مختصر پیغام آفاقی اثرات (۱)

  • ۲۵

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حال ہی میں فرانسیسی نوجوانوں کے نام اپنے ٹویٹ پیغام میں فرانس کی حساس ترین دکھتی رگ پر انگلی رکھی ہے اور جمہوریت اور اس ملک سمیت مغربی دنیا کی طرف کے جمہوریت اور آزادی بیان کے بےبنیاد دعوے کو چیلنج کردیا ہے۔ آپ فرانسیسی نوجوانوں سے فرماتے ہیں کہ "اپنے صدر جمہوریہ سے پوچھ لیجئے کہ ہالوکاسٹ میں شک و شبہہ کرنا جرم ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی شان میں گستاخی مُجاز ہے؟"
یہ ایک دو طرفہ سوال ہے جو نہایت زیرکی اور کیاست سے جنم  لے چکا ہے اور اس کے دونوں رخ فرانس کے شاتم سربراہ کے لئے شرمناک اور بدنام کنندہ ہیں۔ اس سلسلے میں کہنا چاہئے:
1۔ امام خامنہ ای بخوبی جانتے ہیں کہ آپ کا پیغام جاری ہونے کے فورا بعد پوری دنیا کی وسعتوں میں پھیل جائے گا۔ یعنی یہ کہ اس پیغام کا خطاب صرف فرانسیسی نوجوانوں سے نہیں ہوگا لیکن رہبر انقلاب کے پیغام کا رخ فرانسیسی نوجوانوں کی طرف ہے۔ یہ پیغام صدر فرانس کو نہایت اعلانیہ طور پر تذلیل کرتا ہے اور اس حقیقت کا بھی اظہار ہے کہ "صدر فرانس اپنے اقدام کی خباثت سے بخوبی آگاہ تھا چنانچہ وہ اس قابل نہ تھا کہ امام خامنہ ای جیسی ہستی کے پیغام میں اس کو مورد خطاب قرار دیا جائے"۔
2۔ ہالوکاسٹ ایک عظیم تاریخی جھوٹ ہے اور بےشمار دستاویزات اور شواہد دستیاب ہیں جو اس صہیونی-یہودی افسانے کے جعلی پن کو ثابت کرتے ہیں۔ مغرب ہالوکاسٹ کے حوالے سے بہت فکرمند اور بےچین ہے اور اس کی بےچینی خوف و وحشت کے ساتھ گھل مل چکی ہے؛ اور اگر ایسا نہ ہوتا اور تحقیقات اور تجزیوں سے ہالوکاسٹ کے وقوع کی گواہی ملنے کا امکان ہوتا تو یقینی امر ہے کہ مغرب اور یہود کے سرکردگان نہ صرف اس بارے میں کسی تحقیق سے خوفزدہ نہ ہوتے، بلکہ دوسروں کو بھی اس قسم کی تحقیق کی دعوت دیتے اور انہیں اس کام کی ترغیب بھی دلاتے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے اس مختصر سے پیغام میں اس عظیم جھوٹ کے کیس کو دنیا والوں کے سامنے کھول دیا ہے۔ ایسا سیاہ اور شرمناک کیس، جس کے کھل جانے سے یہودی بھی اور ان کے حامی مغربی حکمران بھی، خوفزدہ ہیں۔
3۔ ہم نے قبل ازیں اخبار "کیہان" میں ہالوکاسٹ کے جعلی پن کے اثبات کے لئے بےشمار دستاویزات پیش کی ہوئی ہیں اور اس مضمون میں ہم ان دستاویزات کی طرف مختصر سا اشارہ کرتے ہیں۔
پیئر ایمانوئل ودال - نیکیٹے، (Pierre Emmanuel Vidal-Naquet)، اور سرج ویلز (Serge Weils) اور فرانسوا براریدا (François Braryda) نے فرانس کے یہودی ربی رینے - سیموئل سپراٹ (Rene-Samuel Sprat) کی سربراہی میں، دوسری جنگ عظیم میں "ساٹھ لاکھ یہودیوں کے قتل عام کے جھوٹے افسانے" کو دستاویز بنا کر ایک قانون کا مسودہ تیار کرکے منظور کروایا اور [اس جھوٹ کو چھپانے کی غرض سے] اس قانون کے تحت "ہالوکاسٹ میں کسی بھی قسم کا شک کرنا، یا دوسری عالمی جنگ میں ساٹھ لاکھ یہودیوں کے قتل کی تعداد میں کمی بیشی کرنا، نیز یہودیوں کے جلانے کے لئے گیس چیمبرز کی موجودگی میں شک کرنا، جرم سمجھا جائے گا اور جو بھی فرانس میں اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا اور مذکورہ تین موضوعات میں شک و تذبذب کا اظہار کرے گا، اس کو ایک مہینے سے ایک سال تک قید اور 2000 سے 3000 فرانک تک کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا"۔ بعدازاں امریکہ اور بین الاقوامی یہودی ایجنسی کے دباؤ کے تحت یہ قانون دوسرے یورپی ممالک میں منظور کروایا گیا، اور آج صورت حال یہ ہے کہ آج مبینہ ہالوکاسٹ اور اس کے پہلؤوں اور اجزاء میں کسی قسم کا شک و تردد یورپ کی حدود میں قابل گرفت جرم سمجھا جاتا ہے۔

 

  • ۝۝۝۝♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥۝۝۝۝

    ۝۝۝۝♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥۝۝۝۝

     

    هم میهن ارجمند! درود فراوان!

     با هدف توانمند سازی فرهنگ ملی و پاسداری از یکپارچگی ایران کهن

    "وب بر شاخسار سخن "

    هر ماه دو یادداشت ملی میهنی را به هموطنان عزیز پیشکش می کند.

    خواهشمنداست ضمن مطالعه، آن را به ده نفر از هم میهنان ارسال نمایید.

     

    آدرس ها:

     

    http://payam-ghanoun.ir/

    http://payam-chanoun.blogfa.com/

     

    [گل]

     

    ۝۝۝۝♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥۝۝۝۝

    ۝۝۝۝♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥۝۝۝۝

     

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی