فلسطین کی حمایت میں اردوگان کا منافقانہ کردار

  • ۷۹

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: مسلم امہ کا وفادار سمجھا جانے والا ترکی وہ پہلا مسلمان اکثریتی ملک تھا جس نے ۱۹۴۹ میں اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کیا یعنی فلسطینیوں کے گھروں اور سرزمین پر صہیونیوں کے قبضے کو رسمی طور پر تسلیم کیا اور اس دردناک حقیقت پر راضی ہوا کہ فلسطینی اپنے ہی وطن میں پناہ گزین اور تیسرے درجے سے بھی کم تر کے شہری بنا دئے گئے ہیں۔
ترکی اور اسرائیل کے درمیان فوجی، اسٹریٹیجک اور سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ اسرائیل میں ترکی کا سفارت خانہ ہے اور ترکی میں اسرائیل کا سفارت خانہ موجود ہے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو بدل دیں۔
اردگان نے ۲۰۰۵ میں باقاعدہ اسرائیل کا دورہ کیا لیکن بعد میں کچھ عرصے بعد ایسا تاثر دیا گیا کہ ترکی اسرائیل کے خلاف ہے اور فلسطین کا حامی ہے۔
اگر ترکی اتنا ہی فلسطین کا حامی ہے تو اسرائیل سے سفارتی تعلقات کیوں رکھے ہوئے ہیں؟ یہ نری منافقت ہے جسے مسلم امہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور منافقت کا مقصد مسلم امہ کو ایک جعلی لیڈرشپ فراہم کرنا ہے جو اصل اور حقیقی اسلامی قیادت سے منحرف کر دے۔ اس وقت نظامِ ولایت کے سائے میں ایران، حزب اللہ اور دیگر ولائی قوتیں اسلام اور فلسطین کی اصل ناصر و حامی ہیں جو نہ صرف یہ کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتیں بلکہ ہر ممکن طریقے سے فلسطین کی مدد کرتی ہیں۔ اس مدد میں صرف راشن پہنچانا نہیں کہ پہلے اسرائیل کو کھل کر بمباری کرنے دو اور اس کے بعد امت کو دھوکہ دینے کیلئے دو آنسو بہاو اور آٹے کے تھیلے فلسطین بھیج کر سرخ رو ہو جاؤ۔ تم اس وقت کہاں ہوتے ہو جب فلسطین میں آتش و آہن برس رہا ہوتا؟ اگر فلسطین کا دفاع نہیں کر سکتے تو کم از کم اسرائیل سے سفارتی تعلقات تو ختم کر سکتے ہو؟ اسے تسلیم کرنے سے انکار تو کر سکتے ہو!
اس وقت صرف ایران اور حزب اللہ وہ قوتیں ہیں جو فلسطین کو مالی، فوجی اور اخلاقی مدد فراہم کر رہی ہیں جس کا اعتراف خود حماس اور اسلامی جہاد نے کیا ہے۔
پوری عرب دنیا کے حکمران اپنی عوام کی امنگوں کے برعکس اسرائیلی مظالم پر خاموش تماشائی ہیں اور اس طرح اسرائیل کی بھرپور مدد کر رہے ہیں۔ امام خمینی نے مسئلہ فلسطین کو زندہ کیا جسے عرب دنیا نے گوشۂ گمنامی میں ڈال دیا تھا حالانکہ امام خمینی نہ عربی تھے اور نہ ہی سنی مسلمان کیوں کہ غزہ کے مسلمان عربی اور اہل سنت ہیں۔ امام خمینی ایک حقیقی مسلمان تھے جنہوں نے عرب و عجم اور شیعہ و سنی کی تقسیم سے بالاتر ہو کر اپنے اسلامی اور اخلاقی فریضے کو پہچانا اور مسلم امہ کو بھی بیدار کیا۔ فلسطین کی حمایت دراصل تمام دنیا کی مظلومین کی حمایت ہے کیوں کہ فلسطین مظلومیت کی علامت بن چکاہے اور اسرائیل تمام فتنوں کی جڑ ہے۔ فتنے کی شاخیں کاٹںے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک اس کی جڑ کو نہ کاٹا جائے۔
ترکی کی منافقت سے ہوشیار رہیں اور موسیٰ کو چھوڑ کر سامری کے بنائے ہوئے گوسالوں کے پیچھے نہ چلیں!
………………

 

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی