پیغمبر اکرم (ص) کی معراج؛ مکہ سے قدس تک

  • ۷۶

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ، مسئلہ قدس کا جائزہ اور سرزمین فلسطین کے ماضی اور حال پر تبصرہ، ان اہم موضوعات میں سے ہیں جن کو ہمیشہ علمی تحریروں اور گفتگوؤں میں مورد بحث قرار پانا چاہیے۔ اس مقصد کے پیش نظر خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے نامہ نگار نے حجت الاسلام و المسلمین سید حسن موسوی زنجانی جو فلمنامہ حضرت موسی(ع) کے مشیر ہیں سے مسئلہ قدس پر قرآنی زاویہ نگاہ سے گفتگو کی ہے۔
خیبر: آپ کی نظر میں قرآن کریم مسئلہ قدس اور فلسطین کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور کیا یہ مسئلہ صرف ایک نظریہ کی حد تک ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم؛ تین براعظموں کو آپس میں ملانے والا مغربی ایشیا ہے اور مغربی ایشیا کا قلب عبارت ہے ایک مثلث سے؛ بیت المقدس، مسجد کوفہ اور مسجد الحرام۔ خداوند عالم نے حضرت آدم سے کہا کہ اس مثلث سے ارادہ الہی دنیا میں تحقق پانا چاہیے۔
اس مثلث کی حضرت ابراہیم نے حفاظت کی۔ خداوند عالم نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ دنیا کو یہ بتلائیں کہ پوری دنیا میں ایک نظم برقرار رہنا چاہیے، یہ کون سا نظم تھا؟ یعنی یہ کہ جس شخص کے لیے ممکن ہو مکہ جائے تاکہ مکہ کو تعمیر کرے۔ سورہ حج میں آیا ہے کہ لوگوں کو اعلان کرو کہ سب مکہ جائیں۔ سب سے پہلے خود حضرت ابراہیم مکہ گئے، اسی وجہ سے حضرت ابراہیم مکہ کی علامت اور نشان قرار پائے۔ مسجد کوفہ میں بھی مقام ابراہیم ایسی جگہ پر ہے کہ جو شخص مسجد کوفہ میں جاتا ہے وہاں دو رکعت نماز ادا کرتا ہے۔
مکہ کو حضرت ابراہیم کے ایک بیٹے حضرت اسماعیل نے آباد کیا اور بیت المقدس کو انکے دوسرے بیٹے جناب اسحاق نے آباد کیا اور انہیں کی نسل سے بنی اسرائیل کا سلسلہ شروع ہوا۔ مکہ میں بنی اسماعیل بر سر اقتدار آئے اور انہیں کی نسل سے پیغمبر اسلام(ص) تشریف لائے۔ اسلام آنے کے بعد ان دونوں بھائیوں (اسماعیل اور اسحاق) کی آباد کردہ بستیوں کو آپس میں جوڑا گیا، اب بیت المقدس نہ صرف بیت المقدس رہا بلکہ مسلمانوں کا قبلہ قرار پایا۔ اس لیے مسلمانوں کو پہلے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تھا اس کے بعد حکم ہوا کہ بنی اسماعیل کے قبلے کی طرف نماز ادا کریں یعنی خانہ کعبہ کی طرف۔
 
خیبر: یعنی پیغمبر اکرم ایک مدت تک صرف بیت المقدس کی طرف اپنی نماز ادا کرتے تھے؟
۔ میں یہاں پر ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کروں جو شیعہ سنی کتابوں میں معمولا بیان نہیں ہوتا وہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم اپنی پوری زندگی یعنی اس سے قبل کہ انہیں خانہ کعبہ کی طرف نماز ادا کرنے کا حکم ملتا مکہ میں خانہ کعبہ کی مشرقی سمت کھڑے ہوتے تھے تاکہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں کی طرف رخ کر کے ایک ساتھ نماز ادا کریں۔
جتنا عرصہ آپ(ص) مکہ میں تھے اور مدینے ہجرت کے بعد بھی ابتدائی چند مہینے تک آپ اس طریقے سے نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے کہ اگر کوئی آپ کی نیت سے باخبر نہ ہوتا تھا تو یہی سوچتا تھا کہ آپ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے ہیں۔ امام باقر اور امام صادق علیہما السلام نے اس مسئلے کو یوں واضح کیا ہے کہ پیغمبر اسلام اس طریقہ سے نماز ادا کیا کرتے تھے کہ خانہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں ایک ہی سمت میں واقع ہوتے تھے۔
لہذا بیت المقدس کی اہمیت اس حد تک ہے کہ خداوند عالم نے مسلمانوں کو اس کی طرف رخ موڑ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ اور پھر بنی اسرائیل کے ۴۸ پیغمبر بیت المقدس میں مدفون ہیں۔ جبکہ بنی اسرائیل کا کوئی ایک بھی نبی حجاز میں نہیں ہے۔
یہ مثلث جس کا تذکرہ کیا گیا حضرت ابراہیم سے مخصوص ہے۔ اور ہم حضرت ابراہیم کے وارث ہیں۔ آپ تمام مسلمان اپنے جد حضرت ابراہیم کے وارث ہیں۔ اور یہ روایت تواتر کے ساتھ ہے۔ یعنی حجاز، کوفہ اور بیت المقدس مسلمانوں کا ہے اور اس مثلث کا ایک دائرہ ہے اور وہ دائرہ فردوس ہے؛ فدک اور ام القریٰ۔
آپ پرکار کی ایک نوک کو کعبہ پر رکھیں۔ اور پرکار کی دوسری نوک کو عراق اور فلسطین پر گمائیں تو دریائے نیل سے لے کر بحر ہند، نہر سوئز، باب المندب، جبل الطارق اور ابنائے ہرمز تک کا علاقہ اس دائرے میں سمٹ جائے گا کہ اس دائرے کو ام القریٰ کہتے ہیں، یہ وہ فدک اعظم ہے جو پیغمبر اکرم نے حضرت زہرا (س) کو تحفہ دیا تھا۔ ورنہ فدک صرف ایک باغ نہیں تھا بلکہ ام القریٰ تھا۔
رسول خدا نے فرمایا کہ بیت المقدس اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ قرآن کے سورہ اسراء میں اس کا یوں تذکرہ ہوا ہے: «سبحان الذی اسری بعبده لیلا من المسجد الحرام الی مسجد الاقصی».
اس سورہ کے دو نام ہیں ایک اسراء اور دوسرا بنی اسرائیل۔ تاریخ بشریت کی سب سے بڑی جنگ جو اقوام عالم کی تقدیر کو بدل دے گی اس خطے میں ہو گی۔ سورہ بنی اسرائیل کی پہلی سات آیتوں میں مسلمانوں اور بنی اسرائیل کے درمیان اس خطے میں جنگ کا تذکرہ ہے اور دوسری جنگ مسلمانوں کی اسرائیل سے ہے اور اس جنگ کے بعد یہودی اس قدر بکھر جائیں گے کہ مسلمان اگر انہیں ڈھونڈنا بھی چاہیں گے تو نہیں ڈھونڈ پائیں گے۔
بیت المقدس کی فتح، اسلام کی طاقت کا عروج
بیت المقدس کی فتح کے بعد اسلام کی طاقت کو عروج ملے گا۔ پیغمبر اکرم جو ’’قاب قوسین او ادنی‘‘ کی منزل تک خداوند عالم کے قریب ہوئے ان کی معراج کے سفر کا آغاز بیت اللہ الحرام سے بیت المقدس تک ہوا۔
قرآن کریم کے اکثر مقامات پر ’’اہل الکتاب‘‘ کا تذکرہ ہے اس لیے جو مسلمان بھی قرآن کریم کا مطالعہ کرتا ہے دیکھتا ہے کہ اسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اہل الکتاب ہیں وہ نہیں چاہتے کہ اسلام ترقی کرے۔ قرآن کریم میں اہل کتاب کے علاوہ کسی قوم و ملت کا تذکرہ نہیں۔ لہذا پورا قرآن اس بات کی طرف متوجہ کر رہا ہے کہ بیت المقدس اور یہود کا مسئلہ، عالم اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ہے، «و لتجدن اشد الناس عداوه للذین آمنوا الیهود» ۔ یہود کو مومنین کا شدید ترین دشمن پاؤ گے۔

 

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی