نسل پرستی میں امریکہ اور اسرائیل ایک ہی سکے کے دو رخ

  • ۶۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کیا فلائڈ ان مشکلات اور مصائب کے بارے میں کچھ بتا پائے گا جو امریکی نسل پرست صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسوں نے سیاہ فام لوگوں کے لیے وجود میں لائے ہیں؟ کیا الحلاق ان غاصب اسرائیلی فوجیوں کے مظالم کی عکاسی کر پائے گا جو فلسطین میں بے گناہ مسلمانوں اور بے کس فلسطینیوں پر ڈھا رہے ہیں؟
اب تو فلائڈ اور الحلاق دونوں ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں نہ ٹرمپ کی نسل پرستانہ حکومت ہے نہ نیتن یاہو کا ظلم و تشدد، جہاں نہ کوئی رنگ و نسل پر کسی کا خون بہاتا ہے نہ کوئی زبردستی کسی کو اس کے گھر سے باہر نکالتا ہے۔
جب فلسطینی معذور ایاد الحلاق کی لاش ان کے گھر والوں کو ملی اس کی ماں کے رونے کی آوازوں سے بیت المقدس کی دیواریں بھی چیخ اٹھی تھی، جب میں نے جارج فلائڈ کی بیٹی کو روتے ہوئے دیکھا تو میں نے اس ویڈیو کو اپنی آنکھوں کے سامنے لایا جس میں امریکی سفید پوست پولیس افیسر فلائڈ کی گردن پر گھٹنا رکھ کر دبا رہا تھا اور فلائڈ اپنی جان بچانے کے لیے ہاتھ پیر مار رہا تھا لیکن جب تک اس کی آخری سانس نہیں نکلی پولیس آفیسر نے اس کی گردن سے گھٹنا نہ ہٹایا، اس منظر کو دیکھ کر میں نے یہ سوچا کہ کیا ایک دن اس کی یتیم لڑکی اس لعنتی کی اس حرکت کو بھول پائے گی؟ کیا کوئی چیز اس کے دل میں جلتی ہوئی آگ کو بجھا پائے گی؟
کیا ایاد الحاق کی ماں، گولیوں کی اس آواز کو بھول پائے گی جس نے اس کے بے گناہ بچے کو چھلنی کر دیا اور اس کی زندگی کے شیرازے کو لمحوں میں بکھیر دیا؟ وہ بھی ایسا بیٹا جس کا صرف اتنا قصور تھا کہ وہ ذہنی طور پر معذور تھا۔
یا خدا! یہ لوگ کیسے انسانیت سے دور ہو چکے ہیں؟ کیا ان کے اندر انسانیت نام کی کوئی بھی چیز نہیں بچی ہے؟ کیا ان کے چہروں پر جھوٹی نقاب چڑھی ہوئی ہے؟ اگر اس نقاب کو ہٹائیں گے تو ان کا اصلی چہرا سامنے آئے گا جو انسان کا چہرہ نہیں ہو گا، بلکہ کسی درندہ جانور کا چہرہ ہو گا۔
جی ہاں اسرائیل اور امریکہ کی نسل پرستی الحلاق اور فلائڈ جیسوں کے قتل میں واضح طور پر کھل کر سامنے آئی ہے۔ یہ دونوں جرم در حقیقت ایک ہی فکر اور سوچ کا نتیجہ ہیں اگر چہ ایک امریکی پولیس آفیسر کے ہاتھوں انجام پایا ہے اور دوسرا اسرائیلی فوجی کے ہاتھوں، اور ظلم کا شکار بننے والے بھی دونوں بے گناہ اور لاچار تھے۔
جب امریکی مجرمین کے چہروں سے نقاب گری تو قدس کے غاصبوں کا اصلی چہرہ بھی سامنے آیا، ہاں دونوں نسل پرستی کا شکار بنے ہیں۔
یہ بات حقیقت ہے کہ صہیونیوں نے فلسطین کی زمین کو غصب کیا اور امریکی سفید فام لوگوں نے امریکی زمین کو۔ دونوں غاصب اور قابض ہیں دونوں مجرم اور جنایتکار ہیں، دونوں نے اپنی حکومتوں کی عمارتوں کو ان زمینوں کے اصلی مالکوں کی لاشوں پر کھڑا کیا ہے۔
لیکن یہ جان لینا چاہیے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ایاد الحاق اور جارج فلائڈ کی جانیں لینے والی نسل پرستی امریکہ اور صہیونی ریاست کو لے ڈوبے گی، امریکہ ٹکڑوں ٹکڑوں میں پاش پاش ہو گا اور صہیونی ریاست نابودی کا شکار ہو گی۔
بقلم فارس الصرفندی

 

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی