منہ میں رام رام بغل میں چھوری

  • ۹۸

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عبرانی زبان کی ویب سائٹ ’وللا‘ نے اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ عرب ممالک کی طرف سے مذمتی پالیسی کو ان ممالک کی سرکاری پالیسی نہ سمجھا جائے کیونکہ ان ممالک کی جانب سے صہیونی ریاست کے ساتھ اندر خانہ تعاون جاری ہے۔
ویب سائٹ نے مزید کہا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا کہ فلسطینیوں کے آئینی حقوق کا تحفظ کیا جائے جب کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان امریکا میں یہودی تنظیموں کے رہ نماؤں سے ملاقاتیں کرتے رہے اور انہیں یہ یقین دلاتے رہے کہ فلسطین میں یہودیوں کو اپنا قومی وطن قائم کرنے کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب ممالک اور اسرائیل کےدرمیان تعلقات میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ اسرائیل اور عرب ممالک کا دشمن ایک ہی ہے۔ ان کا اشارہ ایران کی جانب تھا۔
خفیہ ملاقاتوں کی لیک ہونے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد نے یہودی رہنماؤں سے ملاقات میں فلسطینی اتھارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ فلسطینیوں کو صدر ٹرمپ کی امن تجاویز تسلیم کرنا ہوں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا سے ابو دیس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کا فارمولہ بھی شہزادہ محمد بن سلمان ہی فلسطینی قیادت تک پہنچائے۔
بن سلمان نے شام میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں پر بحرینی وزیرخارجہ کے بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
عبرانی ویب سائٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے تشدد کی مذمت کی مگر دوسری طرف یہی امارات اسرائیلی تاجروں کا اپنے ملک میں استقبال کررہا ہے۔
مصر اور اسرائیل دونوں جزیرہ نما سینا میں داعش کو اپنا مشترکہ دشمن اور ہدف سمجھتے ہیں۔ اسی طرح غزہ کی پٹی کا محاصرہ جاری رکھنے میں بھی عرب ممالک کی اسرائیل کو اشیرباد حاصل ہے کیونکہ غزہ کا انتظام حماس کے پاس ہے اور عرب ممالک حماس پر ایران نواز تنظیم ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطینیوں کا وحشیانہ قتل عام ہو یا ارض فلسطین میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات ہوں عرب ممالک کی طرف سے ان پر بظاہر مخالفت کا تاثر دیاجاتا ہے۔ فلسطینیوں پرمظالم کی بظاہر مذمت بھی کی جاتی ہے مگر اندر ہی اندر سے عرب ممالک صہیونی ریاست کے معاون اور مدد گار ثابت ہوئے ہیں۔
..........

 

 

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی