جنت البقیع کا انہدام اور سعودی مفتیوں کے فتاویٰ

  • ۱۲۵

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ۱۳۴۴ ہجری میں جب آل سعود نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ان کے نواحی علاقوں پر قبضہ کر لیا تو انہوں نے بقیع میں خاندان رسالت اور اصحاب رسول خدا (ص) کے روضوں اور مقابر کو مسمار کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرنے کی کوشش شروع کر دی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ کوئی ایسا بہانہ تراش سکیں جس کے سہارے وہ مدینہ منورہ کے علمائے کرام سے فتویٰ حاصل کرنے کے بعد ان عتبات مقدسہ کو مسمار کرنے کی راہ ہموار کر سکیں یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ آل سعود کو اپنے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بہانہ تلاش کرنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی تھی کیونکہ حجاز کے عوام قبور کو مسمار کرنے کے عمل کی کسی صورت میں حمایت کرنے کو تیار نہ ہوتے۔ چنانچہ بہانہ تلاش کرنے والوں نے آخر کار بہانہ تلاش ہی کر لیا جس کے پیش نظر ’’نجد‘‘ کے قاضی القضاۃ ’’سلیمان بن بلھید‘‘  کو مدینہ منورہ کی طرف روانہ کیا گیا، تاکہ وہ وہاں کے علما سے وہابیوں کے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانےکے لیے ہم عقیدہ افراد کی طرف سے چند سوالات کو اس انداز سے ترتیب دیں کہ ان سوالات کے جوابات وہابیوں کے عقیدے کے مطابق سوالات میں ہی پوشیدہ ہوں،  پھر ان سوالات کو وہاں (مدینہ منورہ) کے مفتیوں کے سامنے یہ کہہ کر پیش کیا کہ وہ (مفتی حضرات) ان سوالات کے بارے میں وہی فتویٰ صادر کریں جنہیں سوالات میں ہی بیان کیا گیا ہے اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان پر شرک کا حکم جاری کر کے ان کی مذمت کی جائے گی اور اس حکم کے بعد بھی اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو انہیں واجب القتل قرار دے دیا جائے گا۔
مذکورہ بالا سوالات و جوابات مکہ مکرمہ سے شائع ہونے والے ام القریٰ نامی رسالے کے ماہ شوال ۱۳۴۴ھ کے شمارے میں شائع ہوئے تھے اور ان کی اشاعت کے فورا بعد ہی تمام اسلامی فرقوں خصوصا اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان ایک کہرام مچ گیا۔
کیوںکہ سب جانتے تھے کہ مذکورہ سوالات کے بارے میں اگر چہ رعب اور دھمکیوں کے ذریعے فتاویٰ حاصل کئے گئے ہیں، تاہم ان فتاویٰ کے حصول کے بعد اسلام کے پیشواؤں کی قبور مسمار کرنے کے کام کو یقینا انجام دے دیا جائے گا۔
(یاد رہے کہ آقائے بزرگ تہرانی مرحوم نے اپنی کتاب الذریعہ کی جلد ۸ صفحہ ۲۶۱ پر تحریر فرمایا کہ وہابیوں نے پندرہ ربیع الاول ۱۳۴۳ ھج کو حجاز پر قبضہ کیا تھا اور ۸ شوال ۱۳۴۳ھج کو جنت البقیع میں مدفون ائمہ طاہرین اور صحابہ کرام کی قبور کو مسمار کیا تھا)
 جبکہ ام القریٰ نامی رسالے میں سوالات و جوابات ۱۷ شوال ۱۳۴۴ ھج کے شمارے میں شائع ہوئے تھے اور بتایا گیا تھا کہ علماء نے مذکورہ سوالات کے جوابات ۲۵ رمضان المبارک کو دئے تھے یعنی ام القریٰ کے مطابق حجاز پر قبضے اور قبور بقیع کو مسمار کرنے کا واقعہ دونوں باتیں ۱۳۴۴ ھج سے متعلق ہیں۔ اس کے علاوہ سید محسن امین مرحوم نے بھی حجاز پر قبضے اور قبور بقیع کو مسمار کرنے کی تاریخ ۱۳۴۴ ھج ہی بیان کی ہے( دیکھیے کشف الارتیاب ص ۵۶ تا ۶۰)
تاریخ کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ مدینہ منورہ کے ۱۵ علماء سے فتاویٰ حاصل کرنے اور حجاز میں ان فتاویٰ کے شائع ہونے کے بعد اسی سال (۱۳۴۴) کے ماہ شوال کی ۸ تاریخ سے ہی خاندان رسالت کے آثار کو مسمار کرنے کا شرمناک کام شروع کر دیا گیا۔ ائمہ طاہرین علیھم السلام اور جنت البقیع میں مدفون اصحاب رسول (ص) کی قبور کو مسار کرنے کے علاوہ ائمہ طاہرین علیھم السلام کے روضہ ہائے مبارکہ کے قیمتی سازو سامان کو بھی لوٹ لیا گیا۔ جنت البقیع کو ایسے ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا جسے دیکھ کر انسان کا دل کاپنے لگتا ہے۔۔۔۔
(اقتباس از کتاب آئین وہابیت، تالیف آیت اللہ جعفر سبحانی)

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی