیل کا فتنہ کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ پروفیسر للّی انتھل نے اپنی شہرہ آفاق کتاب “دی زاٹسٹ کنکشن” یعنی مخصوص صہیونی بندھن “نیویارک ۱۹۷۸” میں اسرائیل کی علاقائی توسیع کی حرص کے بارے میں یہ فکر انگیز جملہ لکھا ہے۔ “علاقائی توسیع کے صہیونی عزائم کی کوئی حد نہیں” یہ تبصرہ اور پروفیسر گاروڈی کا تبصرہ کہ “صہیونی ریاست اب تک ہر وہ مقصد پورا کرتی رہی ہے جس کا عزم اس نے برملا کیا تھا۔ حالانکہ اس کے کئی مقاصد دیومالائی اور فرضی تھے دیوانہ پن اور قیاس پر مبنی تھے تمام مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کے لیے ایک سنگین وارننگ ہے۔
یہ بھی یاد رکھیے کہ “عظیم تر اسرائیل” بنانے کی غرض سے اسرائیل نے ابھی تک اپنی ریاستی باؤنڈری یعنی زمینی حدود کو غیر متعین اور غیر واضح رکھا ہوا ہے جس طرح صہیونی لیڈروں نے دھوکے، دھشت گردی، حکمرانوں پہ دباؤ اور بڑی طاقتوں کی پشت پناہی سے ایک فرضی دعویٰ پر اسرائیل قائم اور تسلیم کروایا انہیں ہتھکنڈوں سے وہ “عظیم تر اسرائیل” کو تسلیم کروانے اور قائم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
اسلامی ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا سنگین اور ناقابل تلافی غلطی کا ارتکاب ہو گا۔ اسرائیل کو تسلیم کرنا عظیم تر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت اشد ضروری ہے کہ مسلم حکمران تدبر و حکمت سے کام لیں۔ ظلم و فریب سے بنی ہوئی جعلی اسرائیلی ریاست کو کسی قیمت پر قبول کرنا یا اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنا کسی قیمت پر اسلامی حکمرانوں کی صلاح میں نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں صہیونیت کے مہا منصوبے کے مطابق مسلم ممالک میں مزید طوفانی بحران اٹھنے والے ہیں ان کا سامنا کرنے کے لیے مسلم ممالک میں باہمی اتحاد اور ہر مسلم ملک میں حکام اور عوام کی یکجہتی بہت ضروری ہے۔ مسلم عوام کو اسرائیل کبھی بھی منظور نہیں ہو گا۔ کیونکہ قرآن کریم کی رو سے بھی اس صہیونی ریاست سے مسلمانوں کے تعلقات ممنوع ہیں۔
منبع: اسرائیل کیوں تسلیم کیا جائے، تالیف: محمد شریف ہزاروی

 

عیسائیوں پر یہودیوں کا تشدد

  • ۶۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ’’صہیونیسٹ کونسل آف امریکہ‘‘ کی تشکیل کے بعد اس کونسل نے صہیونیسٹ کے خفیہ بجٹ سے دو کمیٹیوں بنام ’’امریکی فلسطینی کمیٹی‘‘ (۱)اور ’’فلسطینی عیسائی کونسل‘‘(۲) کو جنم دیا تاکہ وہ اس طریقے سے امریکہ کے رہنے والے عیسائیوں کی حمایت حاصل کر سکیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ دو کمیٹیاں پہلی عالمی جنگ سے قبل امریکہ کے ہزاروں عیسائی افراد کو اپنی طرف جذب کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
عیسائیوں کی صہیونی سیاستوں کے تئیں حمایت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ غریب اور فقیر عوام کی مدد کرنا چاہتے تھے اور چونکہ صہیونی ہمیشہ مختلف ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے ذریعے دوسری عالمی جنگ کے بعد یہودیوں کی ابتر حالت کا ڈنڈھورا پیٹتے تھے اور ان کو ستم دیدہ اور مظلوم افراد ظاہر کرتے تھے کہ ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے سر چھپانے کے لیے مکان نہیں ہیں۔
ڈونالڈ نیف(۳) ۱۴ مئی ۱۹۴۸میں صہیونیوں کے عیسائی بستیوں پر کئے گئے حملے کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’عیسائیوں کے بعض گروہ اس بات کی شکایت کرتے تھے کہ مئی کے مہینے میں صہیونیوں نے عیسائیوں کے کلیساؤں اور انسان دوستانہ اداروں پر حملہ کر کے سینکڑوں بچوں، بے سہارا لوگوں اور پادریوں کو تہہ تیغ اور زخمی کیا تھا۔ مثال کے طور پر ان عیسائی رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ بہت سارے بچوں کو یہودیوں کی طرف سے آرتھوڈوکس کاپیک کنونٹ( Orthodox Coptic Convent) نے گولیوں کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا‘‘۔
نیف ایک کیتھولک پادری کی زبان سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’یہودی فوجیوں نے ہمارے چرچ کے دروازوں کو جلا دیا اور چرچ کی تمام قیمتی اور مقدس چیزوں کو چرا لیا۔ انہوں نے اس کے بعد حضرت مسیح کے مجسموں کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ یہ اس حال میں ہے کہ یہودیوں کے رہنماؤں نے اس سے قبل اس بات کی ضمانت دی ہوئی تھی کہ مذہبی عمارتوں اور مقدس مقامات کی بے حرمتی نہیں کریں گے۔ لیکن ان کا کردار کسی بھی اعتبار سے ان کی گفتار کے مطابق نہیں تھا‘‘۔
مآخذ:
۱۔ amercan palestine committce
۲۔ chistian council on palestine
۳۔ Donald Neff بیت المقدس میں مجلہ ٹائمز کے سابق سربراہ

 

 

اسرائیل سیکولر طبقہ و مذہبی عناصر کے درمیان بڑھتی خلیج

  • ۶۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فلسطینی سرزمینوں پر اسرائیل کے نام پر صہیونی حکومت میں پڑنے والی دراڑوں کی بنیاد پر یہ بات مشہور ہے کہ صہیونی معاشرہ میں آج مذہبی طرز فکر اور سکولرطبقہ کے درمیان شگاف کا ہم مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔ این مختلف قسم کی دراڑوں میں مذہبی خیالات کے حامل لوگوں اور سیکولیرزم کے حامیوں کے درمیان واضح پھوٹ اور انکے درمیاں بڑھتی قابل غور خلیج حکومت کے لیے بہت سے چلینجز کا سبب بنی ہے اور ایسے موضوعات کے وجود میں آنے کا سبب بنی ہے مشکلات و دشواریوں کے جنم لینے کا سبب ہیں ہم ان مختلف مشکلات و چیلنجز میں سے دو کو بیان کر رہے ہیں :
الف) دینی قوانین و دستورات کا مسئلہ :
آج بر سر اقتدار حکومت وقت اور لوگوں کے درمیان یہ سوال پایا جاتاہے کہ اقتدار یھود کے ہاتھ میں رہنا چاہیے یا پھر یہودیوں کے ہاتھ میں؟ یہ مشکل اس بات کا سبب بنی ہے کہ حکومت وقت کے سامنے ایک تشخص و اعتبار کا بحران سامنے آئےجبکہ حکومت وقت ایک طرف تو اس کوشش میں ہے کہ اپنے آپکو سیکولر طرز فکر کے حامل کے طور پر پیش کرے دوسری طرف حکومت کے ستونوں اور دین کے رول کے درمیان بہت سے اختلافات کا بھی اسے سامنا ہے ۔ چنانچہ صہیونی حکومت کی قانونی حیثیت اور اسکا اعتبار و جواز یہودیوں کی دینی میراث کے اعتبار سے ٹکرا رہا ہے اور یہ دونوں چیزیں یعنی صہیونی حکومت کا اعتبار و یہودیوں کی دینی میراث کا اعتبار آپس میں تناقض آمیز نظر آ رہی ہیں ، اسی طرح روایتی یہودی طرز فکر میں حکومت کے سلسلہ میں دین کی اولویت اس دکھاوے سے بر سر پیکار ہے جس میں حکومت کی جانب سے سیکولر طرز فکر کی بنیاد پر لوگوں کی اولویت کی بات ہوتی ہے یعنی ایک طرف روایتی یہودی ہیں جو دین کی اولویت کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف حکومت وقت ہے جو سیکولرزم کی بنیاد پر لوگوں کی اولویت کی بات کرتی ہے جسکی بنیاد پر یہ تناقض اور بھی واضح ہو کر ابھر رہا ہے اور اس سلسلہ سے مختلف تنقیدوں اور بحثوں کا سلسلہ جاری ہے ۔
یہ نظریاتی تناقضات اور آپسی ٹکراو اس وقت میدان عمل میں آگے کے راستہ کو اپنے لئیے بند پاتے ہیں جب صہیونی حکومت کے نسل پرستانہ و قوم پرستانہ طبقاتی سلسلوں کا سامنا یہودیوں کے قوم پرستانہ کلچر سے اشکنازیوں ، سفاردیوں اور آفریقی یہودیوں نیز فلسطینی کی سرزمینوں پر رہایش پذیر اعراب سے ہوتا ہے ۔ چنانچہ دوسرے درجہ اور تیسرے درجہ کے یہودیوں اور وہاں رہایش پذیر عربوں کے اوپر حکومتی مشینریوں کی جانب سے ظلم روا رکھا جاتا ہے تو یہ ظلم اپنے آپ پہلے سے پائے جانے نظریاتی شگاف کو اور بھی دائمی و عمیق بنا دیتا ہے ۔
ب) چھوٹ اور امتیاز:
چاہے وہ دینی و مذہبی تنطیمیں اور پارٹیاں ہوں یا حریدی ہوں ان سبھی نے حکومتوں کے ساتھ اتحاد و جوڑ توڑ کر کے مذہبی خیال کے حامل افراد کے لیے بہت سے امتیازات حاصل کئیے ہیں اور یہی وہ پوائنٹ ہے جو اختلافات کے مزید بڑھنے کا سبب بنا ہے این اہم امتیازات میں ایک امتیاز یشیوا نامی مدارس کے تمام بچوں اور تمام مذہبی لڑکیوں کا فوج میں خدمت سے معاف ہونا ہے ۔
یہ فوج میں خدمت کا قانون وہ قانون ہے جس سے صہیونویوں کی جدید نسل بھاگ رہی ہے اور خاص کر حزب اللہ لبنان ، حماس اور جہاد اسلامی سے آخر کی ہونے والی چار لڑائیوں میں اسرائیل کو ملنے والی شکست کی بنیاد پر بعض جوانوں میں ایک خوف بیٹھ گیا ہے جو فوج میں بھرتی ہونے کی خدمت سے چھٹکارا چاہتے ہیں نتیجہ میں یہ شگاف بڑھتا جا رہا ہے ۔
علاوہ از ایں، بڑے اور وسیع گھرانوں یا کثیر العیال گھرانوں کی حکومت وقت کی طرف سے حمایت مذہبیوں کے درمیان عام ہے اور دینی مدارس و طلاب کی مالی مدد ایک اور ایسا امتیاز ہے جو سیکولر طبقہ کی اس اصل سے متضاد ہے جس کے بموجب تمام شہری برابر ہیں ۔
گزشتہ چند سالوں میں اس سلسلہ سے ہونے والے اعتراضات بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ سیکولر و مذہبی طبقہ کے درمیان پائے جانے والے اس شگاف کے اور بھی اسباب ہیں جو اپنی جگہ لائق توجہ ہیں ۔

 

مجھے یقین ہے ہم ایک دن کامیاب ہوں گے: راجر واٹرز

  • ۵۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: تل ابیب کے نو پوجاریوں کے جذبات، تالاب کی سطح پر پانی کی ان بلبوں کے مانند ہیں جو اندر سے کھوکھلا ہوتے ہیں اور باہر سے جذاب اور پیارے۔ یہ یہودی وہ ہیں جنہوں نے سالہا سال سے اس سرزمین پر بسنے والے مقامی فلسطینیوں کو ۱۹۴۸ میں ان کے گھروں سے باہر نکال دیا اور ابھی تک انہیں اپنے وطن واپسی کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ پینک فلوڈ کے گلوکار راجر واٹرز کے خط کا ایک حصہ ہے جو انہوں نے ان فنکاروں کو لکھا جو مقبوضہ فلسطین کی طرف سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔
راجر واٹرز ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں اپنے ترانوں سے سننے والوں کو جھنجھوڑیں اور ان کے ذہنوں کو بیدار کریں۔ ان کے ترانے اس کے باوجود کہ فلسفی رنگ میں رنگے ہوتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ اس طریقے سے بیان کرتے ہیں کہ سننے والا آسانی سے سمجھ سکے اور بات کا ادراک کر سکے۔
۳جون ۲۰۱۰ کو راجر واٹرز نے «we shall overcome» کے عنوان سے فلسطینی عوام کی حمایت اور اسرئیلی جارحیت کے خلاف صدائے اعتراض بلند کرتے ہوئے ایک نیا ترانہ شائع کیا۔
اس ترانے کو انہوں نے خود YouTube پر شائع کیا اور اس کے بارے میں یوں لکھا:
میں ایسے حالات میں قرار پایا ہوں کہ میں نے یہ محسوس کیا کہ مجھے فلسطین کے لوگوں سے مخصوص ایک ترانہ کہنا چاہیے۔
انہوں نے اس ترانے میں جو پڑھا ہے اس کا مضمون کچھ یوں ہے:
ہم کامیاب ہوں گے، ہم آخرکار کامیاب ہو کر رہیں گے، مجھے دل کی گہرائیوں سے اس بات پر یقین ہے کہ ہم آخرکار کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔
ہم ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہو کر چلیں گے، مجھے دل کی گہرائیوں سے یقین ہے۔
ہم جیل کی دیواروں کو توڑ دیں گے، ہم ایک دن سب مل کر جیل کی دیواروں کو گرا دیں گے مجھے دل کی گہرائیوں سے یقین ہے۔
اور حقیقت ہمیں آزاد کرے گی، حقیقت ہم سب کو ایک دن آزاد کرے گی
مجھے دل کی گہرائیوں سے یقین ہے کہ حقیقت ہم سب کو ایک دن آزاد کرے گی۔
اور ہم ایک دن کامیاب ہو کر رہیں گے۔

............

 

علاقے سے امریکہ کا انخلاء، اسرائیل کی نابودی کا پیش خیمہ

  • ۷۰

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: علاقے سے امریکہ کا انخلاء اگر چہ حالیہ دنوں کورونا وائرس کی وجہ سے میڈیا کی پہلے درجے کی سرخیوں میں شامل نہیں رہا لیکن حقیقت یہ ہےکہ قاسم سلیمانی کے قتل اور عراقی پارلیمنٹ میں امریکی فوج کے انخلاء پر بل منظور کیے جانے کے بعد امریکہ کا علاقے سے نکلنا اس کے لیے تاریخی شکست ہو گی۔
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ نے اسی حوالے سے تہران یونیورسٹی کے ڈاکٹر فواد ایزدی کے ساتھ گفتگو کی ہے۔
خیبر: کچھ عرصے سے اس خطے سے امریکی انخلاء کی بحث چل رہی ہے، آپ کے خیال میں امریکی انخلا سے صہیونی حکومت پر کیا اثر مرتب ہوں گے؟
یقینا اس اقدام سے اسرائیل کے لیے اچھے نتائج ثابت نہیں ہوں گے۔ چونکہ علاقے میں صیہونی حکومت کا ایک اہم حامی امریکہ رہا ہے، اور اس میدان میں امریکہ کی عدم موجودگی کا اسرائیل کی طاقت پر براہ راست اثر پڑے گا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں بھی کمی پیدا ہو گی۔
خطے سے امریکہ کے انخلاء کا معاملہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ امریکہ کے لئے ایک اہم مسئلہ مغربی ایشیا میں ان کی طویل مدتی موجودگی ہے۔ بہت سارے امریکی سیاستدان، یہاں تک کہ خود ٹرمپ بھی اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ ایشیاء سے امریکی فوج کی واپسی امریکہ کی مجبوری ہے، اسی وجہ سے افغانستان سے بھی انخلاء ٹرمپ کے نعروں میں شامل ہے۔
اس خطے میں امریکیوں نے بہت سارے اخراجات برداشت کیے ہیں اور بہت سے لوگوں کو اس کا احساس ہو چکا ہے۔ جو لوگ ابھی تک امریکہ کے نقصان کو نہیں سمجھتے ہیں وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے امریکہ کو مغربی ایشیاء سے نکالنے کی کوششوں کی وجہ سے سمجھ جائیں گے۔
حالیہ برسوں میں جس جس علاقے میں امریکیوں نے قدم رکھا سوائے جنگ، ہلاکت، اور پریشانی کے کچھ نظر نہیں آیا، چنانچہ اب امریکی متوجہ ہو گئے ہیں کہ اب یہاں سے رخصت ہونے کا وقت آ گیا ہے خطے کے عوام انہیں اب اس سے زیادہ تحمل نہیں کر سکتے۔
خیبر: کیا آپ کے خیال میں امریکی انخلاء کے وقت اپنے اخراجات پورا کرنے کی کوشش کریں گے؟ یا دوسرے لفظوں میں کیا وہ جنگ چھیڑ کر یا دوسرے اقدامات کے ذریعے اپنے اخراجات حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟  
کوئی ایسی جگہ نہیں ہے کہ امریکی وہاں سے اپنے اخراجات پورا کر سکیں۔ ایک زمانے تک سعودی امریکیوں کو خوب پیسہ دیا کرتے تھے، البتہ ابھی بھی دیتے ہیں لیکن چونکہ وہ خود جنگ میں گرفتار ہیں، اب امریکہ کے اخراجات پورے نہیں کر سکتے۔
اگرچہ امریکی بھتہ خوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن عملی طور پر وہ ایسا کرنے سے بھی عاجز ہیں۔
امریکہ کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ نیابتی جنگیں (پراکسی وار) لڑتا اور دہشت گرد گروہوں کے ذریعے علاقے کو ناامن بناتا ہے۔ لیکن ان اقدامات کے لیے بھی امریکیوں کا خطے میں موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر اس خطے میں امریکیوں کی موجودگی کم ہوجائے تو دہشت گردانہ اقدامات بھی کم ہو جائیں گے۔ لہذا امریکیوں کا خطے سے انخلاء بہت ضروری ہے تاکہ علاقہ میں امن و سکون پیدا ہو۔  
خیبر: اگر امریکہ خطہ چھوڑ دیتا ہے تو ہم اسرائیل کی تباہی کے کتنے قریب ہیں؟
اسرائیل نابودی کے دہانے پر ہے، اور یہ تباہی ضروری نہیں ہے کہ فوجی کارروائی کے ذریعے ہی ہو۔ مقبوضہ علاقوں سے یہودیوں کی الٹی نقل مکانی اب ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے جس نے حکومت کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ اگر امریکی علاقے سے نکل کر عملی طور پر اسرائیل کی حمایت ختم کر دیں، تو صہیونیوں کی بڑی تعداد اسرائیل چھوڑ کر چلی جائے گی۔
نتیجہ میں اسرائیل کی تباہی اور اس حکومت کا خاتمہ یقینی ہوگا۔

 

خاکہ/ ولی امر مسلمین اور مسئلہ فلسطین

  • ۷۸

ملک کے موجودہ حالات اور ہندوستان کی تعمیر میں مسلمانوں کے کردار کو بیان کرنے کی ضرورت

  • ۹۹

بقلم سید نجیب الحسن زیدی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ملک و قوم کے حالات جس سمت میں جا رہے ہیں  انہیں دیکھتے ہوئے ہم سب پر لازم ہے  وطن عزیز کی تعمیر میں  اپنے کردار سے کو اہل وطن کے سامنے پیش کریں  بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ہم سے ناواقف ہیں ، ہماری ملک کی خاطر دی جانے والی قربانیوں کو نہیں جانتے ،اور یہاں بات محض ناواقفیت کی نہیں ہے بلکہ مسلسل ایک ایسی  فکر بھی  کام کر رہی ہے جو ہماری تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کررہی ہے ، کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک قوم کی پوری تاریخ ، اسکے کارناموں اسکی تہذیب  کو نہ صرف منحرف ا نداز میں پیش کیا جا رہا ہے بلکہ  جہاں قربانیوں کا ذکر ہے وہاں جان بوجھ کر اسکی قربانیوںکو  نظر انداز کیا جا رہا ہے ، ایک قوم کی علمی و اقتصادی خدمات  کا باقاعدہ انکار کرنے کا رجحان پیدا ہو چلا ہے ، ہماری تاریخ کو اس انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ گویا مسلمانوں کی حکومت کا دور  سامراجی دور تھا یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کی حکومت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی حکومت کو بھی سامراجی و بیرونی حکومت کے طور پر پہچنوانے کی کوشش کی جا رہی ہے  اور بالکل اس طرح پیش کیا جا رہا ہے جیسے  ہم نے ملک کی تعمیر میں کوئی حصہ ہی نہ لیا ہو  کوئی ایسا کام ہی نہ کیا ہو جس پر ہم فخر کر سکیں ،آزادی کی جنگ میں ہمارا کردار ہی نہ ہو  لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے ان پہلووں کو لوگوں کے سامنے لیکر آئیں جن سے ہمارے درخشان ماضی کا پتہ چلتا ہو جس سے ہماری قربانیوں کا پتہ چلے ،جب ہم اپنی تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو ہمیں اندازہ ہوگا ہم کہاں تھے اور اب کہاں کھڑے ہیں اور اسی بنیاد پر ہمارے اندر مزید آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوگا ،اور ساتھ ہی ساتھ ہم اپنے آپ کو احساس کمتری سے بھی نکالنے میں کامیاب ہوں گے ۔
ہم نے جو کچھ ملک کو دیا ہے اسکی فہرست طولانی ہے  جسے اس مختصر تحریر میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن ضروری ہے کہ بہت ہی اختصار کے ساتھ کچھ ایسے اہم نکات کو بیان کیا جائے جسکے سبب لوگوں کو پتہ چل سکے کہ معاشرتی طور پر ہم نے ہندوستان سماج کو مستحکم کرنے میں کیا رول ادا کیا ہے  جیسے ملک کو چھوا چھوت اور طبقاتی اونچ نیچ سے نجات دلانے کی نتیجہ بخش کوشش کرنا ، یہ طبقاتی اونچ نیچ گرچہ اب بھی پائی جا رہی ہے لیکن اسے کم کرنے میں ہمارا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے ۔
اور یہ بات آج کے ہندوستان کے لئے بہت ضروری ہے کہ اسے معلوم ہو مسلمانوں نے  بھید بھاو کے ختم کرنے میں کیا رول ادا کیا ہے اور کتنا مثبت کردار ادا کیا ہے جسکے سبب ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکا ہے ۔
وہ لوگ جو ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے  پورا ہندوستان طبقاتی نظام کی زنجیروں میں جکڑ رہا تھا ان لوگوں کو مل جل کر آگے بڑھنے کا حوصلہ  دینے والے طبقاتی نظام کی دیواروں کو گرانے والے مسلمان ہی ہیں یہ وہ چیز ہے جس سے ہم پسماندہ قوموں اور مستضعفین کو بھی اپنے ساتھ شامل کر سکتے ہیں  اور مل جل کر موجودہ طبقاتی شگاف کے خلاف آواز احتجاج بلند کر سکتے ہیں ۔

 

صہیونی غاصبانہ سیاست کے ناقد امریکی صحافی کا خوفناک اخراج

  • ۶۶

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: جم کلینسی( Jim Clancy, American broadcaster ) کے ٹویٹس کی داستان اس وقت شروع ہوئی جب شارلی ابڈو کے کسی مسئلے کے بارے میں انٹرنٹ کی فضا میں ان کے اور کچھ اسرائیلی حامیوں کے درمیان لفظی جنگ و جدال شروع ہوئی اور آخر کار جم کلینس کو خوفناک طریقے سے انکے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ اٹانٹا میں سی این این کے مرکزی دفتر سے سرکاری ترجمان نے کلینسی کی برطرفی کا اعلان یوں کیا: ’’جم کلینسی کا اس کے بعد سی این این کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہو گا۔ ’’ہم اس سے قبل ان کی تین دہائیوں سے زیادہ خدمت کے بابت ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کے لیے بہترین چیزوں کی امید رکھتے ہیں۔‘‘
کہانی کچھ یوں تھی کہ کلینسی اور چند صارفین کہ جنہیں وہ ’’ہاسبرا‘‘ (۱) کے اراکین جانتے ہیں کے درمیان کچھ ٹویٹس رد و بدل ہوئے اور اس مسئلہ پر کہ اسرائیلی شارلی ابڈو سے اپنے مجروح چہرے پر مرہم پٹی کے لیے سوء استفادہ کرتے ہیں کلینسی نے پورے صراحت سے صہیونیوں کی غاصبانہ سیاست کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا: ’’ایسے حال میں کہ فلسطینی بین الاقوامی عدالت کو جنگی جارحیت کے الزامات کے حوالے سے قانع کرنے کی کوئی امید نہیں رکھتے شہروں کی تعمیر ان کے مسئلے میں ان کی کامیابی واقعیت کے بہت قریب ہے۔‘‘ انہوں نے صہیونی میڈیا کے ذریعے جاری اسلاموفوبیا کے پروپیگنڈے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا: ’’ یہ عقیدہ کہ ہر مسلمان دھشتگرد ہے حقیقت کے خلاف ہے میری نظر میں امریکیوں کو اپنی ذہنیت بدلنا چاہیے‘‘۔
ان کی سب سے زیادہ مشکل ساز ٹویٹ اسرائیل کا حامی ایک صارف جو انسانی حقوق کی حمایت کے نام سے ٹویٹ کر رہا تھا کو یہ تھی: ’’ٹھہر جا، بچے! آج شب جمعہ میری رات ہے، تم اور تمہاری ہاسبرا ٹیم جاو بھیڑوں کے ریوڑ کی حفاظت کرو‘‘۔
حملے شروع ہوتے ہی، کلینسی نے پہلے تو بہت اچھے اچھے جواب دئے لیکن پھر اپنا اکانٹ ڈیلیٹ کر دیا لیکن ڈیلیٹ کرنے سے پہلے تک ان کے ٹویٹ پر ۲۰۰ لوگوں نے کامنٹس کر دئے تھے۔ کچھ ہی گھنٹوں بعد سی این این ویب سائٹ سے ان کی بیوگرافی ڈیلیٹ ہو گئی اور کچھ ہی دیر جیم کلینسی کے نام کے نیچے خدا حافظی کا پیغام لکھا ہوا آ گیا۔
مغربی میڈیا میں صہیونیزم کا وسیع نفوذ ایسا مسئلہ ہے جو حریت پسندوں، سماجی حقوق کے حامیوں اور نسل پرستی کے مخالفین کو بہت شدت سے اذیت پہنچاتا ہے۔
۱: Hasbara (یہ لفظ میڈیا میں اسرائیلی سیاست کو پھیلانے کی طرف اشارہ کے لیے استعمال ہوتا ہے)