بھارتی میڈیا استعمار کے شکنجے میں۔ دوسرا حصہ

  • ۳۲

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ؛ گزشتہ سے پیوستہ

اگر میڈیا سید مقاومت سید حسن نصراللہ کا ظالم اور دہشت گرد ابوبکر بغدادی سے مقایسہ کرنے سے پہلے ان کے خدمات اور ایثار کی تاریخ کا مطالعہ کرلے تو شاید اتنی بڑی غلطی کے مرتکب نہ ہوں ۔مگر جہاں میڈیا ہائوس جھوٹ اور فریب کے سہارے چل رہے ہوں وہاں حقیقت جاننے کی للک کسے ہوتی ہے ۔داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کو لبنان میں حزب اللہ کے جوانوں نے شکست دی ہے ۔شام اور عراق میں دہشت گردوں سے مقابلہ آرائی میں حزب اللہ کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں ۔درجنوں محاذ ایسے ہیں جہاں آج بھی اس کے جوان حالت جنگ میں ہیں ۔چونکہ یہ تمام محاذ اسرائیل اور امریکہ کے تیار کردہ ہیں ،اور حزب اللہ کے جوان انکی کامیابی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں ،لہذا اس دشمنی میں حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قراردیدیا گیا تاکہ عالمی سطح پر حزب اللہ کو تنہا کردیا جائے ۔یہی رویہ استعماری طاقتوں نے ایران کے ساتھ اختیار کیا ہواہے ،کیونکہ ایرانی جوانوں نے حزب اللہ کے جوانوں کی طرح استعماری منصوبوں کو خاک میں ملا دیاہے ۔اسرائیل جس کی فوجی طاقت کا دنیا لوہا مانتی ہے اس نام نہاد عظیم طاقت کو اگر کسی نے ذلت و پستی کے تحت الثریٰ میں پھینک دیاہے تو وہ حزب اللہ کے جوان ہی ہیں ۔لہذا استعمار نے اپنی پوری طاقت حزب اللہ کے خلاف جھونک دی ہے ۔وہ اپنے میڈیا ہائوسیز کے ذریعہ حزب اللہ کے خلاف جھوٹی خبریں پلانٹ کرتے ہیں ،ہر پروگرام میں اس کے جوانوں کو دہشت گرد اور ظالم قرار دیا جاتاہے تاکہ دنیا کی ہمدردی حاصل کی جاسکے ۔یہ وہی پرانا کھیل ہے جو فلسطین پرقبضے کے وقت کھیلا گیا تھا اور ’ہولوکاسٹ‘ کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ عالمی سطح پر یہودی ایک مظلوم قوم قراردیدی گئی ۔یہودیوں کی مظلومیت کا فائدہ ’صہیونیوں ‘ نے اٹھایا اور آج فلسطین کی زمینوں پر جسے ہم ’اسرائیل ‘ کے نام سے جانتے ہیں ،یہودیوں کی تعداد ’نا‘ کے برابر ہے ۔اسرائیل نے ایک الگ تھلگ ریاست کے قیام کے لئے ہر طرح کے جھوٹ اور فریب کا سہارا لیا اور لے رہاہے اسی طرح اسلامی مقاومتی تنظیموں کو بدنام کرنے اور عالمی سطح پر انہیں الگ تھلگ کرنے کے لئے ہر طرح کے گھنائونے پروپیگنڈے کررہاہے ۔ورنہ ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا تھاکہ ایک ملک کے کمانڈر( قاسم سلیمانی) پر بزدلی کے ساتھ ہوائی حملہ کرکے شہید کردیا جائے اور اس کے بعد دنیا کی ساری ہمدردیاں امریکہ اور اسرائیل کے حق میں ہوں۔
اب عالم یہ ہے کہ استعماری طاقتوں کے پرفریب منصوبوں کا شکار ہمارا قومی میڈیا بھی ہوچکاہے ۔کیونکہ ہمارا ملک اسرائیل نوازی میں اپنی ساری حدیں پار کرچکاہے ۔ہماری عوام کو یہ باور کرادیا گیاہے کہ ہماری ترقی اسرائیل کی دُم سے بندھی ہوئی ہے ۔وہ دن دور نہیں جب ہم اس کے دوررس نتائج بھگتیں گے ۔
جس وقت وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کے دورے پر تھے،اس وقت ہمارا قومی میڈیا اسرائیل نوازی میں فلسطینی مقاومتی تنظیموں کو دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیمیں ثابت کرنے پر تُلا ہوا تھا ۔میڈیا کے بقول اسرائیلی ایجنسی’ موساد‘ ایک مظلوم ایجنسی ہے جس پر فلسطینی مقاومتی تنظیمیں جب چاہتی ہیں دہشت گردانہ حملے کرتی ہیں اور اس کے فوجیوں اور جوانوں کا قتل عام کردیتی ہیں۔یہ ایک ایسا سفید جھوٹ تھا جسے بے بنیاد حقائق اور موساد کے اشارے پر ہندوستان میں پھیلایا گیا ۔وزیر اعظم مودی اسرائیل میں تھے اور ہم ہندوستان میں اسرائیل کی مظلومیت کی داستان سن رہے تھے ۔حیرت ہے میڈیا اس قدر بے ضمیر اور بے غیرت کیسے ہوسکتاہے ؟۔کیا اس میڈیا کو فلسطینی عوام کی مظلومیت اور مقاومت نظر نہیں آتی ۔وہ صہیونی قوم جو فلسطین کی زمین پر غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہے اس کو فلسطینی زمین کا مالک قراردینا کہاں کا انصاف ہے ۔فلسطین کی نہتی عوام اسرائیل مہلک ہتھیاروں کا مقابلہ اینٹ اور پتھروں کے ذریعے کررہی ہے ،اس کے جوان ،بچے ،بوڑھے اور خواتین کو بے دریغ قتل کیا جارہاہے ، ان کے گھروں پر اسرائیلی فوجیوں کا قبضہ ہے ،وہ آزادانہ زندگی بسر نہیں کرسکتے بلکہ ان کے بچوں کا مستقبل خوف کے سائے میں ہے،ایسی فلسطینی عوام کو دہشت گرد کہہ کر ہمارا قومی میڈیا اپنے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب کو خود ہی نوچ کر پھینک دیتاہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل کے وقت ہی ہمیں یہ باور ہو گیاتھاکہ ہمارے قومی میڈیا کی رہی سہی آزادی بھی سلب کرلی گئی ہے ۔اب ہم وہ دیکھیں گے جو استعماری طاقتیں دکھانا چاہتی ہیں ۔حزب اللہ کے جنرل سکریٹری سید حسن نصراللہ کو بدنام کرنے کے لئے جس طرح جھوٹی خبروں کو میڈیا نےنشر کیاہےاس سے معلوم ہوتاہے کہ میڈیا ہائوسیز پر سرمایہ داروں کے تسلط اور ان کے مفادات نے میڈیا کی آزادی کو کتنا متاثر کیاہے ۔اس میڈیا کو ہم ’ رٹّوطوطا‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔
میڈیا کوایسی بے بنیاد اور پروپیگنڈہ خبریں نشر کرنے پر شرم آنی چاہئے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ عہد میں میڈیا کا وقار تباہ ہوچکاہے ۔دانشور طبقہ میڈیا کی خبروں پر یقین نہیں کرتا اور نہ اسکے پروپیگنڈے کا شکار ہوتاہے ۔مگر اس دانشور طبقے کی تعداد بہت محدود ہےاور سماج میں اس کا کردار بھی بہت زیادہ نہیں رہ گیاہے ۔جمہوریت میں اصل کردار عوام کا ہوتاہے اور عوام کی ۸۰ فیصد سے زیادہ آبادی علم و دانش سے محروم ہے ۔وہ میڈیا کے پروپیگنڈے کا شکار ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ پیش کئے جارہے مسخ شدہ حقائق کو درست تسلیم کرتی ہے ۔ہندوستان میں جمہوریت کے زوال میں بڑا کردار میڈیا نے ادا کیاہے اوراس کے لئے تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی