تلمود (TALMUD) کا تعارف اور اس میں تصرف خدا

  • ۱۱۳

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہودیوں کی مقدس کتاب اس عنوان سے کہ وہ توریت کی تفسیر ہے اور یہودیوں کی من پسند بہت ساری بحثیں اس میں موجود ہیں یہودیوں کے نزدیک ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام کے بعد یہودیوں کے بزرگوں”خاماموں” کے درمیان توریت کے سلسلے میں کچھ بحث و مباحثے شروع ہوئے جس کے بعد انہوں نے توریت پر تفسیریں لکھنا شروع کر دیں۔ سب سے پہلے سن ۲۳۲ عیسوی میں ایک خاخام نے توریت کی تفسیر بیان کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور اس کے بعد سن۵۰۱ میں دوسرے خاخام نے توریت پر دوسری تفسیر لکھی یہاں تک کہ ۱۴۵۷ عیسوی تک اس آسمانی کتاب پر مختلف تفاسیر لکھی گئیں۔ ان تفاسیر کے مختلف نام تھے اور مختلف لوگوں کے پاس پھیلی ہوئی شکل میں موجود تھیں۔ اسی سال “یوخاس” نامی ایک خاخام نے ان تمام تفسیروں کے مطالب جمع آوری کر کے “تلمود” نامی کتاب کا مجموعہ تیار کر دیا۔
لفظ “تلمود” دو لفظوں سے مرکب ہے۔ “تل” یعنی تعلیم و تربیت۔ اور “مود” یعنی دیانت۔ مجموعی طور پر تلمود کے معنی “دین و دیانت کی تعلیم و تربیت” کے ہیں۔
یہودیوں کی مقدس کتاب اس عنوان سے کہ وہ توریت کی تفسیر ہے اور یہودیوں کی من پسند بہت ساری بحثیں اس میں موجود ہیں جو توریت میں نہیں ہیں یہودیوں کے نزدیک ایک خاص اہمیت کی حامل ہے حتیٰ کہ یہودی تلمود کے مطالعہ کو توریت کی تلاوت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ تلمود انسانوں کو یہودی اور غیر یہودی میں تقسیم کرتی ہے اور یہودی کی اذیت و آزار کو حرام قرار دیتی ہے تلمود میں غیر یہودیوں کے اموال کو غصب کرنا اور اس کا استعمال کرنا جائز ہے غیر یہودیوں کے ناموس کے ساتھ تجاوز ان کا حق ہے اور غیر یہودیوں کو اپنا غلام بنانا قرب الہی کا سبب ہے۔
تلمود حضرت عیسی(ع) کو نبی نہیں مانتی بلکہ انہیں معاذ اللہ ایک مرتد اور کافر یہودی مانتی ہے آپ کی مادر گرامی جناب مریم کے لئے نازیبا اور ناجائز الفاظ استعمال کرتی ہے۔
تلمود میں تصور خدا
یہ کتاب یہودیوں کے نزدیک بہت تقدس کی حامل ہے اور توریت و عہد عتیق کے مساوی حیثیت رکھتی ہے۔ ( بلکہ توریت سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے جیسا کہ گرافٹ نے کہا: جان لو کہ خاخام کے اقوال پیغمبروں سے زیادہ بیش قیمت ہیں)۔
یہودیوں کے نزدیک خدا کا تصور کیسا ہے اور وہ خدا کو کس زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہیں اس کتاب کے چند جملے بیان کر نے سے معلوم ہو جاتا ہے:
دن بارہ گھنٹوں پر مشتمل ہے۔ پہلے ۳ گھنٹوں میں خدا شریعت کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس کے بعد ۳ گھنٹے احکام صادر کرنے میں صرف کر دیتا ہے۔ پھر تین گھنٹے دنیا کو روزی دیتا ہے۔ اور آخری ۳ گھنٹے سمندری حوت جو مچھلیوں کی بادشاہ ہے کے ساتھ کھیل کود میں مصروف رہتا ہے۔
تلمود میں دوسری جگہ پر آیا ہے خدا کو ایک مرتبہ شوق ہوا کہ وہ ہیکل سلیمانی کو نابود کرے کچھ ہی دیر بعد وہ اپنے کئے پر پشیمان ہو گیا اور نہ صرف اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا بلکہ رونا اور پیٹنا شروع کر دیا کہ میں نے کیوں اپنے بیٹوں کا خانہ خراب کر دیا ہے کہ میری اولاد (خدا کی اولاد سے مراد یہودی ہیں چونکہ وہ خود کو ابناء اللہ مانتے ہیں) میرا گھر نابود ہونے سے بے گھر و آوارہ ہو گئے ہیں اور ان کا مال ضائع ہو گیا ہے اس کے بعد خدا معاذ اللہ اپنے کئے پر خود کو لعنت بھیجتا ہے۔
خدا یہود کو اس حالت میں مبتلا کرنے کی وجہ سے بہت زیادہ پشیمان ہے اور ہر روز اپنے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور گریہ و زاری کرتا ہے کبھی کبھی اس کی آنکھوں سے آنسو کے دو قطرے سمندر میں گر جاتے ہیں اور اتنی زور دار آواز ہوتی ہے کہ ساری دنیا اس کے گریہ کی آواز سنتی ہے۔ سمندر کا پانی متلاطم ہو جاتا ہے اور زمین لرز اٹھتی ہے۔
خداوند عالم بھی احمقانہ افعال، غیظ و غضب اور جھوٹ سے امان میں نہیں ہے۔ (العیاذ باللہ)
مآخذ:
۱٫التل عبداله ، خطرالیهودیة العالمیة علی الاسلام و المسیحیة ،قاهره ۱۹۶۹ .
۲٫ http://palpedia.maarefefelestin.com/index.php?title=%D8%AA%D9%84%D9%85%D9%88%D8%AF
۳٫ http://palpedia.maarefefelestin.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی