اسرائیل میں بہائیت کے گہرے اثر و رسوخ کی چند مثالیں

  • ۶۷

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیل میں سکونت پذیر حسین اقبال نامی ایک بہائی شخصیت صہیونی ریاست میں پائے جانے والے بہائیت کے گہرے اثر و رسوخ کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’شوقی افندی اسرائیلی حکومت سے جو تقاضا اور فرمائش کرتے تھے حکومت اسے فورا بجا لاتی تھی، اور اس کے نتیجہ میں ہم فلسطین میں رہنے والے بہائی، آرام و سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔‘‘۔
بہائیوں کا اسرائیلیوں کے یہاں احترام اپنے یہودی شہریوں سے بھی زیادہ ہے۔ ایک ایرانی بہائی عبد اللہ رفیعی نے اپنے اسرائیل دورے کے بارے میں لکھا ہے: ’’تل ابیب کسٹم ڈیوٹی پر جب ہم خود کو بہائی کے عنوان سے پہچنواتے تھے، تو بہت احترام کے ساتھ وہ ہمیں بغیر تلاشی کے آگے بھیج دیتے تھے، جبکہ دوسرے لوگوں کی کافی سختی کے ساتھ تلاشی کرتے تھے۔۔۔‘‘۔
ایئرپورٹ کی صورتحال کچھ یوں تھی کہ فریدون رامش کے بقول بعض یہودی ان پر اعتراض کرتے تھے۔ بطور مثال، ایک یہودی نے اعتراض کیا کہ کیوں ایرانیوں کی تلاشی نہیں کی جاتی اور ہم جو یہاں کے رہنے والے ہیں ہماری اتنی سختی سے تلاشی کی جاتی ہے۔
ایک اور نکتہ جس کی طرف یہاں اشارہ کیا جا سکتا ہے یہ ہے کہ صہیونی ریاست کے سیاسی وفود جس ملک میں بھی جاتے تھے قلت وقت کے باوجود اس ملک میں رہنے والے بہائیوں سے ضرور ملاقات کرتے تھے۔ ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونیوں اور بہائیوں کے درمیان تعلقات صرف سیاسی تعلقات نہیں تھے بلکہ اس عنوان سے کہ صہیونیوں نے ہی بہائیت کو جنم دیا تھا اس وجہ سے اس نومولود فرقے کی بھرپور حمایت کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے تھے۔
شوقی افندی کے تدفین کی رسومات بھی صہیونی حکومت کی کافی توجہات کا محور رہیں، ان کی موت کے بعد صہیونی ریاست نے برطانیہ میں اپنے سفیر کو حکم دیا کہ وہ بذات خود ان کے تدفین کی رسومات میں شرکت کرے۔
البتہ یاد رہے کہ صہیونی ریاست نے بلاوجہ شوقی افندی کو اتنی اہمیت نہیں دی یا فرقہ بہائیت کو بغیر کسی دلیل کے اپنی توجہ کا مرکز نہیں بنایا بلکہ اس کی ایک خاص وجہ اسرائیل کی تشکیل میں فرقہ بہائیت اور خاص طور پر شوقی افندی اور اس کے باپ دادا کی خدمات ہیں جنہیں اسرائیلی حکومت نے ہمیشہ یاد رکھا اور وقتا فوقتا ان کا صلہ دینے کی کوشش کی۔
ماخذ؛
1 – فصلنامه تاریخ معاصر ایران، بهائیت و اسرائیل: پیوند دیرین و فزاینده، شکیبا، پویا، بهار 1388، شماره 49، ص 640-513.
2- فصلنامه انتظار موعود، پیوند و همکاری متقابل بهائیت و صهیونیسم، تصوری، محمدرضا، بهار و تابستان 1385، شماره 18، ص 256-229.

 

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی