ہالیووڈ کا عقیدہ مہدویت پر حملہ

  • ۳۴

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: عصر حاضر میں مہدویت کا موضوع اتنا اہم موضوع ہے کہ حتیٰ دنیا کی معروف ترین فلم انڈسٹری ہالیووڈ نے اس موضوع پر کئی فلمیں اور کمپیوٹر گیمز بنائی ہیں ہالیووڈ نے اس موضوع کی اہمیت کا احساس اور انسانی معاشرے پر اس کی تاثیر کا ادراک کرتے ہوئے مکمل پروگرامینگ اور منصوبہ بندی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔
اورسن ویلیس ( Orson Welles) ہالیووڈ فلم انڈسٹری کی ایک معروف یہودی شخصیت ہے جس کی فلم “Citizen Kane” دنیا کی بہترین اور معروف فلموں میں شمار کی جاتی ہے، اس نے “Nostradamus کی پیشن گوئیاں” کے نام سے ایک فلم بنائی ہے جس میں آخری زمانے میں ایک ایسے شخص کو منجی کے طور پر پہچنوانے کی کوشش کی ہے جس کا نام آخری پیغمبر کے نام پر ہوتا ہے اور وہ مسلمان ہوتا ہے۔ لیکن اس قدر قتل و غارت کرتا ہے اور لوگوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتا ہے کہ ہر کوئی اس سے نفرت کا اظہار کرتا ہے۔
اس کا لباس عربی لباس ہوتا ہے اور سر پر عربوں کی طرح دستار باندھے ہوتا ہے۔ یہ یہودی فلم ڈائریکٹر در حقیقت اس فلم کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ مسلمان جس کو منجی اور بشریت کو نجات دلانے والا کہتے ہیں وہ ہزاروں لوگوں کی جانیں لے گا اور ان کے خود کی ندیاں بہائے گا۔ وہ اس فلم کے ذریعے یہ کہنا چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں رہنے والے ۶۰۰ ملین مسلمان جو عظیم قدرتی ذخائر منجملہ تیل و گیس کی دولت کے مالک ہیں اس منجی کے حامی ہیں جو عالمی امن کے لیے خطرہ ہے لہذا مسلمانوں سے اس عظیم ثروت و دولت کو چھینا جائے تاکہ اگر ان کا منجی ظہور کرے تو ان کے پاس اس کی مدد کے کچھ بھی نہ ہو اور درنتیجہ وہ جنگ و جدال جو وہ کرنا چاہتا ہے نہ کر سکے۔
ویلیس نے اس فلم کے ذریعے آسکرز (Oscars) کا انعام بھی حاصل کیا ہے اور اس کے بعد اس نے “یامہدی” کے نام سے ایک کمپیوٹر گیم بھی بنائی ہے جس کا مقصد بھی مذکورہ منصوبہ بندی کے تحت بچوں اور نوجوانوں کو منجی یا مہدی سے دور کرنا اور اس کی نسبت ان میں نفرت پیدا کرنا ہے۔
‘اورسن ویلیس’ نے یہ فلم ایسے حال میں بنائی ہے کہ اسے منجی آخر الزمان کہ جس پر تمام ادیان الہی کے ماننے والے ایمان رکھتے ہیں اور مسلمان اسے آخری نبی کی نسل میں سے سمجھتے ہیں کے بارے میں دقیق معلومات نہیں ہیں یا اگر معلومات ہیں بھی تو اس نے حقیقت کو چھپاتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کی نسبت اپنی دشمنی کو اس انداز سے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ منجی عالم بشریت اللہ کے اس آخری نمائندے کا نام ہے جو دنیا میں قتل و غارت پھیلانے اور خون کی ندیاں بہانے نہیں آئے گا بلکہ بشریت کو قتل و غارت اور فتہ و فساد سے بچانے آئے گا ظلم و ستم سے بھری دنیا کو عدل و انصاف سے پر کرنے آئے گا وہ مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کی ثروت و دولت کا محتاج نہیں ہو گا بلکہ زمین اس کے لیے اپنے سارے خزانے اگل دے گی وہ اخلاق حسنہ اور پیار و محبت کے ذریعے دنیا کی تقدیر کو بدل دے گا۔ اس لیے کہ وہ اس نبی کا فرزند ہو گا جو نبی رحمت ہے اور اس خدا کا نمائندہ ہو گا ‘ارحم الراحمین’ ہے جس کی رحمت ہر چیز پر غالب ہے، “رحمتی وسعت کل شئی”۔ لہذا ہالیووڈ کی ایسی فلموں اور گیموں کا مقابلہ کرنا اور ان سے اپنے بچوں اور نوجوانوں کو دور رکھنا تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے اس لیے کہ عالمی صہیونیت ان آلات و ابزار کے ذریعے مسلمانوں کے عقائد کو دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کرنا چاہتی ہے اور مسلمان بچوں اور نوجوانوں کے اندر ان کے عقائد کی نسبت نفرت پیدا کرنا چاہتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اسرائیل میں بہائیت کے مرکزی ہیڈ کواٹر کے پیچھے کیا راز پوشیدہ ہے؟

  • ۹


خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر؛ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے امریکہ کی جانب سے  اسلامی جمہوری ایران  کے جاسوسوں اور اسلامی جمہوریہ  کے حدود تجاوز کر نے والوں کے دفاع  کے سلسلہ سے   ۱۷  رمضان المبارک  ۱۴۰۳ ھ مطابق ۲۸ جون ؁۱۹۸۳ حکومت کے ذمہ داروں کے درمیان ایک خطاب کیا ، جس میں آپ نے اس وقت کے امریکی صدر جمہوریہ کی جانب سے  ساری دنیا سے بہائیوں کے لئے مدد کی گہار لگانے کے سلسلہ سے اس بات کی وضاحت کی کہ  بہائیوں کی جانب سے امریکی صدر جمہوریہ کی یہی حمایت  انکے جاسوس ہونے اور امریکیوں کے  بہائیوں سے مفاد کے وابستہ ہونے کو بیان کرتی ہے ۔
امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے  رونالڈ ریگن  کی تقریر کہ جسے بعض ریڈیو  اسٹیشنز نے نشر کیا  کے مضمون کو بیان کرتے ہوئے کنایہ آمیز انداز میں  کہا: یہ لوگ چونکہ مظلوم ہیں اور بالکل بھی جاسوس  نہیں ہیں، مذہبی مراسم کے علاوہ کسی چیز میں مشغول نہیں رہے، اس پر ایران نے انکے انہیں  مذہبی رسومات کی وجہ سے ۲۲ لوگوں کو پھانسی کی سزا سنائی ہے، یہ وہ بات ہے جس کی بنا پر ریگن نے ساری دنیا سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ لوگ جاسوس نہیں ہیں ، یہ ایسے سیدھے سادے لوگ ہیں جنکی کسی بھی کام میں کوئی شمولیت یا دخالت نہیں ہے  اپنی تقریر میں امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے  اس بات کو بیان کرنے کے بعد بہت سنجیدگی کے ساتھ انکی پھانسی کی سزا کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ ہم نے  ہرگز انکے بہائی ہونے کی وجہ سے انہیں قید وحبس کا حکم نہیں دیا  بلکہ انکے ساتھ کچھ مسائل رہے ہیں، یوں بھی بہائی کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ بہائی ایک پارٹی ہے، ایسی پارٹی جسکی ماضی میں برطانیہ حمایت کرتا رہا ہے اور اب امریکہ نے اسے اپنی چھتر چھایہ میں لیا ہوا ہے  یہ لوگ  جاسوس بھی ہیں اور دیگر لوگوں کی طرح انکے عقائد میں بھی انحراف پایا جاتا ہے، یہاں پر  مسئلہ تو یہ ہے کہ انکے طرفدار جناب ریگن صاحب آپ جیسے لوگ ہیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ  انکی ایک مبہم و خاص صورت حال ہے،  ہمارے دشمنوں کو فائدہ پہنچانے میں  انکا کردار اس کے علاوہ کیا ہوگا کہ  ہماری مخبری کریں اور ہمارے اسرار کو دشمنوں تک منتقل کریں، اور ایرانی قوم و حکومت کے درمیان انکے ساتھ جاسوسی کریں ۔
سچ تو یہ ہے کہ  اسلامی جمہوریہ  کے معمار و بانی کا جوہر کلام یہ ہے کہ  بہائیوں کے ساتھ مقابلہ آرائی  کی وجہ انکے عقائد  کے انحراف کے علاوہ اور ماورا اسکے کے یہ بنیادی طور پر بہائیت کوئی مذہب نہیں ہے اور یہ ایک گمراہ و منحرف فرقہ ہے،  در اصل یہ ہے کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی جاسوسی کرتے ہیں  اور اسی وجہ سے  امریکہ و اسرائیل  بہائیوں کی حمایت کرتے ہیں ۔ اور اسلامی انقلاب کے ۴۰ سال گزر جانے کے بعد  بھی  اپنی ڈگر پر یہ کھیل جاری ہے اسلامی انقلاب کے چالیس سال  گزر جانے کے بعد بھی  یہی کھیل جاری ہے اور بہائی فرقہ  کہ جسکا مرکزی  دفتر اور ہیڈ کواٹر مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) کے حیفا شہر میں ہے، اسرائیل اور امریکہ کے لئے  جاسوسی کر رہا ہے اور اس گمراہ  فرقہ سے مقابلہ آرائی و تقابل کی بنیادی وجہ   یہی امام خمینی  رضوان اللہ تعالی  کے وہ خدشات ہیں جنہیں آپ نے اس فرقے کے بارے میں بیان کیا ہے ۔
.صحیفه امام خمینی، ج۱۷،ص۴۵۹
بہائیت  جنگی عزائم رکھنے والے کارزار پسند اسرائیل کی خدمت میں
گزشتہ چند دنوں قبل اسرائیل کے خود ساختہ جعلی  ملک کے نام نہاد وزیر اعظم  بنجامن  نیتن یاہو نے اسرائیلی سلامتی و تحفظ کے کالج کے اسٹوڈینس سے ملاقات کے دوران اس بات کا دعوی  کیا کہ ’’  فی الوقت دنیا کی واحد ایسی فوج جو اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے  اسرائیل کی فوج ہے ‘‘۔
لائق توجہ ہے کہ  بہائی فرقہ کا صدر دفتر اسرائیل میں ہے اور  صہیونیوں کی ممکل  حمایت و پشت پناہی میں اپنا کام کر رہا ہے ، بہائی ہر ۱۹ دن میں اپنے دفتری چارٹ کے مطابق  ’’ ضیافت و دعوت‘‘ کے تحت  اپنے تمام تر تعلقات و روابط  اور اپنی کارکردگی و اپنے ترویجی وتشہیری کاموں  حتی دوستانہ تعلقات و لین دین کو اوپر رپورٹ کرتے ہیں اور اس پروگرام میں حاصل ہونے والی تمام ہی معلومات اسرائیل کو ارسال کر دی جاتی ہیں، یہ اطلاعات ایک ایسے ملک کو پہنچتی   ہیں جو واضح طور پر اسلامی جمہوریہ ایران سے مقابلہ کی بات کر تا ہے۔
ہرچند بہائیت کا دعوی ہے کہ اسکے صدر دفتر کے مقبوضہ فلسطین میں ہونے کے باوجود  اسکا کوئی تعلق بھی وہاں کے سیاست مداروں سے نہیں ہے اوریہ دفتر محض جغرافیائی طور پر اس خطے میں واقع ہے، لیکن نیتن یاہو کی جانب سے اس دفتر سے متعلق افراد سے ملنا اور انکا نیتن یاہو سے ملاقات کرنا مرغے کی ایسی دم ہے جو چھپائےنہیں چھپتی اور اس دعوے کو باطل کر دیتی ہے کہ ہم نے مرغا چوری نہیں کیا ہے ہم قسم کھا سکتے ہیں، ایسے میں جو مرغے کی دم کو آستین سے باہر  دیکھ رہا ہے وہ قسم پر کیونکر یقین کر سکتا ہے۔ اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بہائی  بالقوہ طور پر  اسرائیل کی مخبری کرنے والے عناصر کے طور پر کام کر رہے ہیں  جو اسلامی جمہوریہ کے معاشرے کی مختلف سطحوں میں رسوخ کر کے  اسلامی جمہوریہ کی حاصل ہونے والی اطلاعات کو  دشمنوں تک منتقل کرتے ہیں ۔
اس وقت ملک کے حساس حالات کے باوجود ، اور اسرائیلی حکام کی جانب سے جنگ کی طرف اکسانے والی باتوں اور جنگ خواہانہ زبان استعمال  کرنے کے باوجود  ضروری ہے کہ  اسلامی جمہوریہ ایران کے ذمہ داران  چھوٹے چھوٹے جاسوسی کے نیٹ ورکس کی نقل و حرکت کو لیکر حساس رہیں، اس لئے کہ جب اس سے پہلے  بہائیوں کی جانب سے اسرائیل کی طرف خفیہ معلومات کا تبادلہ ہوتا تھا  اور اس پر اعتراض ہوتا تھا  تو یہ دعوی کیا جاتا  کہ ساری معلومات  اسرائیل ارسال نہیں کی جاتی ہیں بلکہ انہیں بہائیوں کے صدر دفتر بھیجا جاتا ہے، لیکن یہ بات ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بہائیوں کا یہ صدر دفتر صہیونی رجیم کے  اہلکاروں اور حکام کی جانب سے  دائمی طور پر  زیر نظر رہتا ہے اور اسکی تفتیش ہوتی رہتی ہے ۔
بہائی  نظام اسلامی جمہوریہ ایران میں  رسوخ و نفوذ اور جاسوسی کے درپے
گمراہ بہائی فرقہ بہت ہی سسٹمیٹک  طریقے سے  اپنے جاسوسی کے کاموں کو انجام دیتا ہے اور یہ لوگ  اپنے مشن کو عملی کرنے کے لئے  اندر در آنے  کی فضاوں کو تلاش کرتے  رہتے ہیں ۔ اور انکا طریقہ کار یہ ہے کہ   ’’بیت العدل  اعظم  ‘‘نامی شورا کی جانب سے  (بہائیوں کا  اسرائیل میں واقع صدر دفتر ) ان خفیہ اطلاعات کے بل پر جو  بہائیوں کی جانب سے وہاں بھیجی جاتی ہیں    ایسی فضاوں کی نشاندہی کی جاتی ہے  جہاں سے گھس کر  اپنا کام کیا جا سکے نیز اس شوری کی جانب سے  اندر گھسنے کے لئے ضروری رخنوں کی نشاندہی کے ساتھ ایسی ہدایات بھی پیش کی جاتی ہے جنہیں  بیت العدل کی جانب سے ارسال کئے گئے  پیغامات کا نام دیا جاتا ہے اور یہ وہ پیغامات ہوتے ہیں  جنہیں  بہائیوں کی  جاسوسی سے  متعلق اور انکی تشہیری و ترویجی  فعالیت سے  متعلق ہدایات کے طور پر  بہائیوں تک  پہنچایا جاتا ہے ۔
مثال کے طور پر ۲۸ سمبر ۲۰۱۰؁ کو جاری ہونے والے ایک پیغام  میں جسے  اس گمراہ فرقے کے ایک دراز مدت  پروگرام کی ایک کڑی کے طور پر پیش کیا گیا ہے ، اس  پیغام  میں  ایسے دیہاتی علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں بہاہیت کو لیکر  اور اسکے ڈھانچے کو لیکر کوئی جانکاری نہیں پائی جاتی ہے اور اس پیغام میں انہیں علاقوں کو  ایسی  اہم فضا کے طور پر پیش کیا گیا ہے  جہاں یہ گمراہ فرقہ اپنی فعالیت انجام دے سکتا ہے من جملہ  تشہیری و ترویجی کاموں کے ساتھ ان علاقوں کو جاسوسی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ بہائیت کی جانب سے  جاری ہونے والے پیغامات کو اس نام سے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ وہ پیغامات ہیں جو بہائیت کے دنیا بھر میں پیروکاروں کے لئے ارسال کئے گئے ہیں لیکن بالکل واضح ہے کہ  ان پیغامات کا ہدف  و نشانہ اسلامی ممالک اور خاص طور اسلامی جمہوریہ  ہے  اس لئے کہ  بہائی اپنے وجود کا سرچشمہ  ایران ہی کو سمجھتے ہیں ۔ بیت العدل کی جانب سے جاری ہونے والے بہت سے  پیغامات  اور ہدایتوں میں  من جملہ ۲۰۱۰؁ کے  ۲۸ سمبر کو جاری ہونے والے پیغام  میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ  مختلف دیہاتوں میں  پھیل جائیں  اور  لوگوں کو اس فرقے کے سسٹم  میں داخل کریں اور اس طرح اپنے فرقے کی تبلیغ و ترویج سے متعلق  فعالیت کے دائرہ کو پھیلا دیں۔
اس پیغام کے ایک حصہ میں ملتا ہے ’’ اگر اس کام کا ایک نمونہ کسی ایک علاقہ میں تاسیس ہو گیا تو تیزی کے ساتھ دوسرے ہم جوار دیہاتوں میں  پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘ در حقیقت   بہائیوں نے  اس لئے اپنے کاموں کے لئے دیہاتوں کا انتخاب کیا ہے کہ  یہاں کی فضا  انکے مقاصد تک پہنچنے کے لئے مناسب ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ اس فضا کو اپنی کارکردگی  کا محور بناتے ہوئے  لوگوں کی نظروں سے دور اپنی جاسوسی مہم  کو وسعت بخشیں ۔ اب یہ اسلامی جمہوریہ کی خفیہ ایجنسیز اور قومی سلامتی سے متعلق مراکز اور ادارہ جات  پر ہے کہ وہ  اس گمراہ و خطرناک  فرقے کے بارے  میں اس طرح وارد  عمل ہوں کہ  لوگوں  کی سہولت اور انکے چین و سکون  پر حرف نہ آئے اور قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے  ایسے اقدام کئے جا سکیں جنکے چلتے  اس فرقے کی تبلیغ و ترویج  کا شکار ہو کر اس کی طرف مائل ہونے والے افراد کو اس میں شامل ہونے سے روکا جا سکے ۔
منبع: http://fna.ir/dauqch

 

پروفیسر سامی الارین Professor Sami al-Arian کا تعارف

  • ۸

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر کے سیاسی شعبے کی رپورٹ کے مطابق، کچھ عرصہ قبل امریکہ میں ایک کتاب منظر عام پر آئی اسکا نام تھا ” ایک سو ایک خطرناک پروفیسر” اس کتاب کا موضوع ایسے ایک سو ایک پروفیسرز کا تعارف کرانا تھا جنکا جرم ہلوکاسٹ  اور یہودیوں کے کے بارے میں اپنی کلاسز میں  زبان کھولنا تھا، اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیز کے اساتید کو یہ انتباہ دیا گیا ہے کہ چونکہ ان لوگوں نے ریڈ لائن کو کراس کیا ہے لہذا انکے آثار سے استفادہ نہیں کیا جا سکتا ، مجموعی طور پر جب آزادی کو نامحدود کر دیا جائے تو یہ بات خود اپنے آپ میں کچھ مشکلات کا سبب بنے گی آزادی خود بخود محدودیت پر منتہی ہوگی اور یہی وہ  مشکلات ہیں جو آزادی کے دائرہ کو تنگ کرنے کا سبب بنیں گی ۔
پروفیسرسامی الارین   Professor Sami al-Arian  بھی ان ایک سو ایک پروفیسروں میں سے ایک ہیں جنکے بارے میں صاحب کتاب نے اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں  کیا ہے  ہم یہاں پر امانت میں رعایت کی خاطر  پروفیسر سامی الارین    Professor Sami al-Arian کی شخصیت کو صاحب قلم کے بیان شدہ مطالب کی روشنی میں پیش کر رہے ہیں اسکا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ انکی تمام باتیں ٹھیک ہیں یا پھر وہ تمام الزامات صحیح ہیں جو انہوں نے پروفیسر پر لگائے ہیں بلکہ اس تحریر کو قارئین کرام یہ سوچ کر پڑھیں کہ یہ تحریر نہ تو کسی مسلم دانشور کی ہے اور نہ ہی فلسطین کی حمایت کا نظریہ رکھنے والےکسی اسکالر کی بلکہ یہ تحریر بزعم خود ایک ایسے بے طرف انسان کی ہے جس نے امریکہ میں ہوتے ہوئے ایک پروفیسر کی زندگی کی حقیقت کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے ایسا پروفیسر جو خطرناک ہے جیسا کہ کتاب کے عنوان سے واضح ہے ‘‘۔
پروفیسر سامی الارین   ـProfessor Sami al-Arian
جنوبِ فلوریڈا یونیورسٹی  (University of South Florida) یا USF [1]

USF میں انجیرئنگ کے استاد
جہاد اسلامی فلسطین [۲]کے  مقامی سربراہ (ایک ایسا دہشت گرد  گروہ  جو و شمالی امریکہ میں ہونے والے خود کش بم دھماکے کا ذمہ دار ہے جس میں ۱۰۰ جانیں گئیں .)
شہری حقوق کی آزادی کے سرگرم کارکن
اسامہ  (سامی) سامی الارین  ایک ایسے فلسطینی ہیں جو اپنی سرگرمیوں کے چلتے گرفتار ہونے سے قبل USF میں انجیئرنگ کے استاد تھے پروفیسر سے دو غیر منافع بخش ادارے بھی قائم کئے ہوئے تھے ایک یونیورسٹی سے متعلق تحقیقاتی مرکز ، جسکا نام اسلامی تعلیمات کا عالمی مطالعہ  اور فلسطین کی اسلامی کمیٹی کے نام سے جانا جاتا ہے جس  کا کام فلسطین کے لئے مالی منابع ذخائر کو فراہم کرنا اور جہاد اسلامی کے لئے جنگجووں کو جوڑ کر انہیں جہاد اسلامی سے وابستہ کرنا تھا۔
پروفیسر سامی الارین  در حقیقت شمالی امریکہ میں جہاد اسلامی کے سربراہ تھے جنہیں امریکہ کی حکومت کی جانب سے خود کش حملوں کے الزام کا ملزم قرار دیا گیا ہے۔
ایف بی آئی کی جانب سے ایک نظارتی ویڈیو میں جسے پروفیسر سامی الارین کی جانب سے امریکہ کی مساجد میں لوگوں سے چندہ وصول کرتے دکھایا گیا ہے ، پروفیسر کو جہاد اسلامی تحریک کے ایک بازو کی حیثیت رکھنے والی فلسطین اسلامی کمیٹی کے سربراہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔
پروفیسر سامی الارین یہاں پر اس طرح کہتے ہیں : خدا نے ان لوگوں پر جو اسرائیل کے فرزند ہیں داود اور عیسی  بن مریم کے ذریعہ لعنت کی ہے آئیں ان پر اور انکے متحدین پر وقتِ موت تک لعنت کریں ۔
ایک اور تقریر میں پروفیسر یہ کہتے نظر آتے ہیں : آج ہم شہیدوں کی آرزءوں کے احترام میں اور اس تحریک سے جڑی زنجیر کی کڑیوں کی صورت جو قتل سے قتل ، شہادت سے شہادت تک جہاد سے جہاد تک جاری و ساری ہے اور کبھی یہ تحریک رکے گی نہیں ،ہم ہرگز رکیں گے نہیں آگے ہی بڑھتے رہیں گے اسی بات کا عہد کرنے کے لئے ہم شہیدوں کی آرزوں کے احترام کے ساتھ یہاں جمع ہوئے ہیں ، اسی طرح ایک کیسٹ میں منظر بھی قید ہے کہ جہاں پروفیسر کے اوپر گل افشانی کی ایک رسم میں  شہدائے فلسطینی کی حمایت میں ایک بولنے والے نے ایک یہودی کو مارنے کے لئے ۵۰۰ ڈالر کی درخواست کی ۔) یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں یقین سے کہا جا سکتا ہے ایسا ہرگز نہیں ہوا ہوگا اور کتاب کے مصنف نے امریکہ میں صہیونیت کے مخالف یہودیوں کے درمیان فلسطینی مجاہدین کی تخریب کی خاطر یہ بات بیان کی ہے،اگر چندہ و امداد کی بات درست بھی ہوگی تو اس بھونڈے انداز میں تو ہرگز نہیں)عیاں راچہ بیاں   (
پروفیسر سامی الارین کے تھاٹ روم کا ایک رکن بھی خلیل شقاقی نامی یونیورسٹی کا ایک فلسطینی استاد ہے ، جو فتحی شقاقی[۳] کا بھائی ہے جو کہ مشہور فلسطین کی جہاد اسلامی تنظیم  کے معمار اور جہاد اسلامی کی عسکری شاخ کے شام میں رہبر تھے ۔
جب فتحی شقاقی کو صہیونیوں کی جانب سے شہید کر دیا گیا تو جہاد اسلامی تنظیم کی سربراہی کا عہدہ اور فتحی شقاقی کی جانشینی رمضان عبد اللہ صالح کے حصہ میں آئی جو کہ خود پروفیسر سامی الارین کے تھاٹ روم کی سابقہ  منتظمہ میں سے ہونے کے ساتھ  جنوبِ فلوریڈا یونیورسٹی  (University of South Florida) یا USF کے اساتید میں بھی تھے ۔
پروفیسر سامی الارین نے ۱۹۹۷ ء میں سیاسی آزادی کے لئے ایک متحدہ محاذ کی تشکیل دی، اسکا اصلی مقصد دہشت گردی اور کار آمد پھانسی کے خلاف قانون کی مخالفت کرنا تھا جو بعد میں) پیٹریوٹ[۴] کے نام سے تبدیل ہو گیا (  یہ قانون ۱۹۹۶ میں  اوکلاھما شہر کی فیڈرل بلنڈنگ میں بم دھماکے کے بعد ہوا جسکی بنیاد پر ۱۷۵ لوگ ہلاک ہوئے تھے
اس قانون کے بننے کے بعد ہی فلسطین کی جہاد اسلامی جماعت کو دہشت گردانہ گروہوں کی فہرست میں قرار دیتے ہوئے اعلان کر دیا گیا کہ جہاد اسلامی تنظیم دہشت گرد ہے ، مازن النجار، پروفیسر آل اریان کے ہم زلف کو بھی جو کہ الرین کے تھاٹ روم کے ایک رکن تھے اسی قانون کی بنیاد پر ساڑے تین سال تک گرفتار کر کے رکھا گیا اورانجام کار ۱۱ ستمبر کے بعد ملک سےنکال دیا گیا
پروفیسر سامی الارین شہری و مدنی حقوق کی آزادی کے لئے سرگرم عمل محاذ کے لیڈر و قاٗئد کے طور پر جانے جاتے تھے جسکی داغ بیل پیٹرائٹ قانون کی مخالفت میں پڑی تھی جو کہ حقیقت میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف بننے والے کلنٹن کے قانون ہی کے ایک نئی تشریح کے طور پر سامنے آیا تھا
پروفیسر سامی الارین کے محاذ کے ہمراہوں میں جو نام آتے ہیں وہ کچھ یوں ہیں :
وکیلوں کا قومی محاذ، امریکہ میں شہری حقوق کی آزادی کا محاذ، بنیادی حقوق کا مرکز ، کہ جسکے ترجمان جارج ٹاون یونیورسٹی کے استاد قانون پروفیسر سامی الارین کے ہم زلف} اور امریکیوں کے بقول{ دہشت گرد  پروفیسر مازن النجار کے وکیل معروف قانون داں  ڈیوڈ کول تھے ۔
پروفیسر سامی الارین کو ۱۹۹۶؁ میں ایف بی آئی کی جانب سے تفتیش کا سامنا کرنا پڑا اور مایامی ہیرالڈ  کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹوں نیز اسٹون امرسن کی زیر نگرانی چلنے والے میامی ہیرالیڈ کے  ایک تحقیقاتی پراجیکٹ کے پیش نظر ایک زمانہ ہوا کہ کھلم کھلا طور پر پروفیسر سامی الارین کو  فلسطین جہاد اسلامی تحریک سے وابستہ ایک دہشت گرد کے طور پر جانا جاتا رہا ہے ۔
جب سے امرسن نے لوگوں کو پروفیسر سامی الارین کی جانب سے دہشت گردانہ کاروائیوں کے سلسلہ سے انتباہ دیا ہے تب سے بائیں بازو سے متعلق نمایاں سیاسی چہروں کی جانب سے  انہیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے چونکہ انکے اور پروفیسر سامی الارین کے درمیان ایک مشترکہ تعاون تھا اور دونوں ہی طرف ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات قائم کئے ہوئے تھے یہی وجہ ہے کہ امرسن کی جانب سے پروفیسر سامی الارین کو دہشت گردانہ کاروائیوں سے جوڑ کر پیش کر نے کی وجہ اسلام مخالف عنصر کے بہانے کے تحت اذیتیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ پروفیسر سامی الارین کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ ۲۶ ستمبر ۲۰۰۱؁ کو فاکس نیوز کے ایک پروگرام O’Reilly Factor میں وہ  شریک ہوئے اور  یہاں پر پروفیسر سامی الارین نے ویڈیو کالنگ کے ذریعہ  تحریک جہاد اسلامی کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کر دیا کہ اگر میں سی آئی اے میں ہوتا تو پروفیسر کے ہر مقام پر تعاقب میں رہتا اور ان پر نظر رکھتا ، اس پروگرام کے بعد عمومی طور پر اس طرح اعتراضات شرو ع ہوئے کہ فلوریڈا یونیورسٹی کے ذمہ داروں کو خفت کا سامنا کرنا پڑا جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ پروفیسر سامی الارین کو یونیورسٹی کی جانب سے دی جانے والی  رعایتوں کو برقرار رکھتے ہوئے انکے منصب سے معلق کر دیا۔
پروفیسر سامی الارین نے اپنی مظلومیت کی تشہیر کرتے ہوئے اپنے منصب سے معلق ہو جانے پر رد عمل کا اظہار کیا اور کہا ’’ میں اقلیت سے تعلق رکھتا ہوں اور عرب ہوں ،میں ایک فلسطینی ہوں ، میں ایک مسلمان ہوں ، یہ وہ چیز نہیں  جو آج کل لوگوں کو پسند ہو ، کیا میرے بھی کچھ حقوق ہیں یا نہیں‘‘ ؟ جب یہ بات سامنے آئی تو بائیں بازو کے امریکیوں نے پروفیسر سامی الارین کی حمایت کی اور انکے دفاع میں کود پڑے ، اور انکی طرف سے پروفیسر کو کی جانے والی حمایت کے سلسلہ میں The Nation اور Salon.com  جیسے جرائید میں مقالات کا شایع ہونا بھی تھا جن کے تحت اریک بولٹر نامی نامہ نگار نے پروفیسر سامی الارین کو بدنام کرنے کی منصوبہ بند سازش سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکے خلاف ماحول بنانے کی بات کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ کس طرح NBC، فاکس نیوز، میڈیا جنرل اور کلیر رادیو چینل  سب نے مل کر عربی وحشت و دہشت کو ہوا دیکر اپنی ہی رسوائی کا سامان فراہم کیا اور ایک پروفیسر کی زندگی کو تباہ و برباد کر دیا ،  جارجیا ٹاون میں مشرق وسطی مطالعات کے سربراہ  پروفیسر جان اسپوزیٹو نے اس بات پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہرگز پروفیسر سامی الارین کو عرب مخالف اور اسلام مخالف تعصب کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے پرفیسر آلن اسچکر نے بھی جو کہ مک کارٹی دور میں ( ایسا دور جسے امریکین کمیونسٹوں کو ایک اجتماعی  اصلاح پسندوں اور حکومت وقت کی جانب سے بے گناہ قربان ہونے والوں اور بلا وجہ ٹارچر ہونے والوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ) ممتاز علمی مہارت رکھنے والی نمایاں شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا انہوں نے بھی پروفیسر سامی الارین کو انکے منصب سے معلق کرنے دینے کو ایک سیاسی طور پر انہیں کچل کر رکھ دینے کا نام دیا تھا ۔
ACLU، قانون حقوق کا مرکز،  جنوبی فلوریڈا یونیورسٹی کا محاذ ،  یونیورسٹی کےامریکی اساتید کی انجمن ، وغیرہ یہ وہ دوسرے نام ہیں جنہوں نے پروفیسر سامی الارین کی حمایت کرتے ہوئے پروفیسر سامی الارین نامی دفاع کا ایک محاذ قائم کیا اور اس سے جڑ گئے اور اس بات کی بھی دھمکی دی کہ پروفیسر سامی الارین  کی یونیورسٹی سے ملنے والی آزادی کو محدود و سلب کرنے کی بنیاد پر ہم یونیورسٹی کے اعتبار کو چیلنج کریں گے ، اور اسی دوران دوک یونیورسٹی کی ایک فیکلٹی نے پروفیسر سامی الارین کو  شہری و مدنی آزادی کے حقوق اور قومی سلامتی  کے موضوع کے تحت ہونے والی ایک علمی نشست میں مہمان خصوصی کے طور پر تقریر کی دعوت دی ، چنانچہ پروفیسر سامی الارین  دوک یونیورسٹی کی حمایت میں شہری حقوق پر ہونے والے علمی سمینار کے ایک خاص مہمان مقرر تھے۔
پروفیسر سامی الارین کو انکی دہشت گردانہ کاروائیوں کی وجہ سے ۳۰۰۳؁ میں گرفتار کر لیا گیا اور دسمبر ۲۰۰۵؁ میں ان پر لگے ۱۷ الزامات میں سے ۸ میں بری کر دیا گیا اور عدالتی پینل نے باقی ماندہ ۹ الزامات میں بھی بے گناہ قرار دیا ، پروفیسر سامی الارین کے وکیل نے  اپنے ہی خواہوں کے درمیان اس بات کی التبہ تصدیق کی کہ پروفیسر سامی الارین فلسطین کی جہاد اسلامی تنظیم کے لئے کام کر رہے تھے جسکے بعد خبرنگاروں نے پروفیسر پر لگائے گئے الزامات اور پورے مقدمہ کے نتیجہ کو یوں پیش کیا ’’ہم ایسے شخص کی عدالتی کاروائی کے نتائج کو پیش کر رہے ہیں جس کا  فلسطین کی تنظیم جہاد اسلامی سے گہرا تعلق رہا ہے جو کہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور جس نے من مانے خود کش حملوں کے ذریعہ  اسرائیل ، غزہ اور باختری پٹی میں سو سے زیاہ لوگوں کو ہلاک کیا ہے ۔
تحقیق: ڈیویڈ هورویٹز
ترجمہ و تالیف : خیبر گروپ
حواشی :
[۱]  ۔ جنوبِ فلوریڈا یونیورسٹی  (University of South Florida) یا USF ریاستہائے متحدہ امریکا کا ایک جامعہ و ریاستہائے متحدہ کا عوامی تعلیمی ادارہ جو ٹیمپا، فلوریڈا میں واقع ہے جسکی بنیاد ۱۹۵۶ میں ڈالی گئی رک :  “UCF System Facts 2014-2015” (PDF). University of South Florida. Retrieved ۵ August2015.
[۲]  ۔ تحریک جہاد اسلامی در فلسطین (حرکة الجهاد الإسلامی فی فلسطین) ایک فلسطینی اسلام پسند تنظیم ہے جس کا قیام سنہ ۱۹۸۱ء میں ہوا، اس تنظیم کا بنیادی مطمع نظر  ریاست اسرائیل کو ختم کر کے ایک آزاد و خود مختار فلسطینی اسلامی ریاست کے قیام کی کوشش کرنا ہے
انگریزی میں اس تنظیم کا نام Isslamic Jihad Movement in Palestine اور اسے (PIJ) کے نام سے جانا جاتا ہے اور امریکہ و اسکے حلیف ممالک نے دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں اسے شامل کیا ہے ۔دہشت گرد تنظیموں کی فہرست کے لئے ملاحظہ ہو : https://2001-2009.state.gov/s/ct/rls/fs/2002/9014.htm ۔ www.state.gov.
[۳]  ۔ تحریک جہاد اسلامی  تنظیم Isslamic Jihad Movement in Palestine (PIJ) کے بانی و معمار Fathi Shaqaqi (1981–۱۹۹۵) Atkins, Stephen E. (2004). Encyclopedia of Modern Worldwide Extremists and Extremist Groups. Greenwood Publishing Group. pp. 301–۳۰۳٫ ISBN 0-3133-2485-9. Retrieved 10 March 2011.
[۴]  ۔ پیٹرائٹ قانون ریاست متحدہ ہائے امریکا کی کانگریس کا منظور کیا ہوا ایسا  قانون ہے جسے  اس وقت کے صدر جارج بش نے ۲۶ اکتوبر ۲۰۱۱ء کو منظور کیا۔ لفظ پیٹرائٹ اصل PATRIOT= Providing Appropriate Tools Required to Intercept and Obstruct Terrorism سے ماخوذ ہے ، مگر اگثر اسے حُب الوطن کے معنی میں لیا جاتا ہے اور عام لوگ  یہی سمجھتے ہیں ۔ اس قانون کا مقصد امریکی حکومت کو رعایا پر جاسوسی کرنے کے وسیع اختیارات دینا ہے، جس میں پولیس اور ریاست کو لوگوں کی نجی مواصلاتی، موبائل فون، برقی خطوط گفتگو کو سننا اور تلاش کرنا، مالیاتی اور طبی وثائق تک رسائی، مالیاتی لین دین پر اختیار اور لوگوں کو بآسانی گرفتار کرنا شامل ہیں۔ سرکار اس قانون کے دائرہ کو بہت وسیع سمجھتی ہے ۔ USA PATRIOT Act (U.S. H.R. 3162, Public Law 107-56), Title IX, Sec. 904.
USA PATRIOT Act (U.S. H.R. 3162, Public Law 107-56), Title IX, Sec. 908.
USA PATRIOT Act (U.S. H.R. 3162, Public Law 107-56), Title X, Sec. 1012.
USA PATRIOT Act (U.S. H.R. 3162, Public Law 107-56), Title X, Sec. 1001.
“History of the Patriot Act”. Electronic Privacy Information Center. Retrieved July 11, 2008. Though the Act made significant amendments to over 15 important statutes, it was introduced with great haste and passed with little debate, and without a House, Senate, or conference report. As a result, it lacks background legislative history that often retrospectively provides necessary statutory interpretation.
“EFF Analysis Of The Provisions Of The USA PATRIOT Act That Relate To Online Activities”. Electronic Frontiers Foundation. October 31, 2001. Archived from the original on October 12, 2007. Retrieved October 12, 2007. …it seems clear that the vast majority of the sections included were not carefully studied by Congress, nor was sufficient time taken to debate it or to hear testimony from experts outside of law enforcement in the fields where it makes major changes.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صہیونی ریاست اور انسانی حقوق

  • ۹۶

 خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: انسانی حقوق، حقوق کے اس مجموعے کو کہا جاتا ہے جو قوم، ملت، دین، مذہب، رنگ اور زبان وغیرہ سے بالاتر صرف انسان ہونے کے ناطے ہر انسان کو شامل ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق کی اصطلاح آج بین الاقوامی قوانین میں کثرت سے رائج ہے اور اس کی بنا پر تمام انسان برابر ہیں اور کوئی انسان دوسرے سے برتر نہیں ہے۔
انسانی حقوق اگر چہ عالمی تنظیموں کے ذریعے تدوین کئے گئے ہیں اور مغربی نظام ہمیشہ ان کے نفاذ کی بات کرتا ہے لیکن صہیونی ریاست جس کو امریکہ اور یورپ کی دائمی حمایت حاصل ہے، انسانی حقوق کی نسبت بالکل ناآشنا نظر آتی ہے۔
اس مختصر یادداشت میں انسانیت کی حمایت میں بنائے گئے عالمی اداروں کی جانب سے چند قوانین کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس کے بعد یہ دیکھتے ہیں صہیونی ریاست ان قوانین پر کتنا عمل کرتی اور انسانی حقوق کا کتنا پاس و لحاظ رکھتی آئی ہے خاص طور پر اس اعتبار سے کہ امریکہ اور یورپ جو انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کیا خود اور ان کے اتحادی بھی ان پر عمل کرتے ہیں؟
انسانی حقوق کی حقیقت
دنیا کے تمام انسان، انسان ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ کس مذہب و ملت سے تعلق رکھتے ہیں یا کس قوم و قبیلے سے ان کا تعلق ہے یا کس رنگ و زبان کے حامل ہیں۔ اس بنا پر ایک معمولی مزدور اور یونیورسٹی کے ایک پروفیسر میں انسان ہونے کے ناطے کوئی فرق نہیں ہے اور یہ دونوں انسانیت کے بنیادی حقوق کے اعتبار سے برابر ہیں۔
انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ
دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد ۱۹۴۸ میں اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کی جانب سے ‘ْ’انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ” منتشر کیا گیا جس میں ۳۰ کلی اصول کو اکثریت آراء کے ذریعے منظور کیا گیا اور یہ اعلان کیا گیا کہ کشتی انسانیت کو ظلم و استبداد کے بھنور سے نجات دلانے کے لیے تمام حکومتوں پر ان کلی حقوق کی رعایت لازمی ہے اور اس کی خلاف ورزی ممنوع اور ناقابل بخشش ہے۔
انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے بعض کلی اصول
اس اعلامیہ میں ۳۰ کلی اصول بیان کیے گیے ہیں جن میں سے ایک دو کی طرف ذیل میں اشارہ کرتے ہیں؛
اصل سوم: ہر انسان کو زندگی، آزادی اور امنیت کا حق حاصل ہے۔
اصل پنجم: کسی بھی انسان کو تشدد، اذیت ازار، غیر انسانی سلوک یا تحقیر آمیز برتاو کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
اصل دوازدہم: کسی کی خصوصی زندگی، گھریلو امور، یا اس کے رہائش سے متعلق امور میں دخالت نہیں ہونا چاہیے کسی کی عزت و آبرو کو حملہ کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ ایسی بے جا دخالت اور حملوں کے مقابلے میں قانونی کاروائی ہر انسان کا حق ہے۔
تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کی کنونشن
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۹۸۴ میں تمام ممالک منجملہ اسرائیل کی اتفاق آراء سے “تشدد کے خلاف کنونشن” منظور کی جس میں یہ طے پایا کہ ہر ملک پر لازمی ہے کہ اپنے دائرہ اختیار کے مطابق تشدد کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرے اور کسی بھی حکومتی عہدیدار یا افیسر کو تشدد آمیز کاروائیوں سے تمسک کا اختیار نہیں ہے۔
اسرائیل کے ذریعے انسانی حقوق کی پامالی
دنیا میں انتہا پسندی، بربریت اور ظلم و تشدد روا رکھنے والی حکومتوں میں صہیونی حکومت سرفہرست ہے جو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ اور دیگر تمام کنونشنوں کی مخالفت کرتے ہوئے صرف اپنے ذاتی مفاد اور وسعت طلبی کی خاطر فلسطینی عوام حتیٰ خود مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے سیاہ پوست یہودی اقوام کو بھی اکثر تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔
اسرائیل کے ذریعے انجام پانے والی کھلے عام ریاستی دھشتگردی کے چند نمونے
۔ حانین کا قتل عام؛ حانین لبنان کا ایک گاوں ہے۔ اسرائیلیوں نے سن ۱۹۶۷ میں تین مہینے تک اس گاوں کا محاصرہ کر کے اس کے مکینوں کا دردناک طریقے سے قتل عام کیا۔ اور تمام گھروں کو نذر آتش کر دیا۔
۔ اوزاعی کا قتل عام؛ یہ علاقہ لبنان کے دار الحکومت بیروت کے قریب واقع ہے ۱۹۷۸ میں اسرائیل نے اس علاقے پر بمباری کر کے اس علاقے کو زیر و زبر کر دیا۔
۔ خان یونس کا قتل عام؛ یہ علاقہ غزہ کی پٹی میں واقع ہے اور اس علاقے پر دو مرتبہ اسرائیل نے حملہ کیا اور ۷۰۰ سے زیادہ عام لوگوں کا قتل عام کیا۔
۔ صبرا و شتیلا کا قتل عام؛ لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کی ’صبرا‘ اور ’شتیلا‘ کے نام سے دو معروف پناہ گاہیں تھیں جن پر ۱۹۸۲ میں صہیونی ریاست نے حملہ کیا اور تاریخ کی سب سے بڑی جنایت رقم کر دی۔ صہیونیوں نے ان پناہگاہوں کا محاصرہ کیا اور ۴۰ گھنٹوں کے درمیان پناہ گاہوں میں موجود سینکڑوں افراد جن میں عورتیں بچے بوڑھے جوان سب شامل تھے کے خون کی ندیاں بہا دیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ صبرا و شتیلا کے قتل عام میں عورتوں اور لڑکیوں کے قتل سے پہلے اسرائیلی فوجیوں نے انتہائی درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی عصمتیں لوٹیں، بچوں کو زندہ زندہ جلایا اور ذبح کیا۔ اور حاملہ عورتوں کے شکم پارہ کر کے ان کے بچوں کو نکال کر زندہ زندہ آگ میں ڈال دیا۔
غزہ کی ۵۱ روزہ جنگ انسانی حقوق کی پامالی کا کھلا نمونہ
اگر صہیونی ریاست کے تمام جرائم کو نظر انداز کر دیا جائے تو غزہ کی ۵۱ روزہ جنگ ہی اسرائیل کو عالمی سطح پر مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ سن ۲۰۱۴ میں تین اسرائیلی مغربی کنارے گم ہو جاتے ہیں اور صہیونی ریاست اسی بہانے کے تحت ۵۱ دن تک غزہ پر وحشیانہ بمباری کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے اس جارحیت میں ۶ ہزار فضائی حملے کئے جس کے نتیجے میں ۲۲۵۱ عام فلسطینی شہید ہوئے جن میں ۳۰۰ عورتیں اور ۵۵۰ بچے شامل تھے۔ اقوام متحدہ نے زخمیوں کی تعداد ۱۱۲۳۱ بیان کی۔
اقوام متحدہ نے اس جنگ کو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا لیکن اسرائیل پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا اس لیے کہ امریکہ اور مغربی ممالک جو زبانی طور پر انسانی حقوق کے علمبردار ہیں نے اسرائیل کو اس جارحیت سے نہیں روکا بالکل اس کا ساتھ دیا۔
یہ تو کھلی جارحیت کے چند نمونے تھے جو اسرائیل نے پوری دنیا کے سامنے دن دھاڑے انجام دئے اور انسانی حقوق کی مدافع عالمی تنظیموں سمیت سب تماشائی بنے رہے۔ اس کے علاوہ وہ کون سا دن ہے جس دن غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں کوئی فلسطینی شہید یا زخمی نہ ہو، سالھا سال سے غزہ کا محاصرہ، پرامن واپسی مارچ پر بہیمانہ انداز سے فائرنگ، اسرائیلی زندانوں میں قیدی فلسطینی زن و مرد کے ساتھ ناروا سلوک وغیرہ وغیرہ سب صہیونی ریاست کی جانب سے انسانی حقوق کو پاوں تلے روندے جانے کی مثالیں ہیں۔

 

ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف بنتا ماحول اور ہماری ذمہ داری

  • ۱۹

بقلم سید نجیب الحسن زیدی
ہمارا ملک ایک متلاطم دور سے گزر رہا ہے ، ایسے دور سے جہاں چیخوں کے دوران حق بات کو دبانے کی کوشش کرنے والے کچھ بہروپیے شور شرابہ کے ذریعہ ہنگامہ آرائی کےذریعہ یہ چاہتے ہیں ایک ترقی پذیر ملک کو ایک پچھڑے ملک میں بدل دیں  ،لیکن یاد رکھیں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ شور شرابہ ہنگامہ آرائی کچھ دیر ہی رہ سکتی ہے ہمیشہ نہیں دوسری بات حق کی اندر اتنی طاقت ہے کہ وہ سر ضرور اٹھاتا ہے ، اسے دبایا نہیں جا سکتا اسے کچلا نہیں جا سکتا ،ہمارے سامنے  ہاتھرس کا دل دہلانے والا واقعہ اور اس پر ناعاقبت اندیشوں کی سیاست بھی ہے اور ہمارے سامنے بابری مسجد کی کیس کی شنوائی کے بعد آنے والا فیصلہ بھی، ہاتھرس کے واقعہ کے سلسلہ سے زیادہ کچھ  کہنے کی ضرورت  نہیں جو بھی ہے سب کے سامنے ہے ہمیں ایسے میں یہ دیکھنا ہے کہ ہمارا دین اس قسم کے حوادث کے پیش نظر ہم پر کیا ذمہ داری عائد کرتا ہے ہمیں ان حالات میں  یہ جاننا ضروری ہے کہ  ہمارے دین کا مطالبہ ہم سے کیا ہے ؟
 جب ہم اپنے دین کی تعلیمات کو دیکھتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ دین واضح الفاظ میں یہی کہتا ہے کہ  کہیں ظلم ہو تو خبردار تم ایسی جگہ نظر نہ آنا جہاں ظالموں کا مسکن ہو ، ہمیشہ مظلوموں کی حمایت میں کھڑے نظر آنا اور انشاء اللہ ہم ہرگز اپنے دین کی تعلیمات کو فراموش نہیں کریں گے ، ان مظلوموں کے ساتھ ہر جگہ کھڑے رہیں گے جو اپنے حق کے لئے لڑ رہے ہیں چاہے وہ جہاں بھی ہوں ، اب جہاں تک بات مسلسل ہمارے خلاف بنتی ہوئی فضا کی بات ہے ، اور خاص کر بابری مسجد کے کیس کا مسئلہ تو یہ بھی سب پر واضح ہے کہ فیصلہ کے پیچھے یقینا ایک فیصلہ رہا ہوگا تبھی اس انداز میں عدالت نے اپنا موقف پیش کیا  ہے یہاں پر یہ بات توجہ کے لائق ہے کہ ہمیں اپنی جوان نسل کو نئی پیڑی کو جگائے رکھنا ہوگا اسے بتانا ہوگا کہ ہم نے اس ملک کے لئے کیا قربانیاں دی ہیں ، گاندھی جی کے اصول کیا تھے اور یہ ملک کہاں جا رہا ہے  اور اسکے لئے ضروری ہے کہ ہم خود ایک پختہ سیاسی تجزیہ کے حامل ہوں ، صرف نیوز چینلوں کی خبروں میں گم نہ ہو جائیں خود سمجھیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے.
کتنی عجیب بات ہے کہ بعض اپنے ہی یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ چلو ایک عرصہ کا جھگڑا ختم ہوا فیصلہ تو آیا، یہ لوگ ہر بات میں ملک کی بہتری کی بات کرتے ہیں کہ لڑنے جھگڑنے سے کیا فائدہ؟ ہم بھی اس بات کے قائل ہیں کہ لڑائی جھگڑے سے کیا فائدہ لیکن لڑائی جھگڑا الگ بات ہے حق کو حق کہنا ایک الگ معاملہ ہے ۔
بابری مسجد کے کیس کے حالیہ فیصلہ کو لیکر جو سوال ذہنوں میں آ رہے ہیں اسکا تعلق کسی مذہب یا خاص ذات سے نہیں ہے بلکہ ہر بیدار انسان سوال کر رہا ہے ۔
کتنی عجیب بات ہے کہ ایک مسجد کو گرانے کے سلسلہ سے عدالت کو کوئی ثبوت بھی نہیں ملتا جب کہ واضح ہے کہ مسجد کو توڑا گیا وہ اپنے آپ نہیں گری ، ایک طرف  لبراہن کمیشن کی رپورٹ ہے جو کہہ رہی ہے سب کچھ منصوبہ بند طریقے سے ہوا دوسری طرف  اس رپورٹ  کو یکسر مسترد کرتے ہوئے عدالت کا فیصلہ ہے ، کتنا عجیب ہے جہاں یہ نعرے لگ رہے ہو ں ایک دھکہ اور دو بابری مسجد توڑ دو اور نعرے لگانے والوں کی تصاویر انکی ویڈیو موجود ہوں اسکے باوجود عدالت کا فیصلہ انہیں کے حق میں آئے جو نعرے لگا رہے تھے تو ایسے میں سمجھ لینا چاہیے کہ معاملہ کیا ہے   اور ہمارا ملک اب کس ڈھرے پر چل پڑا ہے ، ایسے میں ہمیں بیدار ہونے کی ضرورت ہے جاگنے کی ضرورت ہے اس بات کے احساس کی ضرور ت ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور آگے کی ہو سکتا ہے ، ہمیں بیدار رہتے ہوئے اپنے اطراف و اکناف کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے بزرگوں نے جس ملک کے لئے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں کچھ لوگ اگر وہاں انصاف کا خون کرکے اپنی جیت کا پرچم لہرا رہے ہیں تو یہ محض ہماری ہار یا انکی جیت کا معاملہ نہیں ہے یہ ایک ملک کی بقا اور اسکی سالمیت کا معاملہ  ہے لہذا ہمیں بغیر مشتعل ہوئے بغیر آپے سے باہر ہوئے اپنا ایک تجزیہ کرنا ہوگا کہ آج ہم اس مقام پر کیسے پہنچے کے کچھ لوگ ہمارے ہی ملک میں ہمارے خلاف فضا بنا کر جس طرف چاہیں ملک کو لے کر چل دیں ، یہ اس لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن کو مانتے ہیں ہم اہلبیت اطہار علیھم السلام کی تعلیمات پر یقین رکھتے ہیں  اگر ہم اپنے وطن و ملک کی تعمیر و ترقی کی فکر نہ کریں گے تو کون کرے گا ؟

 

جوش میں ہوش کی ضرورت

  • ۱۲

بقلم سید نجیب الحسن زیدی

الحمد للہ اس بار بھی سید الشہدا علیہ السلام کا چہلم دنیا کے مختلف گوشوں میں کرونا کی وبا کے باوجود بہت ہی تزک و احتشام سے منایا گیا، شیعان اہلبیت اطہار علیھم السلام نے حفظان صحت کے اصولوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنے اظہار عشق میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اتنی خطرناک وبا کے باوجود عراق میں ڈیڑھ کروڑ کے مجمع کا اکٹھا ہو جانا معمولی بات نہیں ہے،  عراق کا ذکر تو اپنی جگہ اس بار چہلم کے موقع پر پاکستان میں جو کچھ ہوا  وہ لائق تحسین ہے ،دوست داران اہلبیت اطہار علیھم السلام نے بلا تفریق مذہب و ملت  سعودی و یہودی  گماشتوں  کی جانب سے فرقہ واریت  کی لگائی آگ پر اپنے حلم و صبر سے اور بروقت اپنے موقف کے اظہار کے ذریعہ یوں پانی ڈال دیا کہ  ان کے سارے منصوبے خاک ہو گئے ، یہاں پر ایک بات قابل غور ہے اور وہ یہ ہے کہ سامراج کا مزاج ہے جب وہ ایک جگہ ناکام ہوتا ہے تو اسی سے ملتی جلتی دوسری جگہ پر  اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے لہذا ہمیں  بچے ہوئے ان ایام میں  جن میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات حسر ت آیات کے ساتھ سبط اکرامام مجتبی علیہ السلام کی شہادت  کے ایام بھِ ہیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ ایسا کچھ نہ ہو کہ پاکستان  میں ناکام ہونے کے بعد سامراج کہیں ہمارے یہاں  انتشار پھیلانے کی کوشش نہ کرے وہ آگ جو وہاں شعلے نہ پکڑ سکی کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ یہاں  پہنچ جائِے یقینا یزید لائق لعنت ہے تھا اور رہے گا  حسینت کے مقابل ہمیشہ یزیدیت کو شکست ہوتی رہی اور آگے بھی ہوگی ، ایسے میں ہمیں اس بات پر توجہ رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا موقف اور نظریہ تو واضح ہے نہ ہم یزیدیت  کے سامنے خاموش بیٹھ سکتے ہیں نہ یزید کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے والوں کے لئے ہمارے دل میں کوئی جگہ ہے اور نہ ہی ہم بد سے بدتر حالات میں ولایت حید ر کرار ع کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کر سکتے ہیں ، لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہمیں فتنے کو سمجھتے ہوئے ان لوگوں کو سمجھنا ہے جنکی تعداد بہت کم ہے اور وہ خود برادران اہلسنت کے درمیان منفور ہیں انکی کوئی جگہ نہیں لیکن ان کی کوشش یہ ہے کہ یہ باور کرایا جائے کہ یزید کو امیر ماننے والے کم نہیں ہیں  یزید کی غلطیوں کو مسترد کر کے اسے مجرم ماننے والے کم نہیں ہیں ۔ہمیں متوجہ رہنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی طرح ایسا عمل نہ ہو کہ جس سے ان برادران اہلسنت کی دل آزاری ہو جو ہم سے زیادہ بڑھ چڑھ کر یزید کی حمایت کرنے والوں کے خلاف میدان میں ہیں اور ہم سے زیادہ کھل کر وہ حسینت کا دفاع کر رہے ہیں یہ سب ہمارے بھائی ہیں ، تھوڑا سا نظریاتی فرق ضرور ہے لیکن اگر ہم نے تھوڑا صبر و تحمل سے کام لیا تو یہ بھی ختم ہو جائے اس لئے کہ جو در حسین ع تک آ گیا اسے ظہیرقین  و حر بنتے دیر نہیں لگتی ،اور اس بات پر بھی توجہ رہے کہ یہ جو کچھ پڑوس میں ہو رہا ہے کہ مذہبی معاملہ نہیں ہے  یہ ایک سیاسی معاملہ ہے ، جو کچھ عربوں نے کیا ہے اور فلسطین کی پیٹھ میں جو خنجر مارا گیا ہے عین ممکن ہے  اسکی طرف سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ سب کھیل ہو رہا ہو ، لیکن ذلت کا یہ داغ ایسا داغ ہے جو یہ عرب ممالک اتنی آسانی سے نہیں مٹا سکیں گے اس لئے کہ اب ساری دنیا کے مسلمان بیدار ہو رہے ہیں اور حالات کا تجزیہ کر رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے ۔

 

 

 

یہ ہمارے اپنے نہیں ہیں …

  • ۱۳

بقلم سید نجیب الحسن زیدی
آج کل سوشل میڈیا پر کچھ ہفتوں پہلے حکمراں جماعت کے ایک بڑے لیڈر کی گئی تقریر پر مشتمل ایک ایسی کلپ زورو شور سے گردش کر رہی ہے جس میں انہوں نے ہندوستان کے شیعوں کو لیکر کچھ ہمدردانہ باتیں کی ہیں ، بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ وہ اور انکی جماعت شیعوں کو لیکر فکر مند ہے لیکن اسکے پیچھے کیا ہے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے  خاص کر ایسے وقت میں جب انہیں بڑے لیڈر کی جانب سے ایک بار اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف  پیدا کرنے کی بات ببانگ دہل کی جا چکی ہے ، ایسے میں اب شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ اگر مسلمانوں کے کسی ایک طبقے کی خاص حمایت کی بات ہو رہی ہے تو وہ ہماری ہمدردی کی وجہ سے نہیں، اس طرح کے بیانات جب بھی سامنے آئیں ہمیں خوش ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ سوچنے کی ضرورت ہے اس کے پیچھے کیا منصوبہ بندی ہے  چنانچہ ملک میں کس طرح ہمیں بانٹے کی کوشش کی جا رہی ہے اس بات پر توجہ بہت اہم ہے ، بعض بڑے لیڈروں کے ہمارے سلسلہ سے دئیے جانے والے بیانات  اس بات کا اظہار ہیں کہ ان کو ہم سے ہمدردری قطعا نہیں ہے وہ ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ کر اپنی سیاست کرنا چاہ رہے ہیں  ورنہ وہ تو خوب جانتے ہیں کہ اسلام کی کہیں حقیقی تصویر ہمیں ملے گی تو در اہلبیت اطہار علیھم السلام سے ملنے والے اسلام میں ملے گی ، لہذا یہ ہرگز خوش فہمی کا شکار نہ ہوں کہ فلاں نے ہمارے بارےمیں یہ کہہ دیا اور وہ ہمارے تحفظ کی بات کر رہا ہے یا حکومت  کی ہم پر خاص عنایت ہے ، اسے شدت پسندوں سے خطرہ ہے ہم سے نہیں ہے ہمیں وہ اپنا سمجھتی ہے ، اگر کوئی ایسا سوچ رہا ہے تو یہ اسکی خام خیالی ہے ۔ ہمیں ملک کے آئین کا اسکے بنیادی دستور کا مکمل پاس و لحاظ رکھتے ہوئے اسی راستے پر چلنا ہے جو گاندھی جی نے بتایا تھا جس میں شدت پسندی اور نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے ،اور اسکے لئے ضروری ہے کہ ہم ان عناصر کو پہچانیں جو نفرتوں کو پھیلا کر  اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں ۔

 

سعودی وہابی رژیم کا خاتمہ اہل یمن کے ہاتھوں یقینی ہے/ وہابیت اور صہیونیت کے درمیان شباہتیں

  • ۱۳

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر: بہت سارے دھشتگرد گروہ جو انسانی معاشروں میں خوف و دھشت پھیلا رہے ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں خونی واقعات کا ارتکاب کر رہے ہیں ان کی آئیڈیالوجی کا ڈھانچہ وہابی تفکر پر استوار ہے۔ یہ وہ گروہ ہیں جن کی نابودی پوری دنیا کا چیلنج بن چکی ہے اور ان کی سربراہی آل سعود کے پاس ہے اسی وجہ سے آج حتیٰ آل سعود کے اتحادی بھی سعودی عرب کا دفاع کرنے سے کتراتے ہیں جبکہ سعودی عرب نے ان پر کروڑوں ریال خرچ کئے ہیں تاکہ وہ اس کی کارستانیوں کے گن گاتے رہیں۔
سعودی عرب جہاں ایک طرف خفیہ طور پر دھشتگرد گروہوں منجملہ داعش، القاعدہ اور طالبان جیسوں کی حمایت کر رہا ہے وہاں دوسری طرف کھلے عام یمن میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا رہا ہے۔ اسی بنا پر ہمارے نمائندے نے یمن کے ممتاز عالم دین، انجمن علمائے یمن کے نائب سربراہ، تحریک انصار اللہ کے رہنما عبد الملک بدر الدین الحوثی کے چچازاد بھائی “علامہ عبد المجید عبد الرحمن الحوثی” کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کی ہے جس کا ترجمہ قارئین کے لیے پیش کیا جاتا ہے؛
خیبر: یہودیوں کا دنیا میں اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک اہم طریقہ کار نئے فرقوں کی ایجاد ہے انہیں فرقوں میں سے ایک وہابیت ہے جس کی سربراہی سعودی عرب کے ہاتھ میں ہے۔ آپ یہودیوں اور وہابیوں کے درمیان تعلقات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟
۔ عالمی سامراجیت کا مشرق وسطیٰ پر جب عسکری قبضہ ختم ہو گیا تو اس نے علاقے میں اپنا نفوذ باقی رکھنے کے لیے دو کٹھ پتلی حکومتیں قائم کیں اور ان کے ذریعے مشرق وسطیٰ مخصوصا دنیائے عرب اور عالم اسلام پر اپنا تسلط باقی رکھا۔ یہ دو کٹھ پتلی حکومتیں؛ ایک صہیونی ریاست ہے جس نے مسجد الاقصیٰ اور فلسطین پر ناجائز قبضہ کیا اور ملت فلسطین کو آوارہ وطن کیا اور دوسری حکومت سعودی وہابی حکومت ہے کہ جسے مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات یعنی حرمین شریفین پر مسلط کیا۔ ان دونوں ریاستوں نے گزشتہ صدی میں امریکہ اور برطانیہ کی سربراہی میں عالمی سامراجی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے اور اسلام و مسلمین کو کمزور بنانے میں کوئی لمحہ فروگذاشت نہیں کیا۔
اس کے علاوہ دشمنان اسلام کے تمام منصوبوں کو مختلف طریقوں سے علاقے میں عملی جامہ پہنایا، ایک جانب صہیونی ریاست عربی اسلامی ممالک پر اپنا ناجائز تسلط قائم کر رہی تھی تو دوسری طرف وہابی حکومت اسلام کا چہرہ بگاڑ کر مسلمانوں میں تفرقہ اندازی کا بیج بو رہی تھی۔ علاوہ از ایں، سعودی ریاست نے تکفیری وہابی افکار کا عالم اسلام کے اندر ایسا زہر گولا کہ القاعدہ، داعش اور جبہۃ النصرہ جیسے تکفیری ٹولے اس کے نتیجے میں وجود میں آئے اور دنیا میں اسلام و مسلمین کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا۔ سعودیوں کے ان اقدامات نے جتنا اسلام کو نقصان پہنچایا ہے اتنا کسی دور میں کسی ظالم حاکم نے نہیں پہنچایا اور شاید اس کے منفی اثرات صہیونی ریاست کے ظلم و ستم کی بنسبت کہیں زیادہ ہوں گے۔
خیبر: اہل سنت کے بعض گروہ شیعوں کو یہودیوں سے نسبت دیتے ہیں اور ان دونوں کو ہمفکر سمجھتے ہیں، آپ کا ان ناروا تہمتوں کے مقابلے میں کیا جواب ہے؟
۔ یہ تہمتیں تازہ اور نئی نہیں ہیں بلکہ شیعہ مخالف ناصبیوں کی جانب سے گزشتہ دور میں بھی یہ تہمتیں شیعوں پر لگائی گئیں اور عبد اللہ بن سبا کا افسانہ بنا کر پیش کیا گیا اور کوشش کی گئی کہ اس افسانے کو شیعوں اور پیغمبر و اہل بیت پیغمبر (ع) کے چاہنے والوں کی طرف منسوب کریں، لیکن یہ سب دعوے جھوٹے ہیں اور ضعیف النفس اور بیمار دل افراد کے علاوہ ان باتوں پر کوئی یقین نہیں کرتا۔ دنیا کا ہر عاقل انسان یہ جانتا ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب، یمن، حزب اللہ اور فلسطین کی تحریک مزاحمت صرف یہودیوں اور صہیونیوں کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے ہی عالمی استکبار کی سازشوں کا شکار ہے۔
وہ جنگ جو ۸ سال اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کی گئی اور اب ۴ سال سے یمن پر مسلط کی گئی ہے یہ علاقے میں یہودی صہیونی منصوبوں کی مخالفت کا نتیجہ ہے اور امریکہ کی عربی اسلامی ممالک پر مسلط کی جانے والی استعماری سیاست کو قبول نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ اگر آج تحریک مزاحمت غاصب صہیونی ریاست کو تسلیم کر کے خلیجی عرب ریاستوں کی طرح اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دے تو یقین مانیے ہمارے خلاف کوئی جنگ نہیں رہے گی سب محاصرے ختم ہو جائیں گے اور ہماری قوم پر نہ عسکری حملہ ہو گا نہ اقتصادی اور ثقافتی حملہ۔
ہم تو یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی کی اپنے اہل سنت بھائیوں کی طرف بھی نسبت نہیں دیتے جبکہ آج اہل سنت کے اکثر حکمران اسرائیل کے ساتھ دوست ہیں لیکن وہ الٹا ہم پر یہودیوں سے دوستی کی تہمت لگاتے ہیں اگر آنکھیں کھول کر دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ کون یہودیوں اور عیسائیوں کی آغوش میں بیٹھا ہے اور عالمی سامراجیت اور استکباریت کے ساتھ ہم نوالہ و ہم پیالہ ہے۔ اور کون میدان کارزار میں یہودیت اور صہیونیت کے مقابلے میں سینہ سپر ہے۔
خیبر: صہیونی ریاست اور عرب کٹھ پتلیوں مخصوصا سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی جو لہر چلی ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا تجزیہ ہے؟
صہیونی ریاست اور سعودی حکومت کے درمیان تعلقات کی جڑیں در حقیقت صہیونیت کے ساتھ وہابیت کے تعلقات کی جڑوں میں پیوستہ ہیں اور ان دو حکومتوں کی تشکیل کے ابتدائی دور سے ہی یہ تعلقات موجود تھے اگر چہ ایک زمانے تک خفیہ اور پشت پردہ تھے لیکن اب دھیرے دھیرے سامنے آ رہے ہیں۔
ان دو ریاستوں کے درمیان روابط کو معمول پر لانے یا دوسرے لفظوں میں آشکارا بنانے میں سب سے زیادہ کردار واشنگٹن کا ہے۔
روابط کو خفیہ رکھنا یا آشکار بنانا یہ ان اپنے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ یہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی ممالک کے اشاروں پر انجام پاتا ہے اور مستقبل قریب میں صہیونیت اور وہابیت کے درمیان مزید گہرے روابط کھل کر سامنے آئیں گے۔
یہ ایسے حال میں ہے کہ خداوند عالم نے قرآن میں یہود و نصارایٰ سے دوستی کو سختی سے منع فرمایا ہے:
«یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ لاَتَتَّخِذُواْ الْیَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِیَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ وَمَن یَتَوَلَّهُم مِّنکُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ»
(ایمان والو یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست اور سرپرست نہ بناو کہ یہ خود آپس میں ایکدوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی انہیں دوست بنائےگا تو انہیں میں شمار ہو جائے گا بیشک اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے)
خیبر: کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ وہابی اور یہودی فکر کے درمیان کون کون سے شباہتیں پائی جاتی ہیں اور یہ فکری شباہتیں علاقے کے حالات پر کتنا اثر انداز ہو سکتی ہیں؟
پہلی شباہت یہ ہے کہ اس فکر کی حامل دونوں ریاستیں استعماری طاقتوں کے ذریعے اسلام کے ساتھ مقابلہ کرنے کی غرض سے وجود میں لائی گئیں۔
دوسری یہ کہ یہ دونوں عالم اسلام اور دنیائے عرب میں عالمی استکبار کی پالیسیوں کے نفاذ کا اصلی مہرہ ہیں۔
تیسری یہ کہ دونوں انتہا پسند دینی نسل پرستی کی آئیڈیالوجی کی بنا پر تشکیل پائی ہیں جس کا مقصد دھشتگردی پھیلانا اور علاقے میں ہمیشہ جنگ و جدال کی کیفیت جاری رکھنا ہے۔
چوتھی شباہت یہ ہےکہ یہ دونوں حکومتیں دنیائے عرب پر اپنا قبضہ جمانے اور پھر پوری دنیا میں اپنا نفوذ پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
علاقے میں ان دونوں کے اثرات کے حوالے سے گزارش کروں کہ گزشتہ دور میں عربی و اسلامی قومیں ان دونوں ریاستوں کے خطرات سے آگاہ نہیں تھیں تو اس بنا پر خصوصا وہابی تفکر علاقے میں کافی اثرانداز ہوا لیکن مجھے یقین ہے کہ دھیرے دھیرے قومیں بیدار ہو رہی ہیں حقائق کھل کر سامنے آ رہے ہیں اور قبلہ اول، مسئلہ فلسطین اور اب صدی کی ڈیل جیسے مسائل میں ان دونوں ریاستوں کے باہمی تعلقات سے علاقے کے عوام باخبر ہو رہے ہیں لہذا اسلامی اور عربی دنیا میں ان کا نفوذ دھیرے دھیرے ختم ہوتا جا رہا ہے اور یہ نکتہ آغاز ہے ان دو خبیث ریاستوں کی نابودی اور خاتمے کا۔
تفکیری وہابی رژیم کی نابودی انشاء اللہ یمن سے شروع ہو چکی ہے اور یمن کے عوام وہ لوگ ہیں جو خداوند متعال کی نصرت سے اسلام اور مسلمین کو سعودی اور اسرائیلی ظلم و ستم سے نجات دلا کر دم لے گی۔
یہ میرے سچے نبی کا فرمان ہے کہ آپ نے فرمایا: (انی لأجد نفس الرحمن من قبل الیمن) میں یمن کی جانب سے نفس رحمان کا احساس کر رہا ہوں۔ (إذا هاجت الفتن فعلیکم بالیمن) اگر فتنے تمہیں گھیر لیں تو یمن کی طرف رخ کرنا۔ لہذا اہل یمن علاقے سے شیاطین کے ٹھکانوں کو نابود کر کے سانس لیں گے اور انشاء اللہ بہت جلد وہابی اور یہودی تفکر کی حامل ریاستوں کا علاقے سے خاتمہ ہو جائے گا۔

 

کرونا کی وبا اور مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ

  • ۹

بقلم سید نجیب الحسن زیدی
ہمارے سامنے ایک طرف کرونا کی خطرناک وبا ہے دوسری طرف تیزی سے بدلتے ہوئے ملک کے حالات ہیں ایسے میں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جہاں ہم اس بیماری کا مقابلہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بیدار رہیں جاگتے رہیں ایک طرف جہاں ہمارے دین کا ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم خود کو اس وبا سے بچائیں وہیں یہ بھی ضروری ہے دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں چنانچہ جتنا  ضروری یہ ہے کہ ہم اس بیماری سے مل جل کر مقابلہ کریں وہیں اس بات پر توجہ بھی ضروری ہے کہ اس بیماری سے لڑتے ہوئے اپنے دینی اور قومی فرائض سے غافل نہ ہوں اس لئے کہ ہمارا دشمن جہاں ہر طرح کے حربے اپنا کر ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے وہیں وہ حقیقی اسلام کی بیخ کنی کا کوئی موقع بھی وہ ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا، یہی وجہ ہے کہ اس بیماری و خطرناک وبا میں بھی وہ اپنے مکروہ عزائم کو جامہ پہنانے میں کسی بھی طرح کی کوتاہی نہیں کر رہا ہے بلکہ اسے ایک فرصت اور بہترین موقع سمجھتے ہوئے اسکی کوشش ہے کہ جب ہر ایک اپنے میں لگا ہے ایسے میں جتنا ہو سکے اس بیماری سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ اپنے ناپاک عزائم کو پورا کیا جا سکے ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے مختلف دشمن الگ الگ انداز سے ہمارے خلاف منصوبہ بندی کرتے نظر آ رہے ہیں، ملکی سطح پر  پورے مسلمانوں کے خلاف جو فضا بنی ہے وہ آپکے پیش نظر ہے، کس طرح کرونا کی اس وبا کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے  تبلیغی جماعت کا معاملہ اور میڈیا کی اشتعال انگیزی آپ کے پیش نظر ہے، ایک اور مشکل جو ہمارے سامنے ہے وہ مختلف جگہوں پر مختلف بہانوں سے مسلمانوں کو ہراساں کرنا اور انہیں اس بیماری کا ذمہ دار قرار دینا یہ وہ بات ہے جو وقتا فوقتا ہمارے کانوں میں پڑتی رہتی ہے ایسے میں ضروری ہے کہ بہت سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کریں ایسا نہ ہو کہ محض اس بنیاد پر کہ جس کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ ہو رہا ہے چونکہ وہ ہمارے مذہب و مسلک کا نہیں ہے ہم بھی جھوٹے پروپیگنڈہ کا حصہ بن جائے جیسا کہ سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملا ہے کہ بعض اپنے ہی لوگوں نے  ان مسلمانوں کو نشانہ بنایا جنکا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا بغیر یہ جانے ہوئے کہ جو باتیں میڈیا کی جانب سے پیش کی گئیں انکا بیشتر حصہ وہ تھا جو جھوٹ و فریب پر مبتنی تھا اور یہ سلسلہ مختلف انداز سے اب بھِی جاری ہے۔ اسکے علاوہ آپ دیکھیں کہ جہاں کرونا کی اس وبا میں سب سے زیادہ حکومت کی توجہ اس کرونا سے لڑائی اور مقابلہ پر ہونی چاہیے تو ہمارے سامنے ہے کہ پورے ملک میں کیا صورت حال ہے، کہیں فلمی کرداروں کو زیر بحث لا کر لایعنی باتوں میں لوگوں کو الجھایا جا رہا ہے تو کہیں مختلف کیسز میں مسلمانوں کو پھنسایا جا رہا ہے، دہلی فسادات کے سلسلہ سے بالکل واضح ہے کہ پولیس کس انداز سے اور کس کے اشارے پر کام کر رہی ہے  ایسے میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس بیماری کے ساتھ ساتھ بیدار رہتے ہوئے نظر رکھیں کہ ہمارے ساتھ ہمارے ہی اپنے ملک میں کیا کچھ ہو رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ مسائل کا صحیح تجزیہ کرنے کی صلاحیت پیدا کریں اور حالات کی ڈگر کو پہچانیں کہ اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے ہمیں بہت ہی سوچ سمجھ کے قدم آگے بڑھانا ہوگا ۔

 

کیا آپ UJA فیڈریشن کے بارے میں کچھ جانتے ہیں؟

  • ۲۷

ترجمہ سید نجیب الحسن زیدی

خیبر صہیون تحقیقاتی سینٹر:  (UJA) ایک ایسی تنظیم [۱] ہے  جو ۱۹۳۹ ؁ میں نیویارک میں تشکیل پائی اس تنظیم کی تشکیل  کے عرصے سے لیکر  اسکے ۱۹۹۹ ؁  میں یہودیوں کی متحدہ انجمن [۲]نامی ایسی تنظیم میں ضم ہو جانے تک کہ جسکا بنیادی مقصد یہودیوں کے لئے مالی امداد کی فراہمی ہے،  ہم نے ایک مختصر جائزہ لیا ہے ۔
یاد رہے کہ یہ وہ تنظیم ہے جو ایک خیراتی ادارہ کے طور پر  یہودیوں اور صہیونیوں کے لئے  نقدی اعانتوں کے جمع کرنے کے سلسلہ میں متحرک ہے ، (UJA) دنیا میں  یہودیوں، اسرائیل اور صہیونیوں کے لئے چندہ بٹورنے والے ان بڑے مراکز میں سے ایک ہے کہ جس نے دنیا بھر کے یہودیوں کو اپنی چھتر چھایا میں لیا ہوا ہے ۔
اس تنظیم کے  مشترکانہ تقسیم کی کمیٹی  نامی مرکز کے ساتھ گھل مل جانے  اور اسی میں ضم ہو جانے  کے بعد جس کے ضمیمہ کے معاہدہ پر  ۱۹۴۹؁ میں دستخط ہوئے  تھے ، اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ  ان دو خیراتی اداروں کے مالی ذخائر و منابع مجموعی اعتبار سے دو تہائی یہودی ایجنسی ٹی ڈی سی اور مقامی انجمنوں کے درمیان تقسیم ہو جائے گا ۔
۱۹۸۰؁ میں یہ تنظیم سوویت یونین کی یہودی تحریک[۳]  کے کمپین میں شریک رہی ہے اور سوویت یونین کی جانب سے یہودیوں کی مقبوضہ فلسطین کی جانب  ہجرت کو آسان بنانے میں انکی مدد کرتی رہی ہے [۴]، علاوہ از ایں (UJA)   ۱۹۹۹ ؁ میں  (UIA)[5]  مدغم ہو جاتی ہے  جو کہ کینڈا میں (CJF)  کے طور پر  فعالیت کرتی رہی ہے ۔  (CJF)میں شمولیت  اس بات کا سبب بنتی ہے کہ’’  یہودیوں کی متحدہ انجمن ‘‘(UJC)کے  طور پر  ایک نئی تنظیم سامنے آئے، اور یہ نئی وجود میں آنے والی تنظیم یہودیوں کی امداد رسانی کے سلسلہ سے سرمایہ کے حصول کے پہلے سے بنے ہوئے ڈھانچے اور انفرانسٹریکچر کو اپنے سامنے آمادہ پاتی ہے  جو لوگوں کی جانب سے مالی اعانت کی راہوں کو آسان بنانے کا سبب بنا اور جسکے چلتے اس تنظیم کو نئے سرے سے مالی امداد رسانی کے ڈھانچے کو بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ پہلے سے بنے ہوئے  (CJF) کے تجربات نے بہت سی آسانیاں فراہم کر دیں، اور اسکے ۱۰ سال بعد اس تنظیم نے اپنا نام  Jewish Federations of north America) یا (JFNA)کے طور پر تبدیل کر  دیا [۶]۔
مزے کی بات یہ ہے کہ  اس پوری تنظیم  کو چلانے کی ذمہ داری  یہودیوں  کی خود مختاری کی جنگ  کے دوران  امریکہ کی وزارت خزانہ سے متعلق یہودی وزیر  ’’ہنری مور گنٹا‘‘  کے کاندھوں پر تھی  اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس تنظیم کے اصلی ذمہ دار کے طور پر  جفری شوئیفلڈ[۷] کا نام آتا ہے اور اسکی مینجنگ کمیٹی کے سربراہ  ’’رابرٹ کاپیٹو‘‘[۸] اور جفری شوئفلڈ دونوں ہی وہ لوگ ہیں جو  کثیر القومیتی مالی تنظیم کے مالکوں میں سے ہیں چنانچہ یہ دونوں ثروت مند یہودی  اس تنظیم کے دو بنیادی طاقتور ستون کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔  [۹]
(UJA) کے مالی ذخائر و منابع کی فراہمی
یہ مالیاتی تنظیم  اپنی ضرورت کی مالی اعانتوں کو مختلف تنظیموں کے چارٹ کے اندر انجام دیتی ہے، مثال کے طور پر (UJA) ایک کار آمد و (UIA) کے سسٹم سے متصل نیٹ ورک کے طور پر جو کہ امریکہ و  کینیڈا میں موجود تمام  یہودی فیڈریشنز میں اپنا اثر و رسوخ رکھتا ہے، اپنے اخراجات کو پورا کرتی ہے ۔
اس  تنظیم  کے مالی بجٹ کی فراہمی کا ایک اور ذریعہ  (the organization of missions) اسرائیل  ہے جس کے ذریعہ  اسکے اخراجات پورے ہوتے ہیں، اس تنظیم  کی ذمہ داری امریکہ کے یہودیوں اور اسرائیل کے حکام کے درمیان آشنائی کرانا اور ان سے جوڑنا ہے، بالکل واضح ہے کہ یہ وہ تعلق ہے جو  معمولی سطح کے لوگوں کے  لئے نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں بسنے والے ثروت مند یہودی ہی وہ لوگ ہیں جو  مختلف وفود کی صورت  (UIA) کی  پشت پناہی میں چلنے والے  بڑے بڑے پروجیکٹس جیسے ٹاون سٹیز کی تعمیر ، پڑھائی  کے سلسلہ سے قائم ہونے والے انسٹی ٹیوٹ اور مراکز  کی تکمیل  کے لئے اسرائیل کے حکام و اور سیاست مداروں کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں، یہاں پر جو قابل غور نکتہ ہے وہ یہ کہ یہ وفود  مالی اعانتوں سے ماوراء اسرائیل کی ٹوریزم  یا سیر و تفریح  کی صنعت  کی بھی پشت پناہی اور حمایت کرتے ہیں۔
(UIA) تنظیم کی کارکردگی
یہ  ایک ایسی تنظیم ہے جو اپنے سالانہ سرمایہ اور حصص کو ضرورت مند افراد کی دیکھ بھال کے لئے استعمال کرتی ہے، اور اسکا مقصد  یہودیوں کے درمیان  زندگی گزارنے کی خواہش و چاہت کو ابھارنا اور نیویارک میں یہودی انجمنوں کو مضبو ط بنانا ہے  چنانچہ اسکا سالانہ سرمایہ اور اسکے حصص سے ہونے والی آمدنی کا بجٹ انہیں دو کاموں  سے مخصوص ہے ۔
اسی  طرح (UIA) ایک ایسے فڈریشن کے طور پر بھی کام کرتی ہے جسکا ہم و غم سرمایہ کاری کو ترتیب دینا ہے تاکہ ایک ایسے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے واحد سسٹم کی پشت پناہی کی جاسکے جو  حفظان صحت، انسانی سہولت رسانی، اور تعلیم  کے ساتھ مقامی انجمنوں کو سپورٹ کر سکتا ہو۔
البتہ یہ پشت پناہی نیویارک، اسرائیل اور دیگر ۷۰ ممالک میں دسیوں امداد و اعانت کرنے والوں کے ذریعہ سے انجام پاتی ہے ۔
(UIA)  نے ۲۰۱۶ ؁ کے اپنے کمپین میں سرمایہ کاری کی رقم کو  ۱۵۳،۴ ملین ڈالر  سے  بھی متجاوز کر دیا ،اس تنظیم نے اس بات پر اپنی کوششوں کو دوگنا کر دیا کہ زیادہ سے زیادہ فنڈ اکھٹا کیا جا سکے  تنظیم کی جانب سے دہری کوششیں اس بات کا سبب بنیں کہ  تمام سرمایے، تمام امدادی رقم اور تمام ہی مخصوص ہدایا، ملا جلا کر ۲۵۷،۶ ڈالر تک بڑھ جائیں  [۱۰]   ایک ایسی قابل ملاحظہ  رقم جو کہ  مغربی ایشیا اور دنیا میں صہیونی طرز فکر  کی نشو ونما میں خرچ ہو رہی ہے ۔
در حقیقت (UJA) ایک ایسی تنظیم ہے جو کہ اسرائیل کے ساتھ  اس طرح تعاون کر رہی ہے کہ اسرائیلی سماج کو ایک خود کفیل معاشرے میں تبدیل کر دے، اس تنظیم کے مالی ذخائر میں سے خاصہ حصہ  دہشت گردانہ کاروائیوں کا شکار ہونے والے گھرانوں، ہولوکاسٹ کے پسماندگان ، فقیر و نادار بچوں ،حاریدی[۱۱] سماج کے  ممبروں پر اولویت کے ساتھ خرچ ہوتا ہے اسکے بعد عام لوگوں کی باری آتی ہے ۔
اس تنظیم سے جڑے ممبران اپنے اقتصادی، مذہبی ، اور معاشرتی مسائل سے جڑے ہوئے تشہیری پروگراموں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں ، انکی کارکردگی کا دوسرا حصہ اسرائیلی کمپنیوں کی تمجید و تحسین اور انکے تعاون سے متعلق ہے جس میں اسرائیلی عربوں اور یہودیوں کی دیگر اقلیتوں کا تعاون کرنا شامل ہے ۔ اس لحاظ سے کہ اس تنظیم  کی قسمت اور مستقبل اسرائیل سے جڑا ہے  فی الوقت یہ لوگ یروشلم میں ایک آرٹ فن  سے متعلق کھلی فضا کو  بنانے کے درپے ہیں  تاکہ اسرائیل کے لئے ایک جوش و خروش بھرا مستقبل رقم کر سکیں [۱۲]۔
اسرائیل سے ہونے والی جھڑپوں اور جنگ کے دوران بھی  یہ تنظیم متحرک رہتی ہے ، جیسا کہ غزہ  کی جنگ کے دوران اسرائیلی متاثرین اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات کو لیکر  یہ تنظیم فعال رہی، غیر منافع بخش  مراکز سے  رابطہ  مختلف رہبروں ، یونیورسٹی سے متعلق افراد  نیز ماہرین سے روابط  یہ وہ چیزیں ہیں  جو اس تنظیم کی کارکردگی و فعالیت کے ذیل میں آتی ہیں  اور ان سب کے ذریعہ اس تنظیم کی کوشش ہے کہ دنیا کی کریم  اور چیدہ  غیر معمولی صلاحیت کے حامل افراد  کو اسرائیل اور اسکے جائے وقوع کی جانب مجذوب کیا جا سکے ۔ [۱۳] اسی طرح ہولوکاسٹ کے بعد  (UJA) نے  ایک بڑے مالی سرچشمے کے طور پر  یورپ میں (Sheerit Hapleitah)[14] جیسے بڑے ادارو ں کے تعاون، اسرائیل میں ہجرت کے ادارہ کی مدد کے نیز  زراعت کے لئے  شہروں کے  بنائے جانے سے لیکر  شہروں کی توسیع و ترقی، مدارس  کی تعمیر و تاسیس  اور دیگر ثقافتی پراجیکٹس  میں حصہ لیا ہے۔
حواشی
[۱]  ۔ United Jewish Appeal   تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : ” JEWISH GROUPS UNITE FOR REFUGEES; Combined Appeal to Be Offered to Nation for Fund 3 or 4 Times That Given Last Year HEIGHTENED CRISIS CITED Agencies to Retain Separate Duties in Pressing Common Cause for Victims”. The New York Times. January 13, 1939. Accessed December 8, 2008.
[۲] ۔ Jewish communities in the united، تٖفصیل کے لئے ملاحظہ ہو :  Abelson, Reed (February 14, 1999). “Merger Near, 2 Jewish Philanthropy Groups Pick a Leader”. The New York Times. Accessed December 9, 2008.
[۳]  ۔ The soviet Jewry Movement
[۴]  ۔ http://digifindingaids.cjh.org/?pID=1681121.
[۵]  ۔ United Isreal Appeal
[۶] ۔ http://www.zionistarchives.org.il/about-us/Pages/Default.aspx.
[۷]  ۔ Jeffrey A. schoenfeld
[۸]  ۔ Robert S. kapito
[۹]  ۔https://jewishweek.timesofisrael.com/writers/jeffrey-a-schoenfeld/.
[۱۰] ۔ Chemi Shalev (Dec 12, 2012). “An evening of affluence and influence with the Jewish wizards of Wall Street”. Haaretz. Retrieved 29 May 2014.
[۱۱]  ۔ (Haredi Judaismقدامت پسند یہودیوں کی ایسی شاخ جو یہودی ارتھوڈکس کے طور پر جانی جاتی ہے  یہ لوگ بزعم خود اپنے عقائد و اپنی تعلیمات کو  بلاواسطہ طور پر  جناب موسی اور ان  طور سینا پر پر نازل ہونے والی توراۃ سے لینے کے قائل ہیں اسرائیل کی آبادی کا ۱۱ فیصد حصہ  حریدیوں پر مشتمل ہے اور زیادہ تر یہ لوگ ارتھوڈکش نشین محلوں اور شہروں میں ہی بود و باش اختیار کرتے ہیں ۔
[۱۲]  ۔https://www.ujafedny.org/what-we-do/respond-to-crisis.
[۱۳] ۔ https://www.ujafedny.org/what-we-do/shape-our-jewish-future/investing-in-israeli-society/?utm_source=ujafedny_site&utm_medium=uja_hero. https://www.ujafedny.org/what-we-do/shape-our-jewish-future/investing-in-israeli-society/?utm_source=ujafedny_site&utm_medium=uja_hero.
– https://www.ujafedny.org/who-we-are/our-approach.
[۱۴]  Sh’erit ha-Pletah : שארית הפליטה,  ۔ ہولو کاسٹ کے متاثرین اور یہودی پناہ گزینوں و رفیو جیز کے لئے کام کرنے والا ادارہ  ، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : United States Holocaust Memorial Museum. “Liberation.” Holocaust Encyclopedia. Retrieved 8 June 2014.
^ Königseder, Angelika, and Juliane Wetzel. Waiting for Hope: Jewish Displaced Persons in Post-World War II Germany. Trans. John A. Broadwin. Evanston, Ill.: Northwestern University Press, 2001. 15.
^ Berger, Joseph. “Displaced Persons.” Encyclopaedia Judaica. 2nd Ed. Vol. 5. Detroit: Macmillan Reference USA, 2007. 684-686; here: 684. Berger cites historian Jehuda Bauer as estimating that 200,000 Jews in total emerged alive from the concentration camps.
^ Pinson, Koppel S. “Jewish Life in Liberated Germany: A Study of the Jewish DP’s.” Jewish Social Studies ۹٫۲ (April 1947): 101-126; here: 103.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔