“مجھ سے جھوٹ مت بولو”

  • ۶۱

ترجمہ سید نجیب الحسن زیدی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، کتاب “مجھ سے جھوٹ مت بولو” ‘جان پیلجر’ (jOHN PILGER) کی ایسی کاوش ہے جس میں انہوں نے محقق صحافیوں اور نامہ نگاروں کی تاریخ ساز رپورٹوں کو اکٹھا کیا ہے۔
مصنف پر ایک نظر
جان پیلجر امریکہ کی کورنل یونیورسٹی (Cornell University) کے استاد اور محقق صحافی ہیں کہ جن کے مضامین، کتابوں اور دستاویزی فلموں کو پروفیسر نوام چومسکی نے نور ہدایت اور مشعل راہ قرار دیا اور ان کے بیانات کو الہام بخش گردانا۔ اس کتاب سے پہلے آپ کی کتاب THE NEW RULERS OF THE WORLD منظر عام پر آئی جو کافی معروف ہوئی لیکن یہ کتاب “مجھ سے جھوٹ مت بولو” جس میں انہوں نے گزشتہ ساٹھ سالوں کے محقق صحافیوں کی اہم اور بہترین رپورٹوں کو جمع کیا اور Tell Me No Lies: Investigative Journalism and its Triumphs کے عنوان سے اس مجموعے کو منظر عام پر پیش کیا۔
مصنف نے اپنی اس کاوش کے نتیجے میں تاہم بیس مرتبہ سے زیادہ عالمی ایوارڈ حاصل کئے ہیں جن میں برطانیہ کا سب سے بڑا ایوارڈ ” برطانیہ کا اعلی ترین برطانوی صحافی ایوارڈ” اور اقوام متحدہ کا “میڈیا امن ایوارڈ” بھی شامل ہیں۔ نیز انہوں نے اپنی ٹی وی رپورٹس کی وجہ سے آسکر ایوارڈ (Oscars)، Emmy Award اور فرانس سے Reporters Without Borders Awards بھی حاصل کئے ہیں۔
کتاب پر ایک نظر
یہ کتاب جرات مندانہ اور حیران کن رپورٹوں اور بہترین مقالات پر مشتمل ہے ایسی رپورٹیں جو غیر معمولی اور امتیازی حیثیت رکھتی ہیں اور ان سب کا مشترکہ عنصر ظلم کے خلاف قیام سے عبارت ہے چاہے وہ ویٹنام کی جنگ میں امریکہ کی رضامندی کا سیمور ہارس کے پردہ چاک ہو یا فاسٹ فوڈ انڈسٹری کے بارے میں اشلوزر کا انکشاف ہو یا غزہ کے دردناک واقعات کے بارے میں یہودی نامہ نگار امیرہ ھس کی حیران کن رپورٹیں ہوں۔
جیسا کہ امریکی آزاد اندیش اور لاؤس کے خلاف سی آئی اے کی خفیہ جنگ کا انکشاف کرنے والا صحافی ” ٹی ڈی آلمن” کا کہنا ہے کہ یہ کتاب نہ صرف شاندار اور حقیقت پر مبنی رپورٹوں کا مجموعہ ہے بلکہ ان تمام افراد کے لیے فکر و عمل کی دعوت ہے جو نوع بشر کے لیے شرافت اور عدالت کے ستونوں پر قائم نظام زندگی کی تمنا رکھتے ہیں۔ یہ کتاب اسکار وائلڈ کے نظریات کا خلاصہ ہے۔ جہاں وہ کہتے ہیں: “ہر اس شخص کی نظر میں جس نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے نافرمانی اور معصیت انسان کی سب سے پہلی فضیلت ہے”۔ یہ کتاب اور اس کی رپورٹیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ کیسے صحافیوں نے حقیقت کو مصلحت پر قربان نہیں کیا، واقعات کی صحیح منظر کشی کرنے میں کسی لغزش سے دوچار نہیں ہوئے اور حکمرانوں کی اشرفیوں پر اپنے ضمیروں کو بیچ دینا گوارا نہیں کیا۔
 
کتاب “مجھ سے جھوٹ مت بولو” ۶ سو صفحوں پر مشتمل ۲۸ مقالات کا مجموعہ ہے جن میں سے بعض مقالات کی طرف ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:
ڈاچاؤ (Dachau) ( نازیوں کی موت کے کیمپوں سے متعلق)، رپورٹر مارٹا گلہورن، سن ۱۹۴۵
ایٹمی طاعون، ( ہیروشیما پر ایٹمی بمباری سے متعلق)، رپورٹر ولفرڈ برچٹ، سن ۱۹۴۵
مائی لائی کا قتل عام، (ویٹنام میں امریکی جنگ سے متعلق) رپورٹر سیمور ہارس، سن ۱۹۷۰
عالمی حکومت اور امریکہ کا خواب، ڈی آرمسٹرانگ، سن ۲۰۰۲
خاموش جنگ، اقتصادی پابندیاں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے مترادف، (عراق پر اقتصادی پابندیوں کے تباہ کن نتائج سے متعلق ) جوی گورڈن، سن ۲۰۰۲
تیمور کی دستاویزات، (یہ دستاویزات واضح کرتی ہیں کہ امریکہ اور اسٹریلیا ۱۹۷۵ میں مشرقی تیمور پر انڈونیشیا کی جارحیت سے مطلع اور اس پر رضامند تھے)، برین توہی اور مارین ویلکینسن، سن ۱۹۸۷
دھشتگردی؛ (صبرا اور شتیلا کیمپوں میں ۱۹۸۲ کو کئے گئے فلسطینی عوام کے قتل عام سے متعلق) رپورٹر رابرٹ فیسک، ۱۹۹۰ سے ۲۰۰۱ تک
ناکہ بندی؛ (اسرائیل کے ہاتھوں غزہ کی ناکہ بندی سے متعلق) رپورٹر امیرہ ھس، سن ۱۹۹۶
الٹی دنیا؛ (دو ایسے جڑواں امراض جو انسانیت کو کھوکھلا کر دے رہے ہیں؛ ایک تشہیر، اور دوسرا؛ اہل اقتدار کے ہاتھوں عالمی امن کا گمان)، ایڈورڈ گلناؤ، سن ۱۹۹۸
اسلامی میڈیا کی کیوریج اور دھشتگردی، ایڈورڈ سعید، ۱۹۹۷/۲۰۰۲

...........

 

 

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی