دستاویزی فلم To Die In Jerusalem کی حقیقت کیا ہے؟

  • ۱۱۴

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ھِلّا میڈالیا (Hilla Medalia) کو دستاویزی فلموں کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے، یروشلم میں موت مڈالیا کی ایک ایسی فلم ہے جو راہیل لوی نامی ایک اسرائیلی لڑکی کی ذاتی زندگی کو پیش کرتی ہے جسے فلسطینی خاتون خودکش بمبار، آیت الاخراس Ayat al-Akhras.. الہراس نے کرۃ ہیویلیل Kiryat HaYovel’s کے اہم سپر مارکیٹ کے دروازے پر ایک خودکش حملہ میں دھماکے سے اڑا کر ہلاک کر دیا تھا۔
فلم “یروشلم میں موت” ( To Die In Jerusalem) اس حملہ کی خودکش داستان کے ساتھ دونوں ہی لڑکیوں کی ماوں کے نظریات کو کیمرہ کے ذریعہ پیش کر رہی ہے ۔ وہ چیز جو اس فلم کی داستان کو لائق توجہ بنا رہی ہے وہ قاتل و مقتول لڑکیوں کی آپس میں عجیب و غریب شباہت ہے دونوں کی ملتی جلتی شکل و صورت ناظرین کے لئیے حیرانی کا سبب ہے ، اس فلم کو امریکی چینل ایچ بی او H.B.Oنے نشر کیا۔
 
اس ڈاکومنٹری فلم کے سلسلہ سے ایک وبلاگر لکھتے ہیں: یہ ایک ایسی دستاویزی فلم ہے جو آیات الاخرس نامی لڑکی کے خود کش بم کے ذریعہ ہلاک ہونے والی ایک یہودی لڑکی موت کو پیش کرتی ہے ، یہ ایک ایسی مخصوص زاویہ دید پر مشتمل فلم ہے جو مبالغہ آرائی سے بھری ہوئی ہے اسکے برخلاف نیویارک ڈیلی نیوز نے شدید طور پر اس دستاویزی فلم کی بے طرفی کی حمایت کی ہے ۔اس اخبار کی بے نظیر حمایت اور اسی طرح دیگر امریکن اخباروں کا کھل کر اس کی حمایت میں کھڑا ہونا اس بات کا عندیہ ہے کہ میڈیا کا زنجیری حلقوں کی صورت ایک پورا سلسلہ ہے جو چاہتا ہے کہ ایک بار پھر اسرائیل کی دستاویزی فلموں کو فعال و متحرک کریں تاکہ اس کے ذریعہ اسرائیل کے کاموں اور اس کی جنایتوں کو جواز فراہم کرتے ہوئے اسکا ہاتھ کھلا رکھیں ۔خاص طور پر یہ کہ یہ لوگ اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اسرائیل کو اپنا دامن داغدار پاک کرنے کے لئیے مختلف پہلووں میں حمایت کے ساتھ میڈیا و ذرائع ابلاغ سے مربوط امور میں تعلیم کی ضرورت ہے ابھی بہت کچھ ایسا ہے جسے اسے سکھانا ضروری ہے ۔
مغرب کے سربراہان و سرمایہ دار لوگ اس بات کی کوشش میں مشغول ہیں کہ ہر سال اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی بنیادوں اور اس کے ذیلی شعبوں کو مضبوط کرتے ہوئے ان میں اضافہ کریں، اور اس سلسلہ سے اسرائیل کے مختلف ادارہ جات و فاونڈیشنز جیسے اقدار پر مبنی فلموں کے فاونڈیشن کی تمجید، اور انہیں کام میں رغبت دلانے کے لئیے انکی حوصلہ افزائی کرتے نظر آ رہے ہیں ، اسرائیلی سنیما کی اکیڈمی نے حالیہ چند برسوں میں اسکار کی طرز پر اس سے ملتے جلتے پروگرامز اور شو منعقد کئیے ہیں جن میں سے شایک افئیر کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔
بہر کیف! اس بات پر توجہ کی ضرورت ہے کہ حالیہ چند سالوں میں اسرائیل میں میڈیا و ذرائع ابلاغ سے جڑے ادارے بہت مضبوط ہوئے ہیں اور اسرائیل کے سٹلائیٹ چنیل کی فزونی کی مقدار اور پے در پے انکی بنیاد و تاسیس اسی بات کی بیان گر ہے ۔
“یروشلیم میں مرنے کے لئے” نے ۲۰۰۷ میں پیڈڈی ایوارڈ کے ساتھ مل کر، ایچ ڈی او کے دستاویزی فلموں کو جنم دیا.

............

آراء: (۰) کوئی رائے ابھی درج نہیں ہوئی
ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی