کرونا وائرس کیا بائیولوجیکل وار ہے؟

  • ۱۱۱

بقلم نجیب الحسن زیدی
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: آج بین الاقوامی سطح پر ہم سب جس بڑی پرشانی سے جوجھ رہے ہیں وہ کرونا وائرس ہے ، ساری دنیا میں ہا ہا کار مچی ہوئی ہے چین کے بعد سب سے زیادہ اس وائرس کی زد میں آنے والا ملک پہلے تو اٹلی تھا، یورپ کے حالات میں کم برے نہیں تھے  امریکہ کی تو بات ہی الگ ہے دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ تباہی اس وائرس نے  امریکہ میں مچائی ہوئی ہے با این ہمہ عجیب بات یہ ہے کہ منظم طور پر اسلامی جمہوریہ  ایران کو  اس بیماری سے متاثر ہونے ہونے والے ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جہاں پر گویا دنیا میں سب سے زیادہ اموات ہو رہی ہوں جبکہ ایسا نہیں ہے، اور مختلف تجزیہ کار اس بات کو بیان کر رہے ہیں جو صورت حال امریکہ و یورپ کی ہے اس وقت اتنی بدتر صورت حال کہیں نہیں ہے ،انسانی معاشرہ کا یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر بین الاقوامی سطح پر سب کو مل جل کر آگے بڑھنا چاہیے اور اس سے مقابلہ کرنا چاہیے لیکن افسوس کہ ایسی صورت میں بھی کچھ لوگ سیاست کر رہے ہیں ، اور عجیب بات یہ ہے کہ اتنی خطرناک وبا کے ہوتے ہوئے دنیا کی تسلط پسندانہ عزائم رکھنے والی طاقت  نہ صرف اپنی ٹکنالوجی اور اپنی طاقت کو اس بیماری سے روکنے پر صرف نہیں کر رہی ہے بلکہ انسانی بنیادوں پر جہاں جہاں اس نے پابندی لگائی ہوئی ہے ان ممالک میں دوائی و میڈیکل سے متعلق سازوسامان کی ارسال و ترسیل کے کام کو بھی نہیں ہونے دے رہی ہے، اسی بات سے ثابت ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والی بڑی طاقتوں کو کس قدر انسانیت کی فکر ہے، اگر انہیں انسانیت کی فکر ہوتی تو کیا یہ عراق کی سرزمین پردنیا میں موجودہ افراتفری کے باوجود الحشد الشعبی کے ٹھکانوں پر  بمباری کرتے؟ اگر انہیں انسانیت کی فکر ہوتی تو کیا کربلا کے زیر تعمیر ائر پورٹ کو نشانہ بناتے، یا پھر انکی کوشش ہوتی کہ اپنے وسائل کو انسانیت کے تحفظ کی راہ میں استعمال کریں ۔
اور کیوں نہ ہو مختلف تجزیہ کار اس خدشہ کا مسلسل اظہار کرتے رہے ہیں کہ یہ ایک بائیولوجیکل جنگ ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی طاقت نے چین کی ابھرتی معیشت کو روکنے کے لئے چھیڑا ہے، یہ اور بات ہے کہ دوسروں کے لئے گھڑہا کھودنے والا زیادہ دیر محفوظ نہیں رہتا اور اپنے کھودے گھڑے میں خود ہی گرتا ہے جو کہ آج ہو رہا ہے اور جتنی ہا ہا کار امریکہ میں مچی ہے کہیں یہ صورت حال نہیں ہے ، جہاں تک اس وائرس کے پیچھے امریکہ کے ہاتھ کی بات ہے تو اگر بات صرف  دنیا کے سپر پاور کے مخالفین کی جانب سے ہوتی تو یہ یقینا کہا جا سکتا تھا کہ بلا وجہ کے ازلی عناد کی وجہ سے کچھ لوگ مخالفت میں یہ بات کر رہے ہیں لیکن مسئلہ یہ نہیں ہے چنانچہ ایک امریکی مصنف ’کیون بیرٹ‘ کے تجزیہ پر اگر غور کریں تو انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ یقینا یہ کرونا وائرس محض ایک بلا یا بیماری نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک تخریبی سیاست کارفرما ہے ، چنانچہ اس تجزیہ کے کچھ اہم نکات کو ہم آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔
۱۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ چین کے سیاسی اہلکاروں نے واضح طور پر اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس وائرس کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے  جسکے بعد  امریکہ میں مختلف خفیہ میٹنگیں ہوئی ہیں جنکی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آ سکی ہے،کیااس بات کا احتمال نہیں ہے کہ امریکی مقتدرہ سے ہٹ کر اسکی بعض خفیہ ایجنسیوں نے من مانے طریقے سے اس وائرس کو چین سے مقابلہ کے لئے وہان میں پھیلا دیا ہو  اور اگر حقیقت میں بھی ایسا ہی ہو تو یہ واضح طور پر تیسری عالمی جنگ کی آہٹ ہے ۔
۲۔ آپ اگر غور کریں تو پائیں گے کہ امریکہ اور چین کے درمیان کی تجارت ٹھپ ہو گئی ہے  چین و امریکہ کی معیشتی مراکز کو الگ الگ کیا جا رہا ہے ، اور اس بات میں بھی کوئی دورائے نہیں ہے کہ اٹلی میں موجود چینی بندرگاہوں کو واضح طور پر نشانہ بنایا گیا ہے اور اٹلی کو چین کے ایک بڑے پروجیکٹ  بیلٹ اینڈ روڈ کے لئے مجرم قرار دے کر اسے اسکے کئے کی سزا دی گئی ہے ،
۳۔  جہاں تک ایران کی بات ہے تو ایرانی قیادت  کی فرنٹ لائن کو نشانہ بنایا گیا ہے  جبکہ ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب سے وابستہ عہدہ داروں اور دیگر انقلابی اداروں کی جانب سے پہلے ہی اس بات کا اندیشہ ظاہر کر دیا گیا ہے کہ ایران میں بری طرح اس وائرس کا پھیلنا ایک بایولوجیکل جنگ کا حصہ ہو سکتا ہے ۔
یہ وہ باتیں ہیں جو ہم نہیں بلکہ امریکہ ہی کے ایک تجزیہ کار و مصنف نے بیان کی ہیں ،کیا ان باتوں کے پیش نظر یہ مقام غور نہیں ہے کہ ہم جس مصیبت میں پھنسے ہیں ، وہ مصیبت دنیا کی اس بڑی طاقت کی جانب سے ایجاد کی ہوئی ہے جس نے اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لئے پوری دنیا کو ایک کھلونا بنا دیا ہے ۔
اگر چین کے بڑھتے عالمی رسوخ اور اسکی تیز رفتار ترقی کرتی معیشت کو دیکھا جائے  اور اس بات پر غور کیا جائے کہ دنیا کی بڑی طاقت اس سے مقابلہ کے لئے کیا کر سکتی تھی تو ہم اس بات کو سمجھ سکتے ہیں  کس طرح وہان شہر میں امریکی فوجی مشقیں ہوئیں اور پھر امریکی فوج جیسے ہی واپس پہنچی وہان شہر میں ہر طرف کرونا وائرس نے ہا ہاکار مچا دی ۔
اس موجودہ وائرس کی وجہ کوئی بھی ہو  فی الحال ہم سب کو مل کر اسکا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے ملک میں اس بات کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ وائرس پر جلد از جلد کنڑول ہو یہ ہم سب کی قومی اور شرعی ذمہ داری ہے ۔
     

 

 

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی